ایٹمی ہتھیاروں کا مسئلہ

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخان

شمالی کوریا کی طرف سے 3ستمبر کو ہائیڈروجن بم اور اس سے قبل اوائل اگست میں بیلسٹک میزائل کے تجربات کے خلاف رد عمل کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کے خلاف بھاری اقتصادی پابندیوں کے حق میں قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے تحت شمالی کوریا کو تیل اور گیس کی فراہمی اور اس کی ٹیکسٹائل برآمدات پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ ان سے کہیں زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنا چاہتا تھا جن میں تیل اور گیس کی درآمدات پر مکمل پابندی، شمالی کوریا اور اس کے لیڈر کم جونگ کے اثاثوں کو منجمد کرنا شامل تھا۔ مگر چین اور روس نے ان پابندیوں کی مخالفت کی تھی اور سلامتی کونسل میں اس کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم امریکہ کی طرف سے پابندیوں میں نرمی پر آمادگی کے بعد نئی قرارداد منظور کر لی گئی۔ مبصرین کے مطابق نئی قرارداد میں بھی جن پابندیوں کی سفارش کی گئی ہے، کافی سخت ہیں اور وہ شمالی کوریا کی معیشت کو کافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس سے قبل بھی سلامتی کونسل شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کی منظوری دے چکی ہے۔ یہ پابندیاں اوائل اگست میں شمالی کوریا کی طرف سے دور تک مار کرنے والے میزائل ٹیسٹ کے جواب میں عائد کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کی تین اہم برآمدات یعنی کوئلہ، خام لوہا اور سی فوڈ
(Sea Food)
کی خریداری کی بندش بھی شامل تھی۔
اگرچہ شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات اور میزائل کی تیاریوں پر مشرق بعید کے دیگر ممالک خصوصاً جاپان اور جنوبی کوریا کو بھی شدید تشویش لاحق ہے۔ مگر کوریا کا مسئلہ بنیادی طور پر امریکہ اور شمالی کوریا کے گرد گھومتا ہے۔ اس مسئلے کی کیا نوعیت ہے؟ کیا اس کا باعث صرف شمالی کوریا کا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام ہے۔ یا اسے پیدا کرنے اور اسے سنگین بنانے میں امریکہ کا بھی ہاتھ ہے؟ ان دونوں ممالک کے مفادات کے علاوہ اور کون سے جیوسٹریٹجک اور سیاسی عوامل ہیں جو اس مسئلے کے ایک مستقل اور تسلی بخش حل کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق الٹنا پڑیں گے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مسئلہ کب شروع ہوا؟ کیسے شروع ہوا؟ اور موجودہ مرحلے پر کیسے پہنچا؟


اگر ہم نقشے میں جزیرہ نما کوریا اور اس کے گردونواح میں واقع علاقوں پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ جاپان اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان بہت کم فاصلہ ہے۔ اسی لئے جزیرہ نما کوریا کو ایک ایسے خنجر سے تشبیہہ دی جاتی ہے جس کا رخ جاپان کی طرف ہے۔ ماضی قدیم میں ایشیا سے جاپان پر جتنے بھی حملے ہوئے یا آبادی کی نقل مکانی ہوئی۔ وہ جزیرہ نما کوریا کے راستے ہی ہوئی۔ حتیٰ کہ بدھ مت بھی جاپان میں ایشیا (چین) سے جزیرہ نما کوریا کے راستے ہی سے داخل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور جاپان نے اس میں شرکت کا اعلان کیا تو اس کا سب سے پہلا اقدام جزیرہ نما کوریا پر قبضہ تھا۔ جنگ ہارنے کے بعد دوسری جنگ میں امریکہ اور سابقہ سوویت یونین نے جزیرہ نما کوریا کو جاپانی فوج سے آزاد کروا لیا۔ لیکن متوازی خط الاستوا کے ساتھ ساتھ دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ یہیں سے جزیرہ نما کوریا اور اس کے باشندوں پر دور ابتلاء کا آغاز ہوتاہے۔ کیونکہ جنگ کے بعد شمالی حصے میں سابقہ سوویت یونین کے زیراثر ایک کمیونسٹ حکومت قائم کر دی گئی اور جنوبی حصے میں امریکہ نے اپنا قبضہ مستحکم کر کے ایک الگ حکومت قائم کر دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی افواج جنوبی حصے میں متعین کر دیں۔ یوں جزیرہ نما کوریا جو جنگ عظیم دوئم سے قبل ایک ہی ملک تھا، دو ممالک یعنی شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں منقسم ہو گیا۔ اسی تقسیم کی وجہ سے 1951میں کوریا کی جنگ چھڑ گئی۔ جو دو سال تک جاری رہی۔ اس میں اگرچہ اقوام متحدہ کی کمان کے تحت متعدد ملکوں کے فوجی دستوں نے جنوبی کوریا پر شمالی کوریا کے حملے کے خلاف حصہ لیا تھا لیکن 90فیصد فوجیں امریکہ کی تھیں۔ اسی لئے شروع سے ہی شمالی کوریا کی نظر میں امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو اس کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور کوریا کے دو حصوں کو دوبارہ ایک کرنے کے خلاف ہے۔ 1953 میں جب کوریا کی جنگ بند کرنے پر فریقین رضا مند ہوئے تو جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان مستقل معاہدہ امن کی بجائے عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اس کی وجہ یہ تھی کہ شمالی کوریا، کوریا کی تقسیم کو غیرفطری اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ سمجھتا ہے۔ جسے امریکہ نے بحرالکاہل میں اپنے اور اپنے اتحادی ممالک خصوصاً جاپان کے مفادات کے تحفظ کے لئے کوریا کے عوام پر زبردستی ٹھونس رکھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں کوریا کی وجہ سے مشرق بعید میں حالات سخت کشیدہ رہے کیونکہ امریکہ نے جنوبی کوریا کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کر رکھا تھا جہاں ایٹمی ہتھیار بھی موجود تھے۔ جنوبی کوریا میں امریکہ ایٹمی اور غیرایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہزاروں کی تعداد میں اپنی افواج کی موجودگی کو شمالی کوریا کی طرف سے کسی ممکنہ حملے کو روکنے کے لئے ضروری سمجھتا تھا۔ مگر شمالی کوریا کے لئے یہ ایک کھلی اشتعال انگیزی تھی۔ اس کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں حالات سخت کشیدہ رہے۔ کیونکہ شمالی کوریا کو روس اور چین دونوں کی حمایت حاصل تھی لیکن 1990کی دہائی کے اوائل میں سابقہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور دو سپر طاقتوں کے درمیان سردجنگ کے خاتمے سے شمالی کوریا کے لئے ایک بالکل نئے اور مشکل دور کا آغاز ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سویت یونین شمالی کوریا کا واحد سہارا تھا اس کے حصے بخرے ہونے کے بعد اس کی جگہ جو نیا ملک یعنی روس ابھرا اس نے شمالی کوریا کا ساتھ دینے یا کسی قسم کی امداد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ سابقہ سوویت یونین دور میں شمالی کوریا کے ساتھ تعاون، دوستی اور باہمی امداد کے لئے جو معاہدہ تھا، نئے ملک روس نے اس میں توسیع کرنے سے انکار رکر دیا بلکہ تین سال بعد اس معاہدے کو منسوخ کر دیا۔ سوویت یونین کا خاتمہ شمالی کوریا کے لئے ایک سخت دھچکا تھا۔ اس نے چین سے رابطہ قائم کر کے اس سے امداد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن چین جس کے ساتھ شمالی کوریا کی 1300کلومیٹر لمبی سرحد ملتی ہے بڑے پیمانے پر شمالی کوریا کو امداد فراہم کرنے سے قاصر تھا۔ اسی دوران جنوبی کوریا نے نہ صرف زبردست اقتصادی ترقی کی بلکہ جاپان، امریکہ اور دُنیا کے دیگر ممالک کے علاوہ خود چین نے بھی اس کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات قائم کر لئے۔ اس کے مقابلے میں روس کا واحد سہارا چھن جانے کے بعد شمالی کوریا کی معیشت خصوصاً زراعت اور صنعت بری طرح متاثر ہوئی اور لوگوں کا معیار زندگی گرنے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کو امریکہ کی طرف سے معاندانہ بلکہ جارحانہ رویے کا سامنا تھا جس نے جنوبی کوریا میں اپنی فوجی قوت کو بڑھا کر شمالی کوریا کے لئے ایک واضح خطرے کی صورت پیدا کر دی تھی۔ مبصرین کے مطابق شمالی کوریا نے مایوس ہو کر ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے اس نے سب سے پہلے جوہری ہتھیار کے عدم پھیلائو کے معاہدے یعنی
NPT
سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جب امریکہ کو شمالی کوریا کی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا پتہ چلا تو اس نے چین کے ذریعے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ چین خود بھی جزیرہ نما کوریا میں ایٹمی اسلحے کی دوڑ کے خلاف تھا۔ اس لئے اس نے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو روک دینے کی درخواست کی اور اس کے ساتھ امریکہ کو بھی کہا کہ وہ شمالی کوریا کی سلامتی کو لاحق خطرات دور کرنے کے لئے اقدامات کرے جن میں سرفہرست جنوبی کوریا میں اسلحے کے انبار لگانے اور بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کرنے سے اجتناب تھا لیکن اس معاملے میں جب امریکہ نے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا بلکہ شمالی کوریا کو حملے کی دھمکی دیتا رہاتو شمالی کوریا نے ایٹمی تجربات کا اعلان کر دیا اور 2005 میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ اس کے بعد امریکہ نے شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت میں نہ صرف زیادہ دلچسپی ظاہر کرنا شروع کر دی بلکہ اس کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا۔ ابتداء میں یہ مذاکرات چین کے توسط سے شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان تھے لیکن بعد میں جاپان، جنوبی کوریا اور روس کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ امریکہ کے صدر جمی کارٹر کی کوششوں سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کے تحت شمالی کوریا نے اپنے زیرتعمیر دو ایٹمی ری ایکٹر بند کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس کے بدلے امریکہ نے شمالی کوریا کو ایٹمی قوت کے پرامن استعمال کے لئے 1000میگاواٹ کے دو ہلکے پانی کے ری ایکٹر اور ہر سال 50,000ٹن تیل دینے کا وعدہ کیا مگر اسی دوران امریکہ میں ڈیموکرٹیک پارٹی کے صدر کارٹر کی جگہ ری پبلکن پارٹی کے صدر ڈونلڈ ریگن نے حکومت سنبھال لی۔ ریگن انتظامیہ کی تمام تر توجہ افغانستان پر تھی۔ اسی لئے شمالی کوریا کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ جواب میں شمالی کوریا نے بھی اپنے ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر جاری رکھی۔ تاہم بل کلنٹن کے زمانے میں امریکہ اور شمالی کوریا ایک دفعہ پھر معاہدے کے قریب پہنچ گئے۔ کلنٹن انتظامیہ کی دوسری مدت کے آخری سال یعنی 2000 میں سیکرٹری آف سٹیٹ میڈلین البرائٹ نے شمالی کوریا کا دورہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے شمالی کوریا کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ کلنٹن کے شمالی کوریا اور شمالی کوریا کے لیڈر کم اِل سونگ کے امریکہ کے دورے کی بات چیت بھی چل رہی تھی۔ لیکن بش کے برسراقتدار آنے سے حالات یکسر بدل گئے۔ کیونکہ بش نے 2002میں اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں شمالی کوریا کو ایران، عراق کے ساتھ جوڑکے تینوں ممالک کو ایکسز آف ایول
(Axis of Evil)
قرار دے دیا۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور اول الذکر کی طرف سے چھٹا ہائیڈروجن بم کا دھماکہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے شکوک و شبہات اور عدم اعتماد اس عمل کی پیداوار ہے جس میں امریکہ شمالی کوریا کے سکیورٹی کے متعلق جائز خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سلامتی کونسل نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے سخت پابندیاں تو عائد کر دی ہیں لیکن ان سے کوریا کا ایٹمی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ کیونکہ جیسا کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ پابندیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مرغِ چمن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن
برگِ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی بادِ صبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن
حسنِ بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لئے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بَن؟
اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!
مَن کی دُنیا؟ مَن کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق
تن کی دنیا؟ تن کی دنیا سُود و سَودا مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تَن کی دولت چھائوں ہے! آتا ہے دھن، جاتاہے دھن!
مَن کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
مَن کی دنیا میں نہ دیکھے میںنے شیخ و برہمن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ مَن تیرا، نہ تَن!

علامہ محمداقبال

*****

 
Read 94 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter