محمد قوی خان

Published in Hilal Urdu

انٹرویو: قاسم علی

فن اور فنکار کا رشتہ وطن اور اس کی ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی ایک پہچان ہے۔ جس پر ہمیں فخر ہے۔ دوسروں کے نقل کرنے والے جلد ناکام ہو جائیں گے۔

قوی خان پاکستان کے ان ورسٹائل فنکاروں میں شامل ہیں جن کی شخصیت کا جادوفنون لطیفہ کے چاروں شعبوں ریڈیو، تھیٹر ، ٹی وی اور فلم میں سر چڑھ کر بول رہا ہے انہیں فنی دنیا کا حصہ بنے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ بیت گیا لیکن وہ آج بھی کیرئیر کے آغاز جیسی لگن اور جذ بے کے ساتھ کام میں مصروف ہیں اور ریٹائرمنٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ قوی خان اپنی زندگی کو '' جہد مسلسل '' قرار دیتے ہیں انہیں بدلتے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کا فن بخوبی آتا ہے۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پی ٹی وی سے آن ائیر ہونے والے پہلے ڈرامے میں '' ہیرو'' کا کردار ادا کرنے کا اعزاز بھی قوی خان کو حاصل ہے۔ قوی صاحب اگرچہ انتہائی کم گو انسان ہیںلیکن ہلال کے قارئین کے لئے انہوں نے بے تکلف گفتگو کی اور اپنے نجی اور پیشہ ورانہ زندگی پر کھل کر بات کی جو پیش خدمت ہے ۔

mqavikhan.jpg
سوال: آپ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں ، بچپن کہاں گزرا ، تعلیم کہاں مکمل کی ؟
میری پیدائش 13 نومبر 1942کوشاہ جہاں پور انڈیا میں ہوئی، میرے والد محمد نقی خان محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور ان دنوں شاہ جہاں پور میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ بعد میں ہم پشاور منتقل ہوگئے جہاںگورنمنٹ ہائی سکول پشاوراور ایڈورڈ کالج سے میں نے تعلیم مکمل کی۔میں نے 7برس کی عمر میں ریڈیو پاکستان سے کام کا آغاز کردیا تھا اور تب سے لے کر آج تک وہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمارا گھرپشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان کے بالکل قریب تھا۔ ہمارے محلے میںاُس زمانے کے ریڈیو پاکستان پشاور کے مشہورآرٹسٹ شیخ شریف کی رہائش بھی تھی جن کا پروگرام '' قہوہ خانہ'' سبھی بڑے شوق سے سنتے تھے ، ایک دن انہوں نے مجھے سکول سے واپس آتے گلی میں دیکھا تو بولے: بیٹا آپ ریڈیو پر بچوں کے پروگرام کا حصہ بنو گے، میں نے ڈرتے ڈرتے ہاں کہا، یوں میرا ریڈیو سے رشتہ قائم ہوا ، شیخ شریف کو لینے کے لئے ریڈیو کی جو گاڑی آتی میں بھی اسی میں آیا جاتا کرتا تھا۔ ابتدا میں جاکر میں بیٹھا رہتا تھا ، کام ہوتا دیکھا کرتا تھا اور پھر واپس آجایا کرتا تھا۔ پھر '' نانی اماں '' کے عنوان سے ہفتہ وار ایک پروگرام شروع ہوا جس میں ایک بوڑھی عورت اپنے نواسے ، نواسی کو کہانی سنایا کرتی تھی میں اس پروگرام کا حصہ بنا ۔ پھر کیا ہوا، گھوڑا کیوں گرگیا ، شہزادی نے تیر کیوں چلایا ، وہ کیسے مرگیا وغیرہ میرے ڈائیلاگ ہوا کرتے تھے۔ مجھے ایک پروگرام کا معاوضہ 5روپے ملتا تھا جسے لے کر میں گاڑی میں بیٹھتا تھا اور بھاگ کر گھر آجاتا تھا۔ اس زمانے میں مجھے پورے مہینے کا جیب خرچ ایک روپیہ ملتا تھا اور باقی 19روپے میں گھر دے دیتا تھا۔


سوال:ریڈیو سے ٹی وی تک کا سفر کیسے طے ہوا؟
الفاظ کے تلفظ ، ادائیگی ، زیر زبر کا فرق ، گفتگو کا قرینہ و سلیقہ میں نے ریڈیو پاکستان سے سیکھا اور کالج کی تعلیم کے دوران بھی ریڈیوپر کام کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا پھر میں 1961میں لاہور آگیا ۔ میں نے پانچ چھ برس بینک میں ملازمت بھی کی لیکن چونکہ میرے پاس ریڈیو پاکستان کا این او سی تھا تو میں نے ریڈیو لاہور پر کام کا سلسلہ جاری رکھا پھر میں نے الحمرا تھیٹر اور اوپن ائیر تھیٹر میں اداکاری کے جوہر دکھائے، رفتہ رفتہ مجھے فلم میں کام کرنے کا موقع بھی میسر آگیا 1964میں میری پہلی فلم '' رواج'' ریلیز ہوئی جسے دلجیت مرزا صاحب نے بنایا تھا ، '' رواج'' میں ولن کا کردار میں نے ادا کیا ساتھ ہی پروڈکشن میںدلجیت مرزا کو اسسٹ بھی کیا تھا جس سے مجھے فلم میکنگ کی باریکیوں کو سمجھنے میں کافی مدد ملی ، اسی دوران لاہور میںپاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہورہا تھا ، میں نے کام کے لئے فوری اپلائی کیا جلد ہی مجھے یہ پیغام ملا کہ پاکستان ٹیلی ویژن سے جو پہلاکھیل ''نذرانہ'' آن ائیر جائے گا اس میں ہیرو کا کردار میں ادا کروں گا تو وہ میرے لئے تاریخ بن گئی جو اب تک ہے ۔ اس کھیل کو نجمہ فاروقی نے تحریر کیا تھا اور فضل کمال نے ڈائریکٹ کیا تھا، میرے ساتھ کنول حمید نے ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ پھر میں نے 1966 میں بینک کی جاب چھوڑ دی اور تمام تر توجہ فن اداکاری پر مرکوز کردی ، ریڈیو، ٹی وی ، تھیٹر اور فلم ہر میڈیم میں مجھے کام ملتا رہا اور میں نے اس سلسلے میں بریک نہ آنے دی۔ ایک زمانے میںمجھ پر فلم میکنگ کا جنون طاری ہوگیا جس کی تکمیل کے لئے میں نے بارہ فلمیں بھی بنائیںجو زیادہ اچھی نہیں گئیں اس ناکامی نے مجھے زندگی کے نشیب و فراز سے بخوبی آشنا کروایا لیکن اس سارے سفر میں ٹیلیویژن نے مجھے تھامے رکھا ، ہم دونوں نے ایک دوسرے کا دامن نہیں چھوڑا۔اب تک 54برس ہوگئے ہیں میں نان اسٹاپ ٹی وی پر کام کررہا ہوں اور ہر ہفتے میں کسی نہ کسی چینل پر ضرور آن ائیر ہوتا ہوں ۔ میں نے زندگی میں کوئی بزنس نہیں کیا ، کوئی پراپرٹی نہیں بنائی۔ اداکاری ہی میرا جنون رہا جس سے مجھے رزق کا سامان بھی مہیا ہوتا رہا۔ میں پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اوپر نہیں پہنچ گیا بلکہ میرا سفر تو جہد مسلسل کی عملی مثال ہے، پہلی کے بعد دوسری پھر تیسری سیڑھی مرحلہ وار عبور کیں۔


سوال: آپ بلاشبہ پاکستان میں فن اداکاری کے بانی فنکاروں میں شامل ہیں یہ بتائیے گاتھیٹر اور ریڈیو کا تجربہ ایک فنکار کی تکمیل کے لئے کتنا ضروری ہے ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ریڈیو اور تھیٹر کی اہمیت بنیادی ستون سے کم نہیںہے اس کا تجربہ ہونے سے آپ کے کام میں و ہی پختگی آتی ہے جیسے ستونوں کے ساتھ عمارت مستحکم کھڑی رہتی ہے۔ آرٹسٹ کوعلم ہونا چاہئے کہ مکالمہ کہنے کے کیا اسرار ورموز ہیں ، تھیٹر ہال میں جو 600آدمی آپ کو لائیو دیکھ رہے ہیں ان کی ڈیمانڈ کیاہے اورٹی وی ناظرین کے سامنے کیسے آنا ہے۔ آوازکی پچ، باڈی لینگوئیج، کیمرہ ہینڈلنگ ، خود اعتمادی اور ہر میڈیم کاباہمی فرق، یہ سب علوم تجر بے سے ہی حاصل ہوتے ہیں اورسب سے بڑھ کر فنکار کا زمانے میںآنے والی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل ہونا بہت ضروری ہے ، جیسے کچھ سالوں بعد کیمرے بدل جاتے ہیں ، لائٹس بدل جاتی ہیں، لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آجاتی ہے ، لباس اور گفتگو کا انداز بدل جاتاہے، ویسے ہی آرٹسٹ کو وقت کے ساتھ ان تبدیلیوں کو اپنا لینا چاہئے ورنہ وہ زمانے کے ساتھ چل نہیں پائے گا۔ میرا یقین ہے کہ ریڈیو او ر تھیٹرکا تجربہ ہونے کی وجہ سے میں نے اتنے برس کام کرلیا ورنہ خامیاں اورکوتاہیاں تو مجھ میںبھی بہت ہیں اور مکمل تو صرف میرے مالک کی ذات ہے ۔


سوال: ہمارے ہاںاچھے ڈرامے بن تو رہے ہیں لیکن ماضی جیسے کلاسک کھیل اب کیوں نظر نہیں آتے ۔؟
اصل میں سارا سسٹم سپلائی اور ڈیمانڈ پر مبنی ہے۔ جنریشن تبدیل ہوچکی ہے اور آج کی آڈئینس کی ڈیمانڈ کچھ اور ہے اسی طرح کمرشلزم کے اثرات بھی ہیں۔ اب دیکھیں آج کے ڈرامے
Woman Dominated
ہیں ۔ میں ان دنوں جس کھیل کی ریکارڈنگ کر وا رہا ہوں وہ بھی ایسے موضوع کا احاطہ کرتاہے ، عورتوں کی کہانیاں ہیں اور ہماری خواتین ایسے کھیل بڑے شوق سے دیکھتی ہیں۔ ہوا جس طرف ہوپتنگ اسی طرف جاتی ہے اس لئے آج کل خواتین کے موضوعات کھیلوں میں حاوی نظر آتے ہیں ، انہی کو کمرشل ملتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ ہمارے ہر گھر میں ایک کہانی ہوتی ہے جنہیں روایات ، اقدار اور وقار کے ساتھ اصلاحی انداز میں سامنے لانا چاہئے تاکہ عوام کے دلوں میں تعمیری سوچ پروان چڑھے۔

mqavikhan1.jpg
سوال: غیر ملکی ڈراموں سے پاکستانی ڈراموں کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے؟
میں تو اس چیز کا قائل ہوں کہ باہر دیکھنے کے بجائے پہلے آپ اپنے آنگن کی اچھی طرح صفائی کر لیں، گھر سے گلی کارخ کریں اس کی دیکھ بھال کریں پھر سڑک کی صفائی ستھرائی بھی ہماری ذمہ داری ہے اس کے بعد آپ کسی اور جانب دیکھیں ابھی ہم اپنی دیوار سے آگے نکلے نہیں ہیں اپنے معیار کو مثالی بنایا نہیں ہے اور باہر کی ثقافتی یلغار کے آگے ڈھیر ہوگئے ہیںجو مناسب نہیںہے۔ فن اور فنکار کا رشتہ وطن اور اس کی ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ جس پر ہمیں فخر ہے۔ دوسروں کی نقل کرنے والے جلد ناکام ہو جائیں گے۔


سوال: ''اندھیرا اجالا'' کا شمار پاکستان کے مقبول ترین اور کلاسک کھیلوں میں ہوتا ہے اس میںکام کرنے کا فیصلہ آپ نے اپنے والد سے متاثر ہوکرکیا تھا؟
جی ہاں اور یہ یونیفارمز مجھے ویسے ہی بہت پسند ہیں، جب بھی آپ کسی پولیس آفیسر یا آرمی کے جوان سے ہاتھ ملائیں توآپ کو محسوس ہو گا کہ آپ نے کسی مضبوط ترین شخصیت سے ہاتھ ملایا ہے ، ان کے ہاتھ سے ہی ان کی محنت ، جدوجہد ، ان کے کام اور پیشے سے لگن کا پتہ چل جاتا ہے تو مجھے اللہ نے موقع دیا تو میں نے کوشش کی کہ اس کھیل کے ذریعے عوام کی تفریح کے ساتھ مثبت پیغامات دئیے جائیں اور بفضلِ اللہ بڑی کامیابی سے بھی ہمکنار ہوا، اس میں دکھائی جانے والی کہانیاں زیادہ تر سچی اور اصلی ہوتی تھیں پھر وہ بند اس لئے ہوا کہ ہمارے رائٹر بیمار ہوگئے تھے ساتھ میں وہ پی ایچ ڈی بھی کر رہے تھے لیکن ایسے ڈراموں کی ہمارے معاشرے کو اشد ضرورت ہے ، ان کو بند ہونا ہی نہیں چاہئے ۔اندھیرا اجالا کی کامیابی میں بنیادی کریڈٹ اسکرپٹ اور ڈائریکٹر کا ہے۔


سوال: آپ کے بچے کیا کر رہے ہیں ، انہوں نے ٹی وی یا فلم انڈسٹری کو کیرئیر کے طور پر کیوں نہیں اپنایا؟
میرے دو بیٹے(محمد عدنان قوی ، مہران قوی) اور دو بیٹیاں ہیں۔ بیٹوں نے ابتدا میں ٹی وی پر کچھ کام کیا تھا جیسا اشفاق احمد کا کھیل تھا '' من چلے کا سودا'' ، لیکن میں نے محسوس کیا کہ بچوں کو پہلے اپنی تعلیم مکمل کرنی چاہئے چنانچہ ایک آئی ٹی کی طرف نکل گیا اور دوسرا ڈاکٹر بن گیا اس وقت دونوں کینیڈا میں مقیم ہیں ، دونوں بیٹیاں بھی شادی کے بعد بیرون ملک سیٹل ہیں میں نانا ، دادا بن چکا ہوں ، بچے مجھے ملنے آتے رہتے ہیں اور میں بھی اکثر ان کے پاس جاتا ہوں۔


سوال: شاعری سے لگاؤہے پسندیدہ شاعر کون ہے؟
جی بالکل مرزاغالب میرے پسندیدہ شاعرہیں۔اس کے علاوہ احمد فراز بھی مجھے پسند ہیں انکا تعلق ریڈیو پاکستان پشاور سے تھا وہ وہاں ڈیوٹی آفیسر تھے اور ان کے لکھے کھیل'' ساحل کی ریت'' میں کام بھی کیا تھا وہ مجھے بچپن سے بھی جانتے تھے بلکہ میں اسلام آباد کی ایک تقریب میںمدعو تھا وہاں میں ان کا شعر پڑھ رہا تھا کہ
''ہر ایک خواہش روتی رہتی ہے '' میںدوسرا مصرعہ بھول گیا مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ پیچھے کھڑے ہوئے ہیں ۔وہ پیچھے سے آئے مجھے گلے لگایا اور دوسرا مصرعہ خود پڑھا '' میرے اندر بارش ہوتی رہتی ہے''۔


سوال: موسیقی سے کتنالگاؤہے ، فیورٹ سنگر کون ہیں؟
مجھے سیمی کلاسیکل موسیقی سے لگاؤ ہے اور پرانے اساتذہ کو میں شوق سے سنتا ہوں، نصرت فتح علی خان ،فتح علی خان اور عصر حاضرکے گلوکاروں میں سے سجاد علی مجھے بہت پسند ہے اس کے گیتوں سے طبیعت خوش ہوجاتی ہے ۔


سوال: ہمارے ہاں فنکاروں کی سیکنڈ لائن کیوں نہیں بن پاتی اور ہماری فلم ڈرامے کے اثر سے باہر کیوں نہیں نکل رہی؟
اصل میں سیکنڈ لائن بنانے ہی نہیں دی جاتی ، یہاں پر اگر کسی کو مقام و مرتبہ ملتا ہے تو یہ بھی بہت مشکل سے ملتا ہے ، یہ شوبز فیلڈ ہی ایسی ہے ۔سینئرز بھی رہنمائی نہیں کرتے چنانچہ سٹارز تو چند ایک ہی بنتے ہیں باقی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی محنت رائیگاں چلی جاتی ہے ۔ فلم ڈرامے کے اثر سے رفتہ رفتہ نکلے گی ٹیکنالوجی کی ترقی نے پروڈکشن کا پورا نظام ہی بدل دیا ہے، اب نہ نیگیٹو رہا، نہ ڈویلپنگ ، پرنٹنگ کی مشینیں رہیں نہ پروجیکٹر والے پرانے سنیما رہے ، لوگ محنت کر رہے ہیں رفتہ رفتہ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔


سوال : آپ کو کون کون سے اعزازار مل چکے ہیں ؟کوئی اور اعزاز حاصل کرنے کی تمنا باقی ہے؟
اعزاز تو مجھے سارے مل چکے ہیں ، ریڈیو،تھیٹر ، ٹی وی اور فلم ہر شعبے میں مجھے علیحدہ علیحدہ ایوارڈز دئیے گئے ہیں اور اب مجھے صرف ایک اعزاز چاہئے اور وہ ہے میرے مالک کی نظر کرم ، میری تمنا ہے کہ مالک کائنات مجھ سے راضی ہوجائیں۔


سوال: پاک فوج آج کل دہشت گردوں سے جنگ میں مصروف ہے ، ان کی قربانیوں کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
زندگی اور موت کا مالک تو رب کائنات ہے لیکن اگر غازی اور شہید کا مقام اور رتبہ پڑھ لیا جائے اور پڑھ کر سمجھ لیا جائے تو بلاشبہ ہر شخص غازی اور شہید بننے کو تیار ہوجائے اور ملک وقوم کے لئے اس سے بڑی خدمت یا قربانی ہو ہی نہیں سکتی کہ آپ اپنی سرزمین اور کروڑوں لوگوں کی حفاظت کے لئے بے لوث اپنی جان دے دیتے ہیں۔ ان عظیم لوگوں کو دیکھتے ہی سلام پیش کرنا چاہئے کیونکہ یہ ہماری سرحدوں کے علاوہ ہماری عزتوں ، اقدار اورمال و متاع کے محافظ بھی ہیں۔ یہ بہت عظیم لوگ ہیں۔ میں جب ان کو دیکھتا ہوں تو دیکھتا ہی رہ جاتا ہوں جذبات سے میری آنکھوں میںبے اختیار آنسو آجاتے ہیں۔
سرحدوں پر جو ہمارے بہادر اور غیور فرزندہماری حفاظت کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیںدر حقیقت وہ ہمارے سر کا تاج اور فخر ہیں ہر روز ہماری دعاؤ ں میں ان کا خصوصی ذکر رہتا ہے، ہمارے جذبات ، احساسات اور سب کچھ ان عظیم لوگوں کے لئے ہیں، ہماری سرحدوں ، عزتوں ، سبز ہلالی پرچم اور ملک و قوم کے محافظ سے بڑا شخص اس معاشرے میں کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ خاکی وردی زیب تن کئے یہ فرزند قوم کا قابل فخر سرمایہ ہیں اور جو شہادت کا رتبہ پالے ان کے لئے تو دین و دنیااور آخرت میں جنت کا مقام ہے سبحان اللہ ، سبحان اللہ اسی لئے میں نے کہا ہے کہ جو سمجھ جائے تووہ بھی اس مقام و مرتبے کو پانے کی خواہش رکھے۔ان بہادر فرزندوں کی عزت و تکریم کے لئے میرے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں اور ساری قوم کے یہی جذبات ہیں۔ میں نے جوانی میں فوجی بھائیوں کے لئے سرحدوں پر جاکر بہت سے پروگرام کئے ہیں آج بھی اگر مجھے بلایا جائے تو میں ساری مصروفیت ترک کرکے فوراً پہنچ جاؤں گا، میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں۔ یہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔
میں نے ایک فلم'' پاسبان '' بنائی تھی جس میں دو شعر پاک فوج کی نذر کئے تھے۔
قسم ہے شہیدوں کے لہو کی
قسم زندگی کی، قسم آبرو کی
گھر اپنا کسی کو جلانے نہ دیں گے
وطن پر کوئی آنچ آنے نہ دیں گے
پاکستان زندہ باد ، افواج پاکستان پائندہ باد۔


سوال: رواں برس پاکستانی قوم نے اپنی آزادی کی سترہویں سالگرہ کا جشن منایا آپ بتائے کہ ہم اپنے ملک کے لئے کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرنا چاہئے؟
میرا خیال ہے کہ ہر باشعور آدمی کوگھر میں اپنی یہ عادت بنا لینی چاہئے کہ وہ ہر روز صبح اٹھ کر اپنے بچوں کو آزاد وطن کی اہمیت سے روشناس کروائے اس کو بتائے کہ کس طرح اس کے آباء واجداد نے پاک سرزمین کو حاصل کرنے کے لئے بے انتہا قربانیاں دیںاور کسی ایک موضوع پر چار لائنوں کا درس بچے کو لازمی دیا کرے۔ جیساکہ پاکستان کو حاصل کرنے میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار ، علامہ اقبال کا خواب آزادی وغیرہ اگر سارے لوگ ایسا سوچ لیں کہ ہم نے ایسا کرنا ہے تو اس قوم میں جذبہ حب الوطنی ، آزاد سرزمین کی اہمیت اور ترقی کی لگن اتنی ہوجائے گی کہ جب وہ شعور کی منزل تک پہنچے گا تو اس کو پاک وطن کی زمین کا ایک ایک انچ اپنی جان سے عزیز تر ہوگا، یہ مجھ سمیت تمام قوم بالخصوص والدین کا فرض ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داری لینا پڑے گی۔ صبح ناشتے کے وقت یہ کام ہونا چاہئے اور ٹی وی پر بھی حب الوطنی پر مبنی پروگرام آنے چاہئیں ۔تربیت کے حامل مختصر پروگراموں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا چاہئے جیسا پہلے پی ٹی وی پر ہوا کرتا تھا۔ میں آپ کو اپنے ایک پروگرام کا بتاتا ہوںجس کا دورانیہ صرف ایک منٹ ہوتا تھا جس میں میں بچوں کو نصیحت کیا کرتا تھا جیسے میں باغ کی سیر کر رہا ہوتا ہوں تو کوئی بچہ میرے پاس سے گزرتا ہے تو میں اس کو روک کر کہتا ہوں کہ بیٹا بڑوں کو سلام کرکے گزرا کرو۔السلام علیکم کہہ کرمیں آگے بڑھ جاتا ہوں اوروہ بچہ مجھے دیکھتا رہتا ہے اس کا اثراتنا ہوا تھا کہ کئی سال کے بعد میں ماڈل ٹاؤن پارک میں جا رہا تھا کہ میرے پاس سے ایک صاحب گزرے تو انہوںنے کہا السلام علیکم ، میں نے اسے دیکھا تو بولا سلام کرلیا کرتے ہیںقوی صاحب ، فوراً میرے ذہن میں اس بچے کی تصویر آئی تو میں نے آگے بڑھ کر اس سے مصافحہ کیا تو جوبات اچھی ہو دل پر اثر کرتی ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 67 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter