ثمرخان: قومی سائیکلسٹ

Published in Hilal Urdu

انٹرویو : صبا زیب


مشکلات کا مقابلہ کر کے ہی کامیابی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔

جن کے حوصلے چٹان ہوں انہیں دنیا کی کوئی طاقت اپنے عزائم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ مشکلات ان سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ تو ہو سکتی ہیں مگر انہیں منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتیں۔
ثمرخان بھی پاکستان کا ایک ایسا ہی چمکتا ستارہ ہے جو دیر کے علاقے سے طلوع ہوا اور نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔ مختلف چوٹیوں کو اپنی سائیکل کے پیڈل سے سر کرتے ہوئے اس نے بہت سے ریکارڈ بنائے۔ وہ زندگی کو مسخر کرنا چاہتی ہے۔ فاصلے اس کی نگاہِ شوق کے سامنے سمٹ سے گئے ہیں۔ پہاڑوں میں پلنے والی یہ لڑکی زندگی کو فتح کرنے کا راز جان چکی ہے۔

samarkhan.jpg
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی


ثمر خان نے ایبٹ آباد آرمی پبلک سکول سے پیراگلائیڈنگ کا کورس کرنے کے بعد سپورٹس کی طرف توجہ دینی شروع کی۔ پہلی بار 2015 میں اسلام آباد سے قراقرم گلیشیئر تک سائیکلنگ کا سفر پندرہ دن میںطے کیا۔ 2016 میں اپنی ایک دوست کے ساتھ اسلام آباد سے درہ خنجراب تک سائیکل پر سفر کیا۔ ثمر خان کے لئے یہ ایک ایسا بریک تھرو تھا جس کی وجہ سے اس نے شہرت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔ غیرملکی میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا پرزبردست پذیرائی ملی۔ اس سفر نے ثمر کے خوف کو بالکل ختم کر دیا اور وہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو گئی۔ ان چیلنجز میں سے ایک بیافو گلیشیئر پر سائیکلنگ تھی۔ اس گلیشیئر پر سائیکلنگ کا مقصد دنیا کو پاکستان کے گلیشیئرز کی طرف متوجہ کرنا تھا جو
Climate Change
کی وجہ سے خطرے کی زد میں ہیں۔
26سالہ ثمرخان ایک نوجوان خاتون سائیکلسٹ ہے جسے اس ملک میں سائیکلنگ کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتداء میں گھر والوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ثمر خان اپنے ارادوں میں مضبوط تھی۔ اس نے اپنے گھر والوں کو اپنی حفاظت کا یقین دلانے کے لئے مارشل آرٹ میں مہارت حاصل کی تاکہ دورانِ سفر کسی بھی خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ جب وہ سڑک پر سائیکل لے کر نکلی تو جہاں کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی وہاں بہت سے لوگوں نے اس کی ہمت بھی بندھائی۔ چائنیز سے مشابہت رکھنے کی وجہ سے اکثر راہ چلتے لوگ
Long Live Pak China Friendship
کے نعرے لگاتے اور اسے کھانے پینے کی چیزیں بھی فراہم کرتے۔
ثمرخان کہتی ہیں کہ میں نے جب سائیکلنگ شروع کی تو شروع شروع کی مشکلات کی بناء پر میں کچھ مایوسی کا شکار تھی لیکن میں نے پُرعزم رہتے ہوئے کامیابیاں سمیٹیں۔ اپنے اس سائیکلنگ کے شوق کی بدولت ہی مجھے اندازہ ہوا کہ میرے اندر کتنی ہمت اور حوصلہ ہے۔

samarkhan1.jpg
ثمرخان کا کہنا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوپاتا کہ ہم میں مشکلات کا سامنا کرنے کی کتنی طاقت ہے۔ دنیا کا شاید ہی ایسا کوئی کام ہو جو ہم نہ کر سکیں۔ ابتداء میں ثمر خان کو پکی سڑک پر سائیکل چلانے کا خوف تھا۔ ٹریفک میں سائیکل چلانا اس کے لئے کافی مشکل تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ اس نے اس خوف پر قابو پالیا۔ سائیکلنگ کے دوران سخت موسم کو برداشت کرنا بھی اس کے لئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ بعض علاقوں میں شدید گرمی اور بعض علاقوں میں شدید سردی۔ ان سب مشکلات کو برداشت کر کے ہی وہ آج اس قابل ہوئی کہ افریقہ کی بلند ترین چوٹی کو سائیکل کے ذریعے سَر کرنے کا ارادہ کیا۔


ثمرخان نے اپنی تعلیم راولپنڈی میں حاصل کی وہ اپنی کلاس میں ہمیشہ ٹاپ پر رہیں۔ گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے گریجویشن کرنے کے بعد فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے فزکس میں ماسٹرز کیا۔ان کی والدہ کوخاندان والوں کی وجہ سے ثمر کی سائیکلنگ پر تھوڑا اعتراض تھا لیکن ثمر خان کی ہر
Achievement
پرجب خاندان نے انہیں سراہنا شروع کیا تو آہستہ آہستہ ان کا اعتماد بحال ہوا۔ اب وہ لوگوں کی باتوں کی زیادہ پروا نہیں کرتیں۔ انہیں ثمر خان کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔
ثمرخان کا بھائی انیل خان ہر موقع پر اسے سپورٹ کرنے کے لئے اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ ثمرخان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کا سپورٹس میں حصہ لینا اچھا نہیںسمجھا جاتا خاص طور پر ایڈونچر سپورٹس کو تو بالکل بھی
Encourage
نہیں کیا جاتا۔ والدین بھی اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ میں اپنی
Long Distance Cycling
میں سب کو شامل ہونے کی دعوت دیتی ہوں لیکن بمشکل چند خواتین کو اجازت ملتی ہے۔ ثمرخان کہتی ہیں کہ میں سائیکل زیادہ سے زیادہ چلانے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ یہاں لوگوں کو لڑکیوں کو سائیکل پر دیکھنے کی عادت پڑے۔ان کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں کو چاہئے کہ وہ خواتین کو سپورٹس میں خاص طور پر ایڈونچر سپورٹس میں آگے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ثمرخان اب افریقہ کی بلند ترین چوٹی
Mount Kilimanjaro
کو سر کرنے کی خواہش مند ہیں۔ اس سلسلے میں وہ ڈی جی۔ آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سے بھی ملیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کی نوجوانوں میں' خاص طورپر خواتین میں' کھیلوں کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا اور ان کی آنے والی مہم پر انہیں بھرپور معاونت کی یقین دہانی کروائی۔

 
Read 114 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter