اقبال اور نوجوان

Published in Hilal Urdu

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی

شاعرِمشرق،حکیم الامت،مفکرِاسلام اور مصوّرِپاکستان علاّمہ محمد اقبال کے افکارپوری نسلِ انسانی کے لئے عموماََ،امت مسلمہ کے خصوصاََاور امت مسلمہ کے نوجوانوں کے لئے مزید خصوصیت کے ساتھ علم و دانش کا مخزن ہیں۔ان کا پیغام امن،ترقی ،خوشحالی،محبت اور سر بلندی کا پیغام ہے۔ان کی اُمیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ، سب سے زیادہ وابستہ تھیں۔وہ سمجھتے تھے کہ نوجوان نسل قوم کا مستقبل ہے،اگر یہ نسل تعلیم یافتہ،باصلاحیت ،مہذب اور روشن دماغ ہوگی توقوم کا مستقبل تابناک ہوگابصورتِ دیگر قوم اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی۔گویا قوم کا مستقبل نسلِ نو کے ساتھ وابستہ ہے۔اس لئے وہ چاہتے تھے کہ یہ نسل آگے بڑھنے کے لئے دین و دنیا کے تمام علوم سے بہرہ مند ہو۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے نئے آفاق تک رسائی حاصل کرے اور جو کام اس قوم کے بزرگوں کے ہاتھوں پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچے وہ اس قوم کے نوجوانوں کے ہاتھوں انجام پذیر ہوں۔جس طرح اقبال خود قوم کے نوجوانوں کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے ان کی آرزو تھی کہ اسی طرح نوجوانوں کے اندر بھی احساس اور قوم کا درد پیدا ہو۔اقبال کے دل سے ہمیشہ اس قسم کی دعائیں نکلتی تھیں:
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق میری نظر بخش دے
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
جہاں وہ جوانوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ انہی جیسے فکر واحساس کو دل و دماغ میں جگہ دیں گے وہاں وہ آنے والے حالات کی پیش بینی کرتے ہوئے ان علوم وفنون کے حصول اور قوم کے لئے ان کے استفادے کی صورت پیدا کریں گے جو بزرگوں کے دور میں سامنے نہیں آسکے۔اقبال چونکہ قوم کے سچے درد مندتھے اورحقیقی تڑپ رکھنے والے مفکر تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اس قوم کے نوجوانوں میں بھی یہی شعور اور احساس و فکر پیدا ہو۔ایک اور مقام پر دعائیہ الفاظ دیکھیے:
جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال وپر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے
اقبال نے مسلم نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دی ہے۔وہ چاہتے تھے کہ جو خصوصیات اللہ نے شاہین میں پیدا کی ہیں وہ نوجوانوں میں بھی پیدا ہو جائیں۔شاہین بلند پرواز ہے عام پرندوں کی طرح نیچی پرواز اس کے شایانِ شان نہیں۔نوجوانوں میں بلند پروازی کی صفت پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مقاصد بلند ہوں،ان کی سوچ میں پستی نہ ہو۔شاہین کی آنکھ بہت دور تک دیکھ سکتی ہے،نوجوانوں میں اس صفت کا مطلب ہے کہ وہ دوراندیش ہوں۔آنے والے حالات کو پہلے سے بھانپ کر منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔شاہین کسی اور کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا یعنی وہ خود دار ہے۔اپنی محنت اور کوشش پر انحصار کرتا ہے۔گویا مسلم نوجوانوں میں خودداری کی صفت ہونی چاہئے۔وہ دوسروں کے بجائے اپنی ذات کی محنت اور کوشش پرانحصار کرنے والے بن کر اللہ سے مدد کی توقع رکھنے والے ہوں۔
شاہین آشیانہ بنا کر کسی ایک جگہ پابند رہنا پسند نہیں کرتا۔اقبال مسلم نوجوان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ کسی ایک جگہ بیٹھ کر ترقی اور عظمت کے خواب دیکھنے کے بجائے علوم و فنون کے حصول کے لئے پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی جانا پڑے،جانے سے گریزنہ کرے۔ترقی اوربہتری کے مواقع جہاں بھی نظر آئیں ان تک رسائی حاصل کرنے کی جدوجہد کرے۔
فقرواستغنا شاہین کی اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ہے۔وہ دوسرے پرندوں کی سرگرمیوںاور کھیل کود سے بے نیاز ہوتا ہے۔دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔مسلم نوجوانوں کی تربیت میں بھی یہی چیز شامل ہونی چاہئے۔
خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں غلامی میں
زرہ کوئی اگر محفوظ، رکھتی ہے، تو استغنا
شاہین کی صفات اگر کسی نوجوان میں جمع ہو جائیں تو اس کی شخصیت ایک خود دار اور خود شناس انسان کے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔جس قوم میں ایسے نوجوان ہوں وہ ترقی کے راستوں پر انتہائی کامیابی سے گامزن ہوسکتی ہے۔اور بلا شبہ مصافِ زندگی صورتِ فولاد پیدا کر لیتی ہے۔اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُر دم ہے اگر تُو ، تو نہیں خطرۂ افتاد

خودی کا جو درس اقبال نے دیا ہے اسے نوجوانوں کی زندگی کا لازمی جزو بنا دینا چاہتے ہیں۔خودی اقبال کا وہ فلسفہ ہے جس کی ہزاروںتشریحات ہو چکی ہیں۔کتابیں اس فلسفے کی وضاحت سے بھری پڑی ہیں۔مگریہ فلاسفی ہنوز تشنۂ تفہیم ہے۔اس کی تشنگی کی وجہ یہ ہے کہ یہ فلسفہ زبانی توضیحات نہیں بلکہ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔اس ایک لفظی فلسفے ہی کی وجہ سے اقبال کو امامِ فلسفہ کا منصب حاصل ہے۔اقبال اپنے نوجوانوں کو اسی فلسفے پر عمل پیرا دیکھنے کے آرزو مند ہیں:
تو رازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل، یہ سرِزندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان مغرب کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کریں۔اور اس مطالعے سے اپنی زندگیوں کو قابلِ تقلید بنائیں۔وہ مغربی تہذیب کی عارضی چکا چوند کو مسلم نوجوانوں کے لئے انتہائی نقصان دہ سمجھتے ہیںکیونکہ یہ ظاہری چمک دمک روحانی اقدار سے ہٹ کر صرف مادی ترقی کی طرف لے جاتی ہے،جبکہ اسلامی تہذیب اور ہمارے اسلاف کی تعلیمات ایک پائیدار روحانی ترقی اور انسانی بھلائی کے دروازے کھولتی ہیں:
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردُوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اُس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاجِ سرِ دارا
علامہ اقبال کو اس بات پر افسوس ہے کہ ہمارے آبأو اجداد کی لکھی ہوئی کتابیں یورپ میں نصاب کا حصہ ہیںمگر مسلم نوجوان اس سے استفادہ کرنے سے محروم ہیں۔وہ ہمارے اسلاف کی کتابوں سے، جو کہ علوم کے سرچشمے ہیں، سیراب ہو کر دنیا پر حکومت کر رہے ہیں اور ہم ان علوم کو کھو کر غیروں کے کاسہ لیس بن چکے ہیں۔یہ صورت حال اپنے فرائض سے غافل ہونے،تساہل پسندی اور دوسروں پہ انحصار کی عادت کے سبب پیدا ہوئی ہے جس کا نقصان ہماری آنے والی نسلوں کو بھی ہو سکتا ہے:
ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جو انوں کی تن آسانی
اقبال نے فرمایا کہ محنت اور کوشش کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔قرآن پاک اور حاملِ قرآن کی تعلیم یہی ہے انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش اور محنت کرتا ہے۔ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ رہنے سے مقاصد کا حصول ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر قسم کے وسائل سے مالامال کیا ہے مگر ان وسائل کو کام میں لانے کے لئے دانش و حکمت کے ساتھ جدوجہد اور سعیٔ پیہم کی ضرورت ہے۔
غافل مَنَشیں نہ وقتِ بازی ست
وقتِ ہنر است و کارسازی ست
یعنی یہ وقت نہ تو غفلت شعاری کا ہے اور نہ ہی کھیل کود کا،یہ وقت ہنرمندی کے مظاہرے اور کارسازی کا ہے۔گویا جو کام بگڑے ہوتے ہیں انہیں ہم اپنی ہنرمندی اور کارسازی کے جذبے سے درست کر سکتے ہیں۔مشکل سے مشکل کام محنت اور کوشش سے ہو سکتا ہے۔ایک نوجوان میں اگر جذبہ موجود ہے اور جذبے کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے تو ترقی کی منزل تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں۔جوانی کا زمانہ قوت اور جذبوں کی فراوانی کا زمانہ ہوتا ہے۔ان جذبوں اور قوتِ جسمانی کو کام میں لا کر ناممکن کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخِ زندگانی انگبیں
آج ملک و قوم کو جو مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں سے کام لینا ہوگا۔اپنی قوت اور علم کو کام میں لانا ہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا نوجوان طبقہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے کافی حد تک باخبر ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت سے جنگ میں برابر کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاک فوج اور سلامتی کے دیگر اداروں میں ہمارے نوجوان ہی شامل ہیںجو اقبال کے شاہین بن کر قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے روزوشب مصروفِ عمل ہیں۔اقبال کو ایسے ہی نوجوانوں سے محبت ہے کیونکہ یہی ملک و قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔
آئیے دعا کریں کہ اللہ انہیں بھی سلامت رکھے اور ملک وقوم کے مستقبل کو بھی۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

مضمون نگار اُردو ادب و تحقیق کا ایک معروف نام ہیں وہ وفاقی اُردو یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات دیتے رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


بیادِ اقبال

رہتی تھی کوئی برقِ تپاں قلب و جگر میں
اک ہجر کہ رکھتا تھا اُسے شوقِ سفر میں

کیوں حشر اٹھاتا نہ جنوں اُس کا فلک پر
لاتا تھا ستاروں کی خبر ثانیہ بھر میں

دیوار ٹھہرتی کوئی کیا اُس کے مقابل
اک دشتِ ابد گیر کا سودا تھا جو سر میں

وا کر کے دلوں بیچ نئے دہر دریچے
کہتا تھا کہ مت قید رہو شام و سحر میں

دُھن تھی کہ زمانے کی نگاہوں میں بسا دے
کچھ خواب لئے پھرتا تھا وہ دیدۂ تر میں

اللہ نے کیا عشق عطا اُس کو کیا تھا
رہتا تھا ہر اک آن وہ آقا کی نظر میں

اُس جیسا کوئی صاحبِ اعجاز کہاں ہے
لے جائے جو احساس کو دنیائے دِگر میں

جوں جوں کہ گزرتا چلا جاتا ہے زمانہ
آتا چلا جاتا ہے جہاں اُس کے اثر میں

یارب ہنرِ شعر میں اقبال کے صدقے
رکھنا مرے لکھے ہوئے الفاظ کی شرمیں

jalil_aali.jpg
جلیل عالی

*****

*****

 
Read 36 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter