مچھروں سے پھیلنے والی بیماریاں

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

مچھرپوری دنیا میں سب سے چھوٹے مگر سب سے زہریلے اور جان لیوا جانداروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کی پوری دنیا میں تقریباً3,500 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہر سال تقریباََ ایک ملین سے زیادہ لوگ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مچھر سے پھیلنے والی مختلف بیماریوں یعنی ملیریا ،
Yellow Fever
کے بعد آج کل چکن گونیا ڈینگی اور زیکا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں تقریباََ 214 ملین کیسز منظر عام پر آئے اور تقریباََ43,800 افراد اس کے ہاتھوں لقمۂ اجل بنے۔


ملیر یا ، مچھرسے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے جو کہ پلازموڈیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر سال پوری دنیا میں تقریباً 350-500 ملین افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ملیریا کی بیماری مچھر کی ایک خاص قسم اینا فلیز کی مادہ کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ جب یہ مادہ مچھر کسی ملیریا زدہ شخص کو کاٹتی ہے تو اس شخص کے خون سے ملیریا کے جرثو مے مچھر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔یہ جرثومے مچھر کے جسم میںہی نشونما پاتے ہیں اور تقریباً ایک ہفتے بعد جب یہ مادہ کسی تندرست شخص کو کاٹتی ہے تو پلازموڈیم اس شخص کے خون میں شامل ہو جاتے ہیں اس شخص کے جگر میں یہ جرثومے ہفتوں سے مہینوں یا اکثر اوقات سالوں تک نمو پاتے ہیں اورجب ایک خاص تعداد میں جرثومے پیدا ہو جاتے ہیں تو ملیریا کا حملہ شروع ہو جاتا ہے۔ ملیریا کی علامتیں پلازموڈیم کے حامل مچھر کے کاٹنے سے دو سے تین ہفتے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ ابتداء میں سردی، تیزبخار، تھکن، چھینکیں، جسم میں شدید درد، متلی، کھانسی، نزلے جیسی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اوقات جوڑوں میں درد، یرقان، بے ہوشی کے دورے اور پھر ملیریا کے شدید حملے میں اعصابی نظام بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ جلد پر خارش اور سرخ دھبے ملیریا کی خاص نشانیاں شمار کی جاتی ہیں۔ ملیریا کی بیماری ہسپتالوں میں استعمال کی ہوئی سرنج استعمال کرنے اور جراثیم زدہ سامان کے استعمال سے بھی ایک فرد سے دوسرے فرد کے خون میں منتقل ہو سکتی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق ملیریا پھیلانے والے مچھر درحقیقت پروٹوزونز ہوتے ہیں اور ملیریا سے متاثرہ لوگوں کو کاٹنے کے بعد صحت مند لوگوں تک اس بیماری کے جراثیم بھی منتقل کرتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میںہر سال کروڑوں افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈینگی وائرس کا سبب بننے والا مادہ مچھر جسے
Aedes Aegypti
کہتے ہیں پہلی بار 1959 ء میں ایشیائی ممالک میں شناخت کیا گیا پھر یہ وائرس تیزی سے پاکستان، بھارت، افریقہ، مشرقی وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے 100 سے زائد ممالک میں پھیلتا چلا گیا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایشیائی ممالک میں ڈینگی کی بڑھتی ہوئی شرح کی بنیادی وجوہات درجہ حرارت میںاضافہ ، کئی علاقوں میں شدید اور مسلسل بارشیں ، سیلاب کی تباہ کاریاں اور بڑھتی ہوئی گنجان آبادی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اگر ڈینگی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو دنیا کی ایک کثیر آبادی کواس مچھر سے خطرہ لاحق ہے۔


ڈینگی وائرس کا سبب بننے والی مادہ، جس کے جسم پر سیاہ رنگ کی دھاریاں پائی جاتی ہیں، صاف پانی ، پانی کی ٹینکیوں ، گملوں ، نکاسیٔ آب کے راستوں، بارش کے پانی وغیرہ میں انڈے دیتی ہے۔ ڈینگی بخارکی ابتدائی علامات میں شدید بخار، سرمیں درد ، آنکھوں کے ڈھیلے میں شدید درد، بھوک نہ لگنا ، جسم میں درد، پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد شامل ہیں۔ بیماری کی فعال حالت میں مریض کا بلڈپریشر کم اور ہاتھ پیر ٹھنڈے بھی ہو سکتے ہیں۔جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں پر باریک سرخ دانے بن جاتے ہیں۔ اور مریض کے خون میں
Platelets
اور سفیدخُلیات کی کمی ہو جاتی ہے۔ ڈینگی بخار کو بریک بون فیور
بھی کہتے ہیں کیونکہ اس بخار کے دوران مریض کی ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہو جاتا ہے اور پھر مرض کی شدت میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا جاتا ہے، منہ اور ناک سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔
چکن گونیا بھی ڈینگی وائرس کی طرح
(Aedes Aegypti)
نامی مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ جس کی پہلی اور عام علامات میں بہت تیز بخار اور جوڑوں میں درد شامل ہے۔
اگر کوئی عام مچھر چکن گونیا سے متاثرہ کسی مریض کو کاٹ لے تو وہ مچھر بھی چکن گونیا والے وائرس مچھر میں تبدیل ہو کر اس مرض کے پھیلائوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چکن گونیا کی علامات مادہ مچھر کے کاٹنے کے تین سے سات دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور عموماََ مریض مناسب علاج سے ایک ہفتہ میں تندرست ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن کچھ مریضوں میں تقریباََ ایک ماہ تک جوڑوں میں درد کی شکایت برقرار رہتی ہے۔
ملیریا ، ڈینگی اور چکن گونیا کے بعد ایک نیا وائرس ظاہر ہوا ہے جس کو زیکا وائرس کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وائرس بھی
Aedes Aegypti
کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ زیکا وائرس سب سے پہلے 1947 ء میں یوگنڈا کے بندروں میں دریافت کیا گیا تھا اور پہلا انسانی کیس 1954 ء میں نائیجریا میں منظر عام پر آیا۔ زیادہ تر گرم مر طوب علاقوںمیں پائے جانے والے
Aedes Aegypti
نامی مچھر اس وائرس کے پھیلائو کی وجہ ہے۔ یہ مچھر صاف پانی میں پرورش پاتے ہیں اور ان کے جسم پر سیاہ اور سفید نشانات ہوتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق زیکا وائرس میں مبتلا مریض بہت کم موت سے ہمکنار ہوتے ہیں اور تقریباً پانچ میں سے ایک مریض میں اس کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں جن میں آشوبِ چشم، بخار، سردرد، جوڑوں میں درد اور جلد پر سرخ نشانات شامل ہیں۔ زیکا وائرس کے حوالے سے سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ حاملہ عورت کے شکم میں پرورش پانے والے بچوں پر اس کے انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور مائکرو سیفلی نامی بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔ جس سے بچے کے دماغ کی نشونمارک جاتی ہے اور وہ ذہنی اور جسمانی معذوری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔


مچھروں کی مختلف اقسام پوری دنیا میں انتہائی خطرناک اور مہلک بیماریاں پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ جن سے بچائو اور ان کا مکمل علاج فی الوقت موجود نہیں ہے البتہ لوگ احتیاطی تدابیر اپنا کر مچھروں کے کاٹنے سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پانی کی ٹینکی ، ڈرم، پھولدان، گملے کے نیچے رکھے ہوئے برتن اور بوتلوں میں رکھے گئے پودوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں۔ مچھروں سے بچائو کے لئے کھڑکیوں اور دروازوں پر جالی لگوائیں۔ سوتے وقت مچھر دانی استعمال کریں۔ لباس ایسا زیب تن کریں جو مکمل طور پر ڈھکا ہوا ہو۔ لوگ خود احتیاط سے کام لیں کیونکہ صرف احتیاط ہی اس مرض سے بچائو کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم اپنے اردگرد اپنے گھر، پارک، مارکیٹ وغیرہ کے ماحول کو صاف ستھرا اور خشک رکھیں اور کسی بھی قسم کے پانی اور کوڑا کرکٹ کو ہر گز جمع نہ ہونے دیں۔
مچھروں سے ہونے والی بیماریاں موروثی اور وبائی نہیں ہیں۔ ان سے بچائوں کی تدابیر کر کے ہم ان سب بیماریوں کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 32 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter