ہم وہ ہیں جو آہن و فولاد سے ٹکراتے ہیں۔۔۔

Published in Hilal Urdu

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

شہباز علی(لیڈنگ میرین)شہید کی داستانِ شجاعت ،لیفٹیننٹ عاصمہ نازکے قلم سے

وطن کے وہ سپاہی جو اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی ذمہ داری کندھوں پر اُٹھائے، سینہ تانے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں تاریخ اُن کے نام کبھی نہیں بھولتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لہو میں اسی جذبے کو پروان چڑھانے کی خاطر ان جانبازوں کے نام عقیدت اور فخر سے دہراتی ہے کیونکہ یہ نام صفحہ ٔ قرطاس پر بھی اعزاز بن کرجگمگاتے ہیں۔


شہباز علی لیڈنگ میرین بھی پاکستان کی تاریخ کے ان ہی کرداروں میں سے ایک ہے جو وطن کی غیرت و ناموس کی خاطر جان قربان کر کے اپنے آباء کی تاریخ کو ہر بار نئے رنگ سے دُہراتے ہیں۔دسمبر2015 میں بسول ڈیم اورماڑہ کی سائٹ کا سروے کرنے والے صوبائی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی سکیورٹی کا فرض ادا کرنے کے لئے جس ٹیم کا انتخاب کیا گیا اس میں شہباز علی بھی شامل تھا۔شہبازایک ایسا فرض شناس اور پُر جوش سپاہی تھا جو ہمیشہ اپنے ساتھیوں میں نمایاں نظر آتا ،جس کی اپنے فرض سے لگن جداگانہ اور بے نظیر تھی۔ 30دسمبر 2015 کو سائٹ سروے کے لئے روانہ ہونے والی اس سکیورٹی ٹیم میں بھی شہباز علی اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں سب سے الگ اورممتاز دکھائی دیتا تھا، وہ فرض کی ادائیگی کے دوران معمولی سے معمولی چیزوں اور امکانات کوبھی نظر انداز کرنے کا قائل نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ ڈیوٹی کے لئے نکلتے ہوئے وہ اپنے کام سے متعلق ہر قسم کی تفصیلات حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ دسمبر2015 کی اس صبح بھی جب اسے سکیورٹی ٹیم کا انچارج مقرر کیا گیا تو نہ صرف یہ کہ اس نے اپنے روٹ کی مکمل تفصیلات حاصل کیں بلکہ راستے میں پیش آنے والی تمام ممکنہ صورتحال پر بھی غور کیا۔ شہر میں امن و امان کی صورتحال اس امر کی متقاضی تھی کہ ہر قسم کے حالات سے نبرد آزما ہونے کی حکمتِ عملی تیار رکھی جائے یہی وجہ ہے کہ ٹیم کے دیگر ارکان کی طرح شہباز علی بھی مستعد تھا۔

 

joamanwofoladse.jpgاورماڑہ سے40 کلومیٹر کے فاصلے پر جب سروے ٹیم کوسٹل ہائی وے سے کچے راستے پر اتری تو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہباز علی نے اپنی گاڑی کو سب سے آگے رکھا اورکارواں میں شامل تمام گاڑیوں کو ایک مخصوص فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایات دیتے ہوئے آگے بڑھا۔اس حکمت عملی کا مقصدیہ تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں کم سے کم نقصان ہو اور کاروان میں شامل تمام افراد اور گاڑیاں محفوظ رہ سکیں۔ بسول ڈیم سائٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ وہی ہوا جس کا خدشہ شہباز علی کے ذہن میں سفر کے آغاز سے موجود تھا، چند شر پسند عناصر نے سروے ٹیم پر حملہ کر دیا اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔شہباز علی نے فوراً اپنی گاڑی کو اس طرح پوزیشن پر کیا کہ وہ نہ صرف شر پسندوں کو بھرپور جواب دے سکے بلکہ سروے ٹیم کو محفوظ رکھتے ہوئے سکیورٹی ٹیم میں شامل اپنے دیگر ساتھیوں کا تحفظ بھی یقینی بنا سکے۔ اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے شہباز علی نے شر پسندوں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا اور انہیں اپنی جانب ہی متوجہ رکھا تاکہ کاروان میں شامل سرکاری اہلکار اور سکیورٹی ٹیم کے باقی ارکان متبادل راستوں سے بحفاظت نکل سکیں۔فائرنگ کے تبادلے کے دوران شہباز علی متعدد گولیوں کا شکار بناتاہم شدید زخمی ہونے کے باوجود اس کے عزم اور حوصلے میں کمی نہ آئی اور وہ مسلسل دیوار آہن بن کرشرپسندوں کے سامنے سینہ سپر رہا۔زخموں سے چُور شہباز علی کے جسم کے کئی حصوں سے خون بہہ رہا تھا مگر وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔اپنے ساتھیوں کے تحفظ کا جو بِیڑہ اس نے اٹھایا تھا۔ وہ اسے پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کے لئے پُر عزم تھا۔شہباز علی نے شرپسندوں کو اس وقت تک اپنی جانب متوجہ رکھا جب تک کاروان میں شامل دیگر تمام گاڑیاں محفوظ راستے پرگامزن نہ ہو گئیں۔ دہشت گردوںکو جونہی اپنی ناکامی کا ادراک ہوا انہوں نے دوسری گاڑیوں کو نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہا مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ شہباز علی کی جرأ ت اور بہادری نے اس کے دیگر تمام ساتھیوں اور سروے ٹیم کو بحفاظت خطرے سے دور کر دیاتھا اور اس طرح لیڈنگ میرین شہباز علی نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کے تحفظ کا عہد وفا کر دکھایا۔


19برس تک اپنے سینے کو حرمت وطن کا آہنی حصار ثابت کرنے والا شہباز علی بردبار،خاموش طبع مگر خوش اخلاق ساتھی اور اپنے کام کو اپنی ذات پر ترجیح دینے والا ایک ایسا جوان تھا جس کی زیادہ تر گفتگو کا محور افواج پاکستان کی جانب سے ملک کے تحفظ کے لئے دی جانے والی قربانیاں اور فرض شناسی کی عظیم داستانیں رقم کرنے والے وطن کے سپاہی رہتے تھے۔کرِیکس کے دشوار گزار علاقوں میں دفاع وطن کی ذمہ داری نبھانے کے دوران اس کے ساتھ وقت گزارنے والے ایف سی پی او محمد ملوک کے مطابق ایک جرأت مند سپاہی کی تمام خصوصیات کا حامل ہونے کے علاوہ شہباز علی اپنی خوش لباسی کے سبب بھی جانا جاتا تھا۔ اپنے گھر اور دوستوں سے کوسوں دور کریکس کی دلدلی زمینوں پربھی اوقات کار کے بعد وہ ہمیشہ اچھا لباس زیب تن کئے نظر آتا اورساتھیوں کے استفسار پر کہتا کہ انسان کے باطن کے ساتھ ساتھ اس کا ظاہر بھی بے عیب نظر آنا چاہئے۔


اپنے ظاہر و باطن کو بے عیب بنانے کی کوشش کرنے والا یہ جوان اپنے تمام فرائض بطریقِ احسن نبھاتا ہوا دنیا ئے فانی سے رخصت ہوا۔ اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کا یہ عمل شہباز علی کے عزم و ہمت کی وہ داستان سناتا ہے جو شاید دنیا کے کسی بھی داستان گو کے الفاظ کی محتاج نہیں۔ شہباز علی نے وراثت میں حوصلے ، جوانمردی اور اولوالعزمی کی وہ مثال چھوڑی ہے جو نہ صرف شہید کی اولاد کے سینے پر تمغہ بن کر سجے گی بلکہ پاک میرینز میں آنے والے ہر جوان اور افسر کے لئے بھی قابل تقلید رہے گی۔

میرے وطن کی مقدس زمیں سے کہہ دینا

abdul_hammed.jpg

میجر (ریٹائرڈ) عبدالحمید بٹ1973میں جب دشمن کی قید میں تھے تو انہوں نے اپنے ہم وطنوں کے نام یہ اشعار لکھے جو نذرِ قارئین ہلال ہیں۔


میرے وطن کی مقدس زمیں سے کہہ دینا
خموشیِٔ دل صدا آرزو کی گہرائی
درِ قفس شبِ ہجراں سکوتِ تنہائی
ہر ایک کنج قفس میں تلاش کرتی ہے
مری نظر ترے رخسار و لب کی رعنائی
مہک اُٹھا ہے تری یاد سے قفس اے دوست
ہوائے صبحِ وطن جب بھی اس طرف آئی
میرے وطن کی مقدس زمیں سے کہہ دینا
سلام کہتے ہیں تم کو تمہارے شیدائی
ہزار بار مبارک ہو دوستوں کو حمید
ہمارے بعد وطن میں جو کوئی عید آئی

*****

 
Read 31 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter