روہنگیامسلمانوں کاالمیہ اورعالمی برادری کاکردار

تحریر: علی جاوید نقوی

بے گناہ روہنگیامسلمانوں کاخون آخررنگ لے آیا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے جنرل کونسل اجلاس میں روہنگیامسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم کی بازگشت سنی گئی۔دنیا دیرسے جاگی، اگرعالمی برادری ابتدا میں ہی میانمار حکومت پردباؤ ڈالتی توبہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ تاہم اب بھی کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ میانمارکی سرکاری فورسزدوبارہ روہنگیا مسلمانوں کاقتل عام نہ کریں۔

rohangyamuslims.jpg
اقوام متحدہ نے تسلیم کیاہے کہ روہنگیامسلمانوں کی نسل کُشی ہورہی ہے،اُن پر ظلم کی انتہاکردی گئی ہے۔ان کے گھروں اوربستیوں کوآگ لگادی گئی اورانھیں زندہ جلایا گیا۔جوغریب اپنی جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے کی کوشش کر رہے تھے ،انھیں میانمارکی فوج نے قتل کرناشروع کردیا۔ میانمارسے بنگلہ دیش جانے والے راستوں پرجگہ جگہ روہنگیامسلمانوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ انھیں اپنے پیاروں کودفنانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔عالمی برادری نے اس ظلم کے خلاف آوازتوبلندکی ہے لیکن اس میں اتنی شدت نہیں کہ میانمارحکومت اورفوج کو روک سکے۔ہوناتویہ چاہئے تھاکہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں میانمارحکومت کے خلاف عملی اقدامات کئے جاتے، میانمارکی فوج اورحکومت پرپابندیاں لگانے کا اعلان کیا جاتا، تاہم ایسا نہیں ہوا برطانیہ کے مطالبے پرسلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں بندکمرے میں میانمارمسلمانوں کی نسل کشی کے معاملے پر غور کیا گیا۔ پرتشدد واقعات کی مذمت کی گئی اورمیانمارحکومت سے حالات بہتربنانے کا مطالبہ کیاگیا۔تاہم اجلاس میں میانمارحکومت کوکوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ روہنگیا مسلمانوں کی جس طرح نسل کُشی کی جارہی ہے اس کی مثال ملنامشکل ہے۔ اب تک ہزاروں مسلمانوں کوشہید کیاجاچکاہے۔غیرجانب دار میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں بچے، خواتین اوربوڑھے شامل ہیں۔ پاکستان، ترکی،


ایران اور سعودی عرب سمیت مسلم ممالک نے اس ظلم پراحتجاج کیا جس کے بعداقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی خواب غفلت سے بیدار ہوئیں۔
پوری دنیا میں اس ظلم کے خلاف آوازاٹھنی شروع ہوئی۔اقوام متحدہ نے بھی اس ساری صورتحال کوناقابل قبول اورروہنگیامسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے تسلیم کیا کہ ''میانمارکاظالمانہ کریک ڈاؤن روہنگیامسلمانوں کی نسل کُشی کی واضح مثال ہے۔چارلاکھ روہنگیا مسلمان جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے پرمجبورہوگئے ہیں''۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی برائے میانماریانگ ہی لی نے نہ صرف روہنگیائی مسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم پرتشویش کااظہارکیا بلکہ آنگ سان سوچی کوبھی تنقید کانشانہ بنایا۔اسی طرح برطانیہ کے وزیرخارجہ بورس جانسن بھی آنگ سان سوچی سے مسلمانوں پر تشددبندکرنے کی اپیل کرچکے ہیں۔


وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر اور روہنگیامسلمانوں کے لئے آوازاٹھائی، دوسرے کئی عالمی رہنماؤں نے بھی روہنگیامسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کامطالبہ کیا۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے روہنگیامسلمانوں پرہونے والے ظلم اوران کی جبری نقل مکانی کی خبروں پرتشویش کا اظہارکیاہے۔پاکستان نے میانمارحکومت پرزوردیا ہے کہ وہ رخائن کے علاقے میں ہونے والے قتل وغارت کی تفتیش کرائے اورذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ روہنگیامسلمانوں کاتحفظ کرے۔ پاکستان دنیا بھر میں مسلمان اقلیتوں کے تحفظ کامطالبہ کرتاہے اوروہ بین الاقوامی برادری اور بالخصوص اسلامی ممالک کی تنظیم اوآئی سی کے ساتھ مل کرروہنگیامسلمانوں کے تحفظ کے لئے کام کرتارہے گا۔

 

اقوام متحدہ نے تسلیم کیاہے کہ روہنگیامسلمانوں کی نسل کُشی ہورہی ہے،اُن پر ظلم کی انتہاکردی گئی ہے۔ان کے گھروں اوربستیوں کوآگ لگادی گئی اورانھیں زندہ جلایا گیا۔جوغریب اپنی جانیں بچانے کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے کی کوشش کر رہے تھے ،انھیں میانمارکی فوج نے قتل کرناشروع کردیا۔

امن کانوبل انعام حاصل کرنیوالی میانمار کی آنگ سان سوچی سے امید تھی کہ وہ اس ظلم کی مذمت کریں گی اورروہنگیامسلمانوں کے حق میں آواز بلندکریں گی لیکن انہوں نے ظلم کاشکارلوگوں کاساتھ دینے کے بجائے ان کے گھرجلانے اور ان کاقتل عام کرنے والی سرکاری فوج کی حمایت کااعلان کردیا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کاسامناکرنے اوراُن کے سوالوں کاجواب دینے کے بجائے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت ہی نہیں کی۔ آنگ سان سوچی کا خیال ہے کہ اس طرح وہ عالمی برادری کی تنقید سے بچ جائیں گی۔آزاد ذرائع کے مطابق میانمار کی فوج کے سربراہ جنرل من آنگ بلانگ ایک سخت گیراورمسلمانوں کے خلاف تعصب رکھنے والے جنرل ہیں۔ وہ میانمارسے تمام روہنگیا مسلمانوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔ اوروہ اپنے طے شدہ پلان پرعمل کررہے ہیں۔آنگ سان سوچی بھی فوج کے اس عمل میں برابرکی شریک نظرآرہی ہیں۔یہاں تک کہ انہوں نے عالمی میڈیا کوبھی تنقید کانشانہ بنایاہے۔صورتحال یہ ہے کہ عالمی میڈیا کومتاثرہ علاقوں میں جانے اورمتاثرین سے بات چیت کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ابتداء میں چند صحافیوں نے روہنگیامسلمانوں سے ملاقاتیں کیں اوران پر ڈھائے جانے والے مظالم کورپورٹ کیاتو دنیا میں ایک کہرام مچ گیا۔


اسلامی سربراہی تنظیم اوآئی سی نے بھی روہنگیامسلمانوں پرمظالم کی مذمت کی ہے اورمیانمارحکومت سے مطالبہ کیاہے کہ ''روہنگیامسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طورپربندکی جائیں۔ روہنگیامسلمانوں کے خلاف ریاستی تشدد کے بے جا استعمال پر بہت تشویش ہے۔ اس تشدد کو فوری طور پر بند کیا جائے۔'' پاکستان اوربرادر اسلامی ملک ترکی ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے روہنگیامسلمانوں کی حمایت میں آوازبلندکی اوران کے لئے امداد بھی روانہ کی۔پاکستان سے کئی تنظیموں کے نمائندے اپنے ان بے بس بھائیوں کی مدد کے لئے بنگلہ دیش میں قائم کیمپوں میں پہنچے۔ ترکی کی خاتون اول آمینہ اردگان نے ڈھاکہ کے کیمپوں میں ان روہنگیا خواتین کی حالت دیکھی تو وہ آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے روہنگیائی خواتین کوگلے لگا کران سے محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے میانمارفوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی بھی مذمت کی۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اس دورے کے بعد عالمی برادری کی توجہ کے لئے عالمی رہنماؤں کی بیگمات کوخطوط بھی لکھے جن میں روہنگیامسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں بتایاگیاہے اوران مظلوموں کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔ ڈھاکہ کے کیمپوں میں موجود روہنگیامسلمانوں نے بتایاہے کہ ان پرحملہ کرنے والوں میں میانمارکی فوج کے علاوہ رخائن میں بدھ مت کے پیروکارتھے، جنہوں نے ان کے گھروں کوجلایا اوران کے عزیزواقارب کوان کی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے قتل کردیا،کئی خواتین کی آبروریزی بھی کی گئی۔ادھرصورت حال یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت اتنی بڑی تعدادمیں مہاجرین کوپناہ دینے کے معاملے پرپریشان ہے اوربہت سے مہاجرین کوزبردستی واپس میانمار بھیجا جا رہا ہے۔
میانمارجسے برماکے نام سے بھی یادکیاجاتاہے،اُس کے شہررنگون میں برصغیر کے آخری بادشاہ بہادرشاہ ظفرکی قبربھی ہے۔بہادرشاہ ظفرکاانگریزوں کی قیدمیں رنگون میں انتقال ہوا اور انھیںگھر کے احاطے ہی میں سپردخاک کردیا گیا۔ بہادرشاہ ظفر کی قبر کی دیکھ بھال کے حوالے سے بھی میانمار حکومت تعصب کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔

 

امن کانوبل انعام حاصل کرنیوالی میانمار کی آنگ سان سوچی سے امید تھی کہ وہ اس ظلم کی مذمت کریں گی اورروہنگیامسلمانوں کے حق میں آواز بلندکریں گی لیکن انہوں نے ظلم کاشکارلوگوں کاساتھ دینے کے بجائے ان کے گھرجلانے اور ان کاقتل عام کرنے والی سرکاری فوج کی حمایت کااعلان کردیا

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ برماحکومت کے متعصبانہ قوانین کے باعث دس لاکھ روہنگیا مسلمانوں کوشہری حقوق حاصل نہیںاوروہ برمامیںکسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 1982ء میں شہریت کے قوانین میں تبدیلی کرکے برماکی شہریت سے ہی محروم کردیاگیا۔انھیں رہائش،روزگار،تعلیم اورصحت سمیت کوئی بنیادی سہولت حاصل نہیں ہے۔برماحکومت انھیں اپناشہری ہی نہیں سمجھتی اس لئے ان کی فلاح وبہبود کے حوالے سے بھی کوئی انتظام نہیں کیاجاتا۔یہاں تک کہ اگرمقامی بدھ مت کے لوگ ان سے زیادتی کریں توروہنگیائی مسلمان کسی عدالت میں انصاف کے لئے آوازبھی نہیں اٹھاسکتے۔مقامی پولیس بھی اپنے ہم مذہب بدھ مت کے ماننے والوںکاساتھ دیتی ہے۔اس سے زیادہ متعصبانہ رویہ برماکی فوج کا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ انھیں شادی کے لئے بھی حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے اوروہ دو سے زیادہ بچے بھی پیدا نہیں کرسکتے۔انھیں ایک شہرسے دوسرے شہرآنے جانے کے لئے خصوصی اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت رخائن میں رہتی ہے۔جبکہ برمامیں کسی جگہ وہ کوئی جائیداد وغیرہ بھی نہیں خرید سکتے۔ بھارت بھی ان مسلمانوں کی نسل کشی میں برماکی فوج کاساتھ دے رہاہے۔میانمارکی سرحدیں بنگلہ دیش اوربھارت سے بھی ملتی ہیں۔ روہنگیامسلمان اس ظلم وستم سے تنگ آکربنگلہ دیش ہجرت کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش نے عالمی برادری کے دباؤ پرسرحد کے قریب کچھ کیمپ قائم کئے ہیں۔ تاہم بنگلہ دیش کامیانمارحکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ان لوگوں کوواپس لے، یہ بنگلہ دیشی شہری نہیں ہیں۔بھارت روہنگیامسلمانوں کوپناہ دینے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ بھارتی فوج نے بھارت میں داخل ہونے والے ہزاروں مہاجرین کو طاقت کے ذریعے واپس برما بھیج دیاہے۔ بھارتی حکومت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واضح طورپرکہاہے کہ وہ ان مہاجرین کوقبول نہیں کر سکتی، اقوام متحدہ کاچارٹرکہتاہے کہ جب کوئی پناہ گزین کسی ملک میں پناہ کے لئے آتاہے تواسے زبردستی اُس ملک میں واپس نہیں بھیجاجاسکتا۔ان روہنگیا مسلمانوں خصوصاً ان کے بچوں کوایک بہترمستقبل دینے کے لئے عالمی برادری کو فوری اورٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔دس لاکھ مسلمان ہیں جنھیں نہ میانمار اپناشہری تسلیم کررہاہے اورنہ بنگلہ دیش۔وہ دونوں ملکوں کی سرحد پربھٹک رہے ہیں اورہزاروں کھلے سمندرمیں، کشتیوں میں ایک ساحل سے دوسرے ساحل کی طرف دھکیلے جارہے ہیں۔لیکن کوئی انھیں پناہ دینے کے لئے تیارنہیں۔ پاکستان نے ابتداء میں ہزاروں روہنگیامسلمانوں کوپناہ دی۔ اس وقت ایک غیرسرکاری رپورٹ کے مطابق دولاکھ سے زیادہ روہنگیامسلمان کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں موجود ہیں ان میں سے کئی خاندانوں نے پاکستانیوں سے ہی شادیاں بھی کرلی ہیں۔


روہنگیامسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم نے آنگ سان سوچی کی سیاسی ساکھ کونقصان پہنچایاہے۔عالمی برادری میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے کے باعث ان کابڑااحترام تھا لیکن انہوں نے ان مظالم پرخاموشی اختیار کر کے عالمی برادری کاسرشرم سے جھکا دیا ہے،خود ان کی ساکھ بھی متاثرہوئی ہے۔ آنگ سان سوچی نے عالمی میڈیا پرالزام لگادیا کہ وہ غلط پروپیگنڈا کر رہاہے۔


بعض حلقوں کی طرف سے کہا جارہاہے کہ میانمارحکومت کوہمارے دوست ملک چین کی مدد بھی حاصل ہے۔ چین برمامیں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ میانمارحکومت اپنارُخ مغربی ممالک سے چین کی طرف موڑ رہی ہے۔ مغربی ممالک اسی لئے میانمارحکومت کو دباؤ میں لاناچاہتے ہیں۔ ہوسکتاہے اس دلیل میں کچھ وزن ہو۔لیکن اس وقت اصل اوربنیادی مسئلہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کاہے۔انھیں بچانے کے لئے عالمی برادری کواپناعملی کردار ادا کرناہوگا۔ روہنگیا مسلمانوں کامسئلہ خود برما حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کی سنگین غلطیوں اور متعصبانہ اقدامات کے باعث پیداہوا۔ اسے اس تناظرمیں نہیں دیکھناچاہئے کہ روہنگیا مسلمانوں کی مددکرنے سے پاکستان کے کسی دوست ملک سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ریاست رخائن میں 2012ء میں بھی فسادات ہوچکے ہیں جن میں ایک لاکھ روہنگیامسلمان بے گھرہو گئے تھے اورہزاروں مارے گئے۔ رخائن میں ایک تنظیم ''آراکان روہنگیاسیلویشن آرمی'' اے آرایس اے کام کررہی ہے۔ اس تنظیم کومیانمارحکومت نے دہشت گرد تنطیم قراردیاہواہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ اس تنظیم کے کارکن مسلمانوں کے علاقوں میں پناہ لیتے ہیں۔ اس تنظیم کے ارکان کی تعداد چند درجن سے زیادہ نہیں۔ لیکن اس تنظیم کی آڑمیں برما حکومت نے روہنگیامسلمانوں پرظلم وستم کی انتہاکردی ہے۔ برماحکومت نے عالمی میڈیا کے متاثرہ علاقوں میں جانے پرپابندی لگائی ہوئی ہے،بہت سے میڈیا نمائندوں کوائیرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا ہے، کئی کوبعدمیں ڈیپورٹ کردیا گیا۔ میانمارمسلمانوں پرظلم وستم کی جوتصویریں آرہی ہیں وہ زیادہ ترسوشل میڈیا کے ذریعے آرہی ہیں۔


روہنگیامسلمانوں کامسئلہ اسی صورت میں حل ہوگا کہ روہنگیامسلمانوں سے ہمدردی رکھنے والے ممالک میانمارحکومت پرپابندیاں لگانے کے لئے عملی اقدامات کریں اورمیانمارحکومت کومجبورکریں کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین کاخاتمہ کرے اورانھیں بنیادی شہری حقوق دے کربرابرکاشہری تسلیم کرے۔اگرمیانمارحکومت یہ سب اقدامات نہیں کرتی تویہ مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی برادری کے دباؤ پربرماکی فوج اورپولیس چند دنوں کے لئے ظالمانہ آپریشن روک دے گی لیکن جونہی عالمی برادری کادباؤ کم ہوگا وہ دوبارہ سے روہنگیامسلمانوں کورخائن سے نکالنے کاکام شروع کردے گی۔ اس مسئلے کامؤثر اورپائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اوآئی سی کوبھی صرف مذمتی بیانات جاری کرنے کے بجائے اپناعملی کردار ادا کرناچاہئے۔او آئی سی کی جانب سے میانمارحکومت کاتجارتی واقتصادی بائیکاٹ بھی اس پردباؤ ڈالنے کا ایک آپشن ہوسکتا ہے۔دوسری طرف مہاجرکیمپوں میں رہنے والے غریب وبے کس روہنگیامسلمانوں کے لئے امدادی کارروائیاں بھی تیزکرنے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 233 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter