یہ میر ے رب کی دَین ہے

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

اﷲ سبحانہ' تعالیٰ کی عطاکردہ روحانی کیفیات کے احوال پڑھ کر نہ صرف ایمان اور یقین مزید مضبوط ہوتا ہے بلکہ نظامِ قدرت کو بھی سمجھنے میںمدد ملتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ایمان کے باوجود اکثر لوگوں کا یقین ''ڈھلمل'' یعنی ڈانواڈول ہی ہوتا ہے ورنہ اگلے جہان، روزِ حساب، قبر میں سوال جواب اور جزا سزا پر یقین کامل ہو تو انسان نہ جھوٹ بولے، نہ دھوکہ دے، نہ ملاوٹ کرے، نہ قتل و غارت کا مرتکب ہو، نہ شراب و زنا میں ملوث ہو، نہ حرام کھائے نہ قرب شاہی کے لئے اپنا ذہن وضمیر گروی رکھے۔ سوچا جائے تو روحانی تصرفات قدرت کا چھوٹا سا انعام ہوتی ہیں انسان کے اعمال اور عشقِ اِلٰہی و عشقِ رسولۖ کا۔ تو پھر اس سے بڑے انعام کا تصور کیجئے جو موت کے بعد کی دنیا میں عطا ہوگا؟ جب اس طرح کے تصدیق شدہ یعنی مستند حوالوں سے قدرت کے رازوں سے تھوڑا سا پردہ سرکتا ہے تو انسان پر ابدی زندگی کا راز فاش ہوتا ہے۔ ابدی زندگی صرف اُنہیں عطا ہوتی ہے جو دنیا سے پردہ کر جاتے ہیں ورنہ تو انسان اپنی تمام تر دولت، کروفر، شان و شوکت اور اقتدار کے ساتھ مٹی میں مل جاتا ہے۔ بقاء مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ مجھے زندگی میں ایک دو ایسے اولیاء کرام کی مجلس نصیب ہوئی ہے جن کی سچائی، حقانیت، فقر، عشق سند کی حیثیت رکھتے ہیں اورجن کا باطن ہمہ وقت منوّر رہتا تھا۔ ان فقیروں کو نہ تو اس دنیا سے رغبت تھی اور نہ ہی وہ خوفِ الٰہی کے مارے فالتو بات کرتے تھے۔ یہ میرا اُن سے محبت کا رشتہ تھا کہ وہ کبھی کبھار میرے کریدنے پر بعض مرحوم ہستیوں سے ملاقات کا تھوڑا سا ذکر کردیتے تھے ۔ اُنہیں حضور نبی کریمۖ کی زیارت بھی نصیب ہوئی تھی۔ شاید وہ سمجھتے تھے کہ مجھ جیسے دنیا دار کی تسکین اور دلداری کے لئے راز سے تھوڑا سا پردہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس لئے میں جب کبھی کسی نہایت قابلِ اعتماد، سرتاپا سچے اور عاشقِ الٰہی و رسول کی زبان سے روحانی احوال سنتا ہوں تو مجھے اُن پر یقین آجاتا ہے کیونکہ یہ نیک ہستیاں ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک اور صاف ہوتی ہیں اور اُنہیں دنیا اور دنیا داروں سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ یقین رکھئے تحقیق اور چھان پھٹک میری عادت ہے اور میں شعبدہ بازوں کی شعبدہ بازیوں سے ہرگز متاثر نہیں ہوتا۔


میں تو ایک دنیا دار انسان ہوں،مجھے نہ روحانیت کا علم ہے نہ تصوف کا لیکن میرا یقین کسی حد تک مستحکم ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وہ عظیم صحابی ہیں جنہیں ہجرت کے وقت مدینہ منورہ میں نبی کریم ۖ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ ظاہر ہے کہ ایسا اعزازآسمانوں پر طے ہوتا ہے اور نصیب والوں کو ہی ملتا ہے۔ طویل عرصہ قبل مدینہ منوّرہ میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھرکی زیارت کا موقع بھی ملا جو پہلے مسجدِ نبوی سے چند گز کے فاصلے پر واقع تھا اور اب حرمِ نبوی کی توسیع کے بعد اس کا حصہ بن چکا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری استنبول میں دفن ہیں۔ چند برس قبل مجھے اُن کے مزار اور مزار سے ملحق ابوایوب انصاری مسجد میں حاضری کا موقع ملا۔ میری کیفیت محاورے کی زبان میں خرِ عیسیٰ والی تھی یعنی اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گدھا مکہ معظمہ سے بھی ہو آئے تو گدھا ہی رہے گا۔ چند روز قبل ابولامتیاز ع۔ س۔ مسلم کی کتاب ''ادب گاہ'' پڑھتے ہوئے ایک ایسے واقعے پر نظر پڑی کہ جی چاہا آپ سے شیئر کروں۔ محترم مسلم رجب مرحوم بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں، تحریکِ پاکستان اور قائدِاعظم کے شیدائی تھے اور معروف شخصیت بھی تھے۔ تقریباً96 سال زندگی گزارکر کوئی دو تین برس قبل دبئی میں اﷲ کو پیارے ہوئے۔ عابد و زاہد انسان تھے۔ لیکن بات ہے اپنے اپنے نصیب کی۔۔ اب آپ اُن سے حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر حاضری کا احوال پڑھئے اور عاشقانِ الٰہی و عاشقانِ رسولۖ کے مقامات اور ابدی زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ اگر یہ باتیں سمجھ آجائیں تو اپنے آپ پر نگاہ ڈالیں۔ وہ لکھتے ہیں: ''میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ نے حضورِاکرم ۖ کی یہ حدیث سُن رکھی تھی کہ 'میری اُمت کا جو پہلا لشکر قیصر کے شہر پر حملہ آور ہوگا، وہ مغفرت یافتہ ہے۔


ایوب انصاری اس وعدئہ مغفرت پر شوقِ شہادت میں عہدِ حضرتِ امیر معاویہ (48ہجری،668 عیسوی) میں قسطنطنیہ پر حملہ آور ہونے والے لشکر کے ساتھ شامل ہوگئے اور مرتبۂ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق اثنائے محاصرہ میں وفات پائی، لیکن چونکہ نیت شہادت کی تھی اس لئے وفات میں بھی مرتبۂ شہادت کی بابت کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ اس محاصرے میں شہر فتح نہ ہوسکا۔ حدیث مبارکہ کی روشنی میں آپ کی وصیت تھی کہ مجھے دشمن کے قریب ترین اور اسلامی لشکر کی آخری حدود میں دفن کیا جائے چنانچہ آپ فصیلِ شہر کے نیچے مدفون ہوئے۔


سلطان محمد فاتح کے دَور میں آپ کا مرقد ازسرِ نودریافت ہوا تو اُسے 1445ء میں 'مسجدِ ایوب انصاری'کی تعمیر کا اعزاز حاصل ہوا- بعد میں حسبِ ضرورت مسجد کی مرمت، تعمیرِ نو اور توسیع ہوتی رہی، آپ کے روضہ مبارک کی تعمیر بھی اُسی سال احاطۂ مسجد میں ہوئی۔ قبر کے تعویذ کے ارد گرد چاندی کی جالی نصب ہے۔


میں چاندی کی جالیوں کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔ اپنی پستیِ کردارپر منفعل… لیکن میری یہ پستی بھی اُس وقت بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت سے سرفراز تھی اور اُس پر جتنا بھی نازاں ہوتا کم تھا، لیکن مجھے کہاں ہوش تھا۔ میں اپنی پستی کے احساس پر غرقاب ہوتا جارہا تھا لیکن اُدھر وہ عظمت و شوکت، وہ شان جو مجھے کشاں کشاں اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔ یہ بندۂ کمینہ آج میزبانِ سید المرسلین و شہِ لولاک کا مہمان تھا۔ آنکھوں میں ایک منظر متحرک ہوگیا- شرمندگی ایک طرف، میرا جی چاہا ان جالیوں کو اپنے دل کی دھڑکنوں میں سمو لوں- یہ میرے سینے کی گہرائیوں میں اس طرح پیوست ہوجائیںکہ ان میں اور میرے دل میں کوئی فرق نہ رہے، آنکھوں سے چشمہ انفعال جاری تھا۔ سامنے دربارِ رسالتۖ تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ عالمِ نور میں جلوہ فگن، دعوتِ مجسم تھا۔ سرورِ کائنات، جناب رسالت مآب ،میرے آقا وماوا و ملجا ۖتخت پر تشریف فرما تھے اور حضرت ابوایوب انصاری اپنی انگلی تھمائے ایک بچے کی طرح مجھے پیشِ رحمت لے جارہے تھے۔


قرب میں قوسین سے نزدیک تر
اور جلوے ہیں کہ تاحدِ نظر


ایک سیہ اعمال اور عادی گنہ گار کی یہ خوش نصیبی، یہ بارشِ انوار ! سحابِ رحمت کی ٹھنڈی اور معطر پھوار نے مشامِ جاں کو سُرور سے بھر دیا۔ پھر یاد نہیں۔ نجانے کتنا وقت گزرا۔ آنکھیں کھلیں تو احساس ہوا کہ ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے اور میں گرد و پیش سے بے نیاز دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہوں اور اب لوگ حیرت سے تک رہے ہیں۔ جب طبیعت ذرا سنبھلی تو محافظ آہستہ آہستہ دبے پائوں مجھ تک آیا، اور کان میں کہا: 'وقت کا خیال نہ کریں اندرونی دروازہ کھول دیتا ہوں، جی چاہے تو مرقد تک چلے جائیں اور جب تک جی چاہے اندر ٹھہریں۔''
'یہ اﷲ کا فضل ہے، جسے چاہے عطا کرے، اور اﷲ بہت بڑے فضل والا ہے۔

،(سورة الحدید5:21)
کیا یہی وہ اَن چاہا موڑ یا سنگِ میل تھا؟ کیا یہی وہ حیات بخش لمحہ تھا، جو نئی زندگی کی بشارت ہوتا ہے؟ کیا میری طفلگی اور انگلی تھامنے کا استعارہ ایک نقطۂ آغاز تھا؟
'پس اﷲ جو ہے ، تو وہی ہے صاحبِ اختیار اور سب کام بنانے والا، اور وہی زندہ کرتا ہے مردے کو، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے
(سورة الشوریٰ :٤٢۔٩)
واپسی پر ٹیکسی ڈرائیورنے نجانے کس غیر معمولی جذبے کے تحت میرے غلیظ جوتے اٹھائے اور باہر نکل کر میرے پائوں کے سامنے رکھ دیئے۔ اُس نے نہ صرف کرایہ لینے سے انکار کردیا بلکہ اگلے روز بھی آنے پر اصرار کیا اور فی الواقع صبح سے آکر ہوٹل کے سامنے حاضر خدمت ہوگیا۔
اب صورت حال دوسری تھی، احساس تو بیدار تھا، لیکن شعور بدستور خواب میں تھا، یا شاید ایک لطیف مخموری کیفیت طاری تھی۔ بازار میں کچھ خریداری کے لئے رُک گئے، جس دکان پر جاتے ہیں، تو ''زبانِ یارِ من تُرکی و من تُرکی نمی دانم'' کے باوجود ہر شخص پوچھتا ہے:
''حاجی؟۔۔۔ پاکستانی؟۔۔۔ مبروک ! 
جب متعدد بار یہ صورت حال پیش آئی تو میں نے بیگم سے کہا ''مجھے تمہاری پیشانی پر کچھ نظر نہیں آتا، تمہیں میری پیشانی پر کچھ لکھا نظر آتا ہے جو اِن سب کو نظر آرہا ہے۔


اور میری طرف نظر میں پاکستانی سفارت خانے کا وہ اہل کار بھی گھوم گیا جو میری طرف دیکھ کر پاسپورٹ تھامے چپکے سے اندر چلا گیا تھا اور چند ثانیوں میں ترمیم کی مہر لگوا لایا تھا۔ ظاہر ہے بیگم کا جواب بھی نفی میں تھا۔ لیکن جو پیش آرہی تھی اُسے کون جھٹلاتا۔۔۔ اﷲ اکبر وﷲ الحمد۔


یہ آخری شب تھی بیگم کے ٹخنے میں30 سال قبل آپریشن کی وجہ سے مستقل تکلیف ہے اور ٹیڑھا پائوں پڑجائے توچلا نہیں جاتا ، استنبول کے پرانے اور دُرونِ لاہور جیسے بازاروں میں یہی دقت پیش آگئی اور ہوٹل پہنچتے پہنچتے ٹخنہ سوج کر کُپّاہوگیا۔ یہ رونے بیٹھ گئیں کہ اب میں اپنے پائوں سے طواف اور سعی کیسے کرسکوں گی(وہاں سے عمرے کے لئے جانا تھا) یہ تو جب تک ٹھیک ہونے سے رہا۔ دفعةً جیسے کوئی پردہ اٹھا گیا اور سارے واقعات تصویر کی طرح میری آنکھوں کے سامنے گئے۔ میںنے کہا :''خدا کی بندی، جو اس اہتمام کے ساتھ یہاں تک لایا ہے اور جس نے یہ یہ نشانیاں دکھلائی ہیں، اب اُس سے نااُمید ہوتی

ہو؟ دعا کرو۔۔۔ اور حقیقت ہے، کہ صبح تک درد سوجن کا نام ونشان تک نہ تھا۔''

(بحوالہ ادب گاہ۔صفات126-27)
یہ بات ہے اپنے اپنے نصیب کی۔ اپنے اپنے اعمال کی۔ جسے چاہے وہ عطا کرے لیکن یہ عطا یوں ہی نہیں ہوتی؟ اس کے لئے نصف شب جاگنا، اﷲ کے حضور پیش ہونا، گناہوں کی معافی طلب کر کے عبادات و مجاہدات میں مصروف رہنا پڑتا ہے۔ حدیث قدسی اس بات کو یوں بیان کرتی ہے کہ جب کوئی شخص نوافل اور عبادات کے ذریعے اﷲ پاک کا قرب حاصل کرلیتا ہے تو اﷲ پاک اس کا ہاتھ ، اس کی زبان اور آنکھ بن جاتے ہیں۔ جب انسان اپنے خالقِ حقیقی کی زبان بن جائے اور اُسی کی آنکھ سے دیکھے توکیا اُس پر روحانی دنیا کے پردے ہٹ نہیں جائیں گے؟ کیا وہ فرش و عرش کے راز سمجھ نہیں سکے گا؟ کیا اُس پر حقائق واضح نہیں ہو جائیں گے ؟اور اس کی زبان سے نکلے الفاظ پتھر پر لکیر نہیں ہوں گے؟ میںنے اپنی زندگی میں جو اولیاء کرام دیکھے، وہ اشاروں سے بات کرتے تھے، قدرت کے راز عیاں نہیں کرتے تھے لیکن اُن کے اشاروں سے کی گئی بات کچھ نہیں دنوں بعد مِن و عن صحیح ثابت ہوتی تھی، اُن کی نگاہ سے قلب صاف اور باطن منور ہوتا تھا، اُن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی تھی بلکہ مقدر بھی بدل دیتی تھی۔ یہ سلسلہ ہے اپنے اپنے تجربات کا۔ جنہیں زندگی میں کبھی کوئی ایسی ہستی نہیں ملی وہ تشکیک میں مبتلا رہیں گے۔ لیکن جنہیں یہ تجربہ ہو چکا ہے وہ اسے سمجھ جائیں گے۔ سمجھیں یا نہ لیکن اس پر غور کریں۔ میرا روحانی تجربات کے بعد اس پر یقین، ایمان کی مانند مضبوط ہے۔ میں ایسے واقعات بہ وزنِ کرامات کا عینی شاہد ہوں۔

مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سیوہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

منزل ہے رُوبرو جو ہے سمتِ سفر درست
کیا غم ہے جو نہیں ہیںمرے بال و پر درست
کمزوریٔ بدن کی شکایت نہ ہو مجھے
رکھے خدائے پاک جو فکر و نظر درست
اس خوں کے لوتھڑے سے عبارت ہے زندگی
سب کچھ درست جان، رہے دل اگر درست
سمجھوں کہ آگیا ہے زمانے میں انقلاب
ہو جائیں گر غریب کے شام و سحر درست
انسانیت کے درد سے ہے جو بہرہ مند ہو
جذبہ وہی ہے راست وہی نغمہ گر درست
بھولے نہ جو شناخت کبھی گردوپیش کی
رکھتا ہے وہ خیال ہمیشہ اثر درست
جو اپنے خال و خد کو بگڑنے نہ دے کبھی
تائب میری نظر میں ہے بس وہ ہنر درست

h_taib.jpg


حفیظ تائب

*****

 
Read 38 times

3 comments

  • Comment Link غلام حیدر ساہیوال غلام حیدر ساہیوال 20 November 2017

    مضمون تو اچھا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر ایسے مضامین بھی اسی مجلے میں شامل کئے جائیں جس سے مسلمانوں کو جدید علوم کے حصول اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی زیادہ سے زیادہ دلچسپی بڑھے۔

  • Comment Link Muhammad Tufailc Muhammad Tufailc 20 November 2017

    very well written sir.This article has given an insight regarding real meanings of spirituality. Regard's Muhammad Tufail. from Karachi

  • Comment Link Nadeem Nadeem 20 November 2017

    Beautifully Narrated article. Nadeem from Lahore

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter