پاک افغان تعلقات کی بحالی کے لئے سنجیدہ کوششیں

تحریر: عقیل یوسف زئی


مقبول عام تجزیوں اور زمینی حقائق کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے تعلقات باوجود اس کے بہتر ہوتے جارہے ہیںمگر امریکہ اور بعض دیگر ممالک کی کوشش ہے کہ ان پڑوسی اور ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ممالک کو کسی بھی جواز کی آڑ میں مزید بداعتمادی اورتصادم کی راہ پر ڈال دیا جائے۔ کراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر پائی جانے والی بدگمانیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ معاملات اس انداز سے بہتر نہیں ہو پا رہے، جس کی خطے کو ضرورت ہے۔ اس کے باوجود کہ نائن الیون کے بعد امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی رپورٹ کے مطابق عالمی دہشت گردی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران 110 ممالک میں دہشت گردکارروائیاں ہوئی ہیں، عالمی برادری اور ہمارے بعض اتحادی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ جنگ اور طاقت کا استعمال اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو افغانستان میں کب کا امن آچکا ہوتا کیونکہ وہاں40 سے زائد ممالک ایک دہائی سے زائد کے عرصے تک لڑتے رہے ہیں۔ امریکہ نے بوجوہ جو غلطیاں کیں وہ ان کو مان نہیں رہا۔ سب سے بڑی کوتاہی ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے افرادپر انحصار کیا اور اداروں کی بحالی کے علاوہ سیاسی عمل کے آغاز یا سرپرستی کے علاوہ تعمیرِ نو کو مسلسل نظر انداز کئے رکھا۔ دوسرا مسئلہ یہ درپیش رہا کہ وہ روس، ایران اور چین کے لئے افغانستان کو بیس کیمپ بنا بیٹھا اور اس مقصد کے لئے اندرون خانہ وہ وار لارڈز اور ان کے گروپس کی معاونت کرتا رہا۔ امریکہ پاکستان پر طالبان کے خلاف کارروائیوں کے لئے مسلسل دبائو تو ڈالتا رہا مگر اس کی اپنی پالیسی کا یہ حال رہا کہ اس نے افغان طالبان کو ابھی تک دہشت گرد تنظیم ڈیکلیئر نہیں کیا ہے۔ بلکہ امریکیوں کی نظر میں طالبان محض مزاحمت کار ہیں۔ امریکہ نے القاعدہ کے خلاف تو مؤثر کارروائیاں کیں مگر طالبان کے ساتھ وہ دوطرفہ مگر متضاد رویے پر گامزن رہا۔ طالبان کو نہ ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی اور نہ اُن کو سیاسی عمل کا حصہ بننے دیا۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان سے غیر ضروری توقعات وابستہ کی گئیں اور نجیب الطرفین ناکامیوں کا ذمے دار اسے قرار دیا جاتا رہا حالانکہ دہشت گردی ان ممالک میں بھی تواتر کے ساتھ ہوتی رہی ہے جو کہ پاکستان سے ہزاروں کلو میٹر دور واقع ہیں۔ امریکہ قطر دفتر کے ذریعے طالبان کے ساتھ رابطے میں رہا مگر پاکستان کے لئے اس قسم کے رابطے قابلِ جرم ٹھہرائے گئے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے بھی بعض مواقع پر شاید خاطرخواہ توقعات پرپورا نہ اتر سکا۔ تاہم پورے کاپورا ملبہ اس کے سر ڈالنا اور دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا بھی مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔

 

بہت سے تجزیہ کار پُرامید ہیں کہ امریکی دبائو کے باوجود خطے کے حالات بتدریج بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر میجر (ر) محمدعامر نے کہا ہے کہ پاکستان پر امریکہ کے لگائے گئے الزامات زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔ امریکہ کے ساتھ موجودہ نام نہاد اتحاد کے خاتمے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے، اس کا انحصار ختم ہو جائے گا بلکہ ہمارے لئے مہذب اور پاکستان دوست ممالک کے ساتھ نئے تعلقات کے ایک بہترین دور کا آغاز بھی ہو گا۔

شائد اسی کا نتیجہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی سٹیٹمنٹ کے بعد یہ بحث پھر سے چل نکلی ہے کہ اس تمام گیم میں امریکہ کا کیا رول رہا ہے اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان اپنے طور پر کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔ متعدد امریکی حکام اور تجزیہ کار بھی کہہ چکے ہیں کہ 2004-6 کے دوران حامد کرزئی کی بھی خواہش تھی کہ طالبان کو سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے اور ان کے ساتھ براہِ راست رابطے کئے جائیں۔ مگر امریکیوں نے اس کی اجازت نہیں دی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان طالبان اور ان کے اتحادیوں نے2004 کے بعد پھرسے مزاحمت کا آغاز کرلیا۔2004 تک حالات کافی پرامن تھے اور پیشنگوئی کی جارہی تھی کہ امریکہ اور اس کے اتحادی واقعتا افغانستان سے طالبان کا خاتمہ کرچکے ہیںمگر عملاً ایسا ہوا نہیں تھا۔ طالبان نے ایک پالیسی کے تحت پسپائی اختیار کر لی تھی اور شاید وہ بدلتے حالات میں ایک مجوزہ یا ممکنہ مفاہمتی عمل کے منتظر بھی تھے۔ یہ بات بھی کئی حوالوںسے ثابت ہو چکی ہے کہ امریکہ عملاً امن قائم کرنے کی نیت سے نہیں آیا تھا بلکہ اس کے پالیسی سازوں نے افغان سرزمین پر اپنے اڈے بنانے کی پلاننگ نائن الیون سے کئی برس قبل کی ہوئی تھی اور وہ افغانستان میں بیٹھ کر ایک پرانے فارمولے کو آگے بڑھانے آیا تھا۔ اب جا کر معلوم ہوگیا کہ امریکی مقاصد کچھ اور تھے، اور اس نے افغانستان کو ایک کمزور اور زیردست ملک کے طور پر اپنے مقاصد اور ترجیحات کے لئے استعمال کرنا تھا اور غالباً یہی وجہ تھی کہ امریکی حکام نے مفاہمتی کوشش اور خواہش کو مسترد کرکے2004-5 کے دوران افغان طالبان کوپھر سے مزاحمت پر مجبور کیا کیونکہ مزاحمت کی جنگ کے بہانے امریکیوں نے افغانستان کو کمزور اور خود کو ناگزیر بنا کر رکھناتھا۔ بعد میں جب طالبان کی کامیابیوں کا سلسلہ چل نکلا تو حالات سنگین ہوتے گئے اور اس پر کنٹرول برقرار رکھنا افغان فورسز اور امریکیوں کے لئے بھی ممکن نہیں رہا۔کچھ عرصہ قبل افغان طالبان کے سربراہ نے مفاہمتی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے تو افغان حکومت کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے کیونکہ طالبان کی قوت اور حملوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہاہے اور ان کو بعض معاشرتی عوامل کے باعث عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ طالبان سربراہ نے اپنے بیان میں آدھے افغانستان پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے اور ساتھ میں انہوںنے یہ بھی کہا ہے کہ جن علاقوں پر ان کا کنٹرول ہے وہاں امن ہے، تعمیر و ترقی کا سلسلہ جاری ہے اور عوام مطمئن ہیں۔ اگرچہ اس دعوے کو کلی طور پر درست قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم یہ حقیقت ماننی پڑے گی کہ طالبان ایک زندہ حقیقت ہیں اور اگر ان کو مکمل شکست نہیں دی جاسکتی ہے تو ان کے ساتھ بات چیت میں کیا برائی ہے۔ اگر حزبِ اسلامی بوجوہ سیاسی عمل کا حصہ بن سکتی ہے تو طالبان کو بدلتے حالات کے تناظر میں ایڈجسٹ کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ اس ضمن میں پاکستان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ مفاہمت کی صورت میں پاکستان پر ڈالے جانے والے عالمی دبائو میں کمی واقع ہوگی اور اس کے ممکنہ گھیرائو کے خدشات کم پڑ جائیں گے۔ یہ اطلاعات خوش آئند ہیں کہ افغان حکومت اور پاکستان کے درمیان روس اور چین کی کوششوں سے فاصلے کم ہوتے جارہے ہیں اور اندرون خانہ بہت سے عملی اقدامات اور اعتماد سازی پر کام جاری ہے۔ علاقائی کشیدگی کا خاتمہ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کی بھی ضرورت ہے اس لئے ماضی کی غلطیوں اور تلخیوں سے نکل کر ایک بہتر اور پُرامن مستقبل کے تمام امکانات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ خطے کو درپیش خطرات سے نمٹا اور نکالا جاسکے۔


باخبر سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر کی افغان پالیسی کے اعلان سے پیدا شدہ صورت حال کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات، اعتماد سازی اور اداروں کے درمیان کوآرڈی نیشن پر مشتمل ایک پلان پر اتفاق رائے کی کوششیں حتمی مراحل میں ہیں اور اس ضمن میں تاجکستان میں منعقدہ حالیہ کانفرنس کے دوران مذکورہ ذرائع نے واضح انداز میں عندیہ دیا کہ اگر چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات اور اختلافات کے خاتمے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے تو افغان حکومت امریکی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر قیامِ امن کے لئے اپنے طور پر بھرپور تعاون کرے گی۔سفارتی حلقوں کے مطابق اسی پیشرفت کے نتیجے میںبعد میں دونوں ممالک نہ صرف مذاکراتی عمل کے ایک مجوزہ طریقہ کار پر متفق ہوگئے بلکہ افواج کی سطح پر کوآرڈی نیشن کے لئے بھی علانیہ طور پر طریقہ وضع کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق تاجکستان کانفرنس کے دوران علاقائی تعاون یا کائونٹر ٹیررازم کے ممکنہ کوآرڈی نیشن کی مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کے علاوہ اتفاق رائے کا اظہار کیا جاچکا ہے اور کسی بھی متوقع عمل میں چین ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ جبکہ اس تمام پراسس کو روس کی حمایت اور معاونت بھی حاصل رہے گی۔ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات کے ماہر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نے رابطے پر بتایا کہ ایک نئے علاقائی بلاک کے قیام کی کوششیں کافی عرصہ سے جاری تھیں اور اس میں چین کا بنیادی کردار تھا کیونکہ چین خطے کے حالات اور امریکی رویے کے اثرات سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا۔ ان کے مطابق پاکستان حالیہ پیش رفت کا بنیادی کردار ہے تاہم اس کے لئے یہ قطعاً ضروری نہیں کہ امریکہ سے تعلقات بگاڑے جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ علاقائی ترقی اور متعدد بڑے منصوبوں کے لئے خطے کا امن لازمی ہے۔ اگر امریکہ پاکستان پر پابندیاں لگاتا ہے تو اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان نے اپنے لئے نئے اتحادی تلاش کرلئے ہیں۔بہرحال تمام تر خدشات کے باوجود یہ اطلاعات کافی خوش آئند ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آنے کے تمام امکانات میں سنجیدہ ہیں۔


بہت سے تجزیہ کار پُرامید ہیں کہ امریکی دبائو کے باوجود خطے کے حالات بتدریج بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر میجر (ر) محمدعامر نے کہا ہے کہ پاکستان پر امریکہ کے لگائے گئے الزامات زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔ امریکہ کے ساتھ موجودہ نام نہاد اتحاد کے خاتمے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے، اس کا انحصار ختم ہو جائے گا بلکہ ہمارے لئے مہذب اور پاکستان دوست ممالک کے ساتھ نئے تعلقات کے ایک بہترین دور کا آغاز بھی ہو گا۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں کہا کہ امریکہ کے اپنے سابق سٹیشن ڈائریکٹر اور سی آئی اے کے ایک سابق سربراہ نے اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارے ساتھ جو تعاون کیا، اسی کی بدولت ہم افغانستان سے طالبان حکومت اور القاعدہ ختم کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ ہم نے بدلے میں پاکستان کو نظرانداز کیا، اس پر شک کیا اور اس کے ساتھ تعاون کے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن المیزان سے لے کر بعد کی تمام کارروائیوں کے دوران پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر بیان کردہ ڈبل گیم کا ریاستی سطح پر مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق افغانستان کا امن سرے سے امریکی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا اور نہ ہی وہ اب چاہتا ہے کہ وہاں امن اور استحکام ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یہاں کے عوام کبھی بھی افغانستان کے مخالف نہیں رہے اور نہ ہی افغان حکمرانوں اور عوام نے پاکستان کو کبھی اپنا دشمن سمجھا۔ اس کی بڑی مثال دو جنگوں کے دوران افغانستان کا بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ وہ رویہ ہے جب افغانستان نے مغربی سرحدوں کو محفوظ رکھا اور بھارت کو کوئی سہولت یا معاونت فراہم نہیںکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی دونوں برادر ممالک کو ایک دوسرے سے بدظن اور دُور کرنے کی تمام کوششیںناکام ہوں گی اور پاکستان نہ صرف ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کے قیام میں اپنے طور پر اپنا مؤثر کردار ادا کرے گا بلکہ اپنے عملی اقدامات کے ذریعے ناراض بھائیوں کو گلے سے لگا کر امریکی اور بھارتی عزائم کو بھی ناکام بنائے گا۔ ان کہنا تھا کہ امریکہ کے رویے نے پاکستان کے لئے عالمی اور علاقائی سطح پر نئے دور کے نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ ہم اب چین اور روس سمیت بعض دوسرے اہم ممالک کے نہ صرف اتحادی ہیں بلکہ ہم امریکہ کے چنگل،حصار اور دبائو سے نکل آئے ہیں۔ انہوں مزید بتایا کہ نئے علاقائی منظر نامے کے تعین کے معاملے پر تمام ادارے، پارٹیاں اور عوام ایک صفحے پر ہیں اور ہم ایک نئے سفر کا آغاز کرنے والے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ خود اعتمادی اورخودانحصاری کا مظاہرہ کرکے افغانستان کے عوام کو بھائی سمجھ کر گلے لگایا جائے اور اس مقصد کے لئے کسی اور کی ترجیحات یا مفادات کے بجائے افغانستان اور پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ اس سلسلے میں میڈیا بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے تاکہ دوریوں اور خدشات کو ختم کیا جاسکے۔ ان کہنا تھا کہ کسی کو اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ پاکستان اور افغانستان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کامیاب ہوسکتی ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 373 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter