نوجوان اور پُر تشدد رویے

تحریر: مستنصر کلاسرا

عبدالولی خان یونیورسٹی کے جواں سال طالب علم کی تشدد سے ہلاکت کے پس منظر میں مستنصر کلاسرا کی ایک سروے رپورٹ

مردان کی یونیورسٹی میں ہونے والا واقعہ کسی دل دہلادینے والی داستان سے کم نہیں۔ چند لوگوں نے ایک شخص پر الزام لگایا پھر فیصلہ سنایا اور پھر اُس کی سنگینی کا اندازہ کئے بغیر اس پر عمل بھی کر ڈالا۔ کسی بھی مہذب معاشرے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ ایک روایت بنتی جارہی ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگائے بغیر ہی اپنی من مانی کی جائے۔ اس گھنائونے عمل کا تازہ ترین شکار عبدالولی خان یونیورسٹی مردا ن کا طالب علم مشال بنا یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں مگر بحیثیت ایک پاکستانی شہری میں اُمید کرتا ہوں کہ اس آخری واقعے کو آخری واقعہ بنانے کے لئے ریاست کے تمام ادارے' حکومت اور علمائے کرام اگر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو یہ واقعہ درحقیقت آخری واقعہ بن سکتا ہے۔ اس واقعے کوپیش نظر رکھتے ہوئے مختلف اداروں کے چند طلباء و طالبات سے اُن کے تاثرات لئے گئے اور یہ بھی پوچھا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں نوجوانوں کے تاثرات کچھ یوں تھے۔


نادیہ شاہین
nadiashaeen.jpgمیرے نزدیک یہ واقعہ کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں۔ ہم بحیثیت مسلمان اپنا اچھاتاثر ہر گز پیدا نہیں کررہے۔ جس دن ہم اپنے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرلیں گے اسی دن ہم اپنے معاشرے میں واضح فرق محسوس کریں گے۔ بدقسمتی سے عدم برداشت ہمارے معاشرے کی ایک بہت بڑی بُرائی بنتی جارہی ہے۔ اس برائی کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مشال خان کے واقعے کے بارے میں میںیہ کہوںگی کہ ہم انفرادی طور پر کون ہوتے ہیں کسی کی غلطی کو فوراً جزا اور سزا کی نوبت تک لے کر آجانے والے؟ ہم ایک ملک کے شہری ہیں۔ ہمارے قوانین ہیں۔ ہر چیز کا

ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ اس کو اسی طرح آگے لے کر چلنا چاہئے۔

 


علی ریحان
alirehan.jpgمشال خان والا واقعہ ایک قوم کی حیثیت سے ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اس طرح کے واقعات باہر کی دنیا میں ہمارا بہت برا تاثر دیتے ہیں۔ پہلے ہی بڑی مشکل سے لیکن کامیابی کے ساتھ پاک فوج کی مدد سے ہم دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اب اس طرح کے واقعات اگرہونا شروع ہو جائیں گے تو ہم کس طرح اپنے باقی چیلنجز کا مقابلہ کریں گے؟ میں تو ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ قانون کو کسی بھی صورت ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ مشال خان نے غلطی کی تھی یا نہیں' اس بات سے قطع نظر طالب علم کون ہوتے ہیں کہ وہ اسی وقت الزام لگا کر سزا دے دیں۔ ہمارے ملک میںہر قسم کے قوانین موجود ہیں۔ اگر کوئی کسی غلطی کا مرتکب ہوا بھی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر بندہ جج بن کر خود ہی سزا دے دے۔ جذبات تو ویسے بھی انسان سے غلط فیصلے کرواتے ہیں۔

 


شہزادی طوبیٰ
shazaditoba.jpgمیرے خیال میں جب تک ہم اپنے اپنے فرائض اور حقوق سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہوں گے' ایسے حادثات و واقعات رُونما ہوتے رہیں گے۔ ایک تو پہلے ہی ہم بے روزگاری' ناانصافی اور غربت جیسے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں پھراس طرح کے واقعات ہمارے ملک کے نوجوان طبقے میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ جب ملک کے نوجوان طبقے کے اندر اس طرح کی بے چینی ہوتی ہے تو وہ اپنا غصہ یا بے چینی کسی ایسے کام میں نکالتے ہیںجس کا نتیجہ نہ صرف ان کے اپنے لئے بلکہ پورے ملک کے لئے اچھا نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں ہماری حکومتوں اور برسرِاقتدار لوگوں کو نوجوانوں کے لئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے انہیں یہ احساس ملے کہ ان کا مستقبل روشن ہے تاکہ وہ دل جوئی سے اپنے کام پر ہی توجہ دیں نہ کہ مشال خان والے جیسے کسی اور واقعے کا حصہ بنیں۔

 


قرة العین
qain.jpgاس میںکوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں مذہبی آزادی ہے ہر شخص اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرسکتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے اسلامی معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ہماری اسلامی روایات کا غلط استعمال کرکے ان کا تقدس پامال کرتے ہیں۔ اور پھر اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ اس واقعے میں چندطلباء کا ایک نہتے طالب علم پر الزام لگا کراس پر چڑھ دوڑنا اور پھر فوراً اس کو قتل کردینا' اسلام تو اس چیز کی ہر گز اجازت نہیں دیتا۔ مجھے تو اس واقعے کے محرکات کچھ اور ہی لگتے ہیں۔ اس واقعے کی مکمل جانچ پڑتال کرنے کے ساتھ ساتھ دوبارہ اس طرح کے واقعات کبھی نہ ہونے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

 


طاہر نذیر
tahirnazeer.jpgتعلیم و تربیت دو لفظوں کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کی زندگی بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ان دو الفاظ کو ہم لوگوں نے ایک دوسرے سے اتنا دور کردیا ہے کہ جیسے تعلیم کا تربیت سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ میرے خیال میں ہمارے ملک کے اداروں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت دینے کی بھی بہت ضرورت ہے۔ اچھی تربیت سے ہی انسان کی شخصیت بنتی۔ طالب علموں کی اچھی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام کا بھی کلیدی کردار ہے۔ یہاں پر میں مزید ایک بات کا تذکرہ کرناچاہوں گا کہ ہمارے نوجوانوں کو ان سب باتوں کا خیال رکھنے کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہو رہے؟ کیا کوئی اپنے مقاصد کے لئے ہمیں استعمال تو نہیں کررہا؟ جیسا کہ حالیہ مشال خان کے واقعہ کے بارے میں ایک بات یہ بھی سامنے آئی تھی کہ اس کے یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ساتھ کچھ مسائل بھی چل رہے تھے۔ اس لئے اس واقعہ کے حل کے لئے اور منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اس پہلو کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

 


زینب
zainabkhan.jpgجوبھی معاشرہ تشدد کی طرف جاتا ہے اس کے نتائج ہر گز اچھے نہیں ہوسکتے۔ جب لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر خود ہی فیصلہ سنا کر اس پر عمل کرنا شروع کردیں گے تو اس سے ملکی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوگا۔ عدلیہ ' پولیس اور اس طرح کے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جس سے نہ صرف نوجوانوں میں بلکہ ملک کے ہر شہری میں اعتماد کی فضا پیدا ہو اور شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

 

 

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 269 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter