یورپ کے جپسی جو ہم سے بچھڑ گئے

Published in Hilal Urdu

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

دنیا بھر میں پھیلے جپسی ہمیشہ ہی میرے سفروں میں خاص دلچسپی کا موضوع رہے ہیں۔ یورپ سے امریکہ تک یہ ہمیں ہرجگہ ملتے ہیں۔ خصوصاً یورپ میں ان کا وجود الگ سے دکھائی دیتا ہے کہ یورپی سیاست، ثقافت، موسیقی، ادب اور دیگر فنونِ لطیفہ پر اُن کے اثرات ہر دَور میں دیکھے گئے ہیں۔یورپ میں انہیں عام طور پر ''رومانی'' کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ لیکن ہر علاقے، خطے اور ملک میں اُن کے مختلف نام ہیں، جیسے ترکی میں چنگنے، سپین میں گیٹانو، اٹلی میں زنگارو، فرانس میں گیٹانو کے علاوہ زگیز اور منائوچز کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی متعدد نام ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق، دنیا میں ان کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے۔ اسّی فیصد جپسی یورپی ممالک میں اور باقی امریکہ ولاطینی امریکہ میں رہتے ہیں۔ میں نے ان کو ایران، ترکی، فرانس، سپین، بلغاریہ، بوسنیا، بلجیم، جرمنی، امریکہ، جہاں بھی میں گیا، وہاں پایا۔ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے۔ محققین ان کے بارے میں اب تقریباً طے کرچکے ہیں کہ یہ پنجاب، راجستھان اور سندھ کے علاقوں سے نقل مکانی کرکے دنیا بھر میں پھیل گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوکش دنیا بھر میں عسکری تاریخ میں برصغیر کی ایک دیوار ہے جس نے برصغیر کے لئے ایک عظیم الشان حفاظتی فصیل کا کردار ادا کیا۔ بلندوبالا اورخطرناک چوٹیوں،نامعلوم وادیوںاور برف پوش پہاڑوں نے بڑے بڑے حملہ آوروں کے برصغیر میں قدم رکھنے میں رکاوٹ کا کردار ادا کیا۔ سکندراعظم ہی وہ معروف فاتح ہے جو ہندوکش پار کرکے سرزمین ہندوسندھ میں داخل ہوا، مگر دیکھیں یہ فاتحِ عالم جو اناطولیہ، مصری وایرانی تہذیبوں کو روندتا ہوا، ہندوکش پار کرکے دریائے جہلم کے کناروں پر پہنچا تو اسے مہاراجہ پورس نے عملاً شکست سے دوچار کردیا۔ برصغیر تاریخی طور پر خودکفیل اور خوش حال خطہ رہا ہے، اسی لئے یہاں کی کسی تہذیب ودور میں کسی قوم نے ہندوکش پار کرکے دوسری قوم یا تہذیب کو زیر کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ لیکن میری تلاش کی حس ایک دلچسپ نکتے پر پہنچی ہے کہ ہمارے ہاں سے جنہوں نے ہندوکش پارکیا، وہ اپنے ہاتھوں میں تلواروں، نیزوں اور انسان کش ہتھیاروں کے بجائے بانسری، ڈفلی، ڈھول اور پُرسوز گیتوں کی لے اور سُر لے کر مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور پھر ساری دنیا میں پھیل گئے۔ دنیا میں ہر جگہ اُن کی پہچان گیت گانے اور رقص کرنے کے حوالے سے ہے۔ اپنے خطے اور سرزمین سے نکلے ان کو صدیاں بیت گئیں، لیکن آج بھی اُن کا حلیہ، رہن سہن، گیت، رقص اور روایات میں سرزمین وادیٔ سندھ کی چھاپ نمایاں ہے۔


جپسی جو ہندوکش پار کرکے گئے، وہ تو دنیا کے ادب، تحقیق اور دیگر موضوعات میں نمایاں مقام پا گئے لیکن وہ جو یہاں رہ گئے، ہمارے ادب، سیاست اور دیگر سماجی علوم میں اُن کا ذکر تک نہیں۔ آج بھی ہمارے ہاں ان جپسیوں کے پیچھے رہ جانے والے قبائل لاہور اور دیگر جدید بستیوں میں کہیں کہیں نظر آتے ہیں اور ہم انہیں دھتکار کر کمتر انسان تصور کرتے ہیں۔ اگر انتھروپولوجی کے حوالے سے تحقیق کی جائے تو ہمارے ملک کے خانہ بدوش اور دیگر نام نہاد نیچ ذات خصوصاً مصلّی حقیقتاً
Sons and Daughters of the Soil
ہیں۔ وہ یہاں ہزاروں سال سے رہتے اور بستے آئے ہیں۔ اور اگر تحقیق کو مزید پھیلا دیا جائے تو ان کی جڑیں، وادیٔ سندھ کی عظیم الشان تہذیب کے باسیوں سے جا ملتی ہیں۔ جپسیوں میں میری دلچسپی نے چند سروں تک پہنچنے میں میری مدد کی۔ میرے نزدیک دو سوال اٹھے کہ یہ کس دور میں اور کیوں وادیٔ سندھ کو چھوڑ کر چلے جانے پر مجبو رہوئے۔ ستلج دریا ایک وقت میں دریائے سندھ سے زیادہ بھرپور دریا تھا۔ قدرتی تغیرات نے اس طویل ترین دریا کو وقت کے ساتھ بدل دیا اور خشکی کی طرف گامزن کردیا۔ وادیٔ سندھ جو پنجاب، سندھ اور راجستھان تک پھیلی ہوئی تھی، اس کی کسی بڑی خشک سالی نے ان مقامی خانہ بدوشوں کو بدیس نقل مکانی پر مجبور کردیا۔ ان کی نقل مکانی کی تاریخوں پر تحقیق کی مختلف آراء ہیں۔ مگر میں جس رائے کو زیادہ مستند مانتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جپسیوں کو سرزمین سندھ وہند چھوڑے تقریباً ایک ہزار سال ہوا ہے اور یہ ہزار سال سے کئی صدیوں تک نقل مکانی کرتے رہے۔ کوہِ ہندوکش پار کرکے افغانستان وایران پہنچے اور پھر وہاں سے ان کے سفرِ مسلسل کے دو روٹس تھے۔ ایران سے کچھ اناطولیہ (ترکی) کی طرف گامزن ہوئے اور دوسرے عرب خطوں، عراق، اردن اور مصر۔ ترکی پہنچنے والوں نے باسفورس کو عبور کیا اور مشرقی یورپ سے اوپر لتھوینیا تک پھیل گئے۔ جو مصر پہنچے، اُن کا ایک دوسرا رستہ تھا دنیا میں پھیلنے کا۔ انہوں نے مصر سے صحارا کے صحرائوں کے سفر کیے اور پھر جبل الطارق عبور کرکے سپین میں داخل ہوئے۔ دونوں طرف سے یورپ میں داخل ہونے والے خانہ بدوشوں نے اپنی نقل مکانی کی متضاد اور من گھڑت داستانیں تراشیں۔
Survivors
کا ہمیشہ یہی رویہ ہوتا ہے۔
Gypsies
کا لفظ درحقیقت
Egypt
سے نکلا ہے۔ اور اسی طرح رومانی کا لفظ بھی… یورپ میں داخل ہونے والے خانہ بدوشوں نے اپنی نقل مکانی، دفاع اور زندہ رہنے کے لئے دلچسپ کہانیاں تراشیں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ سرزمین سندھ سے نقل مکانی کرنے والے ان جپسیوں نے مختلف ادوار میں اپنی روایات، موسیقی، گیت اور رقص کی روایات کے ساتھ ساتھ جن خطوں کے سفر کئے اُن علاقوںکی روایات کو تو اپنے اندر جذب کیا، لیکن اپنے بنیادی حلیے، رہن سہن کو کبھی بھی مکمل طور پر نہیں بدلا۔


قرطبہ میں اپنی جہاں گردی کے دوران ایک شام میں بحیثیت سیاح ایک ایسے ریستوران میں گیا جو خانہ بدوش چلاتے تھے۔ گیٹانو گھر کے اندر ریستوران تھا اور وہاں گیٹانو کا مشہور رقص، فلیمینکو ثقافتی شو کے لئے پیش کیا جاتا تھا اور میری دلچسپی اس رقص کو ہی دیکھنے میں تھی۔ برصغیر کے بچھڑے ان لوگوں کے گھر میں مجھے اس وقت ایسا لگا جیسے میں سندھ یا سرائیکی خطے میں بیٹھا کوئی ثقافتی شو دیکھ رہا ہوں۔ جب ایک گیٹانو خاتون نے فلیمینکو رقص کیا اور اس کے ساتھیوں نے ڈھولکی پر گیٹانو گیت گایا۔ گیٹانو یا جپسیوں کے گیتوں میں ایک لمبی لے ہوتی ہے جو خاص سوز اور ہجرت کے درد کی آواز میں ڈھلی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی گیٹانو یا جپسی کو یہ کہیں کہ آپ انڈیا (برصغیر) سے نقل مکانی کرکے آئے ہیں تو وہ کسی صورت بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ گیت گانے والے گیٹانو سے میں نے جب یہی سوال کیا تو اس نے کہا، نہیں میں تو ہسپانوی ہوں بس۔ میرے اصرار اور منت سماجت کے بعد وہ راضی ہوا میرے اس سوال کا جواب دینے پر کہ آپ اپنے ہاں اپنے آپ کو کہاں کے باشندے تصور کرتے ہیں۔ اس نے کہا، پنجاب! ہم اپنی دھرتی سے بچھڑے لوگ ہیں، ہمیں صدیاں بیت گئیں سفر کرتے کرتے۔ صحرا، سمندر اور آسمان۔ پھر اس نے اپنا ایک کارڈ نکالا جس کا اوپری حصہ آسمانی اور نچلا سبز اور بیچ میں ایک 16حصوں والا پہیہ تھا۔ اس گیت گانے والے گیٹانو نے کہا، ''مسٹر نیلا آسمان، سبز سرزمین ساری ہماری ہے۔ اور یہ پہیہ ہمارا سفر۔''


دوسری جنگ عظیم میں جپسی یہودیوں کی نسبت نازیوں کی طرف سے قتل عام اورسفاکیت کا زیادہ نشانہ بنے۔ ہٹلر نے ان کو ناپسندیدہ قوم قرار دے کر اجتماعی ہلاکتوں کا بندوبست کیا۔ یہودیوں کے قتل عام پر عالمی ادارے، ریاستیں اور لوگ متحرک ہوئے کہ وہ طبقاتی طور پر امیر تھے۔ لیکن ان جپسیوں کے قتل عام پر کوئی ریاست یا ادارہ نہیں بولا، سوائے یورپ کے ترقی پسند دانشوروں کے۔ میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ تلاش کی جستجو مجھے کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔ اپنے پہلے سفر 1983ء میں بلغاریہ میں مجھے ایک جپسی فیملی کے ہاں رہنے کا موقع ملا۔ اپنے تین دن قیام کے دوران میرا مطمع نظر وادیٔ سندھ کے ان بچھڑے لوگوں کی جڑیں ڈھونڈنا تھا جو مجھے کچھ ملیں بھی کہ وہ توے کو توا ہی کہتے ہیں۔ خاندان کو پنجابی زبان کی طرح ''ٹبر'' اور اسی طرح متعدد پنجابی الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ میری رگِ جستجو نے کھوج لگایا کہ رومانیہ میں ایک خانہ بدوش قبیلے کا نام ''لاہوری'' ہے۔
یورپ میں جپسیوں کو سب سے پہلے اور زیادہ روسی ادب نے جگہ دی۔ معروف روسی ادیب الیگزینڈر پشکن اور لیو ٹالسٹائی ان روسی ادیبوں میں سرفہرست ہیں۔ روسی اور پھر یورپی ادب میں اشرافیہ کے لوگوں تک ادب کے ذریعہ جپسیوں کی آواز پہنچانے کا سہرا پشکن اور ٹالسٹائی کے سر ہے۔ پشکن کی معروفِ زمانہ نظم
The Gypsy
نے یورپ اور روس کو اپنے سحر میں لے لیا۔ 1976ء میں اشتراکی روس میں
"Queen of the Gypsies"
اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ یہ فلم دنیا کی شان دار فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ یورپ میں گھومتے، سڑکوں پر گانا گاتے اور گھوڑوں پر سوار جپسی، اپنے جپسی ہونے پر ہمیشہ نازاں نظر آتے۔ یورپ کی موسیقی میں برصغیر کے ان خانہ بدوشوں نے حیرت انگیز اثرات چھوڑے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی آبائی تہذیب کو اپنے سے علیحدہ نہیںہونے دیا۔ یورپ سے امریکہ تک پھیلے ان خانہ بدوشوں کو دیکھ کر آنکھیں فوراً یہ کہتی ہیں، یہ ہم میں سے ہیں، بچھڑے لوگ۔ دنیا میں گیت، ساز اور آواز کے ساتھ پھیلے لوگ… جپسی۔

مضمون نگار معروف صحافی ' کالم نگار اور متعدد کتابوںکے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

محبت


محبت یوں اترتی ہے
کہیں دل کی منڈیروں پر
کہیں پلکوں کی چھائوں میں
کہیں پر دعائوں میں
کہ جیسے چاندنی خاموش صحرا میں بکھر جائے
محبت یوں اترتی ہے
کہیں لفظوں کے پیکر میں
صحیفہ ہو کوئی جیسے
کہیں مسجد کے منبر پر
کہیں مندر کی گھنٹی میں
کلیسا کی صلیبوں پر
کہیں ہیبریو٫ بُدھا٫ نانک کے قالب میں
مگر کیوںڈوب جاتی ہے
لیکن نفرت کی جھیلوں میں؟
محبت پھر اترتی ہے
کہیں بچے کی قلقاری
کہیں ممتا کی سرشاری
کہیں لاچارکی سیوا
کہیں دلبر کی دلداری
محبت رک نہیں سکتی
محبت کا ٹھکانہ تو
یہیں انسان کا دل ہے


(فرحین چوہدری)

*****

 
Read 38 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter