پاک افغان تعلقات میں مدوجزر ۔ حقائق کی روشنی میں

Published in Hilal Urdu

تحریر:سمیع اللہ سمیع

دنیامیں طاقت کی رسہ کشی درحقیقت وسائل کی کھینچاتانی سے مشروط رہی ہے۔ افغانستان وہ بدقسمت ملک ہے جس کی سرحدوں سے انیسویں صدی کے وسط سے تاحال سپرپاورزکی آنکھ مچولی جاری ہے۔فرق بس اتناپڑاہے کہ اب برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے جبکہ روس نسبتاًکمزورہونے کے باعث بیک فٹ پر لڑرہاہے۔بہت سے افغانی پرامیدہیں کہ روسی وزیراعظم ولادی میرپیوٹن اورڈونلڈٹرمپ دوطرفہ تعلقات میں بہتری لائیں گے توافغانستان چکی کے پاٹوں میںمزید پسنے سے محفوظ رہ جائے گا۔1930کی، افغانی معدنی وسائل پر،جرمن رپورٹ سے اب تک کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 3ٹریلین ڈالرسے زائدکے معدنی وسائل موجودہیں ۔سی این بی سی اپنی ویب سائٹ پر لکھتاہے کہ افغان جنگ پر خرچ ہونے والے700 بلین ڈالراب امریکہ وہاں کے معدنی ذخائرسے حاصل کرے گا۔
United States Institute of Peace
کے مطابق افغانستان میں
Aynak
کے مقام پر
copper
کے ذخائرکی لاگت پچاس بلین ڈالرہے ۔سی این بی سی کے مطابق 1997میں افغان طالبان کاایک وفدیونین آئل کمپنی آف کیلی فورنیا
(UNOCAL)
سے گیس پائپ لائن کے دوبلین ڈالرکے منصوبے پر رضامند ہوا لیکن افغان طالبان چاہتے تھے کہ امریکہ انھیںسرکاری سطح پرتسلیم کرے، اسی بناپر یہ معاہدہ نہ ہو سکا۔ افغانستان کی 80فیصدآبادی کاتعلق زراعت کے پیشہ سے ہے جبکہ وہ اپنی ضرورت کی 24پروڈکٹس پاکستان سے درآمدکرتاہے جن میں چاول، ادویات اوردوسری روزمرہ کی اشیاء شامل ہیں۔اس طرح افغانستان پاکستانی مال کا تیسرا بڑاخریدارہے اوراس کی بیرون ملک برآمدات بھی پاکستان کے ساتھ اس کے 2010کے معاہدے۔
APTTA
کے تحت ہوتی ہیں۔ 2014کے آخرمیں افغانستان کی کمرشل ٹرانزٹ پچھترہزارسے کم ہوکرپینتیس ہزارتک رہ گئی جوہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے جبکہ 2014کے آغاز پردوطرفہ تجارت کی شرح دوبلین ڈالرتھی۔اس کی خاص وجوہات ایرانی راستے کی آسانیاں، کرایہ اور کار گو اخراجات کی کمی اورڈالرکے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی کم مالیت ہیں۔
اس وقت امریکی پالیسی اورآئی ایس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے چین، ایران اورروس کومجبورکردیاہے کہ وہ افغانستان میں اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کریں ۔خطے کے ان تین ممالک کامؤقف ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن نہیں چاہتااوروہ اپنے آپ کوافغانستان کے لئے ناگزیر ثابت کرنے کی خاطربہت سے اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ جیساکہ سابق افغان صدرحامدکرزئی نے
Russian TV
کو انٹرویودیتے ہوئے کہاکہ یہ سوال قابل غورہے کہ امریکی سکیورٹی فورسز اورسی آئی اے کی موجودگی میں دہشت گردتنظیم دولت اسلامیہ کاافغانستان میں واردہونااوربتدریج قوت بڑھانا کیسے ممکن ہوا؟انھوں نے کہاکہ امریکہ توافغانستان میں قیامِ امن کے لئے آیا تھا لیکن اس کے آنے کے بعدعدم استحکام،معاشی ابتری اوردہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دوٹوک اندازمیں کہاکہ افغانیوں کو ہراساں کرنا، بمباری اور قتل وغارت سمیت جیلیں بھرناجیسے اقدامات اپنی اہمیت کھوبیٹھے ہیں۔ہمیں قیامِ امن کے لئے راہیں بھی پرامن ڈھونڈناہوں گی۔جب ان سے سوال کیاگیاکہ کیا امریکہ دولت اسلامیہ کوافغانستان میں اسلحہ فراہم کررہاہے ؟توانہوں نے بلاجھجک اس بات کااظہارکیاکہ میرے پاس لوگ آتے ہیں اوربتاتے ہیں کہ کیسے بے رنگ ہیلی کاپٹرروزانہ کی بنیادپراسلحہ لے کرآئی ایس کے مختلف ٹھکانوں تک پہنچاتے ہیں اورایساپورے افغانستان میں کیاجارہاہے۔اپنی بات کوجاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم پوچھیں کہ امریکہ کی موجودگی میں داعش کیسے پھیلی جبکہ وہ تو طالبان والقاعدہ کوختم کرنے آیاتھا۔انھوں نے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے مزیدکہاکہ افغانستان میں امریکی عملداری کاتویہ حال ہے کہ جب امریکی وزیردفاع جنرل میٹس افغانستان کی سرزمین پرقیام پذیر تھے تووہ کابل ائرپورٹ کوبھی محفوظ نہ بناسکے ۔ان کی یہ بات طالبان کی اس بات کی کسی حدتک تصدیق کرتی ہے کہ وہ آج بھی افغانستان کے آدھے حصے پر قابض ہیں۔انھوں نے پاکستان سے افغانستان کے تعلقات کوبہتربنانے کی اہمیت پربھی زوردیا۔

گزشتہ ماہ پشاورمیں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان قونصل جنرل عبدالوحیدپوہان نے کہاکہ کچھ طاقتیں پاکستان اورافغانستان کوایک دوسرے سے دوررکھناچاہتی ہیں۔پاکستان وافغانستان کے بہترتعلقات نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ حالیہ حالات کے لئے بھی ناگزیرہیں۔

گزشتہ ماہ پشاورمیں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان قونصل جنرل عبدالوحیدپوہان نے کہاکہ کچھ طاقتیں پاکستان اورافغانستان کوایک دوسرے سے دوررکھناچاہتی ہیں۔پاکستان وافغانستان کے بہترتعلقات نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ حالیہ حالات کے لئے بھی ناگزیرہیں۔انھوں نے اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ میں جتناعرصہ پشاورمیں رہا، مجھے محسوس ہی نہیں ہواکہ میں کسی دوسرے ملک میں آیاہواہوں ۔دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔افغان صدرسے جب بھی ملاقات ہوئی انھوں نے پاکستان کے ساتھ بہترتعلقات کی تلقین کی۔


افغان صدراشرف غنی نے اقتدارسنبھالتے ہی پاکستان سے بہترتعلقات کاعندیہ دیاتھالیکن پھررفتہ رفتہ سب کچھ سرد خانے کی نذرہوگیاجس میں آرمی پبلک سکول کاواقعہ ایک بڑامحرک تھا۔حالیہ بیجنگ کانفرنس میں افغان صدراشرف غنی نے اپنی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے پانچ سرکلز بیان کئے جس میں پاکستان کو پہلے اوربھارت کو چوتھے سرکل میں رکھاگیایہ پاکستان کے بارے میں افغانستان کی پالیسی کایوٹرن ہے جو کہ ایک خوش آئندقدم ہے۔اس میں دونوں ممالک کی سول وملٹری قیادت کے دوروں اورنیک نیتی کاعمل دخل ہے۔19 ستمبرکواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی اشرف غنی کایہی کہناتھاکہ وہ پاکستان سے بہترتعلقات کے خواہاں ہیں۔ اس سے اگلے روز، بدھ کوافغان سفیر عمرزخیلوال نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے ملاقات کی جس میں انھوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی بہتری کے لئے نہ صرف آرمی چیف کی کوششوں کوسراہابلکہ امیدظاہرکی کہ وہ دونوں ممالک کو قریب لانے میں مزیدکرداراداکریں گے۔اس دوران ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی اورخطے میں سکیورٹی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔اس میٹنگ میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون پر بھی اطمینان کااظہارکیاگیا۔

pakafghantaluqmado.jpg
آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنے پہلے دورہ افغانستان کے نہایت مثبت نتائج حاصل کئے ۔اس دورہ میں ان کے ساتھ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل نویدمختاربھی شامل تھے۔صدراشرف غنی کے ساتھ ون ٹوون ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی جس میںغلط فہمیوں کے ازالے اوردونوں ممالک میں امن واستحکام کوجاری رکھنے کے لئے مختلف سطح کے مذاکراتی عمل کو تواترکے ساتھ جاری رکھنے پربھی اتفاق کیاگیا۔آرمی چیف نے قیامِ امن کے لئے افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کی بھی پیشکش کی ۔پاک فوج کے ترجمان نے اس دورہ کے بعد کہاکہ اس ملاقات کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ اس کے بعد کوئی منفی بیان سامنے نہیں آیا۔اس ملاقات کے بعدایک مثبت ماحول کی تعمیرمیں مددملی اورافغانستان اب سمجھ رہاہے کہ پاکستان اس کے لئے کتنا مثبت کرداراداکرسکتاہے۔


ڈونلڈٹرمپ کی21 اگست کی نئی افغان پالیسی کے مندرجات تووقت کے ساتھ ساتھ طشت ازبام ہوہی جائیں گے لیکن اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ ستمبر 2017 میں افغانستان کی سرزمین پر موجوددہشت گردوں کے ٹھکانوں پر 751 بم پھینکے گئے جوکہ 2012کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی تک امریکہ نے افغان طالبان کو محض مزاحمت کار قرار دیا ہواہے اورہمیں ڈومورکے چکرمیں الجھارکھاہے۔یہ وہی افغان پالیسی ہے جسے ستمبر میں سابق صدر حامدکرزئی نے افغانستان کے مسائل میں اضافے کاسبب قراردیاہے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں افغانی صدراشرف غنی نے اس بات پراطمینان کااظہارکیاہے کہ صدرٹرمپ نے مزید ٹروپس بھیج کر انتہاپسندوں کویہ پیغام دیاہے کہ ان کے لئے بہترراستہ میدان جنگ نہیں بلکہ مذاکرات کی میزہے۔یہ عجب اسرارہے کہ جب پاکستان،چین، امریکہ وافغانستان کے مابین جنوری 2016 میںفورنیشن پیس ٹاک شروع کی جاتی ہیں تو پانچویں سیشن میں کابل سے خبرلیک کی جاتی ہے کہ ملاعمرکراچی میں وفات پاچکے ہیں اورپاکستان نے اس لئے خبرکوعام نہیں کیا کہ طالبان پر اثرورسوخ میں کمی نہ آئے۔ پھراکیس مئی2016 میں ڈرون اٹیک کر کے طالبان رہنما ملااخترمنصور کو اگلی دنیا میں پہنچا دیا جاتاہے۔ دنیاپریہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ پاکستانی علاقے میں موجودتھے جبکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ ایران سے مذاکرات کرکے واپس جارہے تھے۔ اس وقت سے اب تک فورنیشن پیس ٹاک سردخانے کی نذر رہے۔ دوسری جانب پاکستانی سرزمین پر انٹیلی جینس شئیرنگ کے معاملے پرپاکستان نے کرم ایجنسی میں کارروائی کرتے ہوئے5 کینیڈین مغویوں کو بازیاب کرایاہے۔ دفترخارجہ کے ترجمان نفس زکریانے اس حوالے سے کہاہے کہ پاکستان سے زیادہ بہترکارروائی پاکستا ن کی سرزمین پر کوئی نہیں کر سکتا۔ امریکی وزیردفاع جیمزمیٹس اورامریکی صدرنے اس کارروائی کودونوں ممالک کے مابین ایک مثبت پیش رفت قراردیاہے۔ اس معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی انٹیلی جینس شئیرنگ پر کارروائی پاک فوج ہی کرے گی کہ اس میں دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے، مشترکہ آپریشن کی کوئی صورت قابلِ قبول نہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اعتمادکی فضاقائم کی جائے۔


اقوام متحدہ کے 72ویں اجلاس کے بعد ایشیا سوسائٹی فورم سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پاکستان کو قربانی کابکرانہ بنائے۔انھوں نے امریکہ کومتنبہ کیاکہ وہ پاکستان کوحقانی نیٹ ورک کے حوالے سے الزام دیناچھوڑدے، دو تین عشرے قبل یہی لوگ آپ کے
Darling
تھے ۔انھوں نے زوردیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کوآج امریکہ زمین پر بوجھ قراردے رہاہے ،یہی لوگ دوتین عشرے قبل وائٹ ہائوس کے چہیتے تھے ۔انھوں نے مزید کہاکہ امریکہ نے ماضی میں بھی ہمارے لئے مشکلات کھڑی کی ہیں اوراب بھی شدت پسندی میں اضافے کا موجب بن رہاہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے بھی کہاکہ دنیاکوچاہئے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے ضمن میں خدمات کوسراہے، اگر اسی طرح الزامات کاسلسلہ جاری رہاتو یہ خطے کے امن کے لئے سازگار ثابت نہ ہوگا۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ پاکستان کوفوجی ضروریات کے لئے امریکہ پرزیادہ انحصارکی ضرورت نہیں ہے۔ اگرکسی کاایک راستہ بندکیاجائے تووہ لامحالہ دوسرا راستہ اختیارکرے گا۔


ضرورت اس امرکی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی تیسرے ملک کے منفی اثرات قبول نہ کرے ۔ بھارت جیساملک افغانستان کی سرزمین پر موجودہے ،ان کی اسمبلیوں میں لابنگ کررہاہے ،وہ کبھی نہیں چاہے گاکہ پاکستان وافغانستان کے تعلقات بحال ہوں اورجندال کے ذریعے لوہے کے بہترین ذخائربھارت کے ہاتھ لگیں ۔مختلف ذرائع اس بات کی تائید کررہے ہیںکہ لوہے کوبھارت تک پہنچانے کے لئے سجن جندال پاکستان سے واہگہ کازمینی راستہ مانگ رہاہے جسے قبول کرناپاکستان کے مفاد میں نہیں۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی تیسرے ملک کے منفی اثرات قبول نہ کرے ۔ بھارت جیساملک افغانستان کی سرزمین پر موجودہے ،ان کی اسمبلیوں میں لابنگ کررہاہے ،وہ کبھی نہیں چاہے گاکہ پاکستان وافغانستان کے تعلقات بحال ہوں اورجندال کے ذریعے لوہے کے بہترین ذخائربھارت کے ہاتھ لگیں ۔مختلف ذرائع اس بات کی تائید کررہے ہیںکہ لوہے کوبھارت تک پہنچانے کے لئے سجن جندال پاکستان سے واہگہ کازمینی راستہ مانگ رہاہے جسے قبول کرناپاکستان کے مفاد میں نہیں۔


چارفریقی مذاکرات کا آغازہوچکاہے۔اس دوران امریکہ کی جانب سے کرم ایجنسی کی مخالف سمت افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیا میںڈرون حملوں کے بعد طالبان کی جانب سے کئے گئے حملوں میں صوبائی پولیس آفیسر سمیت افغانستان کو 72افراد کی قربانی دینا پڑی ۔پکتیامیں حالیہ دہشت گردی کی واردات پر آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہاکہ دہشت گردی سے لڑنے والے افغان ہمارے بہادر بھائی ہیں،خطے کے استحکام کے لئے ہم مل کرلڑیں گے اور دہشت گردوں کوشکست دیں گے ۔اس موقع پر آئی ایس پی آرکی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی کہ کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہواہے۔آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے بعد دونوں ممالک کی افواج کے تعاون اور باہمی اعتمادمیں اضافہ ہوا ہے۔ریزولیوٹ سپورٹ مشن
Resolute Support Missiom
کے تحت اطلاعات کابروقت تبادلہ کیاگیا۔ چار فریقی مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہاکہ ہم نے طالبان کو کوئی محبت کاپیغام نہیں بھیجا، ان مذاکرات کے دوران امریکہ کوڈرون حملوں سے اجتناب برتناچاہئے اورہم اکیلے طالبان کومیزتک نہیں لاسکتے، اس ضمن میں افغان حکومت کا بھی تعاون درکار ہے۔
چار فریقی مذاکرات کے بعد بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعے نے اس بات کاعندیہ دے دیاہے کہ خطے کاکون ساملک افغانستان میں قیام امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرناچاہتاہے اورکس طرح کی بزدلانہ حرکات کرکے پاکستان کے عزائم کو پست کرنے کی سعیِ ناکام میں مصروفِ عمل ہے۔


خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ اگر امریکہ نے ہوش کے ناخن نہ لئے اورجنگ کوجنگ سے ختم کرنے یااپنی طاقت کے زعم میں بھارت کوآگے لاکرخطے میں عدم توازن کی کوئی بھی کوشش کی تواس کے نتائج نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ اس خطے میں امریکہ کے مفادات کے لئے بھی بدتر ثابت ہوں گے۔آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے بعددونوں ممالک کے مابین بڑھتی قربتیں کسی تیسرے ملک کو ان کے درمیان دراڑیں ڈالنے سے روک رہی ہیں۔ افغان صدر نے بھی پاکستان کادورہ کرنا ہے جس کے پاک افغان تعلقات پر یقینا نہایت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان حالات کے تناظر میں قوی امید ہے کہ اس خطے کے عوام اپنے بہترمستقبل کے لئے کسی کادست نگررہنے کے بجائے آپس کے تعاون سے مسائل کاحل نکال لیں گے۔بصورت دیگراغیار ان کی معدنیات سمیت ان کاچین بھی چھین کے رہیں گے۔

مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 96 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter