حق کا مال تھا ۔حق ادا کرگیا

تحریر: حمیرا شہباز


12 پنجاب کے شہدا ء کی فہرست میرے ہاتھ میں تھی ۔ ان سب سے نسبت کا ایک مشترکہ پہلو تو تھا ہی لیکن جب اس فہرست پر تفصیلی نظر دوڑائی تو نگاہِ انتخاب برگزید ئہ الٰہی ،شہید حق نواز کے نام کے آگے لکھے اس کے گھر کے پتے پر جا ٹھہری، ''تحصیل میاں چنوں!''مجھے اپنی بے خبری پر افسوس ہوا کہ یہ شہید تو میرا گرائیں ہے ۔میرا فخر ہے دوسرے تمام شہیدوں کی طرح۔


ضلع خانیوال کے شہر میاں چنوں کی ایک نام نہاد تقسیم اس کی ریلوے لائن کی مناسبت سے ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے اِس طرف نسبتاً ترقی یافتہ علاقہ ہے اس پار کی دنیاکو ہم بچپن سے ''ٹیشن پار''یا''لینوں پار''کہتے اور سنتے آئے تھے جس کو ہم اپنی دانست میں پسماندہ بھی تصور کرتے تھے ۔ شہید حق نواز کی معروفیت کی امید پراس کے گھر کی کھوج نہایت روایتی طریقے سے لگائی گئی ۔ غوثیہ مسجد میں جب پوچھا گیا کہ کوئی شہید حق نواز کو جانتا ہے تو امام صاحب اسی کے چک کے نکلے اور وہ چک تھا ٹیشن پار کا ۔ ہماری کوتاہ نظری میں یکدم ٹیشن پار کا خطہ ہمدوشِ ثریا ہو گیا۔


گاڑی (ہماری کار ، نہ کہ ریل گاڑی)ریلوے پھاٹک کو عبور کر کے لائنوں پاروہاڑی جانے والی رہگزر پر رواں تھی۔ چک
126/15 ،ایل
کے سٹاپ نمبر 3 اور جنڈیالی 16جیسے مقامات سے گزرتے، کہیں کھیت کھلیان اور اینٹوں کے بھٹے، توکہیں راستے میںپڑتے چھوٹے چھوٹے بازاروں سے گزر کر گاڑی آگے بڑھتی رہی۔ سر راہ پڑتے بسم اللہ کتاب گھر، فاروق ٹینٹ سروس، جدہ ٹائل اسٹور، ڈوگر زرعی انڈسٹریز، غوث پاک فرنیچر جیسے تجارتی مراکز بازاروں کی رونق بڑھا رہے تھے۔ مٹی کے برتنوں کی ریڑھیاں، دکانوں پہ پڑی چھابیاں، جھاڑو، سٹیل کے ڈول، بان کی گانٹھیں، تربوزوں کے ڈھیر میرے اندر کے خریدار کو اکسا رہے تھے۔لیکن چشم خریدار تو گوہر جاں ہار دینے والے سوداگر کے سراغ میں سرگرداں تھی۔
چک
122/15 ایل
، کی جانب مڑے تو گلیوں کی خاک اڑ اڑ کر ہماری گاڑی کا پیچھا کر نے لگی جس پر کبھی حق نواز کے قدموں کے نشان ٹھہرے ہوں گے ۔ ''سجناں نال سجن''، ''محمدۖ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا''،''عباسِ علمدار''،جیسے نوشتۂ دیوار بھی پڑھنے کو ملے۔ میں منہ اٹھائے چک کے در و دیوار کی عظمت کا اندازہ لگارہی تھی کہ ڈرائیور نے سڑک کنارے کھڑے چند افراد کے قریب پہنچ کر کار کو بریک لگا دی۔ ان میں سب سے آگے ایک عمر رسیدہ خاتون تھی۔ابھی میں گاڑی سے اتری ہی تھی کہ میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ مجھ سے لپٹ گئیں۔''سو بسم اللہ''، ''جی آیاں نوں'' جیسے کلمات ان کی زبان پر تھے۔ ان کے چہرے پر جذبات کی شدت سے مجھے اس وقت اندازہ ہوا کہ ان کا انتظار تو میرے شوق دیدار سے کہیں بڑھ کر تھا۔ مجھے معلوم تو تھا ہی کہ وہاں ہماری ملاقات شہید حق نواز کے افراد خانہ سے ہو گی۔ لیکن کسی شہید کے اہل خانہ کے ایسے پرتپاک استقبال کا مجھے اندازہ نہ تھا۔
ہم ایک بڑے سے گیٹ والے گھر میں داخل ہو چکے تھے ۔اماں جی نے گیٹ کے فوری بعد بنے ہوئے ایک تاریک کمرے میں آنے کا اشارہ کیا ۔ ہمارے پیچھے اماں جی، دو آدمی، ایک اور خاتون اور پانچ چھ بچے بھی آگئے۔ کمرہ نیم تاریک تھا۔ کچھ دیر میں نگاہ تاریکی کی عادی ہوئی تو میں نے اندازہ لگایا کہ یہ شہید حق نواز کا کمرہ ہے کیونکہ اس کمرے کی دیوار پر ایک فوجی کی بڑی سی تصویر آویزاں تھی جس پر سنہری تاروں والا چمکیلا ہار ڈلا ہوا تھا۔اس تصویر کے فریم کے اوپری دونوں کونوں میں سلطان باہو کے گدی نشینوں کی چھوٹی چھوٹی تصاویر اٹکائی گئی تھیں جو شہید کے خاندان کے مکتب عقیدت کی نشان گر تھیں۔

haqkamaltha.jpg
ہم سب نے کئی بار ایک دوسرے کا حال پوچھا۔ میاںچنوں کی گرمی کا گلہ کیا اور کم کم آتی بجلی کی غیبت کی۔ بالآخر میں نے اپنی کرسی کے بائیں طرف بچھے پلنگ پر بیٹھی اماں جی سے پوچھا: ''ماں جی تسی حق نواز دی والدہ جے؟'' ان کی آنکھوں کے دمکتے دیئے حق نواز نام کی ہوا سے بھڑک اٹھے اور کمرہ روشن ہو گیا۔ میں نے کمرے میں موجود افراد کا تعارف چاہا۔ وہ دو آدمی حق نواز کے بڑے بھائی تھے جو زیادہ دیر کمرے میں رکے نہیں۔ میرے سیدھے ہاتھ والی کرسی پر بیٹھی ہوئی خاتون کی طرف دیکھ کر اماں جی نے کہا:''ہِے حق نوار دی بیوی ہاے'' (مجھے سن کر اچھا لگا کہ اماں جی نے اس کو حق نواز کی بیوہ نہیں کہا)یہ الگ بات ہے کہ اس کی طرف بغور دیکھنے کی میری ہمت نہیں تھی۔ اس کے چہرے کی تحریر پڑھنے کے بجائے میں نے اماں جی سے یہ پوچھنا آسان جاناکہ ان کو حق نواز کی شہادت کا کیسے پتا چلا۔


انہوں نے کچھ اس طرح سے بتایاکہ: سال2004 کی ایک صبح پولیس کی گاڑی ہمارے گھر آئی۔ انہوں نے حق نواز کے گھر کا پوچھا کہ یہی ہے اور کسی مرد سے بات کرنی چاہی۔ گھر پہ میں اکیلی تھی اس لئے وہ چلے گئے ۔ کچھ دیر بعد پھر آئے میرا رشتے کا بھائی ان سے ملا۔ پولیس نے اس کو کچھ بتایا اور چلی گئی ۔ میں نے اپنے بھائی سے پوچھا کہ پولیس حق نواز کا کیوں پوچھ رہی تھی؟ کیا کیاہے اس نے؟ کیا ہوا ہے اس کو؟میرے بھائی نے بڑے آرام سے کہا: ''او کچھ نہیں کیا اس نے۔ ہونا کیا ہے، شہید ہو گیا ہے وہ اور کیا''!۔ پولیس کی دور جاتی گاڑی ابھی تک میری نظر میں تھی۔ میں اس کے پیچھے بھاگی، پھر تھک کر وہیں سڑک کنارے بیٹھ گئی۔ پھر گھر کو دوڑی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کروں''۔


اماں جی ابھی بھی ہاتھ مسل رہی تھیں جیسے اچانک کوئی ان کے ہاتھ سے متاع حیات لے اڑا ہو۔مجھ سے اتنا نہ ہو سکا کہ ان کے قریب جا بیٹھوں اور ان کے ہاتھ تھام کر کہہ سکوں کہ ماں جی آپ حوصلہ کریں۔ اتنا حوصلہ کہاں تھا مجھ میں۔


انہوں نے اپنی بات جاری رکھی: بس پھر تھوڑی دیر میں کئی فوجی گاڑیاں آگئیں۔ بڑے بڑے فوجی افسر آئے ۔ میرے حق نواز کو بڑے اعزاز سے دفنا کر چلے گئے۔ وہ مسکرا کر بولیں حق کامال تھا حق ادا کرگیا۔
میں نے شہیدحق نواز کے متعلق مزید جاننا چاہا۔ ان سے سوال جواب کچھ اس طرح ہوئے:


س-کیا حق نواز کو خود سے شوق تھا فوج میں بھرتی ہونے کا؟
ج- پتا نہیں۔ ہمارے خاندان میں کوئی بھی فوجی نہیں۔ نہ کبھی اس نے ذکر کیا نہ کبھی ہمارا خیال اس طرف گیا۔ بس ایک دفعہ ہمارا کوئی عزیز ملتان کے فوجی ہسپتال میں داخل تھا۔ یہ اس کا پتا لینے گیا۔ہمارے چک کے کسی کرنل صاحب کا بھی وہاں تبادلہ تھا، یہ ان سے بھی مل آیا۔ کچھ دن بعد اس نے مجھ سے کہا کہ اماں مجھے نئے جوتے اور کپڑے لے دے۔ وہ جو ملتان گیا تھا تو فوج میں بھرتی ہونے کا امتحان بھی دے آیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کو فوج نے بلالیا ہے اس لئے اسے یہ کچھ نئی چیزیں لے دی جائیں۔ ہم سب دیکھتے ہی رہ گئے اور وہ فوج کا نوکر ہو گیا۔ وہ جو ہم سے کبھی دور نہیں رہا تھا اب کبھی کبھار چھٹی آتا تھا۔


س-آپ نے اس کی شادی کب کی تھی؟

(حق نواز کی بیوی ہمارے لئے چائے وغیرہ لینے گئی تو میں نے یہ سوال کر ڈالا)
ج- ہاں جی وہ آخری بار جب آیا تو میں نے اس کے بڑے دوبھائیوں کے ساتھ ساتھ اس کی بھی شادی کردی۔ مانتا نہیں تھا لیکن شاید خدا میرے ارمان پورے کروانا چاہتا تھا۔ میں نے اسرار کیا تو وہ اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی پہ مان گیا۔(اماں جی نے اس کی شادی کی تصویر بھی بڑے چائو سے دکھائی اور بتایا کہ تصویر میں اس کے دائیں جانب جو اس کا رفیق نامی دوست بیٹھا ہے، وہ بھی فوجی ہے اور حق نواز کے ساتھ ہی شہید ہوا تھا)۔


س- حق نواز کی کوئی اولاد ہے؟
ج- نہیں (وہ تڑپ کر بولیں)۔خدا نے اس کو کوئی بیٹی ہی دے دی ہوتی تو میں اس کی نشانی کو اپنے سینے سے لگائے رکھتی۔ اپنی شادی کے ایک ہفتہ بعد وہ نوکری پر چلا گیا تھا۔ عجیب بات ہے پتا نہیں اس کے دل میں کیا تھا کہ جب وہ آخری بار جا رہا تھا تو کئی بار مڑ کر آیا ۔ اس نے کہا اماں میری بیوی کا خیال رکھنا، اس کو اکیلا نہ ہونے دینا، جہاں جانا اس کو ساتھ لے جانا۔ خود چلا گیا اس کو میرے ذمے لگا گیا۔ (انہوں نے حق نواز کی بیوی کی طرف دیکھ کر کہا) اس کی بڑی بہن کی شادی حق نواز کے بڑے بھائی کے ساتھ ہوئی تھی لیکن وہ بیچاری شادی کے کچھ دن بعد کرنٹ لگنے سے فوت ہو گئی اور اللہ کی کرنی دیکھو کچھ دن بعد حق نواز کی بھی خبر آگئی۔ کیا کرتی ماں ہوں اولاد کا اجڑا گھر نہیں دیکھ سکتی تھی۔ دونوں ہی دکھی تھے سال بعد میں نے ان دونوں کی شادی کر دی۔ اب ان کے دو بیٹے ہیں۔یہ دونوں بچے حق نواز کو بھی ابو فوجی کہتے ہیں۔ اس کو بہت چاہتے ہیں۔ اس کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ کہہ رہے تھے کہ آج ابو فوجی نے آنا ہے۔ اسی خوشی میں گھر کے سارے بچوں نے اسکول سے چھٹی کی ہے۔ ہمارا یہ انتظار کبھی ختم نہیں ہو گا لیکن آپ کے آنے سے ہم سب کو اتنی ہی خوشی ہوئی جتنی حق نواز کے آنے کی ہوتی۔یہ میں نے آپ کے لئے میاں چنوں کی مشہور برفی ''خوشی کی برفی'' بھی منگوا کر رکھی ہے، ساتھ لے جانا۔


پنجاب میں رواج ہے کہ گھر آئے مہمان کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کسی شہید کی خبر لینے آنے والوں کو اس شہید کی ماں مٹھائی کے ڈبے دے کر رخصت کرے گی، ایسا کڑا جگر شہیدوں کی ماؤں کاہی ہوسکتا ہے۔


جب اماں جی کو پتا چلا کہ میں بھی میاں چنوں کی ہوں تو وہ بہت خوش بھی ہوئیں اور ناراض بھی کہ میں نے اتنے برسوں میں حق نواز کے گھر والوں کی خبر لی۔ پھر وہ خود ہی بولیں کہ کوئی کیا کرنے آتا جب حق نواز ہی نہیں رہا تو! اس کا ایک فوجی دوست جو آیا کرتا تھا وہ تو خود بھی اسی کے ساتھ شہید ہو گیا۔ ان دونوں کا تو ہمیشہ کا ساتھ ہو گیا۔
میں نے ان سے برفی کے دو ڈبے وصول کئے اور جوکیک اور تحفے ان کے لئے لائی تھی، اماں جی کو دیے۔ جتنی دیر میں وہاں رہی میں نے حق نواز کی بیوی، فرزانہ بی بی سے کئی ادھر ادھر کی باتیں کی تھیں لیکن حق نواز کے متعلق اس سے کوئی خاص بات نہ کر سکی۔ اس کو تحفہ دیتے ہوئے میں نے کہا سمجھو یہ جوڑا حق نواز کی طرف سے ہے۔ وہ پتھر بنی بیٹھی رہی۔ میںنے سوٹ اس کی گود میں رکھ دیا ۔ اس نے اپنا دوپٹہ اپنے چہرے پر کھینچ لیا اور رو دی۔ شاید اسے پتا تھا کہ اس نظارے کی تاب مجھ میںنہیں ہو گی۔

 

پنجاب میں رواج ہے کہ گھر آئے مہمان کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کسی شہید کی خبر لینے آنے والوں کو اس شہید کی ماں مٹھائی کے ڈبے دے کر رخصت کرے گی، ایسا کڑا جگر شہیدوں کی ماؤں کاہی ہوسکتا ہے۔

حق نواز کے بڑے بھائی، محمد ریاض نے اپنے بھائی کی شہادت کے بعد اپنی پکی نوکری چھوڑکر پہلے اپنے گھر میں اور کچھ سال بعد ایک الگ مستقل جگہ پر حق نواز پبلک اسکول کے نام سے ایک درس گاہ بنائی ہے جس کا منتظم و مدرس اور معاون وہ خود ہی ہے۔ جہاں سے کئی ننھے حق نواز تعلیم حاصل کر کے اس ملک کے محافظ بنیں گے جس کی خاطر سپاہی حق نواز نے جان کی باز ہاری تھی ۔


نائیک حق نواز، اللہ دتہ اور اماں بخت بھری کے چھ بیٹوں اور ایک بیٹی میں سے تیسرے نمبر پر تھا۔ اس نے گورنمنٹ پرائمری اسکول  ایل 122/15  سے ابتدائی اور گورنمنٹ ہائی اسکول  ایل 124/15  سے مڈل اور میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی۔ پاک فوج میںبھرتی ہوگیا ۔ پنجاب رجمنٹ سینٹرمردان سے تربیت حاصل کی اور کوئٹہ، زیارت، چمن اور نوشہرہ میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں۔ 2004 میں اس کی ماں نے اس کی شادی کردی۔ نئی زندگی کا آغاز کرنے والے حق نواز کی اپنے گھر والوں اور شریک حیات سے یہ آخری ملاقات تھی۔ 18 مارچ سال 2004 میں12 پنجاب آپریشن المیزان کے سلسلے میں وانا میں تعینات تھی۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق:
''نائیک حق نواز، میجر ثاقب زمان کے زیر قیادت شین ورسک کے علاقے میں آپریشن کرنے والی اگلی سپاہ کا حصہ تھے۔ کمپنی کمانڈر کی شہادت کے بعدآپ نے اپنے جونیئر ز کو بہترین طریقے سے منظم کیا اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے کرتے جام شہادت نوش کیا۔ ''

مضمون نگارڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 553 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter