مٹھی بھر سچائیاں

تحریر: یا سر پیر زادہ


مہاتما بدھ نے پیڑ تلے بیٹھے بیٹھے جھڑتے پتوں سے مٹھی بھری اور آنند کو دیکھا۔'' اے آنند کیا سارے پتے میری مٹھی میں آگئے ہیں ؟''
آنند جھجکا۔پھر بولا، تتھا گت، یہ رت پت جھڑ کی ہے۔ پتے جنگل میں اتنے جھڑے ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ہو سکتی۔''
مہاتما بدھ بولے۔'' اے آنند، تو نے سچ کہا۔ پت جھڑ کے ان گنت پتوں میں سے بس میں مٹھی بھر سمیٹ سکا ہوں۔ یہی گت سچائیوں کی ہے۔ جتنی سچائیاں میری گرفت میں آئیں، میں نے ان کا پرچار کیا۔ پر سچائیاں ان گنت ہیں، پت جھڑ کے پتوں کے سمان۔ ''


ہر کوئی یہاں سچ لکھ رہا ہے، تو پھر جھوٹ کہاں ہے ؟ہر ایک عالم ہے، تو پھر جاہل کون ہے ؟ ہر کوئی دانشور ہے، تو پھر غبی کسے کہیے؟ہر شخص پارسا ہے تو بد کہاں چھپے بیٹھے ہیں ؟ ہر ایک قانع ہے تو حریص کون ہے ؟ ہر کسی کو درویشی کا دعویٰ ہے تو پھر وہ کون ہیں جو دنیا کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں؟ ہر دوسرا بندہ اگر ولی ہے تو کیا کوئی عامی بھی ہے ؟ہماری مٹھی میں تو سچائیوں کے دو چار پتے بھی نہیں، لیکن وہم یہ کہ ہمیں گیان مل چکا ہے، نروان کی پہلی سیڑھی پر کبھی قدم نہیں رکھااور گمان یہ کہ ولی کامل کا تا ج ہمارے سر پر سجا ہے، علم کے سمندروں سے دور ہم لق و دق صحر ا میں کھڑے صبح سے شام تک ہم ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے رہتے ہیں اور پھر آپس میں ہی چند لوگوں کو دانشور، عالم اور ولی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جن بستیوں میں علم و دانش کا معیار یہ قرار پائے وہ گنجان آباد ہونے کے باوجود ویران ہو جایا کرتی ہیں۔ جہاں دین کا پرچار بندوق کی نوک پر کیا جائے، جہاں دانش اور جملے بازی میں فرق مٹ جائے، جہاں علم کا تعین سند دیکھ کر کیا جائے، جہاں لکھاری شہرت پانے کے لئے کہانیاں لکھیں، جہاں شاعر قصیدہ گوئی کو ذریعہ معاش بنا لے، جہاں استاد کی عزت شاگرد کے ہاتھ میں ہو، جہاں دانشور بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنے سے ڈرنے لگیں، ان شہروں میں اداسی بال کھولے سوتی ہے، انصاف کم ہو جاتا ہے اور سچائی شور میں دب جاتی ہے۔ تمام عمر گزر جاتی ہے، اپنی ذات کی سچائیاں بھی خود پر آشکار نہیں ہو پاتیں، دنیا کی البتہ ہم خبر دیتے ہیں۔ انتظار حسین کے شاہکار افسانے زرد کتا کا ایک ٹکرا یاد آیا :
یا شیخ، عالم کی کیا پہچان ہے ؟
فرمایا: اس میں طمع نہ ہو۔
عرض کیا : طمعِ دنیا کب پیدا ہوتی ہے ؟
فرمایا : جب علم گھٹ جائے۔
عرض کیا : علم کب گھٹتا ہے ؟
فرمایا : جب درویش سوال کرے، شاعر غرض رکھے، دیوانہ ہوش مند ہو جائے۔ عالم تاجر بن جائے، دانشمند منافع کمائے۔


طمعِ دنیا کو ترک کرنا پیغمبروں کا وصف ہے،ہم گناہوں میں لتھڑے ہوئے تو شاید ایسی آرزو کے قابل بھی نہیں، اپنے نفس کا بت توڑنا اس راکھشس کا سر کاٹنے جیسا ہے جس کا سر کاٹو تو اس کی جگہ دو سر اُگ آتا ہے۔ یہ جوکھم کا کام کون کرے، وہ بھی آج کے دور میں ؟ سو ہم نے ایک آسان راستہ چنا، دنیا دار درویشی کا راستہ !اس راستے میں طمعِ دنیا، دولت، شہرت یانمود و نمائش سے کنارہ کرنے کی کوئی بندش نہیں، فقط اس کا پرچار کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ دوسروں کو متاثر کرنے کی خواہش انسان میں فطری ہے سو وہ طرح طرح کے بھیس بدلتا ہے، مختلف طریقے آزماتا ہے، نت نئی ترکیبیں لڑاتا ہے، دنیا دار درویشی ایسی ہی ایک نئی ترکیب ہے، اس میں درویشی کا محض لبادہ اوڑھا جاتا ہے، حقیقی درویش نہیں بنا جاتا۔ یہ کام ذرا مشکل تھا کیونکہ درویشی کی پہلی شرط شریعت کی پاسداری ہے، گویا سچا کھرا ولی کامل وہی ہوگا جو اللہ کے بعد رسول ۖکی اطاعت کرے گا اور شرعی احکام کی پابندی کرے گا، ایک صوفی کے لئے کوئی رعایت نہیں۔ لیکن اب ہم ایسے مرشد اور مرید بھی دیکھتے ہیں جنہوں نے نماز نہ پڑھنے کی چھوٹ حاصل کر رکھی ہے (یہ آج کل کے دور کے ایک ماڈرن درویش کا بیان ہے جو انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے)،اب ہم ایسے صوفیوں کے قصے بھی پڑھتے ہیں جو شراب کے نشے میں دھت ہو کر ترک دنیا کئے بیٹھے ہیں، اور ایسے درویش آپ بیتیاں لکھتے ہیں جن میں وہ خدا سے براہ راست خط کتابت کا قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے پچھلے ابواب میں یہ لکھتے ہیں کہ کیسے تمام عمر انہوں نے پوری جانفشانی کے ساتھ سرکار کی نوکری کی جن میں ہر طرح کے آمر کے احکامات کی بجا آوری بھی شامل تھی! ممکن ہے درویشی میں آسودگی کی ان سب کو تلاش ہو مگر دنیا داری کے ساتھ یہ ممکن ہی نہیں۔ آج کل کے دور میں کون ہے جو ترک دنیا کا دعویٰ کر سکے، کس کا ولی کامل ہے اور کس کا مرشد عرفان پا چکا، کسے خبر ! لیکن شریعت میں رعایت تو پیغمبروں کو حاصل نہ تھی، ان لوگوں نے کہاں سے ڈھونڈ نکالی ؟

 

ماتم اس بات کا ہے درویش ہو یا لکھاری، قناعت اور سچائی سے زیادہ وہ شہرت کا متمنی ہے۔ جس معاشرے میں درویشی اور علم محض دنیاوی منفعت کا وسیلہ بن جائے، وہاں ظالم کے خلاف بولنے والے کمزور پڑ جاتے ہیں، دہشت کے آگے سر جھکانے کی روش عام ہو جاتی ہے، چڑھتے سورج کی پرستش کی جاتی ہے، طاقتور کے قصیدے لکھے جاتے ہیں۔

سچائیاں تو ان گنت ہیں جنہیں کوئی نہیں پا سکتا، مگر ہمیں ہاتھ بڑھا کر انہیں پانے کی کوشش تو کرنا ہوگی، جتنی مٹھی میں آجائیں ان کا پرچار بھی کرنا ہوگا، اپنے حصے کی کاوش تو کرنی ہوگا۔ نقلی درویشوں کے ساتھ ساتھ ہمار ی بستیوں کے لکھاری بھی سچ کے متلاشی نہیں، وہ شہرت کے آسیب میں گرفتار ہیں، ادھر عوام بھی سچ سننا نہیں چاہتے، انہیں اسی مقبول و معروف بیانیے کی شراب چاہئے جسے پی کر وہ سدا مد ہوش رہیں، ایسے شرابیوں کو جگانے کی جو حماقت کرتا ہے سب سے پہلے وہ اسی پر قے کرتے ہیں۔ ہماری بستیاں ان شرابیوں سے بھری پڑی ہیں، شرابیوں کی اس بستی میں سچائی کا پرچار کرنا ایسے ہی ہے جیسے اندھے کو اندھیرے میں راستہ سمجھانا۔ماتم اس بات کا ہے درویش ہو یا لکھاری، قناعت اور سچائی سے زیادہ وہ شہرت کا متمنی ہے۔ جس معاشرے میں درویشی اور علم محض دنیاوی منفعت کا وسیلہ بن جائے، وہاں ظالم کے خلاف بولنے والے کمزور پڑ جاتے ہیں، دہشت کے آگے سر جھکانے کی روش عام ہو جاتی ہے، چڑھتے سورج کی پرستش کی جاتی ہے، طاقتور کے قصیدے لکھے جاتے ہیں۔ جس روز ہماری بستی کے دانا لوگ شہرت سے بے نیاز ہو جائیں گے، اس دن ہمارے لئے مٹھی بھر سچائیاں ہی کافی ہوں گی۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 370 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter