اینڈ را ئیڈ ٹیکنا لو جی

Published in Hilal Urdu

تحریر: صائمہ بتول

اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کے لفظی معنی ایسی مشین کے ہیں جو انسانی دماغ کے قریب قریب سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ سمارٹ فون، ٹیبلٹ اور جدیدکمپیوٹر میں استعمال ہونے والا سافٹ ویئر ہے۔ اینڈ رائیڈ، ہارڈویئر کو زیادہ تیز، بہتر اور سمجھداری سے چلنے میں مدد دیتا ہے۔ جس کی مدد سے ہم خبریں، علم اورتفریح حاصل کرسکتے ہیں۔ موسیقی سنتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، نقشے کی مدد سے راستے ڈھونڈنکالتے ہیں بلکہ ہم خود اپنے ہی بارے میں بھی یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اس وقت ہم کہاں موجودہیں۔ اینڈ رائیڈ ہی کی بدولت ہم تصاویر بناتے، ویڈیو فلمیں بناتے اور آواز کو محفوظ کرتے ہیں۔ اسی ٹیکنالوجی کی بدولت ہی سمارٹ فون آپ کا ہمراز اور مددگار بھی ہے جس نے بہت ساری چیزوں کو آپ سے دور اور کئی ایک کو آپ کے قریب ترکردیا ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک سے گاڑی کے ہارن تک اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ آج سے پندرہ سال پہلے 1995 میں آئی بی ایم کمپنی نے پہلا ذاتی فون متعارف کروایا۔ اس وقت سمارٹ فون ایجاد نہیں ہوا تھا۔ ذاتی فون کا نام اُس وقت سائمن پرسنل کمیونیکیشن
،(Simon Personal Communication)
تھا۔ اس کے بعد بہت ساری ابلاغی خصوصیات کو بھی جمع کرتے ہوئے ایپل کمپنی نے پہلاسمارٹ فون بنایا۔ جس میں 'ایپ سٹور' کا خصوصی اضافہ کیا گیا۔ ایپ سٹور کو آئی او ایس
(IOS)
بھی کہتے ہیں جس کی مدد سے صارفین مختلف سافٹ ویئر ڈائون لوڈ کرسکتے ہیں۔ اس خصوصیت کی بدولت گیم کے شائقین نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور دھڑا دھڑ مختلف گیمز اپنے ذاتی فون میںمحفوظ کیں اور کھیلنے لگے۔ آئی او ایس androidtech.jpgدنیا بھر کے بچوں میں مقبول ہوا اور فون کی قیمت 900 سے 1200 ڈالر ہوئی اور اس طرح ایپل کمپنی نے کروڑوں ڈالر کمائے۔
ایسے میں کمپیوٹر کے تاجروں سمیت کئی لوگوں کا خیال تھا کہ مائیکرو سافٹ بھی اس کے مقابلے کا کوئی فون مارکیٹ میں متعارف کروا سکے گا مگر ایسا نہ ہوا بلکہ گوگل نے اس میدان میں چھلانگ لگا دی اور 23 ستمبر2008 کو 'ایچ ٹی سی ڈریم' کے نام سے ایک عدد سمارٹ فون اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے شائقین کی خدمت میں پیش کردیا اور اس طرح اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہو گیا۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ایپل کمپنی کی اجارہ داری ختم ہوئی بلکہ کئی موبائل کمپنیاں جن میں کیو  موبائل کمپنی

موبائل سے لے کرمائیکرو میکس، جیسی چھوٹی بڑی کمپنیاں ایپل کمپنی جیسی بڑی کمپنی کے مقابلے میں آگئیں۔ مارکیٹ میں ایک طوفان برپا ہوگیا اور ایپل کمپنی معاشی طور پر گھٹنوں پر آگئی۔ بڑے بڑے ڈیسک ٹاپ،چھوٹے چھوٹے لیپ ٹاپ میں بدل گئے۔ ایک ہی جگہ پر ساکت اور تھوڑی بہت حرکت والے سارے پرانے سافٹ ویئر سے آراستہ تمام
gadgets
کو جیسے پَر لگ گئے۔ صارفین کی گود، میز، بستر، باورچی خانے، کھیل کے میدان، دفاتر ، ہسپتال، سکول، ہر جگہ اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کی ہم سفر ہوئی۔ وقتی اور جغرافیائی حدود کے معنی بدلے، زبانوں میں تبدیلی آئی اور دنیا سمٹ کر آپ کی ہتھیلی پر آ گئی۔ کہاں وہ زمانہ کہ ایک طالب علم الیگزینڈریا کے کسی کتب خانے کی جستجو میں سالوں اور میلوں کا سفر طے کرتا اور خطرات کو مول لیتا تھا اور اب یہ زمانہ کہ وقت اورجگہ کی قید سے آزاد!! کسی بھی حالت میں، کہیں بھی، کسی بھی زبان میں آپ اپنی خواہش کے مطابق گوگل کو احکامات صادر کرتے ہیں اور مستفید ہو سکتے ہیں۔ یہ اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی آپ کو ورچوئیل رئیلٹی
(Virtual Reality)
بھی مہیا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ سافٹ ویئر جدید ترین گاڑیوں کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ مگر یہ مت بھولئے کہ یہ سافٹ ویئر آپ کی ذاتی زندگی اور شخصی آزادی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ آپ کو اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کے کسی کونے سے بھی دیکھا، سُنا، فلمایا اور جسمانی طور پر بدل کر پیش کیا جاسکتا ہے، آپ کی شناخت بدلی جاسکتی ہے ذاتی رکھ رکھائو کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ آپ کہیں پناہ گزیں ہوں یا چھپ کر بیٹھیں، آپ کو ڈھونڈا جاسکتا ہے، بینک اکائونٹ کریڈٹ کارڈ سے متعلقہ جرائم کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، یا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ سمیت کئی ضروری کاغذوں میں گھنائونی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ آپ کے قریب رکھا ہوا سمارٹ فون آپ کا مخبر بھی ہوسکتا ہے اور آپ کے انتہائی ذاتی راز کسی کے آگے کھولنے کے لئے اُسے آپ کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں۔ اپنے محترم قارئین کو یاد دلاتی چلوں کہ موٹورولا بھی گوگل ہی کی کمپنی ہے جس نے پاکستان میں پہلے جی ایس ایم موبائل فون موبی لنک کی بنیاد 1994 میں رکھی۔


11 اگست2005 کو کیلیفورنیا میں گوگل کمپنی نے این ڈی رابن، رچ میور اور کرس وائٹ کی مدد سے اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی پر کام کرنا شروع کیا۔ 13 ستمبرکو ایرینا بلاک نامی خاتون نے اس کالوگو تیار کیا۔ 27اپریل 2009 کو 1-5کپ کیک اور چار مہینے بعد ہی یعنی اگست 2009 کو ڈو نٹ بنایا گیا۔ پھر41 دن بعد اکلیئر(2.0) جنوری2010 کو نیکسس ون

آیا اورساتھ ہی 6 اکتوبر2010 گوگل ٹی وی نے مارکیٹ میں قدم رکھا اور22 فروری 2011 کو ہنی، کامب3.0 ٹیبلٹ یعنی سلیٹ نما شکل میں آیا۔ 10مئی 2011 کو گوگل میوزک متعارف کروا دیا گیا۔18 اکتوبر2011 کو آئس کریم سینڈوچ4.0 سامنے آیا۔ 2011 ہی میں گوگل دنیا کی امیرترین کمپنیوں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔
27 جون2012 کو گوگل کمپنی نے اپنے گلاس پراجیکٹ کو دہرایا اور 9 جولائی 2012 کو جیلی بینز4.1 اور نیکسس ٹیبلٹ بنالیا۔ یہاں تک کے سفر میں اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی کی مارکیٹ900 ملین ہوچکی تھی۔
21 اکتوبر 2013 کو کٹ کیٹ4.4 دھڑا دھڑ بکنے لگا، 18 مارچ2014 اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی نے دستی گھڑیوں میں بھی ڈیر ے ڈال لئے۔ 26 جون 2014 ہی میں پاور پارٹ زیرو(0) شروع ہوا۔ 12 نومبر2014 کو لالی پاپ 4.4 ساتھ ہی دی نیکسس پلیر اور15 اکتوبرمارش میلو 6.0 آیا۔ نیکسس 6 اور9 بھی انہی دنوں مارکیٹ میں آئے۔
22 اگست2016 میں ڈو نٹ7.0 سامنے آچکا ہے اور حالیہ سال 2017 میں نیاورژن متعارف کروایا جا چکا ہے اور اس پر دن رات کام ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ15x اور پکسل6 پر بھی کام ہو رہا ہے۔ دیکھئے یہ تحریرمکمل ہو کر سامنے آنے تک ترقی کی اس رفتار سے اینڈ رائیڈ کتنے حیرت کدوں کا پیش خیمہ بنے؟

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 155 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter