تحریر: مجاہد بریلوی

شاعر انقلاب و رومان فیض احمد فیض نے جیل کے دنوں میں لکھا اپنا مجموعہ کلام ''زندان نامہ'' ایلس فیض کو دیتے ہوئے کہا ذرا ''مولانا'' کو دکھا دینا زبان و بیان کی کوئی غلطی نہ رہ جائے۔فیض صاحب خود اپنی شاعری کے حوالے سے اُس وقت تک بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکے تھے مگر اُن کی عظمت اور انکساری کا عالم دیکھیں کہ اپنے کلام پر نظر ثانی کے لئے مولانا کو بھجوا رہے ہیں۔ یہ مولانا کون تھے؟ آج کا ہمارا آزاد پاپولر میڈیا نہ اُن کے نام سے واقف ہو گا اور نہ ہی اُن کے گراںمایہ صحافتی کام سے۔ ''مولانا'' کے نام سے شہرت رکھنے والے چراغ حسن حسرت کے بارے میں آغا شورش کاشمیری کا کہنا ہے ''سیرت بھی لکھی' افسانے بھی تحریر کئے۔۔ شاعری کے ہر کوچے سے آشنا رہے۔۔ غزل ہو یا نظم، طنز کریں یا پیروڈی، نعت لکھیں یا منقبت۔۔ قلم اُن کا موتی بکھیرتا تھا''۔ چراغ حسن حسرت نے ابتدائی صحافت کا آغاز مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال سے کیا۔ وہاں سے انہیں بابا ئے صحافت مولانا ظفر علی خان لے اُڑے۔ پھر میاں افتخار الدین کے پروگریسو پیپر کے اخبار امروز کی ایڈیٹری کی۔یہاں سے نوکری چھوڑی تو ریڈیو میں گئے اور وہاں بھی اپنی دھاک جمائی اور ''کالم نویسی'' تو خیر اُن کا خاص میدان تھا ہی۔ چراغ حسن حسرت کے نام کے ساتھ مولانا کا لاحقہ کب لگا۔۔ کیسے لگا۔۔ کیوں لگا؟ یہ ایک الگ تحقیق کا موضوع ہے کہ چراغ حسن حسرت میں معروف معنوں میں ''مولانا یا مولوی'' والی کوئی خصوصیت نہیں تھی۔ محض ''رند'' نہیں رندِ بلا نوش تھے۔ موسیقی سے شغف تھا اور اس کے لئے باقاعدہ جا کر گانا سُنتے۔چراغ حسن حسرت میں انا کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اُردو، عربی، فارسی اور سنسکرت کا بے پناہ علم اور دسترس تھی۔ صحافت اُن کے گھر کی باندی ہی نہیں تھی بلکہ ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دنوں میں جب جرمنی کے خلاف کمیونسٹ روس بھی جنگ میں شامل ہو گیا تو انڈین کمیونسٹوں نے بھی اسے قومی جنگ قرار دے دیا۔ اور تو اور جب فیض صاحب جیسے شاعر نے بھی کرنل کی وردی پہن لی تو چراغ حسن حسرت بھی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے میں بھرتی ہو گئے۔ سنگاپور جا کر ایک جنگی جریدہ نکالا۔ جنگ ختم ہوئی تو واپس پھر صحافت میں آگئے۔ قیامِ پاکستان کے وقت جب امروز نکلا تو اُس کی ایڈیٹری کے لئے خود فیض صاحب نے جو ایڈیٹر انچیف تھے، انہیں بلا کر ایڈیٹر بنایا۔ مولانا کا زیادہ وقت دفتر میں گزرتا یا پھر چائے خانوں میں محفلیں جماتے۔ بڑی بڑی ملازمتیں ملیں مگر اپنی انا کی خاطر ہاتھ جھاڑے اور دفتر کی سیڑھیاں اُتر گئے۔ میاں افتخار الدین پر وگریسو پیپرز کے مالک تو تھے ہی مگر پنجاب کے ایک بڑے جاگیردار اور سیاستدان بھی تھے۔ آغا شورش کاشمیری مولانا پر اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔ میاں افتخار الدین سے کوئی بات ایسی سرزد ہوگئی جو ان کی منشا کے خلاف ہوتی تو اس پر بگڑ جاتے، اب انہی کے دفتر میں بیٹھ کر انہی کے خلاف تبصرہ ہو رہا ہے۔ ترکیبیں وضع کی جا رہی ہیں، فقرے گھڑے جا رہے ہیں۔ طنزیں چلی آرہی ہیں۔ یار لوگ اس وقت تو سنتے اور سردھنتے لیکن پھر میاں صاحب تک پہنچا آتے۔ میاں افتخار صاحب دل میں گرہ باندھ لیتے۔ حسرت صاحب دل کا غبار نکال کے صاف ہو جاتے۔ میاں افتخارالدین کے ہاں معافی کا خانہ ہی نہیں تھا۔ اسی اثناء میں میاں افتخار الدین کی زبان سے نکل گیا: ''حسرت صاحب آپ مذہبی اردو لکھتے ہیں''۔ حسرت صاحب تاڑ گئے کہ انہیں یہ پٹی پڑھائی گئی ہے اور کس نے پڑھائی۔ بھڑک کر بولے ''میاں صاحب ! یہ مذہبی اردو کیا ہوتی ہے؟ معلوم ہوتا ہے آپ سے کسی مذہبی سکھ نے روایت کی ہے''۔ سگریٹ کا ایک لمبا کش کھینچتے ہوئے کہا ''معاف کیجئے میاں صاحب! زبان ہرایرے غیرے بیچ کلیان کے بس کا روگ نہیں۔ آپ نے اردو میں کتنی کتابیں پڑھی ہیں؟ اسکول کالج میں تو آپ انگریزی پڑھتے رہے''۔ پھر ایک لمبا سا کش اور پھر وہی کچو کے '' اجی میاں صاحب ! یہ لڑکے حقے کی نَے ہیں۔ آپ کے منہ لگے ہوئے ہیں۔ آپ کو فرصت کہاں کہ امروز پڑھیں۔ جو کچھ آپ کے کان میں ڈال دیا آپ نے 'آویزہ' بنالیا۔ انہیں تو اپنے نام کے ہجے تک نہیں آتے۔۔ رہ گئے معنی تو وہ انہیں کیا معلوم؟ ان کے ابا جان بھی نہیں جانتے۔ بھلا ان سے اپنے ہی نام کے معنی پوچھئے بتادیں تو میں اپنی زبان گدی سے نکلوادوں گا۔ غضب کرتے ہیں میاں صاحب! آپ لسانیات پر بھی سیاسیات کی طرح بلا سوچے سمجھے طبع آزمائی فرما رہے ہیں؟'' اب میاں افتخار الدین جان چھڑا رہے ہیں اور چھوٹتی نہیں۔ خیر وہاں سے اٹھ کر حسرت صاحب اپنے دفتر میں آبیٹھے ۔ چپڑاسی سے کہا حافظ یوسف کو بلاؤ۔ حافظ صاحب آگئے۔ ''سنا آپ نے؟ میاں صاحب کیا فرماتے ہیں؟'' سگریٹ کا ایک لمبا کش لگایا، سرد آہ کھینچی، مونچھوں کو تاؤ دیا، قصہ بیان کیا، قلم کو میز پر رکھا، سلپیں اٹھا کر پرے پھینک دیں۔ ''اجی چھوڑئیے۔ ناقدروں کے پاس کیا رکھا ہے؟ میاں افتخار الدین تو دولت کا حادثہ ہیں۔ ان سے شالا مار کے آموں کی فصل کا حال پوچھئے ۔ یہ کیا جانیں کہ زبان کیا ہے؟ ادب کسے کہتے ہیں؟ شعر کس باغ کی مولی ہے؟'' پورا دفتر سن رہا ہے اور یہ تمام باتیں بہر حال میاں صاحب تک پہنچ جاتی ہیں۔ ''حافظ جی! آج حرف و حکایت نہیں ہوں گے۔ محرم علی سے کہہ دو طبیعت منغض ہوگئی ہے۔ میاں صاحب کی صورت دیکھنے کے بعد قلم میں شگفتگی کیوں کر رہ سکتی ہے؟''
دفتر سے اٹھ کر کافی ہاؤس میں محفل لگی ہوئی ہے اور ذکر وہی میاں افتخار الدین کا ہو رہا ہے۔ امروز اخبار سے فارغ ہوئے تو کراچی میں ذوالفقار علی بخاری نے ریڈیو میں بُلا لیا۔ ذوالفقار علی بخاری کے بڑے بھائی احمد شاہ بخاری پطرس تھے۔ پطرس بخاری کیا تھے اُن کے لئے خود ایک الگ کالم باندھنا پڑے گا۔ اُستاد، ادیب، براڈکاسٹر اور اس پائے کے اسکالر کہ بعد میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب بنے۔ یہاں سے ریٹائر ہوئے تو یو این کے سیکریٹری ڈاک ہیمر شولڈ نے اپنا مشیر بنا لیا۔ بخاری برادران کا تقسیمِ ہند سے پہلے آل انڈیا ریڈیو میں طوطی بولتا تھا۔ بلکہ یار لوگوں نے بڑے بخاری یعنی پطرس بخاری اور چھوٹے بخاری یعنی ذوالفقار علی بخاری کے حوالے سے
BBC
یعنی بخاری برادران کارپوریشن رکھا ہوا تھا۔اب ''مولانا'' کا ریڈیو کے دفتر میں اُٹھنے بیٹھنے، بولنے لکھنے کا ایک علیحدہ انداز اور مزاج۔ بھلے ریڈیو کے سربراہ ذوالفقار علی بخاری ہوں مگر مولانا کہاں خاطر میں لاتے۔ بخاری صاحب ہر سال ماہِ محرم میں مرثیہ ریکارڈ کرواتے اور بعد میں سارا عملہ باجماعت سُنتا اور داد کے ڈونگرے برساتا۔ اب بخاری صاحب کی خواہش کہ ''مولانا'' بھی اُن کی مرثیہ گوئی پر کچھ فرمائیں۔ مولانا نے ایک لمبی ہوں کے ساتھ میر انیس کی ''مرثیہ خوانی'' سے گفتگو شروع کی تو بخاری صاحب تک آتے آتے یہ تک کہہ بیٹھے کہ ''مولانا! یہ مرثیہ گوئی ہر ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے پہلے امام بارگاہوں کے پھیرے شب و روز لگانے ہوتے ہیں۔۔منبر پر ایک سلیقے سے نشست و برخاست ہوتی ہے۔۔ ایک ماحول ہوتا ہے۔۔ ایک فضا ہوتی ہے۔۔'' اب بخاری صاحب پہلو بدل رہے ہیں۔ ارد گرد اُن کے ماتحت ایک ایک کر کے کمرے سے نکل رہے ہیں۔ بخاری صاحب اُس وقت تو مولانا کی گفتگو سن کر نکل گئے مگر چند ہی دن میں مولانا کا یہاں سے بھی دانہ پانی اُٹھ گیا۔ واپس لاہور پلٹے تو روزی روزگار نے نڈھال کر دیا۔ پھر بڑے بیٹے کا غم اور بیماریوں نے بھی پکڑ لیا۔ اگر مستقل شاہانہ نوکری نہ ہو تو پھر مے نوشی کی لت بھی قبل از وقت موت کی دہلیز پر پہنچا دیتی ہے۔ مجاز لکھنوی اور اختر شیرانی کے ساتھ بھی یہ ہی ہوا۔ مولانا چراغ حسن حسرت پر جب قلم اُٹھایا تھا تو مجھے احساس تھا کہ ''مولانا'' جیسی شخصیت کا ایک مضمون میں ''احاطہ'' نہیں کھینچا جا سکتا کہ خود اُن سے منسوب لطائف ایک پوری کتاب کا تقاضہ کرتے ہیں۔ چلتے چلتے مولانا کا ایک لطیفہ سُن لیں۔ ''مولانا کافی ہائوس میں بیٹھے تھے۔ ایک سیٹ کافی کا آرڈر دیا۔ گھنٹہ گزر گیا ویٹر نہیں آیا۔ کافی ہائوس کا مالک پاس سے گزرا تو شکایت کی۔ مالک نے پوچھا کس کو آرڈر دیا تھا؟ وہ کالے بالوں والے کو؟ مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا جب آرڈر دیا تھا تو بال کالے ہی تھے مگر اب تو سفید ہو چکے ہونگے''۔ یہ لیجیئے میں مولانا کی شاعری کو تو بھول ہی گیا
باغوں میں پڑے جھولے
تم بھول گئے ہم کو ہم تم کو نہیں بھولے
ساون کا مہینہ ہے
ساجن سے جدا رہ کر جینا کوئی جینا ہے
مولانا نے جس صنف پہ لکھا، جیسا کہ ابتداء میں بھی میں نے کہا تھا… کہ نثر ہو کہ نظم، کالم نویسی ہو کہ خاکہ نگاری۔۔ اُسے کمال تک پہنچایا۔ افسوس کہ مولانا جیسے نابغہِ روزگار ہماری آج کی صحافت کے نصاب سے ہی اُٹھ گئے ہیں۔ اور یوں بھی ہماری آج کی صحافت کو مولانا جیسے صحافیوں کی ضرورت بھی نہیں۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 41 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter