سقوط جوناگڑھ کے 70 برس

Published in Hilal Urdu

تحریر: فاروق اعظم

9 نومبر 1947ء تا 9 نومبر 2017ء

پاکستان کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوب مشرق میں بحیرہ عرب اور بھارت کی سرحد سے متصل سندھ کا ضلع بدین دکھائی دے گا، جس کے پڑوس میں ریگستانی ضلع تھرپارکر واقع ہے۔ وہی تھرپارکر جہاں کے صحرائو ں میں سب سے زیادہ قدر پانی کی ہے۔ مذکورہ اضلاع سے متصل سرحد کے اُس پار بھارتی ریاست گجرات شروع ہوتی ہے۔ گجرات کو اس لئے بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کا تعلق اسی ریاست سے ہے۔ گزشتہ دہائی میں جب وہ یہاں کے وزیر اعلیٰ تھے تو باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں مسلم کش فسادات کرائے گئے تھے۔ گجرات کا ایک مثبت حوالہ یہ ہے کہ بانی ٔپاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا آبائی تعلق گجرات ہی سے تھا۔ دوسری جانب بھارت کی تحریک آزادی کے ہیرو موہن داس کرم چند المعروف مہاتما گاندھی کا تعلق بھی اسی ریاست سے ہے۔

sakootjonagrah.jpg
ہمیں گجرات سے ایک اور نسبت بھی ہے، یہاں پاکستان سے الحاق یافتہ ایک مقبوضہ ریاست جوناگڑھ واقع ہے۔ جی ہاں! وہی جوناگڑھ جس کے نواب مہابت خانجی نے قانون آزادی ہند 1947ء کے تحت پاکستان سے الحاق کیا تھا۔ گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے تمام تر قانونی پیچیدگیوں کو پرکھنے اور مسلسل گفت و شنید کے بعد 15 ستمبر کو الحاق جوناگڑھ کی دستاویز پر دستخط کرکے اسے باقاعدہ پاکستان میں شامل کیا۔ تاہم قریباً دو ماہ تک پاکستان کا حصہ رہنے والی ریاست جوناگڑھ پر 9 نومبر1947 کو شب خون مارا گیا، جس پر تاحال بھارت سرکار کا غیر قانونی قبضہ برقرار ہے۔


جوناگڑھ کا مسئلہ کیا ہے؟ اس پر بھارت نے قبضہ کیوں کیا اور اس کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ اس پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔ اجمال اس قضیے کی یہ ہے کہ ہندوستان پر جب برطانیہ کا یونین جیک لہراتا تھا، تب یہاں صوبوں کے علاوہ ساڑھے پانچ سو سے زائد دیسی یا شاہی ریاستیں قائم تھیں۔ ڈاکٹر سید جمیل الرحمن کی تالیف ''تخلیق پاکستان اور شاہی ریاستیں'' میں ان کی کل تعداد 562 مذکور ہے۔ تاہم پروفیسر عبدالعزیز اسماعیل مرکٹیا کی تحقیق ''تاریخ پاکستان کے گمشدہ اوراق'' میں دیسی ریاستوں کی تعداد 572 لکھی ہوئی ہے۔ خیر ہمیں حتمی تعداد سے کوئی سروکار نہیں۔ چوں کہ بیشتر ریاستیں بھارت سے متصل تھیں، اس لئے ان پر بھارت کا تسلط یقینی تھا۔ پاکستان سے ملحق ریاستیں انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں۔ جیسا کہ سندھ میں خیرپور، پنجاب میں بہاول پور، بلوچستان میں قلات، لسبیلہ، خاران، مکران، خیبر پختون خوا میں سوات، دیر، چترال۔ شاہی ریاستوں میں تین بڑی اور اہم ترین ریاستیں، جنہیں بھارت ہر قیمت پر خود سے منسلک کرنا چاہتا تھا، وہ ہے ریاست کشمیر، حیدر آباد دکن اور جوناگڑھ۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے، وہ بالکل واضح ہے اور ہر فرد اس سے واقف بھی، تاہم باقی دو ریاستوں سے اکثریت لاعلم ہے۔ ریاست حیدر آباد دکن پر آزادی کے وقت نظام میر عثمان علی کی حکمرانی تھی، انہوں نے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم بھارت نے مسلسل مختلف حیلوں بہانوں سے ریاست میں مداخلت کی پالیسی جاری رکھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح 11 ستمبر 1948ء کو انتقال کرگئے، اس کے اگلے ہی روز بھارت نے حیدر آباد دکن پر چڑھائی کرکے قبضہ کرلیا۔ دوسری جانب ریاست جوناگڑھ جس کے نواب، مہابت خانجی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا، بھارت کو یہ کسی صورت برداشت نہیں تھا۔ چوں کہ یہ کاٹھیاواڑ کی سب سے بڑی ریاست تھی، جسے قدرت نے 150 میل طویل ساحل سے نوازا تھا، یہاں کی بندر گاہ ''ویراول'' کراچی سے 300 میل کے فاصلے پر ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان اور جوناگڑھ کا بحری رابطہ بھی ممکن تھا۔ بھارت کے لئے بڑی پریشانی یہ تھی کہ پاکستان سے الحاق کی صورت میں کاٹھیاواڑ کی دیگر مسلمان ریاستوں کے لئے جوناگڑھ مرکز کی حیثیت اختیار کرلے گا اور پاکستان اس ریاست کے ذریعے بھارت کے مذموم مقاصد کے سامنے رکاوٹ ثابت ہوگا۔ اس لئے وہ ہر صورت اس الحاق کو روکنا چاہتا تھا، جس پر نواب آف جوناگڑھ نے قیام پاکستان کے پہلے ہی روز 15 اگست کو دستخط کردیئے تھے۔ اقبال پاریکھ کی کتاب ''اجڑے دیار کی کہانی'' میں الحاق جوناگڑھ کے اعلان کے الفاظ کچھ اس طرح نقل کئے گئے ہیں


''گزشتہ کچھ عرصے سے حکومت جوناگڑھ کے سامنے یہ پیچیدہ اور سنگین مسئلہ غور و خوض کا مرکز بنا ہوا تھا کہ ریاست کا الحاق بھارت سے کیا جائے یا پاکستان سے، حکومت نے اس مسئلے کے ہر پہلو پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ آخری فیصلہ کرتے وقت یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ ریاست کے عوام کی خوشحالی اور فلاح کس بات پر منحصر ہے اور ریاست کی انفرادیت اور سالمیت کس طرح برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ مسئلے کے ہر پہلو پر غور و فکر کرنے کے بعد ریاست نے فیصلہ کیاہے کہ پاکستان سے الحاق کرلیا جائے۔ چنانچہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ریاست جوناگڑھ پاکستان کے ساتھ ملحق ہوگئی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ رعایا اس فیصلے کا دل و جان سے خیر مقدم کرے گی''۔

sakootjonagrah1.jpg
ریاست کے اس فیصلے پر رعایا کی جانب سے مخالفت یا بلوے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ جوناگڑھ میں ہندوئوں کی آبادی 80 فیصد تھی، تاہم ان کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی۔ جوناگڑھ پر 200 سال سے بابی خاندان کی حکمرانی چلی آ رہی تھی، مہابت خانجی نویں نواب تھے۔ ان تمام ادوار میں ہندوئوں کو مکمل مذہبی، معاشرتی، معاشی و تعلیمی حقوق حاصل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رعایا، نواب اور ان کی حکومت کی دل و جان سے عزت کرتی تھی۔ تاہم بھارت نے جوناگڑھ پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے پہلے پہل فسادات کی کوشش کی، تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ ریاست کے عوام الحاق کے اس فیصلے پر رضامند نہیں ہیں۔ جب اس میں بھارت کو ناکامی ہوئی تو انہوں نے ایک شاطر شخص شامڑ داس گاندھی کو آگے بڑھایا۔ وہ گجراتی اخبار ''ماتر بھومی'' کے ایڈیٹر تھے۔ پاکستان اور قائد اعظم کی مخالفت ان کی پہچان بن گئی تھی۔ انہوں نے جوناگڑھیوں کو ورغلانے کی کوششیں شروع کیں اور بھارت کے آشیرباد سے 25 ستمبر کو ممبئی میں جوناگڑھ کی عارضی حکومت قائم کردی، جس کے سربراہ وہ خود بنے۔ انہوں نے عارضی حکومت کی فورس بھی بنائی، جس کے ذریعے جوناگڑھ کے قرب و جوار میں خوف و ہراس پھیلانا شروع کردیا گیا۔ رفتہ رفتہ بھارتی فوج نے بھی جوناگڑھ کا گھیرا مزید تنگ کردیا۔ کاٹھیاواڑ کی درجہ دوم کی ریاستیں جو تاحال جوناگڑھ کے ماتحت تھیں اور اس نسبت سے وہ بھی پاکستان کے ساتھ ملحق ہوگئی تھیں، جن میں مانگرول اور مانائودر قابل ذکر ہیں، ان ریاستوں پر بھارتی قبضے سے جوناگڑھ کے لئے خطرات مزید بڑھ گئے تھے۔ مانائودر پر 22 اکتوبر کو چڑھائی کی گئی، اسی طرح مانگرول پر یکم نومبر کو قبضہ کیا گیا۔ پاکستان اس وقت مسائل میں اس قدر گھرا ہوا تھا کہ ان ریاستوں کی عملی مدد کرنے سے معذور تھا۔ ان حالات میں بڑھتے خطرات کے پیش نظر نواب مہابت خانجی اور ان کے اہل خانہ کو اکتوبر کے آخری ہفتے میں کراچی منتقل کرنا پڑا۔ ریاست جوناگڑھ کے خلاف مسلسل سازشوں اور گھیرائو کی کوششوں کا درست اندازہ، ان ایام میں ریاست کی حکومت اور پاکستان کے درمیان کی گئی خط و کتابت سے لگایا جاسکتا ہے۔ جوناگڑھ کے آخری دیوان (وزیراعظم) سرشاہنواز بھٹو (ذوالفقار علی بھٹو کے والد) تھے۔ انہوں نے یہ عہدہ خان بہادر عبدالقادر محمد حسین کی علالت کے باعث مئی 1947ء میں سنبھالا تھا۔ جوناگڑھ سے نواب مہابت خانجی، سر شاہنواز بھٹو اور پاکستان سے قائد اعظم محمدعلی جناح، لیاقت علی خان کے درمیان ہونے والی خط و کتابت قائد اعظم اکیڈمی کے مرتب کردہ ''جناح پیپرز'' کی ساتویں جلد بعنوان ''ریاستوں کا الحاق'' میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جوناگڑھ کے مسئلے پر قائد اعظم اور لیاقت علی خان نے مائونٹ بیٹن اور جواہر لعل نہرو سے بھی خطوط کا تبادلہ کیا ہے۔ وہ تمام ریکارڈ ''جناح پیپرز'' میں محفوظ ہے۔ اسی طرح کے ایک خط میں قائد اعظم نے مائونٹ بیٹن کو جواباً لکھا تھا: ''ہندوستانی ریاستوں کا مقام واضح طور پر متعین کردیا گیا ہے اور اس بات کو تسلسل سے قبول کیا جاچکا ہے کہ اقتدار اعلیٰ کے سقوط کے بعد ہر ہندوستانی ریاست آزاد اور خود مختار ہے اور یہ کہ وہ آزادانہ طور پر پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ شامل ہوسکتی ہے۔ اب اس معاملے میں آپ ایک نیا اصول وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ریاستوں کے آزادانہ انتخاب کو محدود کردیتا ہے۔''


آگے مزید لکھتے ہیں: ''آپ کے اس خیال سے ہم واقعی حیران رہ گئے جس میں مملکت پاکستان کو دھمکی دی گئی ہے کہ ''الحاق پر پاکستان کی اس طرح منظوری کو حکومت ہندوستان اپنی خود مختاری اور اپنے علاقے میں دخل اندازی تصور کرے گی اور دونوں مملکتوں کے درمیان جو دوستانہ تعلقات ہونے چاہئیں یہ عمل اس کے خلاف ہے۔'' مملکت ہندوستان کو جوناگڑھ پر حاکمیت کا کوئی حق نہیں پہنچتا چاہے وہ علاقائی ہو یا کچھ اور۔ ہم یہ سمجھنے سے قطعی طور پر قاصر ہیں کہ پاکستان سے جوناگڑھ کا الحاق ہندوستان کی خودمختاری پر کس طرح دخل انداز ہوسکتا ہے اور دونوں مملکتوں کے دوستانہ تعلقات سے کس طرح متصادم ہے۔''


جوناگڑھ پر پاکستان کا مؤقف اصولی اور غیر مبہم تھا، جس میں کسی قسم کا قانونی سقم نہیں تھا۔ تاہم بھارت اسے دخل اندازی سے تعبیر کرتا تھا اور جوناگڑھ میں ہندوئوں کی اکثریت کا واویلا کرکے پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق پر معترض تھا۔ دوسری جانب بھارت یہی اصول کشمیر کے مسئلے میں یکسر نظر انداز کر رہا ہے۔ حالاں کہ تقسیم ہند کے منصوبے کے تحت ریاستوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ دونوں ڈومینیئن میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرسکتے ہیں، اس میں جغرافیائی حیثیت اور رعایا کی خواہشات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری تھا۔ کشمیر کے مہا راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق رعایا کی مرضی کے برخلاف کیا تھا۔ دوسری طرف جوناگڑھ کے نواب کے فیصلے پر رعایا نے اعتراضات نہیں اٹھائے۔ مقام حیرت یہ ہے کہ بھارت جوناگڑھ میں رائے شماری پر تو بضد رہا لیکن کشمیر میں سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت رائے شماری پر رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود تاحال اس کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔


جیسا کہ بالائی سطور میں لکھ چکا ہوں کہ بھارت کی شاطرانہ چالوں اور جوناگڑھ پر منڈلاتے خطرات کے بادل دیکھ کر ریاستی فیصلے کے تحت نواب آف جوناگڑھ اکتوبر کے آخر میں کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ اس کے دو ہفتے بعد ہی 9 نومبر1947 کو جوناگڑھ پر بھارت نے شب خون مارا۔ قبضے کے بعد جوناگڑھ اور کاٹھیاواڑ کی دیگر ریاستوں کے مسلمانوں کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا، اس کا احوال اقبال پاریکھ کی کتاب ''اجڑے دیار کی کہانی'' میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جوناگڑھ کے سرسبز و شاداب اور وسیع و عریض رقبے پر حکومت کرنے والے نواب مہابت خانجی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی کینٹ کے علاقے میں فاطمہ جناح روڈ کے ایک بنگلے کو اپنا مسکن بنائیں گے۔ وہ اپنی وفات نومبر 1960ء تک اسی بنگلے میں رہے، جسے ''جوناگڑھ ہائوس'' کا نام دیا گیا۔ یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ ''جوناگڑھ ہائوس'' جس سڑک پر واقع ہے، اس کے ابتدائی سرے پر آواری ٹاور کے سامنے ''قائداعظم ریذیڈنسی'' بھی ہے۔ نواب مہابت خانجی کا جنازہ یہیں سے نکلا اور اُنہیں طارق روڈ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد اپریل 1961ء میں ان کے صاحبزادے دلاور خانجی والیٔ جوناگڑھ تسلیم کئے گئے۔ ان کی تقریب دستار بندی ایوان صدر کراچی میں منعقد کی گئی تھی، جس میں صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان بھی شریک تھے۔ نواب دلاور خانجی بھی اپنے والد کی طرح جوناگڑھ اور وہاں سے پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجرین کے لئے فکر مند رہے۔ انہیں 1976ء میں گورنر سندھ بھی منتخب کیا گیا، وہ تین سال تک اس عہدے پر ذمے داریاں نبھاتے رہے۔ جولائی 1989ء میں نواب دلاور خانجی کے انتقال کے بعد اکتوبر1991ء میں ان کے صاحبزادے جہانگیر خان جی کو نواب منتخب کیا گیا، جو تاحال جوناگڑھ ہائوس میں مقیم ہیں۔ نواب جہانگیرخانجی بھی اپنے دادا اور والد کی طرح جوناگڑھ کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ راقم نے بذات خود ان کے بعض پروگرام کور کئے ہیں، وہ کراچی اور اندرون سندھ میں مقیم جوناگڑھیوں کے مسائل حل کرنے کو پہلی ترجیح دیتے ہیں۔ تین سال قبل نومبر 2014ء کی بات ہے، جوناگڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن نے جوناگڑھ ہائوس میں یوم سقوط جوناگڑھ پر نواب جہانگیر خانجی کی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ جس میں نواب صاحب نے دیگر باتوں کے علاوہ جوناگڑھ اور کشمیر پر بھی بات کی۔ تب راقم نے موقع پاکر نواب صاحب سے اس بابت سوال کیا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی عروج پر ہے اور جوناگڑھ پر کوئی بات کرنے والا نہیں؟ جس کے جواب میں نواب صاحب اپنے دھیمے لہجے میں شکوہ کناں تھے کہ کشمیر کی طرح جوناگڑھ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شامل نہیں رہا۔


جوناگڑھ کا مسئلہ پہلی مرتبہ 11 فروری 1948ء کو سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا تھا، جس میں پاکستان کی نمائندگی سر ظفر اللہ خان کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ جوناگڑھ کا مسئلہ اتنا ہی اہم ہے جتنا کشمیر۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں جوناگڑھ کا ذکر کشمیر کے ساتھ سلامتی کونسل میں ہوتا رہا، جس میں آزادانہ استصواب رائے پر زور دیا گیا۔ فروری 1971ء میں بھی جوناگڑھ کو کشمیر کے ساتھ منسلک کرکے سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا تھا۔ نواب محمد جہانگیر خانجی کا کہنا ہے کہ ریاست جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق کا قانون موجود ہے، جو ویانا کنونشن کے تحت الحاق کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ دستاویز الحاق ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جو ریاستوں کے درمیان تحریری شکل میں طے پایا اور جس کا تحفظ بین الاقوامی قانون کرتا ہے۔ جہانگیر خانجیکا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ جوناگڑھ کا مسئلہ اس وقت تک قانونی طور پر زندہ رہے گا جب تک الحاق کی یہ دستاویز محفوظ ہے۔ بجا طور پر نواب آف جوناگڑھ منفرد حیثیت کے حامل ہیں کہ وہ اپنی ریاست تو کھو چکے لیکن ان کی قانونی حیثیت بحیثیت نواب اب بھی موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت، جوناگڑھ کا مسئلہ ازسرنو اٹھاکر نواب صاحب کا شکوہ کب رفع کرتی ہے؟

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 119 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter