خودی کی کہانی، بزبان بے زبانی

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر حمیرا شہباز

دانشمندوں کی دانشوری پر غور و فکر بذات خود ایک دانشمندانہ عمل ہے۔ 9نومبر 2017 شاعر فردا علامہ محمد اقبال کا 140 واں یومِ ولادت ہے۔ اقبال کو شاعر فردا بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی بصیرت ، ان کی دور بینی، دور اندیشی ان کے کلام سے عیاں ہے اور شاید اس لئے بھی کہ ملک تو سالوں میں بن جاتے ہیں لیکن قومیں صدیوں میں تربیت پاتی ہیں ۔ 140 سال قبل پیدا ہونے والے اقبال کی وفات کو بھی 80برس ہونے کو ہیں۔ ہم اپنے حال کو دیکھ کر اقبال کی فکر فردا کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہمارا امروز اقبال کا وہی فردا ہے جس کے لئے وہ فکر مند تھے۔
امروز ہمان فردایست کہ دیروز نگرانش بود
حکیم الامت نے اپنی حکمت آمیز شاعری میں جہاں قوم کو لاحق جملہ امراض کی تشخیص کی ہے وہاں ان کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کا فلسفہ خودی خاص طور پر امت مسلمہ کو لاحق کئی مسائل کا حل ہے۔ بہت سی دقیق شرحیں فلسفہ خودی کو بیان کرتی ہیں اس کے باوجود بھی اس فلسفے کا فہم عام ہونا ابھی باقی ہے کیونکہ اقبال نے لفظ ''خودی''کے مروجہ لغوی معنی اور انگریزی متبادل لفظ
"ego"
یا
"self"
کے قدرے منفی تاثر کے برخلافت اس لفظ کو مثبت تاثیر بخشی ہے ۔ خودی کے اصطلاحی معنی علامہ اقبال کے جہانِ افکار میں بہت وسعت رکھتے ہیں۔ اگر ان تمام شرحوں اور لغوی اور اصطلاحی مفاہیم کا احاطہ کیا جائے تو لفظ خودی کی آسان تعبیر ''خود شناسی'' اور ''خود آگاہی''ہے، یعنی انسان اپنے وجود کی حیثیت، اپنی صلاحیتوں اور اپنی تخلیق کے مقاصد سے باخبر ہو، ان صلاحتیوں کو خالق کی امانت جان کر ان کے درست استعمال اور ان کی افزائش و تقویت کے لئے کوشاں رہے۔

khudikikahani.jpg
علامہ کے فارسی اور اردو کلام میں خودی کے جملہ پہلوئوں کا بیان ملتا ہے۔ انسان تو انسان اقبال نہایت ہنرمندانہ انداز میں جانوروں کی خود فراموشی میں بھی مضمر قباحتوں اور سنگین نتائج کی نشاندہی فرماتے ہیں۔ ایسی بہت سی تمثیلی حکایات نظر سے گزرتی ہیں جو جانوروں کی زبانی خودی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
بانگ درا کی معروف نظم ''ایک مکڑا اور مکھی'' کا پیغام کیا ہے؟ خودشناسی! ایک مکھی جس لمحے اپنی اصل، اپنی خصوصیات، اپنی شناخت اور فطرت سے بے بہرہ ہوتی ہے، جان سے جاتی ہے۔ ایک مکڑے کی خوشامد نے اس کو اس کی اصل حیثیت اور خوبیوں کے بجائے وہ اوصاف دکھائے جو اس کی شخصیت اور فطرت کے مساوی نہ تھے:
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی!
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
یہ حسن، یہ پوشاک، یہ خوبی، یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
نظم ''ہمدردی'' کا مرکزی کردار، ایک معمولی ، بظاہر چھوٹا ساکیڑا، جگنو، اپنی صلاحیت سے آگاہ ہے اور اس کو درست طور پر بروئے کار لانے کا ادراک بھی رکھتا ہے۔ اس خود آگاہی نے اس کو اتنی فراست اور توانائی بخشی ہے کہ وہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور کی بھی مدد کر سکتا ہے۔ شب کی تاریکی میں راہ گم کردہ بلبل کو رستہ دکھا سکتا ہے:
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
''بال جبریل'' کی ایک نظم ''شیر اور خچر'' میں اقبال قوی اوصاف کے مالک شیر اور ضعیف پیکر خچر کے مکالمے میں بیان فرماتے ہیں کہ کس طرح کمزور نفس لوگ حسن بیان کی کرشمہ سازی سے خود کو طاقتور اور اوصافِ حمیدہ کے حامل احباب سے نسبت کو ثابت کرکے حقیقت کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
شیر
ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ
کون ہیں تیرے اب و جد، کس قبیلے سے ہے تو؟
خچر
میرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور
وہ صبا رفتار، شاہی اصطبل کی آبرو!
اقبال شاہین میں وہ اوصاف پاتے ہیں جو کہ فقر اسلامی کا خاصہ ہیں اور ایک مومن کی خودی کو استحکام بخشتے ہیں۔جس کو خود کی پہچان ہو، وہی خودداری جیسی اعلیٰ صفات کا مظہر ہو سکتا ہے۔نظم''پندباز بہ بچ خویش'' میں ایک باز اپنے بچے کو نصیحت کرتا ہے اور اس کو خودداری، غیرت مندی، بلند پروازی، خلوت پسندی، تیز نگاہی، سخت کوشی جیسی اعلیٰ صفات گِنواتا ہے :
تو دانی کہ بازاں زیک جوہرند
دل شیر دارند و مشت پرند
نکو شیوہ و پختہ تدبیر باش
جسور و غیور و کلاں گیر باش
یعنی : تو جانتا ہے تمام بازوں کی پیدائش ایک ہی جوہر سے ہوئی ہے، بظاہر مٹھی بھر پروں کا وجود ہیں ہم، لیکن شیروں کا سا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اس لئے ایک باز کو صرف اپنے اندر بازوں کی سی ہی خصلت کو فروغ دینا چاہئے۔ کیونکہ:
نصیب جہاں آنچہ خرمی است
ز سنگینی و محنت و پر دمی است
تہ چرخ گردندہ ای کوز پشت
بخور آنچہ گیری ز نرم و درشت
ز دست کسی طعمہ ای خود مگیر
نکو باش و پند نکویان پذیر
یعنی: دنیا میں جو بھی بھلائی حاصل ہوتی ہے وہ مسلسل اور انتہائی محنت سے حاصل ہوتی ہے، آسمان تلے اپنا رزق خود تلاش کر، کسی کے ہاتھ کا نوالہ نہ لے، نیک بن اور نیکو کاروں کی نصیحت پہ کان دھر۔
اقبال گوشہ نشینی اور معاملات جہاں سے کنارہ کشی کو منفی تصوف گردانتے ہیں۔ اسی لئے تو اقبال کی ایک نظم ''اگر خواہی اندر خطر زی'' میں جب ایک ہرن دوسرے ہرن کے سامنے، صیاد کے خطرے سے حرم میں جا بسنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو وہ اسے پر خطر زندگی کی افادیت سمجھاتا ہے:
رفیقش گفت ای یار خردمند
اگر خواہی حیات اندر خطر زی
خطر تاب و توان را امتحان است
عیار ممکنات جسم و جان است
یعنی: اس کے ساتھی(ہرن)نے کہا کہ اے سیانے، اگر زندگی کا خواہاں ہے تو خطروں میں جینا سیکھ۔ زندگی کی مشکلات ہی انسان کی مخفی طاقتوں اور صلاحیتوں کے لئے کسوٹی ثابت ہوتی ہیں اور کھرے کھوٹے کا فرق ظاہر کرتی ہیں۔
اگر کسی کو اپنی بقا اور سلامتی مطلوب ہے تواسے ایک لحظہ کے لئے بھی اپنی خودی کی حفاظت سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔کسی کی خودی اتنی ضعیف نہ ہو کہ وہ دشمن کی ہوس یا ضرورت کی بھینٹ چڑھ جائے۔
مثنوی اسرار خودی کی ایک حکایت میں اقبال بیان کرتے ہیں کہ جب ایک پیاسا پرندہ ہیرے کے ایک ٹکڑے کو پانی کا قطرہ سمجھ کر پینے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی چونچ ہیرے سے ٹکرا کر رہ جاتی ہے۔اور ہیرا اس کو باور کرواتا ہے کہ:
قطرہ ٔ آبی نیم ساقی نیم
من برأ دیگراں باقی نیم
یعنی: میں قطرہ آب یا کوئی ساقی نہیں ہوں، میں اس لئے زندہ نہیں کہ دوسرے مجھے ہڑپ کر جائیں۔
آخر کار وہ پیاسا پرندہ شبنم کے قطرے سے اپنی پیاس بجھاتا ہے اور نظم کے انجام میں اقبال پانی کے قطرے اور ہیرے کے ٹکڑے کی خاصیت کا فرق بیان کرتے ہوئے اسرار خودی فاش کرتے ہیں:
قطرہ سخت اندام و گوہر خو نبود
ریزہِ الماس بود و او نبود
غافل از حفظ خودی یک دم مشو
ریزہِ الماس شو شبنم مشو
پختہ فطرت صورت کہسار باش
حامل صد ابر دریا بار باش
نغمہ ئی پیدا کن از تارِ خودی
آشکارا سازِ اسرارِ خودی
یعنی: شبنم کا قطرہ نہ تو سخت اندام تھا اور نہ ہی ہیرے کی طرح سخت جان۔ اپنی خودی کی حفاظت سے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہونا۔ ہیرے کا ٹکڑا بنو، نہ کہ شبنم کا قطرہ۔ پہاڑوں کی مانند پختہ فطرت بنو تاکہ سیکڑوں سیلابی بارشوں کی شدت کوبرداشت کر سکو، اپنی خودی کے تار سے ایسا نغمہ بنائو جس سے اسرارِ خودی سب پر آشکارہ ہو جائیں۔
مختلف حکایات میں علامہ اقبال منفرد انداز میں مختلف بے زبانوں کی زبانی اپنا فلسفہئِ خودی بیان کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن مثنوی اسرار خودی کی وہ حکایت بہت دلچسپ ہے جس میں ضعف خودی کے خطرناک نتائج کا بیان ہے، جب ایک پرسکون جنگل میں شیر اپنی فطرت کے عین مطابق بھیڑ بکریوں کو چیر پھاڑ کر اپنا پیٹ بھرنے لگتے ہیں اور باقی جانوروں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں تو آخر کار ایک چالاک بھیڑ خود کو مرسلِ یزداں بتاتی ہے اور اپنی تبلیغ میں ان شیروں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ:
توبہ از اعمال نامحمود کن
أ زیاں اندیش فکر سود کن
یعنی کہ وہ اپنی طاقت آزمائی کو ترک کردیں اور گھاٹے کا سودا کرنے کے بجائے اپنی بھلائی کی فکر کریں ۔
شیر ان کے جھانسے میں آ کر گوشت خوری سے توبہ کر لیتے ہیں اوراپنی خودی کھو بیٹھتے ہیں اوربھیڑبکریوں کی طرح گھاس کھانے پر مائل ہو جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ علف خوری سے ان کے دانت ضعیف اور خود بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔ اقبال اس بے ہمتی سے پیدا ہونے والے امراض کچھ اس طرح گنواتے ہیں:
صد مرض پیدا شد از بی ہمتی
کوتہ دستی بیدلی دوں فطرتی
شیر بیدار از فسون میش خفت
انحطاط خویش را تہذیب گفت
یعنی: اس بے ہمتی سے کوتاہ دستی ، بے دلی اور پست فطرتی جیسے سیکڑوں مرض جنم لیتے ہیں۔ بیدار صفت شیر اس بھیڑ کی سحر آمیز باتوں میں آ جاتے ہیں اور اپنی پستی اور زوال کو تہذیب کا نام دیتے ہیں۔
انسان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنا اشرف مقام پہچانے ، دنیاوی فائدے کی خاطر نادان مکھی کی طرح کسی کی خوشامد کا شکار بننے کے بجائے اپنی حقیقت کو پہچانتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے کرے۔ غیروں کے دکھلائے کھوکھلے خوابوں اور سرابوں کے پیچھے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے، اپنے مقصد حیات اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقت پسندی سے جانچے اور اپنی بظاہر معمولی صلاحیت کو نکھار کر جگنو کی طرح دوسروں کے لئے بھی مشعل راہ بنے۔ خچر کی طرح اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو چھپانے اور دوسروں کے نام و نسب کا سہارا لینے کے بجائے خود میں شاہینوں کے سے اوصاف پیدا کرے اوراپنی بہتر شناخت بنائے جس کو ظاہر کرنے میں شرمندگی نہ ہو۔ خود میں الماس کے ٹکڑے کی سی کاٹ پیدا کرے جو مخالف کے لئے تر نوالا ثابت نہ ہو۔ کیونکہ انسان اگر نام نہاد افلاطونی تہذیب کے چکر میں پڑ کر اگر ضعف خودی کا شکار ہوا تو پھر یہ طے ہے کہ سستی، کاہلی ، کم ہمتی جیسی بیماریوں سے بچنا مشکل ہے جو زندگی کو مفلوج کردیتی ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ :
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مضمون نگارڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 52 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter