افواجِ پاکستان کے نام

Published in Hilal Urdu

تحریر: محمد سعید گِل

ہر مصنف اور شاعر اپنی سوچ کے مطابق اپنے تحریری موضوع کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی طرح میں نے بھی اپنی تحریر کے لئے افواجِ پاکستان کے موضوع کا انتخاب کیا۔ مجھے شروع سے ہی پاکستان کی مسلح افواج سے والہانہ محبت ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ سیلاب کی بپھری ہوئی لہریں ہوں، کراچی کی بگڑتی ہوئی صورت حال ہو، سرحدوں کے کشیدہ حالات ہوں یا قدرتی آفات ہوں، پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔

 

دوسرے اداروں کی ذمہ داریاں بھی فوج پر ڈالی گئیں جنہیں پاک فوج نے بڑے احسن طریقے سے نبھایا اور اپنی ساکھ کو بحال رکھتے ہوئے پاکستانی قوم کا اعتماد حاصل کیا۔ پاک فوج نے وطن عزیز کے دفاع اور پاک پرچم کی سربلندی کے لئے بے شمار قربانیاں دیں۔ بڑے بڑے بہادر اور خوبصورت جوان وطن عزیز کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہو کر ملک و ملت پر بہت بڑا احسان کر گئے۔ شہید ہونے والا صرف اپنی جان قربان نہیں کرتا بلکہ اپنے خاندان کو بھی قربان کر جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی زندگی کے ساتھ کئی زندگیاں جڑی ہوتی ہیں ۔ وہ اپنے ماں باپ بہن بھائی اور بیوی بچوں کا سہارا ہوتا ہے۔ اس طرح اس کی جان کے ساتھ جڑی ہوئی باقی جانیں اور زندگیاں بھی چلی جاتی ہیں۔

یہ سب کچھ سامنے رکھتے ہوئے میں نے پاک فوج کی خدمات اور قربانیوں کو اردو شاعری میں لکھنا شروع کیا۔ جسے لکھتے لکھتے کئی سال گزر گئے۔ افواج پاکستان پر ''پاسبان وطن'' کے نام سے کتاب لکھی۔ لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے چھپوا نہ سکا۔ میں ایک گارمنٹس فیکٹری کے سٹور میں ملازمت کرتا تھا۔ چند ماہ قبل بوجہ علالت میرے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا اور مجبوراً مجھے استعفیٰ دینا پڑا اور فارغ بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس دوران کتاب کو ترتیب دیا جائے۔ لیکن کتاب چھپوانے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ میرے پاس ایک موٹر سائیکل تھی جو میں نے فروخت کر دی۔ لیکن موٹر سائیکل فروخت کر کے بھی اتنے پیسے نہ ہوئے کہ کتاب چھپوا سکوں۔ کچھ پیسے ادھار لئے اور اﷲ کی رحمت سے کتاب چھپوانے میں کامیاب ہو گیا۔ میری نظم'اے وطن'پاک فوج کے لئے میری محبت کی عکاس ہے

اے وطن
اے وطن مِلا جب بھی اِشارہ تیرا
میری افواج بن گئیں سہارا تیرا
تجھ پہ رُستم زماں کتنے قرباں ہوئے
کتنی جانوں نے صدقہ اُتارا تیرا
خون اپنے سے تیرا چمن سینچ کر
گوشہ گوشہ انہوں نے سنوارا تیرا
اِن کی قربانیوں سے جہاں میں سدا
یونہی روشن رہے گا ستارہ تیرا
میری مائوں نے تجھ پہ پسر وار کر
کیسے پورا کیا ہے خسارہ تیرا
اِن کی محنت مشقت سے ہی ایک دِن
لوٹ آئے گا سب کچھ دوبارہ تیرا
تیرا پرچم زمانے میں لہرائیں گے
ساری دُنیا میں گونجے گا نعرہ تیرا

*****

 
Read 43 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter