ہندوتواکا پھیلتا ہوا عفریت

Published in Hilal Urdu

تحریر : محمدعلی بیگ

ہندو قوم اپنے جدا گانہ تشخص کو بر قرار رکھنے کے لئے ہمہ وقت نہایت چوکس رہتی ہے۔ بھارت جو کہ ساری دنیا میں ہر وقت سیکولر نظریات کا ڈھنڈورا پیٹتا نظر آتا ہے اور خود کو جمہوریت اور مذہبی رواداری کا علمبر دار کہتا ہے لیکن اگر ہم بھارتی سیاست پر نظر دوڑائیں تو یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ یہ اوراس جیسے دیگر بھارتی دعوے کھوکھلے ، جعلی اور حقیقت کے منافی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلم اور ہندو برِ صغیر میں کئی صدیوں سے آباد ہیں لیکن در حقیقت ہندو اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں سے جُدا ثابت کر نے کے لئے اور آخر کار مسلمانوں اور اسلام کو ہندومت میں ضم کر نے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔ رحیم اور رام کو ایک ثابت کرنے لئے ہندو پنڈتوں نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا اور شُدھی اورسنگھاٹن کی تحریکیں چلائیں تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنا سکیں مگر ناکام رہے۔
قدرت نے حق اور باطل اور آگ اور پانی کے درمیان ایک دائمی کشمکش رکھی ہے۔ یہ دونوں مخالف قوتیں ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہی ہیں۔ یہی حالات تقسیم سے پہلے برِ صغیر پاک و ہند میں بھی موجود تھے اور آج بھی کئی صورتوں میں موجود ہیں۔ 1923میں ایک ہندوانتہا پسند ''ونیک دمودار سورکار'' نے ہندو مذہب کا ایک اور مگر منفرد انداز پیش کیا اور اس نظریہ کو اپنے ایک مضمون
"Essentials of Hindutva"
میں بیان کیا۔ اس نظریے نے نہ صرف یہ بات کی کہ ہندوستان صرف ہندوئوں کے لئے ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندو اپنے مذہب کی ہر لحاظ سے حفاظت کریں۔ یاد رہے کہ سورکار اُن دنوں ایک انگریز کے لندن میںقتل کے الزام میں قید تھا۔ اِسی طرح سورکار نے 1928میں اپنے ایک کتابچے جس کا نام
"Hindutva: Who is a Hindu?"
ہے کی صورت میں ایک اور نظریہ پیش کیا جس میں اُنھوں نے ہندو مذہب کے ماننے والوں کی ایک مفصل تعریف کر ڈالی اور اکھنڈ بھارت اور بھارت راشٹریہ کے تصورات پیش کئے۔ سورکار نے اس نظریے کی بنیاد تین چیزوں پر رکھی جن میں قومیت، نسل پرستی اور ثقافت شامل ہیں۔ سورکار کے یہ نظریات محض تعصب پرمبنی اور ہندوئوں کی اصل سوچ کے عکاس تھے۔

hunditawakaphelta.jpg
بھارت میں موجود انتہا پسند ہندو ئوں نے خوب چابک دستی سے قومی ثقافت کے نام پر، اور اس کی آڑ میں، ہندو مذہب کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کو مسخ کر نے کا ایک گھنائونا دھندا شروع کر رکھا ہے۔ اس قومی ثقافت نامی سوچ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ حقیقتاً اور خالصتاً ونیک دمودار سورکار کے بڑے بھائی گنیش دمودار سورکار کے ایک مضمون "راشٹرا ممانزا "یعنی ایک ایسی فلاسفی اور نظریاتی اساس جن کی بنیا دیں قومیت (ہندومذہب)میں ہوں ۔ گنیش کے انھی نظریات کو ایک ہندو انتہا پسند
(M.S Golwalkar)
نے اپنی زہر آلود اور تعصبات سے بھری ہوئی کتاب
"We or Our Nationhood Defined (1939)"
میں مزید بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ دسمبر   2017میں انگریزی روزنامہ
Dawn
میں چھپنے والے ایک آرٹیکل میں ایک بھارتی وکیل اور محقق اے۔جی ۔ نورانی نے نہایت مفصل انداز میں ہندوتوا نظریے پر روشنی ڈالی ہے۔
راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ
(Rashtriya Swayamsevak Sang)
ہندوتوا نظریے کی علمبردار جماعت ہے اور اس کی بنیاد 27ستمبر 1925کو ایک شدت پسند ہندو کیشاوبلی رام ہجوار نے رکھی۔ کیا وجہ ہے کہ اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک انتہا پسند ہندو نتھو رام گودسے نے بھارت کے بانی موہن داس گاندھی کو 30جنوری 1948کو قتل کر دیا تھا؟ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ گاندھی نسبتاً حقیقت پسند انسان تھے اور پاکستان کو اس کا جائز حق دینا چاہتے تھے۔ لیکن اس قتل کی ایک وجہ گاندھی کے آستین کے سانپ تھے جن میں پنڈت جواہر لعل نہرو سب سے زیادہ اہم تھے۔ نہرو نے کمال ہوشیاری سے سردار ولب بھائی پٹیل جو کہ نہرو سے زیادہ سیاسی بصیرت رکھتے تھے ،کو دیوار کے ساتھ لگا کر گانگریس پارٹی کی کمان سنبھال لی۔ ایک بھارتی لکھاری رام چندرا گوہا نے اپنی کتاب
"Makers of Modern Asia (2014:125-126)"
میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سردار پٹیل اور پنڈت نہرو میں شدید اختلافات تھے لیکن شاید سردار پٹیل نے خاموشی میں ہی اپنی خیر جانی اور نہرو کو کانگریس کی کمان کرنے دی۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ جواہر لعل نہرو کی مغربی طرزِ تعلیم کے بعد ان کے والد نے انھیں ہندو مذہب کی خوب تعلیم دی اور ایک پنڈت بنا دیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو جوکہ پنڈ ت موتی لعل نہرو کے بیٹے تھے اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ہندو پنڈت اپنے مذہب میں وہی مقام رکھتے ہیں جو کہ اسلام میں مولانا کو حا صل ہوتا ہے۔ بادی النظرمیں گاندھی کے قتل میں سب سے بڑا ہاتھ جواہر لعل نہرو کا تھا جن کو قتل کا سب سے زیادہ فائدہ بھی حاصل ہو ا تھا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ گاندھی کے قتل کے بعد جواہر لعل نہرو اوراُن کے بعد اُن کی بیٹی اندرا گاندھی اور پھر اندرا کے قتل کے بعد اُن کے بیٹے راجیو گاندھی کے 1991میں قتل تک انڈین نیشنل گانگریس پر نہرو خاندان بلا شرکتِ غیرے قابض رہا۔ آج بھی راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی اوراُن کے بیٹے راہول گاندھی گانگریس پارٹی پر مکمل طور پر قبضہ کئے ہو ئے ہیں۔ گاندھی جس کو ہندو اپنا باپ اور ایک دیوتا سمجھتے ہیں' کا ایک انتہا پسند ہندو کے ہاتھوں قتل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت میں حقیقت پسند ہندو بھی مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں ۔
آخر کیا وجہ تھی کہ 1971میں پاکستان کے خالصتاًاندرونی سیاسی مسئلہ کو بنیاد بنا کر بھارت نے پہلے مکتی باہنی کے دہشت گرد وں کو اسلحہ اور تربیت دی اور پھر مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعداُس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے یہ بیان دیا کہ'' آج ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیجِ بنگال میں ڈبو دیا ہے؟'' رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے اتنا بڑابھارت ، پاکستان سے اور خاص طور پر نظریہ پاکستان سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہے؟ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ بھارت کے تمام عقائد و نظریات کھو کھلے اور کھیل تماشے سے زیادہ کچھ بھی نہیں؟ یہاں پریہ بات پڑھنے والوں کے لئے نہایت دلچسپی کا باعث ہو گی کہ مکتی باہنی کومنظم کرنے،محبِ وطن پاکستانیوں کو چُن چُن کر شہید کرنے اور دہشت گردی کی تربیت دینے والے بھارتی آرمی کے میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ 1971کی شورش میں پیش پیش تھے لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ صرف چند سال بعد وہ نام نہاد جمہوری بھارت کی ہندو فوج کی گولیوںاور گولوں کا نشانہ بننے والے ہیں۔ میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ کو محض سِکھ ہونے ، اپنے حقوق کی خاطر آواز اُٹھانے اور جرنیل سنگھ بھنڈراںوالے کے ساتھی ہو نے کی پاداش میںجون 1984 میںبھارتی ریاستی دہشت گردی کے تحت
Operation Blue Star
کے دوران
Golden Temple
میںسیکڑوں ساتھیوں سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ درندگی بھرا فوجی آپریشن پنڈت جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کے حکم پر کیا گیا اورانڈین آرمی کے ایک سکھ میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار کو اس کام پر لگایا گیا جس کا بنیا دی مقصد بھارتی پنجاب میں سکھوں کی طاقت کو کم کرنااور سکھ مذہب کی الگ شناخت کو مدہم کرنا اور کانگریسی ہندو طاقت کو بڑ ھا وا دینا تھا۔ گاندھی خاندان اور شیخ مجیب کے خاندان کااندوہناک انجا م دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قدرت کا انصاف ہو کر رہتا ہے۔
بھارت میں بسنے والے مسلمانوں ، سکھوں، عیسائیوں، ہندوئوںاور خاص طور پر نچلی ذات کے دَلت ہندوئوں کو اب یہ بات جان لینا چاہئے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک دہشت گرد اور نفرت انگیز گروہ ہے جو کہ سیاست کی آڑ میں اپنے انتہا پسند مذہبی عزائم کی تکمیل چاہتی ہے۔ یہ شدت پسند گروہ بھارت کو ایک بند گلی میں دھکیل رہا ہے اور اس کی پالیسیوں کا انجام صرف اور صرف معصوم بھارتی عوام کی تباہی ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی ، اسلام آباد کے ایک پروفیسرمحمد مجیب افضل کی کتاب
"Bharatiya Janata Party and the Indian Muslims (2014)"
بھارت میں موجود مسلمانوں کی حالت ِزار جاننے کے لئے ایک بہتر نسخہ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی اورسَنگھ خاندان کے بارے میں بتاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی سیاست میں ہندوتوا نظریہ پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ بھارتیہ جنتا سَنگھ کب اور کیسے بھارتی جنتا پارٹی میں تبدیل ہوئی اور اٹل بہاری واجپائی کے
"Soft Hindutva"
اور نریندر مودی کے
"Hard Hindutva"
کے کیا بنیادی مقاصداور اغراض ہیں ۔ پرفیسرنجیب نے یہ بات ثابت کی ہے کہ بی جے پی دراصل سَنگھ خاندان کا سیاسی بازُو اور شاخ ہے۔
ہندوتوا نظریات کے ماننے والوں کے اندھے پن کا ثبوت تو یہ ہے کہ وہ اپنے خلاف کسی قسم کی تنقید اور حتیٰ کہ متضاد رائے بھی برداشت کرنے کو تیا ر نہیں ہیں۔ اگست 2015میں بھارتی ریاست کر ناٹک کی یونیورسٹی کے ایک ہندو پروفیسر ایم۔ایم۔ کلبرگی کو صرف اس بات پر قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ اور بھارتی جنتا پارٹی سمیت تمام انتہا پسند ہندو جماعتوں پر بھارت کی شناخت بدلنے پر کئی بار تنقید کی تھی۔ نہایت شرم کا مقام تو یہ ہے کہ اُن کے قتل کے بعد ریاست مہارشٹرا میں انتہا پسندوں نے کھلے عام جشن منایا ۔
شاید یہ بات انہونی معلوم ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کو سب سے بڑا خطرہ پاکستان یا چین سے نہیں ہے بلکہ بھارت کی سالمیت اور شناخت کو اصل خطرہ انتہا پسند ہندوجماعتوںسے ہے جو کہ ہندو مذہب اوربذاتِ خود ہندوئوں کی سب سے بڑی دشمن ہیں ۔ ایک بھارتی افسانہ نگار اور لکھاری اننتھا مُرتھی
(Ananthamurthy)
کی کتاب
"Hindutva or Hind Swaraj (2016)"
کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ ہندو انتہا پسند تنظیمیں اب پوری طرح سے بھارت میں بر سرِ اقتدار آچکی ہیں اور بھارتی جنتا پارٹی اِن تنظیموں کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے۔ اننتھا مرتھی ان بہت سے ادیبوں اور اہلِ سخن میں شامل تھے جنھوں نے یہ کہہ رکھا تھا کہ اگر نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے تو وہ بھارت کو چھوڑ کر کہیں اور سکونت اختیا ر کر لیں گے مگر اُن کی خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ مودی کے2014 میںوزیر اعظم بننے کے چند ماہ بعد وہ دنیا ہی چھوڑ کر چلے گئے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر مغربی
Revisionist
ادیب مثلاً
Noam Choamsky،David Icke
اور
Michael Moore
جیسے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کچھ خفیہ خاندان جیسا کہ
Rockefeller
اور
Rothschild
خاندان دنیا پر پسِ پردہ رہ کر حکمرانی کر رہے ہیں لیکن جمہوری بھارت میں یہ نظریہ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ موجودہ بھارتی حکومت میں موجود بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کی ایک خاصی تعداد سَنگھ پریوار (خاندان) سے تعلق رکھتی ہے۔ بھارتی نیوز تہلکہ کے صحافی برجیش سنگھ کے2014 کے آرٹیکل کے مطابق نئی دہلی میں قائم ایک تھنک ٹینک نے، جس کا نام
Vivekananda International Foundation
ہے۔ مودی حکومت کوبے شمار بیورو کریٹ فراہم کئے ہیں۔ ان افسران میں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دُووَل، ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائز راروند گپتا، مودی کے پرنسپل سیکریٹری نری پیندرا مشرا، ایڈیشنل پرنسپل سیکریٹری پ۔کے۔مشرااور دہلی کے گورنر انیل باجال کے نام اہم ہیں۔ ان دنوں اس ادارے کے سربراہ بھارتی آرمی کے سابق چیف جنرل نرمال چندر ہیں۔ اس سے پہلے ڈاکٹر اروند گپتا ایک نامور سیکورٹی اور سٹریٹیجک تھنک ٹینک
Institute for Defence Studies and Analysis (IDSA) 
کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ دونوں تھنک ٹینک سَنگھ پریوار کا حصہ ہیں۔

Akhil Bharatiya Vidyarthi Parishad
، آریا سماج،وشوا ہندو پریشد ، بجرنگ دل،شیو سینا،ابھیناو بھارت، راشٹرا سیوکا سمیتی،بھارتیہ کسان سَنگھ،مسلم راشٹریہ منچ،راشٹریہ سکھ سنگت،ہندو ویوک کندرا،سیوا بھارتی،ودیہ بھارتی،بھارتیہ جنتا پارٹی، سناتن سنستھا،
Vivekananda International Foundation

اور

Institute for Defence Studies and Analysis (IDSA)

وہ ادارے ہیں جو کہ راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ کے ساتھ منسلک اور زیرِ سایہ تقریباًپچاس سے زائد چھوٹے بڑے اداروں میں شامل ہیںاور ہندوتوا سوچ کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کے لئے کڑی تگ ودو کر رہے ہیں۔ یہ سَنگھ پریوار کا گھنا اور زہریلا درخت بھارتی جمہوریت پر ایک بد نما داغ اور اس کی خود ساختہ سیکولر شناخت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان اداروں کی بڑھتی ہوئی پُر تشدد کار روائیوں اور دہشت گردی کی وجہ سے ان کے شناختی زعفرانی رنگ پر انھیںعالمی طور پر
Saffron Terrorism
کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے۔ ہندوتوا نظریہ ایک طرف بھارت کی اساس کو آہستہ آہستہ ہلا رہا ہے تو دوسری طرف یہ اشوکا اور گاندھی کے ہندو مذہب کو ایک دہشت گرد اور تنگ نظر نسل پرست سوچ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس سوچ کا اصل نقصان بھارت کو ہوگا اور بیشتر صحیح سوچ رکھنے والے ہندو پروفیسروں اور ادیبوں کے بھارت چھوڑنے سے یہ نقصان نظر آ رہاہے۔ اگر یہ انتہا پسند ہندو مزید طاقت پکڑ گئے تو وہ دن دور نہیں جب بھارت خود بخود ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گایا پھر اس میں موجود مائو نواز جانباز ، ببر خالصہ انٹر نیشنل
،Naxalite-Marxist
سمیت بیس سے زائد علیحدگی پسند تحریکیں الگ الگ وطن کے حصول کے لئے بیرونی امداد طلب کرنے میں حق بجانب ہوں گی۔
بھارت جیسے ملک کے ساتھ دوستی اور امن ایک مشکل کام ہے لیکن دُشمنی مسئلے کا حل ہر گز نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت
"Prisoners of Geography"
ہیںاس لئے پاکستان کے اربابِ اختیا ر پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں نہایت احتیاط برتی جائے۔ جو قوم چانکیہ کوتلیہ کو اپنا سیاسی گرو مانتی ہو اس سے ہمہ وقت ہوشیار رہنا نہایت ضروری ہے۔ بھارتی انتہا پسند حکومت کبھی افغانستان کو پختونستان کا شوشہ چھوڑنے کا کہتی ہے تو کبھی
Durand Line
کو انٹر نیشنل بارڈر تسلیم نہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے اور کبھی تحریکِ طالبان پاکستان کی شکل میں فساد اور وبال کا باعث بنتی ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی اور خاص طور پر سَنگھ پریوار( خاندان) سے حکومتِ پاکستان اور افواج پاکستان کا اندرونی دہشت گردی پر تیزی سے قابو،پاکستان میں بنائے گئے جدید ترین ایٹمی میزائل اور ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کے علاوہ علاقائی اہمیت اور عالمی اثر و رسوخ بر داشت نہیں ہو رہا اور
Economic Corridor China-Pakistan
جیسے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے بلوچستان میں اپنے دہشت گردوں کو کلبھو شن یادیو کی شکل میں شورشیں بر پا کر نے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ گجرات کے نہتے مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک مقا صد میں کافی حد تک ناکام ہو چکا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس مایوسی پر شاید راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ یا کوئی انتہا پسند ہندو انفرادی حیثیت میں نریندر مودی کو ایک قربانی کا بکرابنا دے اورپھر اس کا سا را الزام 2002میں ہونے والے گودھرا ٹرین کو آگ لگانے کی طرز پر کسی گمنام بھارتی مسلمان پر لگا دیا جائے۔ یہ سَنگھ پریوار ہی تھا جس نے1984 میں اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں کے ہاتھوںقتل ہونے کے بعد صرف دہلی میںتین ہزار سے زائد سکھوں کا قتل عام کیا، دسمبر 1992 میںتاریخی بابری مسجد کو شہید کیا اور خود2007 میںسمجھوتا ایکسپریس کوپٹرول بم کے ذریعے آگ لگا کر ستر کے قریب پاکستانیوں کوزندہ جلا کر شہید کر دیا اورمنصوبے کے تحت الزام مسلمانوں پر لگا دیا۔
چاہے کوئی کتنا بھی جھٹلائے اور مسلمانوں کے خلاف شور مچائے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مطلق العنان اور سیاہ اور سفید کے مالک مُغلیہ سلطنت کے شہنشاہ اور اُن سے بھی پہلے سلاطینِ دہلی اگر چاہتے تو آج بھارت میں ایک بھی ہندو موجود نہ ہوتابلکہ اس مذہب کو صفحہء ہستی سے ہی مٹا دیا جاتا ۔ لیکن آج نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ نیپال، سری لنکا ، بنگلہ دیش، بھوٹان، فجی اور میانمار میںموجود ہندوئوں کی کثیر تعداد ایک تنگ نظر ہندو کو بھی یہ بات ماننے پر مجبور کر دیتی ہے کہ مسلمان قوم ہر گز تشدد اور انتہا پسند نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہی کبھی یہ درندگی کا راستہ اپنائے گی۔
شاید بہت سے قارئین اس بات سے اختلاف کریں مگر اس تمام تر بحث و مباحثہ کے بعد اختتامی الفاظ میں اس بات کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے کہ ہندو بھارت کی پاکستان دشمنی نوشتہء دیوار ہے ۔ لیکن جب پاکستان میں موجود چند بے ضمیر ،ملکی وعلاقائی اور عالمی معاملات سے بے خبر ،اپنی دھرتی کی محبت اور قدر و قیمت سے بے زار، کروڑوں مسلمانوں کے پاک خون سے نا آشنا ،اپنی تابندہ تاریخ سے لاعلم اورعاقبت نااندیش لوگ بھارت کی تمام تر پاکستان دشمنی کے باوجود سر حد پار جا کر خوشیا ں منانے اور ناچنے گانے کی آرزو کر تے ہیںتو ہر ایک محب وطن پاکستانی کا دل دکھتا ضرور ہے۔ پاکستانی نامور فنکارپاکستان کی
Soft Power
کو بڑھانے کی غرض سے بھارت ضرور جائیں مگر ان میں کلمہء حق کہنے کی جُرات بھی ہونی چاہئے۔ بھارتی شاعر سم پورن سنگھ المعروف گلزار بے شک دونوں ممالک میں امن اور دوستی کا خواب دیکھیں مگر شاید وہ بھی پروفیسر ایم ۔ایم۔ کلبرگی جیسے دیگر لوگوں کا حشر دیکھ کر جنونی اور درندہ صفت ہندو ئوں کے خلاف بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 124 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter