پاکستان امریکہ تعلقات۔حقیقت پسندانہ جائزہ ؟

Published in Hilal Urdu

تحریر: محمودشام

امریکہ پاکستان سے اگر چہ کئی ہزار میل دور واقع ہے لیکن 2001سے یہ ہمارا پڑوسی بنا ہوا ہے۔
کون کابل میں آج کل ہے مقیم
دیکھ ہمسائے یوں بدلتے ہیں
عام طور پر کہا جاتاہے کہ ہمسائے نہیں بدلے جاسکتے مگر امریکہ ایسی طاقت ہے جو کہیں بھی اپنی فوجیں اتار کر آس پاس کے ملکوں کی ہمسایہ بن جاتی ہے۔17سال بڑی طویل مدت ہے۔ بچے جوان ہوجاتے ہیں۔


پاکستان کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم ہوئے 70سال ہورہے ہیں۔ 20اکتوبر1947کو ہم رشتہ سفارت میں بندھے تھے۔ آ ج تعلقات میں جو تلخیاں، عدم اعتماد اور کشیدگی ہے، وہ شروع سے چلی آرہی ہے۔ امریکہ کو پاکستان سے اور پاکستان کو امریکہ سے شکایتیں ہمیشہ رہی ہیں اور اتفاق یہ دیکھئے کہ پاکستان اور امریکہ ہمیشہ ایک دوسرے کی ضرورت رہے ہیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے لئے بہت کچھ کیا ہے، لیکن پاکستان کی
contributions
نسبتاً بہت زیادہ ہیں۔ اپنی سلامتی کی قیمت پر، اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر پاکستان نے امریکہ کی انتہائی اہم اور حساس شعبوں میں مدد کی ہے۔
صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کو امریکہ سے حسن سلوک پر بالآخر کتاب لکھنا پڑی۔ انگریزی میں
Masters Friends not
اُردو میں: جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
وزیر اعظم بھٹو نے کہا: سفید ہاتھی میرے خون کا پیاسا ہے۔ صدر جنرل ضیاء نے امریکی امداد کے بارے میںکہا: اونٹ کے منہ میں زیرہ۔
پھر بھی پاکستان اور امریکہ کسی نہ کسی طور ساتھ چلتے رہے لیکن پاکستان کے سوویت یونین کے ساتھ تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔ اس سے بھارت پورا فائدہ اٹھاتا رہا۔ سوویت یونین کے قریب ہوتا رہا۔ اس سے اقتصادی معاہدے بھی کئے گئے اور دفاعی معاہدے بھی ۔ بھارت کی ترقی میں سوویت یونین نے بنیادی کردار ادا کیا۔ صنعتی کارخانے ، دفاعی پیداوار، بھاری اسلحے کی فراوانی میں ماسکو دہلی کی بھرپور مدد کرتا رہا۔


پاکستان سرد جنگ میں بھی امریکہ کا اتحادی رہا ہے۔ بعد میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اب تک بھی امریکہ کا اتحادی ہے اور ہزاروں جانیں قربان کرچکا ہے۔
امریکہ اور چین کو قریب لانے بلکہ پہلا تعارف کروانے میں پاکستان کا مرکزی کردار ہے۔ 1971میں امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسینجر مری سے خفیہ طور پر بیجنگ پہنچے، پھر خفیہ طور پر اسلام آباد واپس آگئے۔ ان دنوں میں کہا گیا کہ وہ علیل ہوگئے ہیں اور مری میں مقیم ہیں۔ چین کے اس خفیہ دورے سے ہی امریکی صدر نکسن کے دورۂ چین کی راہ ہموار ہوئی ۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں ہونے والا یہ خفیہ دورہ اگر نہیں ہوتا تو امریکہ اور چین ایک دوسرے کے دشمن بنے رہتے۔ تاریخ کا یہ باب عالمی تعلقات اور بین الاقوامی امور میں،امن کے قیام میں۔ چین اور امریکہ دونوں کے شہریوں، تاجروںاور صنعتکاروں کے لئے فیصلہ کن رہا ہے۔

 

bharatamericataluq.jpgاکیسویں صدی کے پہلے سال میں امریکہ کے جڑواں ٹاورز پر دہشت گردی کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا کہ دنیا بدل گئی ہے۔ اس عالمگیر تبدیلی میں بھی امریکہ دہشت گردوں کے خلاف کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا تھا اگر پاکستان اس سے تعاون نہ کرتا۔ اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف سے چند ماہ پہلے تو امریکی صدر بل کلنٹن کی برہمی کا یہ حال تھا کہ امریکی صدر نے ان کے ساتھ دورہ پاکستان کے دوران کوئی تصویر بھی نہیں کھنچوائی۔ انہوں نے بند اجلاسوں میں حصہ لیا اور پاکستان قوم سے خطاب کرکے چلے گئے۔ امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی تھیں لیکن جب نائن الیون کا واقعہ ہوا اور پاکستان نے بہت سوچ بچار کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو صدر پرویز مشرف
Man of the Moment
بن گئے۔ ان کا امریکہ میں جس طرح استقبال ہوا، انہیں جو اہمیت دی گئی وہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد پاکستان کے کسی سربراہ کو دی گئی۔ تاریخ بار بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ ایک خود غرض اور مطلب پرست ریاست ہے۔


عام طور پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستانی صدر امریکی وزیر خارجہ کی ایک فون کال پر ڈر گئے اور سب کچھ امریکہ کے حوالے کردیا۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اس سے بہت پہلے پاکستان سے اعلیٰ سطحی وفد افغانستان کے سربراہ ملا عمر سے جاکر ملے تھے اس وقت کے وزیر داخلہ جنرل معین الدین حیدر اس کی سربراہی کررہے تھے ۔ انہیں کہا گیا تھا کہ آپ اسامہ بن لادن کو افغانستان سے رخصت کردیں ورنہ خطّے کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ لیکن ملا عمر نے یہی کہا تھا کہ وہ ہماے مہمان ہیں۔افغان اپنے مہمانوں کو جانے کے لئے نہیں کہتے۔ طالبان حکومت کو سمجھانے کی پہلے سے کوششیں کی گئی تھیں۔ بعد میں پاکستان کے مفاد میں بھی یہی تھا کہ امریکہ سے تعاون کیا جائے ۔ پاکستان بھی دہشت گردی کے حق میں نہیں تھا۔ اس طرح اسلام کی بھی کوئی خدمت نہیں ہورہی تھی۔ اسلام امن و آشتی کا دین ہے۔ وہ بے گناہ انسانوں کی ہلاکت کی اجازت نہیں دیتا۔ اسامہ بن لادن اور ان کے دوسرے ہم خیال لوگوں کی اس روش سے امّت مسلمہ کو سخت نقصان پہنچا ہے۔


یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اس وقت بھارت امریکہ کا اتحادی بننے کو تیار تھا۔ وہی امریکی بمبار راجستھان کے کسی ہوائی اڈے سے اڑتے، پاکستان پر بھی بمباری کرتے ہوئے جاتے۔ افغانستان میں تو بڑی آبادیاں نہیں ہیں، تورا بورا کی غاریں ہیں، پہاڑ ہیں۔ اس لئے وہاں انسانی ہلاکتیں اتنی بڑی تعداد میں نہیں ہوئیں جتنی دوسری صورت میں پاکستان میں ہوسکتی تھیں۔


پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے دوست ممالک سے بھی مشاورت کی۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہوںسے بھی، اخبارات کے مدیران اور مالکان سے بھی۔ انہیں حقیقی صورت حال بتائی گئی ۔ ایڈیٹرز کے ساتھ اس میٹنگ میں مَیں بھی تھا۔ مدیران میں سے صرف مجید نظامی مرحوم نے اس پالیسی سے اختلاف کیا تھا۔ باقی سب نے اسے پاکستان کے مفاد میں قرار دیا تھا۔ البتہ پورا زور دیا تھا کہ اس وقت امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں مصر کی طرح اپنے سارے قرضے معاف کروالینے چاہئیں۔


بہتر سفارت کاری اور کامیاب حکمرانی کے اصول یہ ہیں کہ ہر قوم کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ جب یہ قومیں ملتی ہیں ، مذاکرات کرتی ہیں تو اولین ترجیح ان مفادات کو حاصل ہوتی ہے جو دونوں قوموں کے یکساں ہوتے ہیں۔ جس طرح دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک سے ہیں، دونوں کو ایسی تنظیموں سے خطرہ ہے ، امریکہ اور پاکستان دونوں میں یہ وارداتیں ہوچکی ہیں، پاکستان میں ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں۔ پاکستانی فوج اور شہریوں نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں، ان یکساں مفادات پر دونوں ملک اشتراک کرتے ہیں اور ان مفادات کے حصول کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اس کے بعد وہ مفادات آتے ہیں جو یکساں نہیں ہوتے لیکن ان کا آپس میں ٹکرائو بھی نہیں ہوتا۔ ان پر دونوں کو کچھ سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ تعلقات برقرار رہیں، اور کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے۔ لیکن جہاں دونوں کے مفادات آپس میں متصادم ہوں، ٹکرارہے ہوں، وہاں کسی ایک کو اپنے مفاد کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ باہمی مذاکرات میں دیکھا جاتا ہے کہ کون آسانی سے اپنے مفاد کو کچھ عرصے کے لئے مؤخر کرسکتا ہے۔
اب مشکل یہ ہے کہ امریکہ نے تو اپنے مفادات طے کر رکھے ہیں۔ وہ ان کی تکمیل کے لئے ہر ممکن کوشش بھی کرتا ہے اور یہ بھی کہ ان کا کوئی شہری کہیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہے ، اس کی جان کو خطرہ ہے تو وہ اس کی حفاظت کے لئے سفارتی دبائو بھی استعمال کرتا ہے، اپنے فوجی بھی اتار دیتا ہے، میزائل کے حملے بھی کردیتا ہے، غیر فوجی کنٹریکٹر بھی بھیج دیتا ہے ۔پاکستان نے اپنے قومی مفادات واضح طور پر طے نہیں کر رکھے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں میں قومی مفادات پر ہماری پوزیشن بدلتی رہی ہے۔


دو طرفہ تعلقات میں سب سے زیادہ اہم نکتہ یہ ہوتا ہے کہ برابر کی حیثیت سے بات ہو۔ کوئی ملک کتنا بھی دولت مند ہے، کتنی بھی فوجی طاقت رکھتا ہے، آبادی زیادہ ہے۔ اب یہ ملک کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ برابر کی حیثیت سے مذاکرات کرسکتی ہے یا نہیں۔ اگر ملک کے انتظامی سربراہ، منتخب وزیر اعظم کے ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب ہوں گے تو یہ کمزور پڑجائے گا۔ برابری کی حیثیت سے مذاکرات نہیں کرسکے گا اور جو سربراہ صرف ملک کو بالاتر رکھتے ہیں، وہ ہمیشہ برابری کی سطح سے بات کرتے ہیں۔برابر کی پوزیشن اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کسی ملک میں اندرونی طور پر اتحاد ہو، اقتصادی اعتبار سے استحکام ہو، سارے شہریوں کو تعلیم، علاج معالجے ،ٹرانسپورٹ کی سہولتیں یکساں طور پر فراہم کی جارہی ہوں۔ صوبائیت، علاقائیت اور فرقہ واریت نہ ہو۔


اکیسویں صدی اطلاعات کی صدی ہے۔ کائنات سمٹ کر رہ گئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کردیئے ہیں۔ تجارت، صنعت اور معیشت ہر جگہ آئی ٹی استعمال ہورہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے ملک بھی معاشی طور پر بہت مضبوط ہیں۔ اس لئے وہ بڑی بڑی طاقتوں سے بھی دب کر بات نہیں کرتے۔


امریکہ نے پاکستان سے معاملات میں ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ جب بھی پاکستان پر نازک وقت آیا تو اس نے غیر جانبداری اختیار کرلی۔ 1965میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو امریکہ غیر جانبدار ہوگیا۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کو بھی اسلحے کی فراہمی روک دی۔ 1971میں جب مشرقی پاکستان میں بھارت کی مداخلت سے حالات خراب ہورہے تھے تو کہا جارہا تھا امریکہ اپنے ساتویں بحری بیڑے کے ذریعے پاکستان کی مدد کرے گا ۔ یہ ساتواں بحری بیڑہ نہیں پہنچا۔ بھارت نے کھلی جارحیت کے ذریعے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرلیا۔ سلامتی کونسل میں شور مچتا رہا۔ روس بھارت کی کھلی سفارتی اور فوجی مدد کرتا رہا۔ امریکہ نے اپنے اتحادی کا ساتھ نہیں دیا۔


امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ہمیشہ مخالفت کی۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسینجر جن کو 1971میں پاکستان نے چین کے خفیہ دورے کی تاریخی سہولت فراہم کی، جس سے دُنیا میں ایک نیا سفارتی نظام قائم ہوا، انہی کسینجر صاحب نے 1972میں پاکستان کے وزیر اعظم کو دھمکی دی کہ اگر ایٹمی پروگرام بند نہ کیا تو تمہیں عبرتناک مثال بنادیا جائے گا اور اس پر امریکہ نے عمل بھی کیا۔جب 1998میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے مجبوراً ایٹمی دھماکے کئے تو اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان پر پریسلر ترمیم کی پابندیاں عائد کردی گئیں۔


آج کل اقتصادیات سیاسیات پر غلبہ اختیار کرگئی ہے۔ امریکہ بھارت سے جو اپنی پینگیں بڑھارہا ہے، اس کے لئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بھارت بڑی مارکیٹ ہے۔ جہاں ایک ارب کے قریب صارفین بستے ہیں۔ اس لئے امریکہ اور مغربی ممالک اس مارکیٹ کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔90کی دہائی سے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ بھارت کے بہت نزدیک ہوگیا ہے۔ پہلے اس نے روس سے محبت کے مزے لوٹے اب امریکہ سے عشق کے لطف اٹھارہا ہے۔

 

بہتر سفارت کاری اور کامیاب حکمرانی کے اصول یہ ہیں کہ ہر قوم کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ جب یہ قومیں ملتی ہیں ، مذاکرات کرتی ہیں تو اولین ترجیح ان مفادات کو حاصل ہوتی ہے جو دونوں قوموں کے یکساں ہوتے ہیں۔

بھارت پاکستان پر دہشت گرد جہادی تنظیموں کی سرپرستی کا الزام عائد کرکے مغربی ممالک کو پاکستان کے خلاف اکساتا رہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔1948سے بھارت نے اس پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1948کی قرار دادوں میں استصواب رائے کی منظوری دی ہوئی ہے کہ کشمیری اپنی قسمت کا خود فیصلہ کریں۔ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کروہاں جعلی انتخابات کا ڈھونگ رچاتا رہتا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کا اتحادی ہونے کے باوجود کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے کوئی سفارتی دبائو نہیں ڈالا۔ 2001 میں نائن الیون کے بعد امریکہ پاکستان کے نئے اشتراک کے وقت امریکہ سے کہا گیا تھا کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کے حل میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، امریکہ نے یہ وعدہ بھی کیا لیکن عملاً کچھ نہیں کیا۔


عالمی طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ کشمیر ایک فلیش پوائنٹ ہے۔ یہاں کسی وقت بھی جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ کشمیری اپنی آزادی کے لئے خود جدو جہد اور جہاد کررہے ہیں۔ بھارت کی 7لاکھ فوج بھی ان کے جذبۂ حریت کو سرد نہیں کرسکی۔ امریکہ نے مسئلہ حل کروانے کے بجائے وہاں جہاد میں مصرف تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندی لگوانے کی سازش میں شرکت کی ہے۔ یوںتو صدر جارج بش، صدر اوباما، سب ہی پاکستان سے مزید اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اب جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے ان کی طرف سے یہ دبائو شدت اختیار کرگیا ہے ۔


امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے لئے بھی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ وہاں اعلیٰ تعلیم کے لئے جانے والے طلباء و طالبات کے ویزوں کے اجرا میں بھی رُکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس کی وجہ سے وہاں زیر تعلیم پاکستانی طالب علموں کی تعداد پہلے سے بہت کم ہوگئی ہے۔


ان دنوں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پھر کشیدگی اختیار کرچکے ہیں۔ کچھ تو پاکستان کے غیر مستحکم سیاسی اور اقتصادی حالات اس کی وجہ ہیں، دوسرے یہ کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک پاکستان کی فوج اور شہریوں کی ان قربانیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں جو 2001سے اب تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں دی گئیں۔ پھر افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان کے طول و عرض میں جو خوفناک وارداتیں کیں۔ ایک عرصے تک پاکستان کا ہر شہری خوف زدہ رہا، لیکن پاکستانی فوج کے آپریشن ضرب عضب، پھر آپریشن ردّالفساد میں تمام دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا گیا۔ جنرل راحیل شریف کی پُر عزم قیادت پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کی کمان میں تسلسل سے یہ کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، کو اس کا اعتراف کرنا چاہئے۔


اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے عوام یہ فیصلہ کریں کہ ایسے اتحادی کے ساتھ کیا اس عدم اعتماد کے رویے کے ساتھ آگے بڑھا جائے؟ امریکہ کی دہری پالیسیوں کا دبائو قبول کیا جائے؟ فیصلہ کن گھڑی آگئی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھل کر یہ مباحثہ ہونا چاہئے جس میں ماضی میں پاکستان کے نازک موڑوں پر امریکی پالیسیوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں مسلسل 17سال سے پاکستان کی فوج، پولیس، نیم فوجی تنظیموں اور پاکستان کے شہریوں کی قربانیوں کو عالمی برادری کے سامنے لایا جائے۔ بھارت کی سازشوں، بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کی پاکستان میں کارروائیوں، کلبھوشن یادیو کے حوالے سے 'را' کی وارداتوں، افغانستان سے سرحد پار کرکے آنے والے افغان دہشت گردوں کی کارروائیوں کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے۔ اس حقیقت کو سمجھا جائے کہ پاکستان کو اب امریکہ کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی امریکہ کو ہماری ضرورت ہے۔
پاکستان کی پارلیمنٹ پھر امریکہ سے آئندہ تعلقات کی شرائط طے کرے۔


پاکستان نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مسلسل کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی قیادتوں نے بھی پاکستانی فوج کی خدمات اور اقدامات کی بھرپور حمایت کی ہے۔
امریکی عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںسکیورٹی فنڈز کے نام پر انہوں نے ان 17سال میں جو امداد دی ہے، پاکستان کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوئے ہیں،اور یہ امداد ان جانی قربانیوں کا صلہ تو دے ہی نہیں سکتی۔


امریکی عوام کی طرح پاکستانی عوام بھی ایک پُر امن دُنیا میں رہنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے شہری بھی ایک مستحکم معاشرے کے خواہاں ہیں۔ وہ بھی اپنے بیٹوں بیٹیوں ، پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں کے لئے پُر امن اور دہشت گردی سے پاک ماحول قائم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔
امریکہ کو ایک اچھا دوست اور سچا اتحادی بن کر دو طرفہ تعلقات کو قائم رکھنا چاہئے۔


پاکستان اگر اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو امریکہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا تھا، اور امریکہ کو خطرات ہمیشہ لاحق رہتے۔ پاکستان امریکہ سے امداد کی بھیک نہیں مانگتا، بلکہ اس کی مارکیٹوں تک رسائی چاہتا ہے۔ پاکستان میں امن قائم ہورہا ہے تو صنعتیں بھی بحال ہوں گی، روزگار کی سہولتیں بھی ملیں گی۔ پاکستان کے طالب علموں کے لئے امریکہ میں ویزے کی آسانیاں دی جائیں۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں ، تربیتی اداروں، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس میں امریکہ کو اپنی امداد بڑھانی چاہئے، اب امریکہ کو مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔


پاکستان اور چین ایک دوسرے کے قریبی دوست ہیں۔ پاکستان نے چین کی عالمی برادری میں رسائی کے لئے بنیادی کردار ادا کیا۔ اب چین اپنے مفادات کے تحت بھی، اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی ترقی کے لئے'' ایک پٹی۔ ایک سڑک'' کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں 55ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ اصولاً تو یہ سرمایہ کاری امریکہ کو آج سے کئی عشرے پہلے کرنی چاہئے تھی۔ اب جب چین پاکستان اقتصادی راہداری پر کام شروع ہوچکا ہے تو امریکہ کو اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ اس میں شرکت کرکے اسے مزید مستحکم بنانا چاہئے۔ اپنے محبوب بھارت کو سمجھانا چاہئے کہ سی پیک کے راستے میں رُکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔ اس سے بالآخر بھارت کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔


پاکستان کو بھی اپنے مفادات کا ببانگ دہل اعلان کرنے اور اس کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی طرح بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ ہم اس جنگ میں بہت قربانیاں دے چکے، ہماری معیشت متاثر ہوئی ہے، ہماری معاشرت تباہ ہوئی ہے۔ امریکہ پر زور دیا جائے کہ وہ ہمارے آبی وسائل، معدنی وسائل کی برآمد اور تعمیر میں سرمایہ کاری کرے۔ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس کے قیام میں پیسہ لگائے۔ امریکہ اور یورپ کی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ کے مطابق کوٹہ دے۔ کشمیر میں استصواب رائے کا اہتمام کروائے۔


تعمیر و ترقی ہی نوجوانوں کو انتہا پسندی سے محفوظ کرسکتی ہے۔ امریکہ پر یہ زور بھی دیا جائے کہ ہمارے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ،داعش اور اس قسم کی تنظیمیں امریکہ اپنے خفیہ مقاصد کے لئے خود تخلیق کرتا ہے١ور ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں جاگزیں یہ شکوک و شبہات اسی وقت دور ہوسکتے ہیں کہ امریکہ اپنی پالیسیوںکو مزید شفاف بنائے اور خطے کے اہم ملکوں کی رائے کو اہمیت دے۔ پاکستان ایک نوجوان آبادی کا ملک ہے۔ اس کی تربیت کا اہتمام پاکستان کی اہم ترجیحات میں ہے۔ یقینا یہ نوجوان صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں امریکہ اور مغربی ممالک کے لئے بھی کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں جہاں نوجوان آبادی بہت کم ہے۔ پاکستان کی نیک نیتی اور
True Potentials
سے امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ باہمی معاملہ فہمی اور باہمی اشتراک سے ہی اس خطّے میں اور پوری دُنیا میں امن قائم ہوگا۔

مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

دوستی کا دعویٰ ہے، دشمنوں سا لہجہ ہے
حد بھی پار کرتے ہو، روز وار کرتے ہو
سازشوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟
خون بھی بہاتے ہو، پیار بھی جتاتے ہو
کتنے گھر گرائے ہیں، کتنے ظلم ڈھائے ہیں
نفرتوں کے عادی ہو، کیسے اتحادی ہو؟
سیکڑوں جواں لاشے، ملک بھر میں ہیں بکھرے
دشمنوں سے جنگوں میں، کھوئی تھیں نہ یوں جانیں
وحشتوں کے عادی ہو،کیسے اتحادی ہو؟
مانگتے مدد بھی ہو، چاہتے رسد بھی ہو
دھونس بھی جماتے ہو، حکم بھی چلاتے ہو
دھمکیوں کے عادی ہو،کیسے اتحادی ہو؟
چَین اپنا غارت ہے، کیسی یہ شراکت ہے؟
دہر بھر میں رسوا بھی، طعنوں کا نشانہ بھی
تہمتوں کے عادی ہو،کیسے اتحادی ہو؟

*****

 
Read 169 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter