جی۔ ٹونٹی 2017ء اور پاکستان

Published in Hilal Urdu

تحریر: حماس حمید چودھری

جرمنی کے شہر ' ہیمبرگ' میں جی ۔20 ممالک کا بارہواں سربراہی اجلاس رواں سال جولائی میں منعقد ہوا جس کی جرمنی نے پہلی بار میزبانی کی۔ اس وقت جی۔ٹونٹی گروپ کے 20 ممالک جبکہ یورپی یونین بحیثیت ادارہ بیسواں رکن ہے۔ اس کے علاوہ چند ممالک جن میں نیدرلینڈز ، اسپین، سنگاپور وغیرہ شامل ہیں، ان کو بھی باقاعدہ مدعو کیا جاتا ہے۔ اس اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان کے ساتھ ساتھ وزراء برائے مالیاتی امور اور ان ممالک کے سینٹرل بینکوں کے گورنرز نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف ، افریقی یونین اور عالمی بینک کے سربراہان سمیت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر عالمی اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔


اگر اس گروپ کے تاریخی پہلوکا جائزہ لیا جائے تو دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی تعاون بڑھانے کے لئے اٹھائے گئے اقدام میں یہ تازہ ترین قدم ہے جس کی بنیاد جون 1999ء میں جی۔سیون گروپ کو مزید وسعت دینے کے لئے رکھی گئی ۔ اس گروپ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ تنظیم کا درجہ نہیں رکھتا اور دیگر عالمی اداروں کی طرح اس کا کوئی باقاعدہ دفتر اور عہدیداران نہیں ہیں بلکہ اس کا ایک چیئرپرسن ہے جو آج کل جرمن چانسلر، انجیلا مرکل، ہیں۔ کچھ مخصوص حلقوں نے جی ٹونٹی کی جانب سے فرانس میں موجود او۔ای۔سی۔ڈی کے ہیڈ کوارٹرز کو بطور سکریٹریٹ استعمال کرنے پر اعتراض بھی اٹھایا ہے ۔ ان تمام تر مسائل اور غیر رسمی حیثیت کے باوجود جی۔ٹونٹی گزشتہ چند سالوں کے دوران ایک مؤثر معاشی تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے حیران کن طور پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جی۔ٹونٹی کے ابتدائی اجلاسوں میں صرف رکن ممالک کے مالی امور کے وزراء اور مرکزی بینکوں کے گورنرز ہی حصہ لیتے تھے لیکن 2008ء میں امریکی کارپوریشن لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونے سے عالمی منڈی مالیاتی بحران کا شکار ہو گئی جس کے باعث جی۔ٹونٹی کی اہمیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور دنیا کی معاشی طاقتوں نے اس بحران، اور مستقبل کے ممکنہ بحرانوں، سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

gtwentygermany.jpg
ہیمبرگ کا اجلاس اسی معاشی تعاون کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ 2017ء کا یہ اجلاس اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس وقت دہشت گردی اور مختلف خطوں کی غیر مستحکم سیاسی و معاشی صورتحال کے باعث پوری دنیا ایک غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ اسی لئے معاشی ترقی اور بین الاقوامی تجارت کے ساتھ ساتھ شامی پناہ گزینوں کا مسئلہ ،یورپ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کارروائیاں، صحت اور ماحول کے مسائل بھی اجلاس کے ایجنڈا میں شامل تھے۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی سمگلنگ ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور صرف لیبیا میں پچھلے سال اس مد میں تقریباََ 2 ارب ڈالر کمائے جاچکے ہیں اور یہ پیسہ دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ سربراہی اجلاس سے قبل برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ہمیں انتہا پسند نظریات کو ختم کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لئے ہمیں ایسے عناصر کی مالی امداد بند کرنا ہوگی۔ اس امر کے لئے انہوں نے دنیا بھر کے سرکاری اور نجی سیکٹرز کو مشکوک مالی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اجلاس کے دوران تمام سربراہان سے اس سلسلے میں انفرادی طور پر با ت کریں گی۔ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد پہلی بار روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن سے مصافحہ کیا اور یہ بات اس لئے اہم ہے کیونکہ امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ ان کے الیکشن جیتنے میں امریکہ کے روایتی حریف روس کے سائبر سیل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔


اجلاس میں شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کو دنیا کے لئے خطرہ قرار دیا گیا اور رکن ممالک کو شمالی کوریا پر معاشی پابندیاں لگانے کے لئے کہا لیکن اس موقع پر چین کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے اور ہمسایہ ممالک کے لئے کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث جنم لینے والے مسائل اور مستقبل میں اس کے ممکنہ خطرات کی سنگینی پر بھی روشنی ڈالی گئی اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرے لیکن اس سلسلے میں امریکہ نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان بھی پیرس معاہدے کا حصہ ہے اور پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس معاہدے کی پاسداری کرے گا اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے گا۔


جی ۔ٹونٹی اجلاس کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریند ر مودی ایک مخصوص پراپیگنڈہ پر عمل پیرا دکھائی دیئے۔جی ٹونٹی گروپ کا پاکستان سے بظاہر براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود نریندر مودی مختلف موقعوں پر پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرتے نظر آئے۔اجلاس کے دوران ایک موقع پر انہوں نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کا داعش اور القاعدہ کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک ایسے ہیں جو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کوہتھیار کے طور پر دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور دنیا کو ایسے ممالک کے خلاف اجتماعی اور سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ نریندر مودی کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا کیونکہ روزِاول سے بھارت لشکر طیبہ اور جیش محمد کی سرپرستی کا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے اور بھارت اپنے ملک میں ہونے والی تمام تر دہشت گرد کارروائیوں کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی ذمہ داری پاکستان پر تھوپ دیتا ہے۔ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں تیز کرنے کے لئے اپنا 11 نکاتی ایجنڈہ بھی پیش کر دیا۔ ان نکات میں سے ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ ایسے ممالک کا جی۔ٹونٹی میں داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا جائے اور یہاں بھی ان کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا کیونکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے اور گیلپ کے مطابق 2030ء تک پاکستان دنیا کی ٹاپ ٹونٹی معاشی طاقتوں میں سے ایک ہوگا اور بھارت کو اسی بات کا خوف ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران نریندر مودی کی مرکزی توجہ دہشت گردی کے مسئلے پر ہی تھی اور جرمن چانسلر سے انفرادی ملاقات کے دوران بھی انہوں نے اس مسئلے کو اٹھایا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سربراہی اجلاس کے دوران نریندر مودی کی صرف یہی کوشش تھی کہ رکن ممالک کا دھیان کشمیر میں جاری بھارتی سفاکیت کی جانب مبذول نہ ہو اور کشمیریوں کی جانب سے آزادی کے لئے جاری مزاحمت کو دہشت گردی کا رنگ دے کر دنیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جائے۔


جب سے نریندر مودی نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا ہے، بھارت کی خارجہ پالیسی کی ترجیح پاکستان کو غیر مستحکم اور عالمی برادری میں تنہائی کا شکار کرنا ہے جو کہ اس اجلاس میں واضح طور پر محسوس ہوا ۔اگرچہ پاکستان ابھی تک عالمی برادری میں اپنا کیس مؤثر انداز میں نہیں لڑ سکا لیکن اس کے باوجود بھارت اپنے ناپاک عزائم میں ابھی تک کامیاب بھی نہیں ہو سکا۔بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود پاکستان میں سی پیک کے منصوبے کا آغاز ہوا جو کہ کامیابی سے جاری ہے۔سی پیک بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اس کی کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کرسکے لیکن پاک فوج اس کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے۔پاک فوج نے سی پیک کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہوئی ہے اور اب تک نہایت احسن انداز میں اس ذمہ داری کو پورا کر رہی ہے۔


ایک بات غور طلب ہے کہ پاکستان جی۔ٹونٹی کے بہت سے ممالک کی طرح معاشی طور پر ابھرتی ہوئی ایک طاقت ہے لیکن اس کے باوجود ہم جی ٹونٹی کا حصہ نہیں۔ اگر میکسیکو جو کہ جی ۔ٹونٹی کا ایک مستقل رکن ہے اس کا موازنہ پاکستان سے کیا جائے تو میکسیکو میں پاکستان کی نسبت چالیس فیصد زیادہ غربت ہے اس کے علاوہ اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو میں جرائم کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جس کے باعث وہاں لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ ان تمام تر خرابیوں کے باوجود آج میکسیکو جی ۔ٹونٹی کا مستقل حصہ ہے جبکہ پاکستان نہیں۔ اس کی اہم وجہ ہماری کمزور اور غیر مستحکم پالیسیاں ہے۔ اگر آج ہم جی ۔ٹونٹی گروپ کا حصہ ہوتے تو بہتر اور مؤثر انداز میں بھارتی پراپیگنڈہ کا جواب دیں سکتے لیکن بد قسمتی سے ہماری اس سربراہی اجلاس میں کوئی نما ئندگی ہی نہیں تھی۔


سی پیک اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان جی۔ٹونٹی گروپ میں جگہ بنا لے گا لیکن ایک بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی افواج سی پیک کو بحفاظت تکمیل کے مرحلے تک تو پہنچا دیں گی لیکن جب عالمی برادری میں کیس لڑنے کا وقت آئے گا تو یہ سویلین حکومت کے لئے امتحان ہوگا کہ وہ کس انداز میں عالمی برادری کے سامنے اپنا کیس پیش کرتی ہے۔ پاکستان کے پاس تمام وسائل موجود ہیں جو کہ اسے دنیا کی بڑی معاشی طاقت بنانے کے لئے کافی ہیں لیکن ان کا مؤثر استعمال بہت ضروری ہے۔ عالمی حالات اس وقت ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں اور پاکستان کے پاس مزید کسی غلطی کی گنجائش نہیںہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ نہ صرف اندرونی بلکہ عالمی حالات میں بہتری کے لئے کردار ادا کرے تاکہ عالمی برادری کو اندازہ ہو سکے کہ پاکستان ایک دہشتگرد ریاست نہیں بلکہ ایک امن پسند ملک ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بلوچستان سمیت پورے ملک میں جو دہشتگردی کی کارروائیاں کر وا رہا ہے پاکستان کو چاہئے کہ اس کے ثبوت عالمی عدالت میں پیش کرے تاکہ بھارت کا مکار چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوسکے۔

مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 223 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter