غلط مفروضوں پر مبنی بیانیہ

Published in Hilal Urdu

تحریر: خالد محمود رسول

کمرے میں باوقار اور سنجیدہ ماحول طاری تھا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کا اجلاس تھا۔ امریکی وزیر دفاع کمیٹی کے سامنے دنیا میں سکیورٹی کے حوالے سے پالیسی وضاحتیں دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک سینیٹر نے انہیں سوال کیا ''ون بیلٹ ون روڈ سٹریٹجی کے ذریعے چین مختلف برِاعظموں کے مابین زمینی اور سمندری روٹس کے پھیلائو کا خواہاں ہے۔۔۔ آپ افغانستان میں چین کا کیا رول دیکھتے ہیں، بالخصوص ون بیلٹ ون روڈ کے حوالے سے۔


امریکی وزیر دفاع نے نپے تلے انداز میں جواب دیا۔ ''آج کی دنیا میں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کئی طرح کی بیلٹس اور کئی طرح کی روڈز کے ذریعے منسلک ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ایک ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسروں پر ون بیلٹ ون روڈ کو مسلط کرے۔'' اس وضاحت کے دوران انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کیونکہ اس منصوبے کا ایک حصہ متنازعہ علاقے سے گزرتا ہے ، اس لئے یہ منصوبہ اور بھی تشویشناک ہے۔ ان کا اشارہ واضح طور پر سی پیک کی اس تجارتی شاہراہ کی طرف تھا جو گلگت بلتستان سے گزر رہی ہے۔
بھارت کی چین کے منصوبے
Belt Road Initiative
پر ناخوشی ڈھکی چھپی نہیں لیکن سی پیک کے حوالے سے ہندوستان اس منصوبے کے روزِ اول سے ہی زیادہ چیں بہ چیں رہا ہے۔ ہر فورم پر ہندوستان نے اس منصوبے کی اس بناء پر مخالفت کی کہ سی پیک کی مرکزی شاہراہ بقول اس کے گلگت بلتستان کے متنازعہ علاقے سے گزرتی ہے ۔ پاکستان کا مؤقف بڑا واضح اور جاندار رہا ہے۔ مزید برآں چالیس سا ل قبل اسی علاقے سے شاہراہ قراقرم گزری لیکن بھارت نے اس بنیاد پر اس پر کبھی اعتراض نہیں اٹھایا لیکن سی پیک کے منصوبے کے پاکستانی معیشت پر انقلابی امکانات کے پیشِ نظر ہر فورم پر دہائی دینے میں مصروف ہے۔


بھارت کے اس مؤقف کو یوں تو دنیا میں کوئی پذیرائی نہیں ملی ہے تاہم اس نے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور امسال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جون میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں امریکہ نے ون بیلٹ ون روڈ کے حوالے سے بھارت کے مؤقف کی تائید کے اشارے ملے ہیں۔

سی پیک کے آغاز سے ہی بھارت کو اس منصوبے پر اعتراض تھا۔ اصل اندرونی دکھ تو یہ تھا کہ پاکستان میں جہاں سال ہا سال سے ڈیڑھ دو ارب ڈالر سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوتی وہاں ایک ہی پروگرام کے تحت چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ لانچ ہو گیا۔ بلکہ اس میں بعد میں اضافہ ہو کر یہ ممکنہ سرمایہ کاری پچپن ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔ انرجی، انفراسٹرکچر، پورٹ، انڈسٹریل اسٹیٹس، ریلوے، پائپ لائینز اور فائبر آپٹک سمیت کئی اور شعبوں پر مبنی اس سرمایہ کاری کو پاکستان کی معیشت کے لئے گیم چینجر کہا گیا۔

امریکی وزیر دفاع کے اس بیان پر چین نے بجا طور پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ پاکستان نے بھی اپنے مؤقف کا واشگاف انداز میں اظہار کیا لیکن بھارتی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں امریکہ کی پالیسی میں بھارت کی طرف جھکائو پر شادیانے بجائے گئے۔ عالمی طاقتوں کی کھینچا تانی میں امریکہ کی اس 'بھارت نواز' پالیسی کے خطے پر بالعموم اور سی پیک پر بالخصوص دُور رَس اثرات ہو سکتے ہیں۔


سی پیک کے آغاز سے ہی بھارت کو اس منصوبے پر اعتراض تھا۔ اصل اندرونی دکھ تو یہ تھا کہ پاکستان میں جہاں سال ہا سال سے ڈیڑھ دو ارب ڈالر سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوتی وہاں ایک ہی پروگرام کے تحت چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ لانچ ہو گیا۔ بلکہ اس میں بعد میں اضافہ ہو کر یہ ممکنہ سرمایہ کاری پچپن ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔ انرجی، انفراسٹرکچر، پورٹ، انڈسٹریل اسٹیٹس، ریلوے، پائپ لائینز اور فائبر آپٹک سمیت کئی اور شعبوں پر مبنی اس سرمایہ کاری کو پاکستان کی معیشت کے لئے گیم چینجر کہا گیا۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کے قریب ترین دوست ملک چین کے ذریعے ہو رہی ہے ۔ سی پیک منصوبے کے تحت مرکزی تجارتی شاہراہ گلگت بلتستان سے گزرے گی۔ بھارت کو سی پیک منصوبے پر دشمنی 'نبھانے' کا اور کوئی سفارتی یا قانونی طریقہ نہ سوجھا تواس نکتے کو بنیاد بنا کر دنیا بھر میں اس منصوبے کی مخالفت شروع کر دی کہ یہ تجارتی شاہراہ گلگت بلتستان کے علاقے سے گزرتی ہے جو اس کی نظر میں متنازعہ ہے۔


دنیاکے ممالک اپنے اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں۔ چین کی معاشی طاقت اورآنے والے وقتوں میں چین کے ساتھ تجارت اور تعلقات سے جُڑے معاشی امکانات کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے تعلق کو مناسب جانا ۔ ان ممالک میں یورپ کے وہ ممالک بھی شامل ہیں جو امریکہ اور نیٹو کے اتحادی بھی ہیں۔ گزشتہ سال چین میں ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے سلسلے میں سربراہ کانفرنس میں پینتالیس سے زائد سربراہ شامل ہوئے۔ جنوبی ایشیا میں سے بھارت واحد ملک تھا جس نے عین آخری لمحے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
امریکی حکام کو بہرحال یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہئے کہ حقیقت میں
Disputed Territory

مقبوضہ کشمیر ہے نہ کہ آزادکشمیر یا گلگت بلتستان۔ زمین پر موجود حالات کے طائرنہ جائزے سے یہ بات مکمل واضح ہو جاتی ہے کہ آزادکشمیر کے لوگوں نے اپنا فیصلہ پاکستان کے حق میں روزِاول سے دے دیا ہے۔ آزادکشمیر کے عوام پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ پاکستان کی سرحدوں کے دفاع میں ہمہ وقت پیش پیش رہتے ہیں چہ جائیکہ ہندوستانی افواج کے جو اپنی بربریت کے ذریعے ہمہ وقت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی کی تحریک کو کچلنے میںمصروف ہے۔ آزادکشمیر کے عوام اور پاکستانی افواج کے درمیان رشتہ 'قابض اور مظلوم' کا نہیں بلکہ 'دوست اور بھائی' کا ہے۔ پاکستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام ایک اِکائی کی صورت رکھتے ہیں۔ ایک ہی وجود کے مختلف اعضا ہیں۔ غرضیکہ تاریخی، ثقافتی اور زمینی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ
Disputed Territory
گلگت بلتستان نہیں بلکہ
Indian Occupied Kashmir
ہے جہاں
Plebiscite
ہونا باقی ہے۔ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کے حق میں اپنا فیصلہ 1947میں ہی دے دیا تھا اور آج وہ پاکستان کی شناخت ہیں۔
امریکہ نے اپنی نئی افغان پالیسی میں بھارت کے مجوزہ کردار کو مزید مستحکم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے اور ساتھ ہی چین کو بھی پیغام دیا ہے کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی راہ میں اب امریکہ رکاوٹیں کھڑی کرنے پرکمر بستہ ہے۔ امریکہ عرصے سے چین کو گھیرے میں رکھنے اور محدود رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مگرچین نے کمال مہارت سے عالمی سطح پر اپنے آپ کو ہر طرح کے قضیے سے بچائے رکھا، اپنی معیشت کے پھیلائو اور اور استحکام پر توجہ مرکوز رکھی لیکن اب ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے کثیر الملکی اور بین البرا عظمی پھیلائو پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔


امریکہ کی ورلڈ آرڈر لیڈرشپ کو مسلسل نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ''پہلے امریکہ'
(America First)
کے نعرے اور پالیسی کے ساتھ اقتدار سنبھالا تو عالمی بساط پر امریکہ کے قائدانہ رول اور پالیسیوں میں تبدیلی نظر آنا شروع ہو گئی۔ اپنے قریب ترین اتحادی یورپی یونین کے ساتھ ان کے نیٹو کی فنڈنگ کے حوالے سے اختلاف نے امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں وقتی سرد مہری پیدا کر دی ہے۔
چین کے ساتھ صدر ٹرمپ کے گزشتہ انتخابی بیانات کے پیشِ نظر ٹریڈ وار کا خدشہ تھا لیکن چین اور بعد ازاں وائٹ ہائوس میں مدبرانہ عناصر صدر ٹرمپ کو اس تجارتی جنگ کا نفع نقصان سمجھانے میں توکامیاب ہو گئے لیکن امریکہ اپنی دُور رَس علاقائی اور عالمی پالیسیوں کے تسلسل میں چین کی ابھرتی ہوئی معاشی اور سیاسی طاقت سے خائف ہے۔ اس پس منظر میں جنرل میٹیز کی جانب سے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر یہ بیان اس امر کی چغلی کھا رہا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں چین کو بدستور گھیرے رکھنے اور محدود کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔


امریکہ اس سے قبل پاکستان ایران گیس منصوبے کو روند چکا ہے۔ پاکستان میں گیس کے وسائل اس کی ضروریات سے کہیں کم ہیں۔ ہمارے پالیسی سازوں کی کوتاہ بینی تھی کہ انہوں نے چند ہی سالوں میں گیس کے محدود وسائل کو کھاد، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی پیداوار میں کھلے دل سے استعمال کرتے ہوئے ملک کو گیس کی قلت سے ہمکنار کر دیا۔ ایران سے گیس کی درآمد ایک قدرتی متبادل تھا لیکن یہ متبادل امریکہ اور ایران کی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایران کی جانب سے پائپ لائن کی پاکستان سرحد تک تعمیر کے باوجود پاکستان امریکہ اور سلامتی کونسل کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے دبائو کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل نہ کر سکا۔ حالانکہ یورپ کے بیشتر ممالک اپنی انرجی ضروریات کے لئے گیس روس سے درآمد کرتے ہیں۔ روس سے تمام تر مخاصمت کے باوجود امریکہ نے کبھی یورپی اتحادی ممالک کو اس بات پر مجبور نہ کیا کہ وہ روس سے گیس نہ لیں لیکن پاکستان اپنے مخصوص سیاسی، علاقائی اور معاشی حالات کے ہاتھوں ایسا مجبور ہوا کہ پاک ایران منصوبے پر آزادانہ مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں رہا ۔

پاکستان کے ریاستی اداروں کے لئے یہ امر بہت اہم ہے کہ سی پیک منصوبہ کسی بھی صورت عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کا شکار نہ ہو۔ سفارتکاری اور باہمی تعلقات کو اس انداز میں نبھانے کی ضرورت ہے کہ سی پیک منصوبہ اور اس کی مرکزی گزرگاہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کے اثرات سے محفوظ رہے۔


اس دوران امریکہ کی نئی افغان پالیسی پر عمل درآمد کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ میڈیا میں یہ خبریں بہت دنوں سے گردش میں ہیں کہ پاکستان کو ایک سخت پیغام دیئے جانے کی تیاری ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کمیٹی نے بجا طور پر ایک دلیرانہ اور مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے۔ بہرحال پاکستان کا مؤقف اپنی جگہ مگرتاریخ کی گواہی یہی ہے کہ امریکہ اپنے دور رس سکیورٹی مفادات کے لئے روایتی اقدامات سے شائد ہی باز رہ سکے۔


پاکستان کے ریاستی اداروں کے لئے یہ امر بہت اہم ہے کہ سی پیک منصوبہ کسی بھی صورت عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کا شکار نہ ہو۔ سفارتکاری اور باہمی تعلقات کو اس انداز میں نبھانے کی ضرورت ہے کہ سی پیک منصوبہ اور اس کی مرکزی گزرگاہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی کے اثرات سے محفوظ رہے۔ ہمیں اس منصوبے کو ایک اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بننے سے روکنے کے لئے بہترین سفارتکاری اور معاملہ فہمی کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے تاکہ سی پیک کو اپنے نشانے پر لینے کی دشمن کی نئی چال کامیاب نہ ہونے پائے۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 73 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter