ڈپریشن کے مرض پر قابو پانا ممکن ہے

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

ڈپریشن جو کہ پوری دنیا میں 'مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے' کسی بھی عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، اسے ہم عرفِ عام میں اداسی اور مایوسی بھی کہتے ہیں۔ ڈپریشن ایک پیچیدہ دماغی بیماری ہے جو انسان کو حیاتیاتی ، نفسیاتی اور سماجی طور پر متاثر کرتی ہے ۔ جب مایوسی اور اداسی کا غلبہ بہت دنوں تک رہے اور اس کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روزمرہ کے معمولات اس سے متاثر ہونے لگیں اور متاثرہ شخص ایک خول میں بند ہو کررہ جائے تو اسے ڈپریشن کا نام دیا جاتا ہے ۔
بعض حالتوں میں ڈپریشن کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی ہے مگر مریض پر اس کے دورے اتنے شدید ہوتے ہیں کہ مستقل مایوسی اور اداسی کی کیفیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ان کو علاج اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ۔


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں300 بلین سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں سالانہ تقریباََ8 لاکھ افراد ذہنی دبائو کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں جبکہ تقریباً 20 فیصد لوگ ڈپریشن کے باعث دیگر نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً34 فیصد آبادی ذہنی دبائو یا ڈپریشن کا شکار ہے ۔
ڈپریشن کی خاص علامات میں مستقل پریشانی، سستی، کمزوری، سردرد، تھکاوٹ، بے چینی اور نااُمیدی شامل ہیں۔ ڈپریشن کی بیماری کا علاج ہر فرد کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے ۔ بعض لوگوں کو اس مایوسی کی حالت میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو اپنے پیاروں کو اپنے جذبات اور احساسات سنا کراور ان سے مل کر طبیعت میں بہتری محسوس ہوتی ہے جبکہ کچھ افراد اپنے جذبات اور احساسات اپنے علاوہ کسی دوسرے فرد سے بیان نہیں کر سکتے اور اپنی ذات کے خول میں بند ہو کر اس ڈپریشن کے شکنجے میں دھنستے چلے جاتے ہیں ۔

dipressionkmerzpe.jpg
ڈپریشن کی حالت میں عام طور پر سر میں درد اور بے چینی شروع ہو جاتی ہے ، معدے کی کارکردگی بھی بُری طرح متاثر ہوتی ہے ۔ وزن میں اچانک کمی آنے لگتی ہے اور مریض تیزی سے بڑھاپے کی طرف بڑھنے لگتا ہے ۔نیند کی کمی کے باعث مزاج میں چڑچڑا پن او رسستی پیدا ہونے لگتی ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں کمی بھی ڈپریشن کا باعث بنتی ہے ۔وزن میں کمی سے کچھ لوگ خوش نہیں ہوتے بلکہ وہ خود کو اداس اور سست محسوس کرنے لگتے ہیں اور کھانے سے رغبت ختم ہو جاتی ہے جس سے ان کا بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے اور پھر اس سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وزن میں کمی سے ڈپریشن اور مایوسی میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں ۔


ڈپریشن کے شکار افراد کی بھوک بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ ڈپریشن خوراک کی خواہش کو کنڑول کرنے والے ہارمونز پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ اس حالت میں بعض افراد ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں جبکہ کچھ افراد اپنی عام خوراک سے بھی کم کھاتے ہیں۔جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں اضافہ یا کمی ہونے لگتی ہے۔ اس کے علا وہ ڈپریشن کے مریضوں میں بہت زیادہ سونا یا بے خوابی، بہت جلد نیند کا ختم ہو جا نا بھی عام ہوتا ہے۔ایک طبی تحقیق کے مطابق مایوسی کے شکار افراد راتوں کو جاگتے رہتے ہیں اور وہ اپنے مسائل کو سوچتے رہتے ہیں۔


ذہنی دبائو یاڈپریشن کے باعث کچھ ہارمونز متاثرہ فرد کی جلد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ ڈپریشن کے دوران ان ہارمونز کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کے باعث اکثر مریضوں کو کیل، مہاسوں اور خارش وغیرہ شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سینے میں جلن، قبض، ہیضہ اور قے وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معدہ انسانی مزاج کی کیفیات کے مطابق ردعمل ظاہر کر تا ہے۔ مستقل اداسی بھی ڈپریشن کی ایک اہم علامت ہے اور ہر وقت اداس رہنے والے افراد میں خودکشی کے خیالات بھی ہر وقت آتے رہتے ہیں اور ان میں سے اکثر اپنی جان لینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔


ڈپریشن درحقیقت ایک ذاتی نوعیت کا مرض ہے جس کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں وجوہات اور پھر علاج قدرے مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ڈپریشن اور مایوسی کی وجہ موروثی عوامل ہوتے ہیں یعنی موروثی طور پر جسمانی لحاظ سے کمزور اور نازک افراد نسبتاً زیادہ جلد قنوطیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص کے والدین کو ڈپریشن کا مرض ہے تو اس شخص میں اس مرض کی منتقلی کے امکانات دوسرے افراد کے مقابلے میں تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں کے گھروں اوردفتروں کی پریشانیاں بھی انسان کو ڈپریشن کا مریض بنادیتی ہیں اور پھر وہ ہائی بلڈپریشر، دل اور گردے کی مختلف بیماریاں اور کینسر جیسے عوارض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق ڈپریشن بعض اوقات سرطان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مسلسل ذہنی دبائو کے شکار افراد میں ٹیومرکا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور پھر کوئی بھی ذہنی صدمہ یا جسمانی نقصان سرطان کا باعث بن سکتا ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق ہری سبزیاں مثلاً پالک، مٹر، سلاد کے پتے کھانے سے ڈپریشن کے مرض میں پچاس فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ کھانا ایک اعتدال میں رہ کر کھائیں اور ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ ورزش اور جسمانی سرگرمی ضرور رکھنی چاہئے۔


ڈپریشن کی حالت میں متوازن غذا کھانا بے حد ضروری ہے۔ بازار کے چکنائی سے بھرپور، غیر معیاری کھانوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور کھانے میں تازہ پھلوں، سبزیوں کی سلاد اور فریش جوسز کا استعمال لازمی کرنا چاہئے اور کیفین اور الکوحل سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے ۔ ایک تحقیق کے مطابق ہری سبزیاں مثلاً پالک، مٹر، سلاد کے پتے کھانے سے ڈپریشن کے مرض میں پچاس فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ کھانا ایک اعتدال میں رہ کر کھائیں اور ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ ورزش اور جسمانی سرگرمی ضرور رکھنی چاہئے۔ روزانہ ورزش سے انسان کی جسمانی صحت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کا ذہن بھی فریش رہتا ہے۔ اگر مریض کو معلوم ہو کہ اسے کس وجہ سے ڈپریشن کا مسئلہ ہو رہا ہے تو اس وجہ کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور مایوسی سے دور رہنا چاہئے کیونکہ اگر مریض چاہے تو اپنے آپ کو اس ڈپریشن کی حالت سے بآسانی نکال سکتا ہے ۔ ڈپریشن کا علاج سائیکوتھراپی اور اینٹی ڈپر یسنٹ ادویات
(Antidepressant drugs)
کے ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے۔ باتوں کے ذریعے (یعنی سائیکو تھراپی) علاج میں ڈپریشن کے مریضوں کو اپنے احساسات اور دل کی باتیں کسی اپنے دوست یا بااعتماد فرد کے ساتھ ڈسکس کرنے سے ڈپریشن میں کمی ہو سکتی ہے، جبکہ بعض حالات میں ماہر نفسیات سے مشورہ کرنا اور اس سے اپنے دل کی بات شیئر کرنا زیادہ آسان اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ سائیکو تھراپی کے ذریعے علاج میں وقت لگتا ہے اور بہت زیادہ شدید ڈپریشن کی کیفیت میں ڈاکٹر مریض کو مایوسی ختم کرنے والی ادویات بھی تجویز کرتے ہیں۔جس سے آہستہ آہستہ مریض خود میں بہتری محسوس کرنے لگتا ہے ، اس کی اداسی میں کمی آنے لگتی ہے اور زندگی جینے کی طرف مائل ہونے لگتا ہے اور وہ اپنے حالات کا مقابلہ کر نے کی صلاحیت میں بہتری محسوس کر تا ہے ۔ ان ڈپریشن کش ادویات کے کچھ مضر اثرات بھی ہوتے ہیں مگر ان میں اتنی شدت نہیں ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایس ایس آر آئی اینٹی ڈپر یسنٹ ادویات کے استعمال سے ابتداء میں کچھ مریضوں کو قے اور بے چینی کی سی کیفیت شروع ہو جاتی ہے جبکہ ٹرائی سائیکلسٹ اینٹی ڈپر یسنٹ ادویات استعمال کرنے والے مریضوں میں دوائی کے شروع دنوں میں منہ کی خشکی اور قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق ڈپریشن والی ادویات میں نیند لانے والے عنصر موجود ہوتے ہیں اور ان کو رات سونے سے پہلے کھانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔لہٰذا یہ دوائیں استعمال کرنے کے بعد ڈرائیونگ کرنے یا کوئی بھاری کام کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور علاج شروع ہونے کے بعد گاہے بگاہے اپنے ڈاکٹر کو معائنہ کرواتے رہنا چاہئے تاکہ وہ دوائیوں کے اثر کو دیکھتے ہوئے مرض کا اندازہ لگا سکے کہ اس دوا سے مریض کو افاقہ ہو رہا ہے یا اس کے مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


ڈپریشن کی حالت میں مریض کو ماحول اور حالات تبدیل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے اور ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے کہ ہماری ہر اداسی اور غم کا علاج صرف اس کائنات کے مالک کے پاس ہے ۔ جو اپنے بندوں سے ستر مائوں سے زیادہ محبت کرتاہے ۔ ڈپریشن جیسے موذی مرض سے بچنے کے لئے اپنی روزمرہ کے معمولات میں تبدیلیاں لانے کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ نیند کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ رات کو جلدی سونے اور صبح سویرے اٹھنے کی عادت اپنانی چاہئے ۔ اور نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کو معمول بنالیں ۔ اس کے ساتھ صبح کی سیر اور ہلکی پھلکی ورزش کو بھی اپنا معمول بنا لینا چاہئے اور اپنی اجتماعی صحت کابھی خیال رکھیں۔ لوگوں کی مدد کریں ۔ مستحق لوگوں کی مدد کرنے سے جو خوشی مل سکتی ہے، وہ دنیا کے کسی بھی خزانے سے زیادہ ہے ۔ اپنے آپ کو مختلف تفریحی سرگرمیوں میں شامل کریں کیونکہ ڈپریشن کا عفر یت زیادہ تر فارغ اوقات اور خالی دماغ پر حملہ آور ہوتا ہے ۔ اس سے بچنے کے لئے اپنے دماغ کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں ۔ مختلف تخلیقی سرگرمیوں مثلاً تحریر یا تقریر کی عادت، پینٹنگ، کوکنگ، فلاور میکنگ، سوشل ورکنگ، باغبانی، درس وتدریس سے آہستہ آہستہ مریض خود کو حالت سکون اور اطمینان میں محسوس کرنے لگتا ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو خاندان کے ساتھ رہتے ہیں ان کی ذہنی اور جسمانی صحت ان لوگوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہوتی ہے جو کہ اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں ۔ایسے افراد جو ڈپریشن سے پہلے مایوسی اور اداسی کا شکار رہتے ہیں، ان میں چونکہ ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ، ان کے گھروالوں کو چاہئے کہ ایسے افراد کو اکیلا نہ چھوڑیں۔ اُن سے ان کی مشکلات اورپریشانیوں کے بارے میں بات کریں۔ ماہرین کے مطابق ڈپریشن کے شکار افراد کے ساتھ شفقت اور محبت کا برتائو کیا جانا چاہئے اور ان کے ساتھ سختی کرنے یا ان کی حالت کو نظر انداز کرنے سے ان کے مرض کو بڑھاوا ملتا ہے۔ ایسے مریضوں کو ہمدردی اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کی ایک ریسرچ کے مطابق ڈپریشن کے مریضوں کو گلے لگانے سے،ان سے ہمدردی کرنے سے ڈپریشن اور دماغی تنائو میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔مریض کو تسلی و تشفی دینی چاہئے اور ماحول اور حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کر نی چاہئے اور مرض کی شدت میں اضافہ ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے ۔ کیونکہ خدا نخواستہ اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 33 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter