میں کس کے ہاتھ پہ تیرا لہو تلاش کروں

Published in Hilal Urdu

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل معظم اشفاق

سی ایم ایچ کوئٹہ کے ٹھنڈے آئی سی یو میں مشینوں سے بندھا میرا بیٹا جُمعہ بس سانس کے زیروبم سے ہی زندہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس کا زرد چہرہ اور بند آنکھیں مجھے اجنبی معلوم ہوتی ہیں ۔اس چہرے پر میرے لئے پہچان کے کوئی آثار نہیں۔ جب سے میں آیا ہوں، کتنی دفعہ پکارا ہے مگر اس نے ذرا سی دیر کے لئے بھی آنکھیں کھول کر مجھے نہیں دیکھا۔ بچپن ہی سے اس کی عادت تھی کہ جب میں کام کاج سے واپس گھر لوٹتا تو وہ سونے کی اداکاری کرتا۔ جب میں اس کے پاس جاتا تو وہ قہقہہ لگا کر مجھ سے لپٹ جاتا۔ اس کی آنکھیں ہمیشہ مخصوص انداز سے بند ہوتیں جن میں کھلنے کی بے قراری نمایاں اور ہونٹوں پر معصوم مسکان ہوتی ، جو سوتے میں بھی اس سے جدا نہ ہوتی تھی ۔ آج بھی مجھے یوں ہی لگا کہ وہ حسب معمول سو نہیں رہا محض سونے کی اداکاری کر رہا ہے اور ابھی مجھے حیران کرنے کے لئے قہقہہ لگا کر ہنس دے گا۔ آج مگر اس کے چہرے پر سنجیدگی ہے، ایسی سنجیدگی جو بہت بڑا دھوکا سہہ کر چہرے پر در آتی ہے اور پھر لاکھ جتن کر لو جاتی ہی نہیں ۔


جمعہ میرے بچوں میں مجھے سب سے پیارا ہے۔ہم بلوچستان کے دور اُفتادہ ضلع کوہلو کے غریب لوگ ہیں ۔گزر اوقات کے لئے کوئی مناسب بندوبست نہیں بس جیسے تیسے گزارا ہو جاتا ہے ۔بچپن سے ہی جمعہ میرا خیال رکھتا۔میں تھک جاتا تو میرے پائوں دابتا اور کوشش کرتا کہ مشقت میںمیرا بوجھ بٹائے۔شروع سے ہی اس کو سپاہی بننے کا شوق تھا ۔ خوبصورت وردی میں ملبوس سپاہی جن کے چہروں پر ارادے کی چمک ہوتی، اس کے ہیرو تھے ۔بہت سال پہلے بلوچستان میں زلزلہ آیا پھر بعد میں سیلاب سے تباہ کاری ہوئی تو حکومت نے فوج کو مدد کے لئے طلب کیا۔اپنی ذاتی ضرورتوں سے بے نیاز سپاہیوں کو مصیبت میں گھرے لوگوں کی مدد کرتے دیکھنا جمعہ ہی کے لئے نہیں بلکہ میرے لئے بھی ایک ولولہ انگیز تجربہ تھا۔ مجھے کچھ ٹھیک یاد تو نہیں مگر شاید وہی وقت ہو گا جب جمعہ نے پورے یقین کے ساتھ مسلح افواج کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کر لیا اور میں نے اس کے مرضی پر صاد کر دیا۔


ٹوں ٹوں ٹوں ںںںں ... مشین کی مسلسل ٹون نے ڈیوٹی پر موجود نرس کو ہراساں کر دیا اور جمعہ کا تشنج کے جھٹکے کھاتا بدن دیکھ کر میرے ضبط کے سارے بند ٹوٹ گئے اور آنسووں کا سیلاب میرے بوڑھے گالوں پر یوں رواں ہو گیا گویا اب رکے گا نہیں۔ خدا جانے بوڑھے باپ اپنے جوان بیٹوں کو مرتے دیکھنے کا حوصلہ کیونکر اور کہاں سے لاتے ہیں ۔۔۔مگر کہیں سے غیبی امداد مل ہی جاتی ہے۔ گو خمیدہ کندھے مزید جھک جاتے ہیں۔۔۔۔کندھوں کا تو نہیں مگر میں اپنے سینے کا ضرور بتا سکتا ہوں جو 23 اگست 2008 کے دن فخر سے تن گیا تھا۔ میرا پیارا بیٹا جمعہ اپنے مقصد میں کامیاب جوہو گیا تھا وہ ایف سی میں بطور سپاہی بھرتی ہو گیا تھا۔ ہمارے علاقے میں میری حیثیت کے آدمی کے لئے روزگار کے مواقع بہت کم ملتے ہیں۔ مسلح افواج میں شامل ہو کر عزت کی نوکری کرنا میرے بیٹے کے لئے باعث صد افتخار تھااور رب تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں پر میں مطمئن اور اپنی قسمت پر نازاں ....اس کی ماں بیٹے کے بارے میں فکر مند ہوتی تو میں اسے دلاسہ دیتا۔ اس کی فکر بے جا نہیں تھی۔ بلوچستان میں جاری بدامنی کی لہر سے میں بھی پریشان تھا، آپ بے شک مجھے خود غرض کہیں لیکن مجھے یہ اطمینان تھا کہ بلوچ بلوچ کو ہرگز نقصان نہیںپہنچائے گا۔

 

mainkikehath.jpgڈاکٹر نے ڈرپ میں شاید کوئی سکون آور انجکشن دیا تھا کہ جمعہ کا تشنج کم ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نرس کو ہدایات دینے کے بعد واپس اپنے کیبن میں چلے گئے تھے۔ درد کی وہ لہر، جس نے تھوڑی دیر پہلے میرے جگر کے ٹکڑے کو بے حال کیا تھا ابھی بھی میرے دل کو گرفت میں لئے ہوئے تھی۔ غم سے کسی طور پر چھٹکارا ممکن نہیں.... غم سے ہم اس روز بھی بے حال تھے جس روز جمعہ اپنی یونٹ میں پہلی مرتبہ حاضری کے لئے گیا تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہماری آنکھوں کا نور اس طور پر ہمارے سامنے نہیں رہے گا جس کے ہم ابھی تک عادی تھے ۔مگر اس غم میں بیٹے کی عملی اور پیشہ ورانہ زندگی اختیار کرنے کی خوشی بھی شامل تھی۔


مسلح افواج کے بارے میں اگر کہیں کوئی غلط فہمی تھی بھی تو جمعہ کے ایف سی میں جانے کے بعد جاتی رہی۔ میرے لئے ہی نہیں پورے گائوں کے لئے جمعہ کی فراہم کردہ معلومات اپنے وطن کی سپا ہ کے لئے محبت میں اضافہ کرتی رہیں۔ خاران میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی امداد کا کام ہو یا 2005کے زلزلے سے متاثرہ کشمیریوں کی تعمیرنویا پھر چمالنگ میں لونی اور مری قبائل کے برسوں پرانے جھگڑے کا تصفیہ جس سے علاقے میں ترقی اور اجتماعی بہبودی کا ایک خوشگوار سفر شروع ہوا۔ اس سلسلے میں سب سے قابل قدر کام جس سے غریب بلوچوں کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو سکتا ہے،وہ بلوچ نوجوانوں کو فوج میں نوکریاں دینے کا ہے۔ جمعہ نے ہمیں شام کی محفلوں میں بتایا کہ فوج نے خصوصی طور پر بلوچ نوجوانوں کے لئے بھرتی کے معیار کو نرم کر دیا ہے۔ جس سے حوصلہ پا کر سیکڑوں نوجوان روزانہ فوج اور دوسرے متعلقہ اداروں میں بھرتی ہو رہے ہیں۔

 

بہر طور جب 19 جون 2010بروز ہفتہ کسی دشمنی کے بغیر دو موٹر سائیکل سوار نوجوان میرے جمعہ کو گولیوں کے فائر کر کے شدید زخمی کر گئے تو پہلی دفعہ یہ تلخ حقیقت مجھ پر واضح ہوئی کہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے حکومت سے نبرد آزمانام نہاد بلوچ قوم پرست تنظیموں کا بلوچ قوم پرستی سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ اگر بلوچ قوم کی بہبود ان تنظیموں کا مطمع نظر ہے تو پھر میرے بے گناہ بیٹے کے سینے میں گولی کیوں ماری گئی جو سرتاپا بلوچ تھا اور جو اپنی 23 برس کی مختصر زندگی میں بلوچستان سے باہر کبھی گیا بھی نہیں ۔میں سمجھ گیا جمعہ کے چہرے پر آج ایسی مہیب سنجیدگی کیوں در آئی تھی..... ایسی سنجیدگی جو بہت بڑا دھوکا سہہ کر چہرے پر در آتی ہے اور پھر لاکھ جتن کر لو جاتی ہی نہیں ۔۔۔بلوچ قوم پرستی کے نام پر میرے بیٹے کو اس کے بھائیوں نے چرکا جو لگا دیا تھا

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب کچھ ماہ پہلے، میں سارا دن موبائل فون پر اس سے رابطے کی کوشش کرتارہا تھا اور مسلسل کوئی جواب نہ پا کر میری پریشانی بڑھتی ہی جاتی تھی۔ جب شام کے وقت اس سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ وہ تمام دن بلوچستان کے ایک دور دراز علاقے میں میڈیکل کیمپ میں مصروف رہا تھا جہاں موبائل فون کام نہیں کرتے تھے۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ اس کی کور ہر تیسرے ماہ دُور افتادہ مقامات پر غریب اور بیمار لوگوں کو ان کے علاقے میں جا کر طبی سہولیات مہیا کرتی ہے، غریبوں کا مفت علاج کرتی ہے۔ دوائیاں تقسیم کرتی ہے اور جنہیں پیچیدہ بیماریاں لاحق ہو ں انہیں رہنمائی مہیا کرتی ہے۔ سچ پوچھئے تو اپنے بیٹے کی ہمارے افلاس اور عسرت سے بھر پور معاشرے کے لئے خدمات نے جیسے مجھے ایک نئی جوانی عطا کر دی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ میرے بیٹے اور اس کے دوسرے ساتھیوں کی خدمات سے میرا علاقہ ، میرا صوبہ اور میرا ملک ترقی کی جانب سفر کرے گا۔ پھر اس سال فروری میں معلوم ہوا کہ جمعہ کی ڈیوٹی تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنے والی ٹیم کی حفاظت پر لگ گئی ہے۔ قومی اہمیت کے اس کام میں جمعہ کا حصہ لینا جس میں ہمارے علاقے اور عوام کے لئے خوشحالی کا وعدہ تھا۔ میرے لئے ایک اور روح پرور احساس تھا۔ بہت سوچا مگر اس کام کا بِیڑا اٹھانے والوں کی حفاظت کی ضرورت کیوں تھی اس کی کسی طور پر مجھے سمجھ نہ آ سکی ۔


بہر طور جب 19 جون 2010بروز ہفتہ کسی دشمنی کے بغیر دو موٹر سائیکل سوار نوجوان میرے جمعہ کو گولیوں کے فائر کر کے شدید زخمی کر گئے تو پہلی دفعہ یہ تلخ حقیقت مجھ پر واضح ہوئی کہ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے حکومت سے نبرد آزمانام نہاد بلوچ قوم پرست تنظیموں کا بلوچ قوم پرستی سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ اگر بلوچ قوم کی بہبود ان تنظیموں کا مطمع نظر ہے تو پھر میرے بے گناہ بیٹے کے سینے میں گولی کیوں ماری گئی جو سرتاپا بلوچ تھا اور جو اپنی 23 برس کی مختصر زندگی میں بلوچستان سے باہر کبھی گیا بھی نہیں ۔میں سمجھ گیا جمعہ کے چہرے پر آج ایسی مہیب سنجیدگی کیوں در آئی تھی..... ایسی سنجیدگی جو بہت بڑا دھوکا سہہ کر چہرے پر در آتی ہے اور پھر لاکھ جتن کر لو جاتی ہی نہیں ۔۔۔بلوچ قوم پرستی کے نام پر میرے بیٹے کو اس کے بھائیوں نے چرکا جو لگا دیا تھا۔۔۔


ہسپتال کے ٹھنڈے ماحول میں مشینوں کی تاروں سے بندھا جمعہ کبھی جان نہ پایا کہ اسے زندگی کی بازی کس جرم کی پاداش میں ہارنا پڑی۔ وہ کون لوگ تھے جو اس کے اوپر چھپ کر حملہ کرتے ہوئے اس کی بلوچ شناخت کو بھول بیٹھے.... یا شاید بلوچ شناخت کی ان کی نگاہوں میں کوئی دقعت ہی نہیں .... جمعہ کو تو سمجھ نہیں آئی مگر میں ضرور سمجھ گیا ہوں کہ قوم پرست تنظیموں کا مقصد بلوچستان کی ترقی ہرگز نہیں بلکہ اپنے مقاصد کا حصول ہے اگر اس میں خود بلوچوں کی جان جاتی ہے تو ان کی بلا سے ۔۔۔ 26جون کی صبح جب ہم جمعہ کے سرد اور بے جان بدن کو تدفین کے لئے کوئٹہ سے کوہلو لے جا رہے ہیں تو ضبط کا بندھن باربار ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور مجھے خود کو باور کرانا پڑتا ہے کہ میرا بیٹا شہید ہوا ہے اور وہ یہیں ایمبولینس میں ہی میرے ساتھ موجود ہے۔ زندہ اور دکھوں سے بہت دور کہ یہی میرے رب کا فرمان ہے ۔ درد کی لہر آتی ہے تو دل کو چیر کے رکھ دیتی ہے مگر مجھے یاد کرنا پڑتا ہے کہ یہ درد مجھے میرے اپنوں نے دیا ہے کسی قصورکے بغیر۔۔۔


یہاں تک سوچ چکتا ہوں تو یہ خیال کر کے دل تھرا اٹھتا ہے کہ یہی رویہ میرے نام نہاد بلوچ قوم پرست بھائیوں نے کافی مدت سے غیربلوچوں کے ساتھ بھی اپنا رکھا ہے... غیر بلوچ جن کا ہماری محرومیوں میں کوئی قصور نہیں لیکن جن کا جینا ہم نے دوبھر کر رکھا ہے۔ وہ لوگ جو ہمارے معاشرے میں اب تک ہمارا حصہ بن کر جیئے ان کو ہم نے زک دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ان کا درد میں کبھی محسوس نہ کر پایا۔ ہمیشہ سوچتا کہ جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔ اس جنگ نے جب میرے بیٹے کی قیمت مجھ سے طلب کی تو معلوم ہوا کہ قوم پرستی کے نام پر وحشیانہ سرگرمیوں کا نشانہ بننے والوں پر کیا گزر جاتی ہے۔ آج میں محترمہ ناظمہ طالب، جن کا مبلغ قصور، بلوچ بچوں کو تمام دھمکیوں کے باوجود زیور تعلیم سے آراستہ کرتے رہنے کا عزم تھا، کے قتل سے ان کے گھر پر ٹوٹنے والی قیامت سے آگاہ ہو گیا ہوں....


میرا جمعہ اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر کے ہم سب کو ہمارے فرض سے آشنا کر گیا... میں نے اپنے بیٹے کی قربانی دے کر یہ سبق سیکھا ہے کہ میری دھرتی کا مجھ پرقرض ہے جو اسی طور ادا ہونا ہے ... مجھے اپنے ہم نفسوں کو بتانا ہے کہ نام نہاد قوم پرستی خود بے گناہوں کے خون سے لت پت ہو چکی ہے... ظلم اور سفاکیت کا نشانہ بلوچ ہوں یا غیر بلوچ یہ یکساں طور پر قابل مذمت بات ہے... میں نے یہ سبق بہت بڑی قیمت دے کر سیکھا ہے..... کہیں میرے دوسرے بلوچ بھائی بھی میری طرح اتنی بڑی قیمت دینے کا انتظارتو نہیںکررہے۔۔۔۔۔خدانخواستہ
فقط
ایک غمزدہ باپ

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

عظیم الشان پاکستان

تمام اقوامِ عالم میں ہے اِک پہچان پاکستان
بہت مضبوط پاکستان' عظیم الشان پاکستان
جو اِک اشارہ ہو تو رکھ دیں جاں ہتھیلی پر
صفایا کر دیں باطل کا یہ فرزندانِ پاکستان
اب اپنی قوم نے پھر سے نئے پیمان باندھے ہیں
سلامت تاقیامت باصفا مردانِ پاکستان
ترقی' امن' خوش حالی کی یہ تصویر بن جائے
وجہِ تعمیر ہوگا عزمِ عالی شان پاکستان
کہیں پہ حرب کے جوہر کہیں پہ ضرب کے چرچے
بغل جھانکے پھرا کرتے ہیں اب عددوانِ پاکستان
میرے شہروں کی رونق بس انہی کے دم سے ہے قائم
میرا اِ ک اِک سپاہی واری و قربان پاکستان
عزیر و راشد و لالک نبھائیں رسمِ شبیری
کہ خون پاک سے سینچا ہے چمنستانِ پاکستان
شہیدوں' غازیوں کا قرض میں کیسے چکا پائوں
میرے ہر گیت' ہر اک نظم کا عنوان پاکستان

عالیہ عاطف

*****

 
Read 118 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter