کیا ہندوستان لبرل اورسیکولر ہے؟

Published in Hilal Urdu

تحریر: صائمہ جبار

ہندوستان دراصل تنگ برہمن ذہنیت اور رسم و رواج کو ماننے والی حکمران اقلیت کا ملک ہے۔ یہ حکمران طبقہ اکثریتی ہندوآبادی کو اپنے سیاسی مقاصد اور مذہبی جنون کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ دوغلے چہرے والے اس ملک میں دوسرے تمام مذاہب کی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندوئوں اور سکھوں کا رہنا بھی اب ایک مسئلہ بن گیا ہے۔قتل و غارت گری کے خون آشام سائے تلے زندگی گزارنے والی اقلیتیں اب سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا؟


دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے دار بھارت کا اصل چہرہ بی جے پی جیسی انتہا پسند سیاسی پارٹی کے رہنما نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آتے ہی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتا جا رہا ہے۔بی جے پی مسلمانوں سے نفرت کرنے والی ایک انتہا پسند پارٹی ہے جس نے آر ایس ایس
(Rashtriya Swayamsevak Sangh)
کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ آر ایس ایس ہزاروں مسلمانوں کے قتل میں ملوث ایک مسلمان مخالف منشور رکھنے والی تنظیم ہے۔کہنے کو تو بھارت کے آئین میں 42 ویں ترمیم کے بعد بھارت ایک جمہوری ریاست اور سیکولر (لامذہب) اسٹیٹ ہے جس سے مراد ہے کہ بھارتی ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب کے لوگ وہاں آزادی سے رہ سکتے ہیں۔ لیکن انتہا پسند بی جے پی کے برسرِ اقتدار آتے ہی بھارت کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور اقلیتوں کے خلاف مظالم میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ اسلام بھارت کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور بھارت کی کل آبادی کا 14 فیصد سے زائد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن مودی کے اس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں بے انتہا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں
Food and Agriculture Organization (FAO)
اور
Organization for Economic Co-operation
and Development (OECD)
کی رپورٹ کے مطابق بھارت دنیا میں بڑے گوشت کو درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ لیکن منافقت کی انتہا یہ ہے کہ مقدس سمجھی جانے والی اس گائے کو پیسے کی خاطر تو مارا اور بیچا جا سکتا ہے لیکن مسلمانوں سے نفرت کے باعث انہیں بڑا گوشت کھانے کے شک پر بھی ہجوم کے ہاتھوں قتل کرنے کے واقعات میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے۔نہ صرف مسلمان بلکہ بھارت کی دوسری اقلیتیں بھی ہجوم کے ہاتھوں موت کا شکار ہو رہی ہیں۔پہلے تو ایسے بہت سے واقعات میڈیا پر رپورٹ ہی نہیں ہوتے تھے، پہلا اندوہناک واقعہ 2015 میں رپورٹ ہوا جب 52 سالہ محمد اخلاق اتر پردیش دادری میں ہندو انتہا پسند ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوا۔ ہجوم کو شک تھا کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا۔ حکومتی جماعت بی جے پی کی طرف سے اس کی کوئی مذمت نہیں کی گئی بلکہ خاموشی رہی۔ اس کے بعد تو اس طرح کے واقعات کی لائنیں لگ گئیں۔رواں سال مارچ سے مئی تک اس طرح کے سات واقعات ہوئے۔ فرسٹ پوسٹ کے آرٹیکل کے مطابق:
Cow slaughter row: Since 2010, 97% of beef-related violence took place after Modi govt came to power. Indias first data journalism initiative
نے ایک کانٹنٹ سروے کیا جس میں 2010 سے 2017 تک شدت پسندی کے واقعات میں بھارت میں 51 فیصد مسلمان نشانے پر تھے۔جن میں 97 فیصد واقعات نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ہوئے۔
بھارت میں اقلیتوں کو گھر واپسی کے نام سے ایک مہم چلا کر زبردستی ہندو بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس مہم کو شروع کرنے والا گروپ دھرما جگران سمیتی
(Dharma Jagran Samiti)
ہے جو کہ حکمران جماعت بی جے پی کی ایک ذیلی جماعت ہے۔

kiahundustan.jpg
اتر پردیش میں دھرما جگران سمیتی کے سربراہ راجیشور سنگھ کہتے ہیں کہ ہم 2021 تک بھارت کو پورا ہندو بنانا چاہتے ہیں اس لئے یا تو اقلیتیں ہندو بن جائیں یا بھارت چھوڑ دیں۔دوسری شدت پسند جماعتیں اس بات کو سپورٹ کرتی ہیں جو مسلمانوں کے لئے باعثِ تشویش ہے۔
بھارتی فلم انڈسٹری بالی وڈ نامور مسلمان اداکاروں سے بھری پڑی ہے۔ کچھ عرصہ قبل نامور اداکار ہدایتکار عامر خان نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر اظہار خیال کیا تھا۔ شاہ رخ خان نے بھی عامر خان کے بیان کو سراہا لیکن اس کے بعد انکو انتہا پسند ہندو سیاسی جماعت شیو سینا سے دھمکیاں بھی ملیں۔ شیو سینا کے رہنما کا کہنا تھا کہ عامر خان کو پاکستان چلے جانا چاہئے۔احتیاطاً دونوں کی سکیورٹی بڑھانا پڑی کیونکہ ان پر حملوں کے امکانات بہت زیادہ تھے۔


بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں یوگی ادھتیا ناتھ کا چیف منسٹربن جانا ریاست میں رہنے والی تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے باعثِ تشویش ہے۔ ادھتیا ناتھ ہندوتوا نظریے کا بہت بڑا ماننے والا ہے۔ اپنے سیاسی جلسوں میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے میں شہرت رکھتا ہے۔اسی انتہا پسند ہندو نظریے کے باعث بی جے پی نے ریاست اتر پردیش میں 14 سال بعد جیت حاصل کی اور اپنے اسی نظریے کی وجہ سے کسی اقلیت کو ٹکٹ نہیں دیا۔


2015 میں اسی ادھتیا یوگی نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دل دہلا دینے والا بیان دیا کہ ہندوں کو چاہیئے کہ وہ مسلمان خواتین کی قبروں سے لاشیں نکال کر بے حرمتی کریں۔
جب 2016 میں بھارتی مسلمان اداکار شاہ رخ خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں بھارت میں عدم برداشت کی بات کی تو اس وقت انہیں بھارتی انتہاپسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت ادھتیا ناتھ نے شاہ رخ خان کو حافظ سعید کے ساتھ تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ شاہ رخ خان کی فلمیں اکثریت ہندو آبادی دیکھتی ہے اور اگر انہوں نے فلموں کا بائیکاٹ کر دیا تو شاہ رخ خان سڑک پر آجائیں گے۔


ادھتیا یوگی نے بر سرِ اقتدار آتے ہی بڑے گوشت پر پابندی عائد کر دی۔ مذبح خانوں پر کریک ڈائون کا آغاز ہو گیا۔ یوگی ادھتیا کھلم کھلا ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکہ میں مسلم پابندی کی طرف داری کرتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں اس نے واضح کہا کہ اگر ہمیں موقع ملا تو اپنے دیوی دیوتائوں کے مجسمے مسجدوں میں رکھیں گے۔ یوگی نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر ایک ہندو قتل ہوا تو ہم پولیس میں جانے کے بجائے اس کے بدلے میں 10 مسلمان قتل کریں گے۔ اور اگر انہوں نے ہماری ایک لڑکی لی تو ہم اس کے بدلے ان کی 100 لڑکیاں لیں گے۔ یہ بالکل وہی نظریہ ہے جس پر عمل کرتے ہوئے نریندر مودی نے 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا تھا۔
اگر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف یہی زہر بھرا جاتا رہا تو یوگی جیسا انسان اگلا وزیرِ اعظم بن سکتا ہے جو کہ بھارت کی لبرل سوسائٹی کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔


مسلمانوں سے نفرت کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ یہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کے حق میں نہیں۔ پاکستانی کرکٹرز کے ممکنہ بھارتی دورے پر پہلے سے ہی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور آخرپاکستانی حکومت نے کرکٹ ٹیم کو بھارت جانے سے روک دیا اور اب پاکستان اور بھارت میں دو طرفہ کرکٹ میچ ختم ہو چکے ہیں۔کہتے ہیں کہ فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن پاکستانی فنکاروں، اداکاروں اور گلوکاروں کو بھی بھارت جانے پر قتل کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیںاور تو اور اگر کوئی لبرل دانش ور اس انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے پاکستان کا ہمدرد ہونے کے طعنے دیئے جاتے ہیں۔


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بھارت میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے بارے میں مئی 2017کو جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے سیمینار میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوان نسل کے کردار کے موضوع پر بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتہا پسندی قومی سطح پر ابھر چکی ہے اور بھارت کے قومی چہرے کو مسخ کررہی ہے،آر ایس ایس کے انتہا پسند اور گائورکھشک ابھرتی ہوئی انتہا پسندی کا اظہار ہیں۔
اس صورتحال میں بین الاقوامی کمیونٹی ، علمائ،میڈیا اور سول سوسائٹی کوبھارت میں بڑھتی اس انتہا پسندی پر آواز اٹھانا ہو گی۔ کیونکہ بھارتی سیکولرازم تیزی سے شدت پسندی اور بنیاد پرستی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے اس خطے کو پہلے ہی داعش اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کا سامنا ہے۔ ایسے میں ہندو شدت پسندی کا ایک نیا خطرہ خطے میں امن و امان کے لئے خطرناک ہو گا۔دوسری شدت پسند تنظیموں کا تو کوئی مخصوص ملک نہیں لیکن یہ ہندو انتہا پسند تو بھارتی حکومت کے زیرِ سایہ ہیں اورنریندر مودی کے منظورِ نظر ہیں ۔ بھارتی سیاست میں ایک بڑے سٹیک ہولڈر ہیں جس سے بھارتی ریاست پر شدت پسند ہونے کا لیبل لگ رہا ہے۔

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 97 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter