تحریر:ڈاکٹر ہمامیر

آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہی ہو گا کہ فلاں خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جنگل کی آگ ہم نے اب تک صرف محاوروں میں یا کبھی کبھار خبروں میں ہی سنی تھی مگر دراصل جنگل کی آگ کیا ہوتی ہے، یہ ہمیں کینیڈا آ کر پتہ چلا۔


پہلے ہم یہ عرض کر دیں کہ اس برس یہاں کا موسم کچھ عجیب و غریب اور غیرمعمولی ہے۔ ونکوور میں شدید برف کا پڑنا اور وہ بھی مارچ تک۔۔۔غیرمعمولی، پھر شدید گرمی اور گرمی بھی ایسی کہ جھلسا دے، یہ غیرمعمولی۔۔۔ اور اب اگست شروع ہوا نہیں کہ خزاں کے رنگ پتوں پر نظر آنے لگے۔ جبکہ خزاں ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے اوائل میں ہوتی ہے۔ یہ بھی غیرمعمولی ہے۔ موسم کے نئے تیوروں نے اپنے رنگ دکھائے تو اس کا اثر کچھ اس طرح پڑا کہ لوگ بلبلا اٹھے۔ گرمی ایسی غضب کی پڑی کہ ہمارے صوبے برٹش کولمبیا کے جنگلات میں آگ لگ گئی۔ اگرچہ گزشتہ برس البرٹا صوبے کے علاقے فورٹ مک میری
(Fort Mc Murray)
میں بھی گرمیوں میں آگ لگی تھی۔ جس سے کافی نقصان ہوا تھا مگر اس پر جلد ہی قابو پا لیا گیا تھا۔ اب یہ جو برٹش کولمبیا میں آگ لگی ہے تو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اب اس وقت 250 سے زائد مقامات پر آگ بھڑک رہی ہے۔ سیکڑوں فائر فائٹرز آگ بجھانے کے لئے کوشاں ہیں مگر ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ کینیڈا کی افواج بھی اب آگ بجھانے میں فائر فائٹرز کا ساتھ دے رہی ہیں۔ مگر آگ ہے کہ پھیلتی جا رہی ہے۔

jangalkiag.jpg
کینیڈا کے نوجوان اور ہر دلعزیز وزیراعظم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آگ سے متاثرہ جگہوں کا دورہ کیا۔ ہم غور کر رہے تھے کہ وزیراعظم کیسے بیانات دیں گے۔ ان کا برتائو کیسا ہو گا؟ اور ہم نے دیکھا کہ وہ طمطراق اور دبدبے کے بجائے انتہائی انکساری اور عاجزی کا نمونہ لگ رہے تھے۔ جینز کی پینٹ اور ہلکے رنگ کی قمیص پہنے کہنیوں تک آستین چڑھائے وہ ایک نارمل انسان کی طرح لگ رہے تھے۔ اُن کا برتائو ایک رضاکار جیسا تھا۔ ہمارے لئے تو یہ سب کچھ نیا نیا سا ہے۔ مصیبت کی گھڑی میں کینیڈا کی حکومت نے جعلی قسم کے ڈراموں سے بھی گریز کیا۔ بہرطور کینیڈا میں چیک اینڈ بیلنس ہے۔ یہاں کسی کا مال ہڑپ کرنا اتنا آسان نہیں۔ اگرچہ یہاں بھی عام لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں مگر محسوس ہوتا ہے کہ جو جذبہ پاکستانیوں میں اپنے ہم وطنوں کی مدد کا ہے وہ کہیں اور نہیں۔


یہ بہت اچھی بات ہے کہ پاکستان میں اگر خدانخواستہ کوئی مشکل آ جائے تو پوری قوم متحد ہو کر پوری توانائی لگا کر ساتھ دیتی ہے۔ امیر ہو یا غریب، بچہ ہو یا بزرگ، خواتین ہوں یا مرد، سبھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر تو افواج پاکستان جو نہ صرف دفاع وطن کے لئے جان کی بازی لگاتی ہیں بلکہ ملک پر آنے والی کسی بھی مصیبت میں پوری جانفشانی سے کام کرتی ہیں چاہئے وہ 2005میں آنے والا زلزلہ ہو، سیلاب ہوں یا کوئی اور مشکل ہو۔ ہر امتحان میں پاک فوج نے بے مثال کامیابی حاصل کی ہے۔
کینیڈا میں عوام اگرچہ اپنے ہم وطنوں کا درد محسوس کرتی ہے مگر وہ جذبہ نظر نہیں آتا جو پاکستانیوں کا ہوتا ہے۔ یہاں جیسے اب ہمارے صوبے میں آگ کی آفت آئی ہے تو لوگ سب سے پہلے انٹرنیٹ پر یہ دیکھیں گے کہ اس سے کیسے بچا جائے۔ انخلا کیسے ہو۔ احتیاطی تدابیر کیا ہوں؟ کیسے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اس آفت سے محفوظ رکھا جائے۔ یہاں پر چونکہ ہر چیز کی انشورنس ہوتی ہے تو لوگوں کو یہ فکر بھی نہیں ہوتی کہ اگر خدانخواستہ گھر یا گاڑی تباہ ہو گئی تو نقصان کیسے پورا ہو گا۔ انشورنس کی رقم لوگوں کو مل جاتی ہے مگر یہ تو طے ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں جو مشکلات درپیش ہوتی ہیں رقم اس کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ جو لوگ بے گھر ہوئے ہیں یا جن کے مال مویشی متاثر ہوئے ہیں وہ یقینا مشکل میں ہیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت بہت سے علاقے پہلے ہی مکینوں سے خالی کرالئے گئے ہیں ایسے میں ایمرجنسی جیسی صورت حال ہے۔


پورے صوبے میں دھواں پھیلا ہوا ہے۔ دھواں صحت کے لئے نہایت مضر ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو دمہ کی یا سانس کی تکلیف ہے ان کے لئے یہ وقت اور بھی سخت ہے، سارا دن عجیب سا غبار یا دھواں پورے آسمان پر رہتا ہے۔ اسی باعث سورج بھی سنہرا نہیں بلکہ لال لگتا ہے۔ سورج کی کرنیں بھی نارنجی سی ہیں اور تو اور چاند پر نظر ڈالیں تو وہ بھی ''قہرآلود'' لگتا ہے۔ قارئین شاید اسے مبالغہ سمجھیں مگر یہ سچ ہے کہ چاند بھی سرخی لئے ہوئے ہے۔ ستارے بھی نظر نہیں آتے کیونکہ فضا دھوئیں کے غلاف جیسا منظر پیش کر رہی ہے۔ لوگوں کو گلے میں تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ہو رہی ہے۔ آگ کے پھیلنے کے باعث ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک موسم سرد نہیں ہو گاا ور برسات نہیں ہو گی، آگ پر قابو پانا مشکل ہے۔


عجیب بات ہے کہ مہینے بھر سے زیادہ ہو گیا بارش کا نام و نشان نہیں حالانکہ ونکوور کے بارے میں تو مشہور ہے کہ یہاں بارشیں بہت ہوتی ہیں۔ دیکھتے ہیں کب بارشوں کا سلسلہ شروع ہو تا ہے۔ کب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے اور کب آگ بجھتی ہے۔ اس وقت تو صورت حال یہ ہے کہ آگ مزید بھڑکتی جا رہی ہے۔ اﷲ رحم کرے یہاں کی تاریخ کی دوسری بڑی آگ ہے یہ جو تباہی پھیلا رہی ہے۔ برٹش کولمبیا میں 50 کی دہائی میں خوف ناک آگ لگی تھی یا پھر اب 2017 میں ایسی تباہ کن آگ لگی ہے جس سے ہزاروں ایکٹر زمین متاثر ہوئی ہے۔ حکومت نے کیمپ فائر پر پابندی لگا دی ہے اور خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ اب تو بس انتظار ہے بارانِ رحمت کا، اور آگ ٹھنڈی ہونے کا۔ خدا کرے جلد موسم تبدیل ہو اور آگ پر قابو پایا جا سکے۔ آمین!!

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 119 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter