دامِ لہو قسط سوم

Published in Hilal Urdu

تحریر: حفصہ ریحان

گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے کیونکہ وہ گھر گیاہی نہیں ہوتا۔
پانچ سالہ شہیر فون پراپنے والدسے ناراضگی کا اظہارکرتاہے کہ وہ ان سے ملنے نہیں آتے۔ وہ جواب میں اپنے معصوم بیٹے کے گلے شکوے ختم کرنے کے لئے وہ بہت جلدآنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ دراصل شہیر کے والد میجر شاہنواز آرمی میں ہیں اور اُن کی ڈیوٹی ان دنوںپاک افغان بارڈر پر ہے۔
نوسالہ عمران بھی اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔
صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔صارم وجیہہ سے ملتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ اس رشتے میں اس کی مرضی شامل تھی یا نہیںاور وجیہہ کا مثبت جواب سننے کے بعد وہ پُرسکون ہو جاتا ہے۔
مدرسے میں بجنے والی گھنٹی کی آواز مجاہد کو سوچوں کی دنیاسے نکال کرحقیقت کی دنیا میں لے آتی ہے۔وہ دنیا جہاں انتہائی درجے کی تلخی ہے۔۔۔۔۔۔!
مجاہد جب سے اس مدرسہ میںآیا ہے اس کے ساتھ کمرے میں اس کے علاوہ چار اور لوگ بھی رہتے ہیں۔ اسے مدرسے میں داخل ہوتے ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں پر سارے کام اسے خود ہی کرنے ہیں۔

 

ایک بارپھراسے وہی باتیں سمجھائی جانے لگیں۔لڑائی نہ کرناتو اسے ایسے سمجھایاجاتاہے جیسے وہ کوئی بہت بڑاجھگڑالُو ہے اورجھگڑا کرنا ہی اس کا پیشہ ہے۔وہ جی بھر کے بدمزہ ہوا۔کچھ بولا نہیں لیکن ناک بَھوں چڑھاکر چارپائی اٹھا کر اپنے کمرے میں آگیا۔چارپائی اس نے اسی کونے میں رکھی جہاں اس نے پہلے سے سوچ رکھا تھا۔ ویسے کمرے میں اس کے علاوہ چارپائی رکھنے کی اورکوئی جگہ بھی نہیں تھی۔چارچارپائیاں پہلے سے کمرے میں موجود تھیں اور یہ پانچویں رکھنے کے بعد توکمرے میں صرف اتنی جگہ رہ گئی جتنی ان پانچ چارپائیوں کے بیچ میں ضروری تھی۔ اس کے علاوہ کمرے میں کوئی جگہ نہیں بچی۔
بڑے مولانا صاحب کی ہدایات یہاں کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ اسے مدرسے کی دیوار کے اندر قدم رکھتے ہی پتہ چل گیا تھا۔آج پہلی بار جب وہ مولوی ثناء اللہ سے ملا تواسے کچھ اندازہ تو اس بات کا ہو گیا۔ان کے کمرے سے نکل کروہ جس جس سے ملا سب کی زبان سے کسی نہ کسی حوالے سے بڑے مولانا صاحب کا ذکر سنتا رہا۔ اسے پتہ چل گیا کہ یہاں پر سب بڑے مولانا صاحب سے کتنے متاثر ہیں۔
یقیناً وہ کوئی بہت ہی پہنچی ہوئی ہستی ہوںگی جن سے سب اتنے متاثرہیں۔اس نے دل میں سوچا۔


اس نے کمرے کے کونے میں چارپائی پرچادراورتکیہ بچھادیااوروہیں لیٹ گیا۔ وہ تھکاہواتھا۔اتنا سفر کرکے آیا تھا وہ آج۔۔۔۔سیف اللہ ابھی تک وہی کتاب پڑھ رہا تھا۔اس سے کوئی بات نہیں کی۔ پتا نہیں وہ مصروف تھا یااسے مسلسل نظراندازکررہا تھالیکن لگ تو بہت مصروف رہا تھا۔ وہ تھکا ہواتھالیٹتے ہی نیند کی وادی میں چلا گیا۔نیند کا وہ شوقین تھااور یہ اس کی فطرت تھی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کسی نے اسے کندھے سے ہلایا۔
اُٹھ جاؤ مجاہد جماعت کا وقت نکلا جارہاہے۔


وہ گہری نیند میں تھا۔اسے تو سمجھ بھی نہیں آئی کہ کس نے اسے ہلایاہے۔اس نے کروٹ لے کر دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔
چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اسے پھرکسی نے کندھے سے ہلایااوراس بارپہلے سے زیادہ شدت سے ہلایا۔وہ ہڑبڑاکراپنے بستر پربیٹھ گیا۔چند لمحے تو اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ کہاں موجود ہے۔ وہ آنکھیں مسلنے لگا۔کچھ لمحوں بعد جب حواس بحال ہوئے تو یہاں اپناآنایاد آگیا۔


جلدی سے اُٹھ جاؤ مجاہد۔ جماعت کھڑی ہونے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اورتم نے تووضو بھی کرنا ہے۔
کتنا وقت رہتا ہے ؟؟؟؟؟ یہ اس نے اس لئے پوچھا کہ وہ ہمیشہ وضووقت دیکھ کرکرتاتھا۔اگر جماعت میں وقت زیادہ ہوتا تھا تو وہ آرام سے کرتا۔دوسری صورت میں وہ پانچ منٹ کے اندر بھی تیارہوجاتاتھا۔
بہت کم وقت ہے۔شایدپانچ منٹ سے بھی کم۔ سیف اللہ نے دروازے سے نکلتے ہوئے کہا۔


وہ چھلانگ لگاکربسترسے اترآیا۔کمرے کے دروازے سے نکلتے ہوئے اسے یادآیا کہ اسے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ نماز اس وسیع مدرسے میں کس جگہ پڑھی جائے گی۔
سیف اللہ۔۔۔۔۔۔ اس نے پیچھے سے بلایا۔ وہ رک گیا۔
نماز کے لئے میں کس جگہ آؤں؟؟؟؟
وہ جو سامنے مینار نظرآرہا ہے۔۔اسی جگہ آنا۔
اس نے مینار کی طرف دیکھا۔اسے مسجد کا مینارنظرآگیالیکن وہ آتے ہوئے مدرسے کے سامنے والے دروازے سے آیا تھااور یہ مسجد مدرسے کے پیچھے کی طرف بنی ہوئی تھی اس لئے آتے ہوئے اس نے نہیں دیکھی تھی۔
جلدی سے آجانامجاہد۔ دیرکر دی اوربڑے مولانا صاحب کو پتا چلا تو وہ بہت ناراض ہوںگے۔۔۔غسل خانے کی طرف جاتے ہوئے اس نے اپنے پیچھے آواز سنی۔
مجاہد۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ اورایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پرپھیل گئی۔۔اچھانام تھااس کا۔
وہ جلدی سے کمروں کی قطارکے آخر میں بنے ہوئے غسل خانوں میں سے ایک میں گھس گیااور چندلمحوں میں وہاں سے نکل کرنزدیک ہی نلکے پرہاتھ منہ دھویااورجلدی سے مسجد کی طرف بھاگا۔
وہ مسجدمیں داخل ہواتوجماعت کھڑی ہونے والی تھی۔وہ بھی جلدی سے آخری صف میں کھڑا ہو گیا۔

مجاہداللہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آہستہ سے اپنانام دہرایااورایک ٹھنڈی سانس لی ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ہاں ہاں کھینچ لواورکھینچ لو۔نکال لومیرے سارے بال۔لیکن مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے،لوگ تمہیں ہی گنجے کی بیوی کہیں گے۔ بائیک پرگنجے کے پیچھے تم پرہنسیں گے لوگ۔
ارے بابامیں نے کھینچے کب ہیں۔ میں مساج ہی توکررہی ہوں۔وہ کافی حیران ہوئی اس کی بات پر۔
ارے واہ! یہ مساج ہے توپھررسیاں تڑواناکیاہوتاہے ؟؟؟
ارسل۔۔۔۔ میں اتنے آرام سے توکررہی ہوں۔آپ توخوش ہی نہیں ہوتے۔ وہ بہت معصومیت سے بولی۔
ارے واہ! میں خوش نہیں ہوتایاتمہیں مجھ پررحم ہی نہیں آتا۔ایسے کھینچ رہی ہوجیسے کوئی بھینس بندھی ہوان کے ساتھ۔۔وہ بھونڈی مثال دیتے ہوئے بولا۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔وہ قہقہہ مارکرہنسی اس کی بے تکی تشبیہہ پر۔وہ ایسی ہی بے تکی مثالیں دیاکرتاتھا۔
آج ہفتے کادن تھااورگھرپران دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔رضاحسین اورشمیم عصرکی نمازپڑھ کررضاکے بہنوئی کی عیادت کوگئے تھے جو پچھلے دومہینوں سے علیل تھے اوراب ان کی واپسی عشاء سے پہلے ممکن نہیں تھی۔ کامران اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے نکلاہوا تھااورگھرمیں بس وہی دونوں رہ گئے تھے۔ ارسلان نہانے کے لئے جاہی رہاتھاکہ صبانے پیچھے سے آوازدے کرروک لیا۔ اور تیل لاکراس کے بالوں میں مساج کرنے لگی۔اب یہ اس کامعمول بن چکا تھا۔ ہربارنہ سہی لیکن کبھی کبھی وہ اس کے بالوں میں سرسوں کے تیل کامساج کرہی دیتی۔ ارسلان کے بال پیارے توپہلے بھی تھے۔چھوٹے چھوٹے بال ماتھے پرآتے ہوئے بہت اچھے لگتے اس پر، لیکن مساج کرواکے دھونے کے بعدتوصبا کوسب کچھ چھوڑکراس کے بالوں پرہی پیارآتا تھا۔گیلے ہوکروہ لگتے بھی توبہت پیارے تھے۔ وہ مساج کرتی جارہی تھی اورساتھ میں ان کی ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی چل رہی تھی۔
اب میں نے ایسابھی نہیں کھینچااوراتنے برے اورروکھے بال ہوں گے توکھنچتے ہوئے تولگیں گے نا۔کتنی دفعہ کہاہے کہ نہانے سے پہلے تیل لگایاکریں لیکن آپ بھلاکیوں سنیں گے۔۔
محترمہ میرے بال بہت پیارے ہیں لیکن جوتم کررہی ہووہ بالکل ٹھیک نہیں ہے۔وہ چھیڑرہاتھا۔
خودہی توکہاآپ نے کہ مساج کردوں اوراب خودہی شکایت بھی ہے۔ وہ ناراض ہورہی تھی۔
تومیں نے مساج کرنے کاکہاتھایہ کب کہاتھاکہ جڑسے ہی اکھاڑدو،کچھ چھوڑوہی نہ میرے سر پر۔
میں نے کب اکھاڑاہے ؟؟ اتنے آرام سے توکررہی ہوں۔
ہاں ہاں۔اکھاڑدو۔مجھے کوئی مسٔلہ نہیں ہے۔شرم سے توتم ڈوبوگی جب لوگ تمہیں ٹکلے کی بیوی کہیں گے۔۔؟
اس کی شرارت عروج پر تھی۔وہ ایسے ہی اسے چھیڑتاتھااوراسے چھیڑنے میں اسے بہت مزاآتا تھا۔وہ کوئی بہت بذلہ سنج شخص نہیں تھالیکن اس کے سامنے آتے ہی پتا نہیں کیوں اسے شرارتیں ہی سوجھتی تھی۔ اسے تنگ کرکے وہ بہت مزا لیتا تھا۔ اکثر صبح بایئک پرساتھ جاتے ہوئے وہ بائیک کوادھرادھرمختلف زاویوں سے گھما پھرا کراسے ڈراتارہتاتھااوروہ ڈربھی جاتی تھی اورپھراوپرسے صباکا ری ایکشن اتنا معصومانہ اورمزے کاہوتاتھاکہ اس کا اور دل کرتا اسے تنگ کرنے کو۔ وہ اکثر ناراض ہوجاتی اور سکول کے پاس بائیک سے اترکر روزنہیں توہردوسرے دن اسے یہ دھمکی بھی دیتی کہ اب وہ سارادن اس سے بات نہیں کرے گی اوراسے کوئی میسج بھی نہیں کرے گی۔کبھی کبھی تویہ دھمکی بھی ملتی کہ اب وہ کبھی اس کے ساتھ نہیں آئے گی بائیک پر۔ وہ آج ہی ٹرانسپورٹ میں بات کرکے اپنے لئے سکول کی بس لگوا لے گی اورآئندہ اسی میں آیاکرے گی لیکن اس کے ساتھ کبھی نہیں آئے گی۔
لیکن یہ دھمکی ہمیشہ دھمکی ہی رہتی۔ سکول کے دروازے سے داخل ہونے کے ٹھیک پندرہ منٹ بعدسے وہ انتظارکرناشروع کردیتی کہ کب اس کاسوری کامیسج آئے گا۔ کیوںکہ اس کاآفس مشکل سے پندرہ منٹ کے فاصلے پرہی تھا اور ہر بار جب وہ سکول کی اسمبلی سے فارغ ہوکرسٹاف روم میں آتی تھی تواس کامیسج آیا ہوتا تھا۔ ایک لمباساسوری اورایک اداس ساکارٹون اور اس کی ساری ناراضگی بھک کر کے اڑجاتی۔ وہ ایک میسج اس کے لبوں پرمسکان بکھیر دیتا۔ وہ اسے تنگ کرتا تھا اور جانتا ہوتا کہ وہ ناراض ہوگی۔ سوہرباربینک کے دروازے پربائیک کھڑی کرتے یہ اسے میسج کردیتااوریہ کام وہ کبھی بھی نہ بھولتا۔دنیاکی ہرشے سے زیادہ عزیزتھی وہ ایک لڑکی اسے۔
مجھے توکوئی پرابلم نہیں ہے اگرکوئی مجھے ٹکلے کی بیوی کہے یاپھرمجھے ٹکلے کے پیچھے بائیک پربیٹھے ہوئے دیکھے۔ بلکہ مجھے توبہت مزا آئے گاجب لوگ افسوس سے میری طرف دیکھیں گے۔اب چڑانے کی باری اس کی تھی۔
افسوس سے کیوں؟؟؟؟؟؟
توظاہرہے لوگ مجھے آپ کے ساتھ دیکھ کربہت افسوس کریں گے ناکہ دیکھوبیچاری لڑکی کی قسمت پھوٹ گئی ہے، اتنی پیاری ہے اورایک گنجے کے ساتھ بیاہ دی گئی۔۔۔ چھی چھی چھی۔ وہ مصنوعی اداسی اپنے چہرے پرچڑھاکربولی۔
اب ایسی بھی کوئی جنت سے اتری ہوئی حورنہیں ہوتم جومیں تمہارے ساتھ لنگور لگوںگا۔خود کوذراشیشے میں جاکردیکھ لو تم۔اس کا منہ لٹک گیاتھا۔ وہ اسے چڑانے میں آج کامیاب ہوہی گئی تھی ورنہ اکثروہ ہی جیتتاتھا۔
ہاہاہا۔۔میں نے ایساکب کہاکہ میں حورہوں اورآپ لنگورہیں؟؟؟؟ میں تولوگوں کی بات کررہی تھی۔
توتم اسی لئے کھینچ رہی ہومیرے بال تاکہ سارے نکال دواورپھرسب کی ہمدردیاں سمیٹ سکو۔ وہ واقعی چڑگیاتھا۔
بالکل۔سوفیصد صحیح اندازہ لگایاہے آپ نے۔میرا مقصدیہی ہے۔وہ اس کے پیچھے کھڑی مسکرارہی تھی۔ لیکن وہ انجان تھا۔
اچھابس چھوڑدو۔میں نہانے جارہاہوں۔ بہت اکھیڑلئے میرے بال۔
ارے رکیں ناابھی توپوری طرح اکھاڑے نہیں ہیں۔مجھے اوربھی اکھاڑنے ہیں۔ وہ ہنسے جارہی تھی۔
وہ اُٹھ کرکھڑاہوگیا۔مساج ہوگیاتھالیکن وہ ویسے ہی آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔ اسے اچھالگ رہاتھااورساتھ میں اسے غصہ بھی دلا رہی تھی۔
اچھااچھا۔ابھی مت نہائیں۔کم سے کم آدھاگھنٹہ توصبرکرلیں۔ابھی توتیل لگایاہے۔
وہ بھی تیل کی بوتل اُٹھاکراٹھ گئی۔اسے رات کے کھانے کے لئے بھی کچھ تیارکرناتھا۔امیرلوگ نہیں تھے۔کچھ رضاحسین کی پنشن تھی اورکچھ ارسلان کی تنخواہ۔گھرکاگزارہ اچھا چل رہاتھا۔ آج بینک سے واپس آتے ہوئے وہ اپنے ساتھ مچھلی لایاتھا۔اوررات کے کھانے میں صباکواسی مچھلی کوتلناتھاسووہ تیل کی بوتل رکھ کرکچن کی طرف گئی۔ابھی اسے مسالا تیارکرنا تھا۔تلناتوسب کے واپس آنے پرہی تھا۔۔۔۔

پاپا میں آپ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
کیوں بیٹا؟؟ اب پاپا نے کیا کیا ہے ؟
پاپا آپ نے کہا تھا کہ آپ بہت جلدی آئیں گے گھر۔۔لیکن آج پورا ہفتہ ہو گیا ہے آپ نہیں آئے۔
میجر شاہنواز بٹ نے آج گھر فون کیا تھا اور فون اٹھایا ہی اس کے بیٹے شہیرنے۔۔ وہ شہیر جو اپنے باپ سے ہر فون پر لڑتا تھا۔ صرف اس لئے کہ اس کا پاپا اس سے اور اس کی ماما سے پیار نہیں کرتا۔ اگر کرتا ہوتا تو اِتنے مہینوں بعد گھر نہ آتا۔ بلکہ جلدی جلدی آتا جیسا کہ اس کے سب دوستوں کے پاپا آتے تھے۔ وہ تو اپنی دانست میں سمجھتا تھا کہ اس کے دوست عبداللہ اور کامران کے پاپا ان سے سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں جو روز شام کو گھر آجاتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر اس نے حسن سلطان کو رکھا تھا جس کے پاپا ہر ہفتے کے دِن اِسلام آباد سے ان سے ملنے آتے تھے۔۔ اپنے پاپا میجر شاہنواز بٹ کو اس نے آخری نمبر دیا تھااور اس نمبر کے مطابق اس کے پاپا یعنی میجر شاہنواز بٹ کو اپنے بیٹے شہیر نواز اور اس کی ماما عائشہ سے کوئی پیار نہیں تھا۔جو وہ مہینوں تک ان سے ملنے گھر نہیں آتے۔ اگر ان کو پیار ہوتا تو وہ اس کے دوستوں کے پاپا کی طرح ان سے ملنے ضرور آتے۔
'' بیٹا میں نے آپ سے پرامس کیا تھا نا کہ جیسے ہی مجھے ٹا ئم ملے گا میں بھاگتا ہوا اپنے بیٹے کے پاس پہنچ جاؤں گا۔۔۔'' شاہنواز کو اپنا وعدہ یاد تھا۔
لیکن پاپا آپ کو پچھلے دو مہینوں سے ٹائم نہیں ملا۔ آپ آئے تھے تو بھی اتنی جلدی چلے گئے تھے۔۔۔ وہ بھی اسی کا بیٹا تھا۔
بیٹا وہ تو ایمرجنسی کال آئی تھی نا۔ اس لئے جلدی آنا پڑا تھا۔۔۔۔ باپ وضاحت دے رہا تھا۔
پاپا صرف آپ کو ایمرجنسی میں کیوں بلاتے ہیں۔ عبداللہ کے پاپا کو تو کبھی کسی نے نہیں بلایا۔
عائشہ جو کافی دیر سے صوفے پہ بیٹھی ان باپ بیٹے کے گلے شکوے سن رہی تھی دھیرے سے اس بات پہ ہنس دی۔ پانچ سال کا شہیر نواز نہیں جانتا تھا کہ اس کے پاپا کو اس سے اور اس کی ماما سے کیوں پیار نہیںہے۔ عائشہ جانتی تھی کہ اپنے بیٹے شہیراور بیوی عائشہ پرجان نچھاور کرنے والا شاہنواز اتنے مہینے گھر کیو ںنہیں آتااور یہ بات وہ اپنے بیٹے کو بھی سمجھانے کی کوشش کرتی تھی۔لیکن وہ بچہ تھا اور بچے سمجھتے نہیں صرف دیکھتے ہیں اور اس کا شہیر بھی دوستوں کو دیکھ کر اپنے پاپا سے لڑ رہا تھا۔
لیکن اس نے روکا نہیں اسے۔ بلکہ اسے لڑنے دیا۔ آخر باپ تھا اس کا۔۔۔
بیٹا عبداللہ کے پاپا آرمی میں نہیں ہیں، شاہنواز نے وضاحت دینے کی کوشش کی۔
تو پاپا آپ بھی آرمی چھوڑ کر آجائیں۔۔ وہ بھی آج پورا حساب لے رہا تھا بیٹا ابھی تو نہیں چھوڑ سکتا نا۔۔
کیوں؟؟؟
وہ لاجواب ہو گیا تھا اور و ہ ہمیشہ ہی لاجواب ہو جاتا تھا۔ اولاد چیز ہی ایسی ہے کہ بڑے بڑوں کو لاجواب کر دیتی ہے۔اور عائشہ جانتی تھی کہ بحث میں اپنے سامنے والے کوہمیشہ لاجواب کر دینے والا شاہنواز اپنے پانچ سالہ بیٹے کے سامنے ہر بار لاجواب ہو جاتا ہے۔ سو وہ مسکراتے ہوئے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر اس کو بچانے آئی تھی۔
شہیر بیٹا پاپا سے اتنا لڑتے نہیں ہیں۔۔ وہ ڈیوٹی پر ہیں بیٹا۔۔ اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔
نہیں ماما پاپا جان بوجھ کر نہیں آتے۔ڈیوٹی پر تو کامران کے پاپا بھی ہوتے ہیں۔ وہ آج بہت غصے میں تھا۔
اچھا چلو بیٹا مجھے فون دو اب۔۔کتنی دیر سے پاپا سے لڑ رہے ہو آپ۔ اب مجھے بات کرنے دیں۔آپ جا کے کارٹون دیکھ لو۔
یہ لیں ماما۔۔آپ بات کر لیں۔
اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔وہ غصے میں تھا ناراض تھا،لیکن اس وقت اس کے اُٹھ جانے پر شاہنواز نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا۔ وہ اپنے پاپا سے سخت ناراض تھا۔لیکن حیران وہ اس بات پر تھا کہ اس کی ماما اس کے پاپا سے کیوں ناراض نہیں ہوتی۔ کمرے کے دروازے سے نکلتے ہوئے اس نے ایک بار پھر مڑ کر دیکھا تھااور جی بھر کے بدمزہ ہوا تھا۔ اس کی ماما فون پہ ہنس رہی تھی۔ جانے کیوں۔ اس لمحے اپنی ماما بھی اسے اچھی نہیں لگی۔وہ پاپا سے اتنی خوشی سے بات کیوں کر رہی تھیـجب کہ پاپا کو تو ان دونوں کا احساس بھی نہیں ہے اور اس خراب موڈکے ساتھ وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


مجاہداللہ کیاہوگیاہے تمہیں؟؟؟؟؟ انہوں نے اپنی ازلی مسکراہٹ ہونٹوں پرسجاتے ہوئے کہا۔
شکیل بھائی اب میں یہاں نہیں رہوں گا۔ چلاجاؤں گامیں یہاں سے۔ مزید اب بے گناہوں کی جان نہیں لوں گامیں۔۔وہ بہت غصے میں تھا۔
ایساکیاہواہے مجاہدجوتم ایسے کہہ رہے ہواورمولاناصاحب نے مجھے اتنی جلدی میں بلایاتم سے بات کرنے کے لئے۔۔شکیل حیران تھا۔
میں جان گیاہوں سب حقیقت۔ ایسی باتیں جو آپ نہیں جانتے۔۔ مولانا صاحب صرف ایک دھوکہ ہیں اور۔۔۔۔۔وہ آگے بھی کچھ کہناچاہ رہاتھالیکن جانے کیوں رُک گیا۔
اس سے کیافرق پڑتاہے بیٹاکہ آپ کیاجان گئے ہو اور کون کیا ہے۔ کرنا تو سب کووہی ہوتاہے جس کافیصلہ ہواہوتاہے۔۔ وہ اپنی ازلی مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔
آپ نہیں جانتے شکیل بھائی آپ کچھ بھی نہیں جانتے۔۔مجاہد کے لہجے میں کافی ڈر تھا۔
ایساکیاہے جومیں نہیں جانتااورتم جان گئے ہو؟؟؟ انہوں نے چائے پیالی میں ڈالتے ہوئے پوچھا۔
شکیل بھائی میں اس رات ویسے ہی کمرے سے نکلا۔نیند نہیں آرہی تھی مجھے۔ میں قسمت سے مولاناصاحب کے کمرے کے پیچھے کی طرف سے مڑکرآیا۔وہاں روشنی جل رہی تھی۔اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبورہوکرمیں نے اندرجھانکاتومجھے کچھ انجان لوگ نظرآئے۔بالکل انجانے جن کومیں نے کبھی دیکھابھی نہیں تھا۔ میں وہیں کھڑے ہوکران کی باتیں سنتارہااورجیسے جیسے میں سنتارہامجھے لگامیں زمین میں دھنستاجارہاہوں۔ وہاں کپڑے کاایک تھیلابھی پڑاہواتھا۔وہ لوگ کہیں پرکچھ دھماکہ کرنے کی بات کررہے تھے اورپیسوں کی کچھ بات کررہے تھے لیکن مولانا صاحب نہیں مان رہے تھے۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکہ کیاہورہاہے لیکن بس یہ سمجھ پایاکہ مولاناصاحب نہیں مان رہے۔بھلاوہ اللہ اوررسولۖکے غلام ہیں پیسے لے کرکیسے دھماکہ کرسکتے تھے لیکن یہ میری سوچ تھی جوبالکل غلط ثابت ہوئی جب میں نے دیکھاکہ مولانا صاحب کے سامنے و ہ تھیلا اوراس جیساایک اور تھیلا انڈیلاگیااوران دونوں تھیلوں میں سے نوٹوں کی گڈیاں نکلیں۔ مولانا صاحب کے چہرے پراس وقت ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جومیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے پیسوں کے عوض دھماکہ کرنے کامعاہدہ کرلیا۔ اب آپ بتائیں شکیل بھائی جب مجھے یہ پتاچل گیاہے کہ مجھے ہی نہیں مجھ جیسے ہزاروں لڑکوں کومذہب کے نام پردھوکہ دیاگیاہے اوردیاجارہاہے تومیں یہاں کیسے رہوں گا۔۔۔
جوتم نے کہاوہ سب میں جانتاہوں اوراگرتم اس کے علاوہ بھی کچھ جانتے ہوتومجھے بتادو۔وہ بدستوراب بھی مسکرارہے تھے۔


(.........جاری ہے)

نا ول 'دام لہو' کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میںزمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 58 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter