تحریر: یاسر پیرزادہ

اس نے بس میں بیٹھے ہوئے مسافروں پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی، ہر چہرہ سپاٹ اور جذبات سے عاری تھا، کچھ لوگ کھڑے تھے، بیٹھے ہوئے مسافروں کی نسبت ان کے چہروں پر بیزاری زیادہ نمایاں تھی۔’’جانور کہیں کے‘‘ اس نے دل میں کہا اور بیٹھنے کے لئے جگہ تلاش کرنے لگا مگر کوئی سیٹ خالی نہیں تھی، مایوس ہو کر اس نے اپنے ساتھ کھڑے ہوئے ’’جانور‘‘ کی طرح بس سے لٹکی ہوئی چرمی گرفت کو مضبوطی سے تھام لیا، اس کی منزل دور تھی اور یوں کھڑے رہنے سے اسے کوفت ہو رہی تھی، ویسے بھی ساتھ والا کچھ زیادہ ہی جانور تھا، بے حد غلیظ حلیئے میں تھا، نہ جانے کب سے نہیں نہایا تھا، منہ سے بھبھکے اُٹھ رہے تھے، سر کے بالوں کی کھچڑی سی بنی ہوئی تھی اور زرد آنکھیں کسی بیماری کا پتہ دے رہی تھیں۔ اچانک بس ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی، وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور ’جانور‘ کے اوپر گِر گیا۔ ’جانور‘ نے اُسے گھور کر دیکھا اور اپنا بھاری بھر کم ہاتھ اس کے منہ پر جڑ دیا، وہ بیچارہ دو قدم پیچھے جا گرا، دوسرے مسافروں نے ایک لمحے کے لئے یہ منظر دلچسپی سے دیکھا مگر ساتھ ہی ان کے چہروں پر دوبارہ ازلی بیزاری طاری ہوئی۔ اس نے سوچا کاش اس کے پاس تیز دھار والا کوئی خنجر ہوتا تو وہ اس ’جانور‘ کا پیٹ چاک کر دیتا، بڑی مشکل سے اس نے اپنے جذبات کو قابو میں کیا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ ’جانور‘ اس کے چہرے سے اس کے جذبات کا اندازہ لگائے کیونکہ ایسی صورت میں یقیناً ’جانور‘ اسے ایک آدھ ہاتھ مزید جڑ دیتا جسے برداشت کرنے کی اب اس میں ہمت نہیں تھی ۔ ’جانور‘ بہت لحیم و شحیم تھا لہٰذا اس نے پرے رہنے میں ہی عافیت جانی۔

janwar.jpg
تھوڑی دیر بعد اس کی منزل آگئی، بس سے اُترتے ہوئے اس نے سُکھ کا سانس لیا، اپنے کپڑوں کی سلوٹیں درست کیں، بالوں میں ہاتھ پھیر کر انہیں سنوارنے کی کوشش کی اور سانس ٹھیک کرنے کے بعد سامنے واقع دفتر میں داخل ہوگیا۔ دفتر میں خاصی بھیڑ تھی، لوگ عجیب سی نفسا نفسی کے عالم میں ادھر ادھر پھر رہے تھے، یوں لگ رہا جیسے انہیں خود بھی پتہ نہ ہو کہ انہوں نے کس طرف جاناہے، ان کے چہروں پر بھی ویسی ہی بیزاری اور کسی حد تک نحوست طاری تھی، ان کی آنکھیں باہر کو اُبل رہی تھیں اور بعض کے منہ سے تو جھاگ بھی نکل رہی تھی، جب وہ بولتے تو یوں لگتا جیسے غُرّا رہے ہوں۔’’جانور سب کے سب! ‘‘ اس نے دل میں کہا۔ متعلقہ کھڑکی پر پہنچ کر اس نے بڑی لجاجت سے پوچھا ’’سر! میں نے اپنا بل‘‘ درست کروانا ہے یہ کون کریں گے؟ ‘‘کھڑکی کے پیچھے بیٹھے نوجوان نے ہاتھ سے سیڑھیوں کی جانب اشارہ کردیا اور پھر اپنے موبائل فون کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اس نے دوبارہ پوچھا ’’سر! اُوپر کون صاحب ہیں جو یہ کام کریں گے؟‘‘ اس مرتبہ نوجوان نے بُرا سامنہ بناتے ہوئے کہا ’’اوپر جا کر کسی سے پوچھ لینا!‘‘ اوپری منزل پر بھی رش لگاہوا تھا، جس بابو نے اس کا کام کرنا تھا اس کے اردگرد لوگ مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہے تھے، بڑی مشکل سے وہ ’’جانوروں‘‘ کی بھیڑ چیرتا ہوا اس تک پہنچا اور اپنا بل اس کے آگے کردیا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ بابو نے شعلہ اگلتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’سر، یہ میرا بل ہے، اس ماہ بہت زیادہ یونٹ ڈال دیئے گئے ہیں، میٹر ریڈنگ تو آج بھی یہاں تک نہیں پہنچی جتنی پندرہ دن پہلے اس بل میں درج کی گئی ہے، پلیز اسے ٹھیک کردیں!‘‘ بابو نے بل اس کے منہ پر مارا اور بولا’’دیکھ نہیں رہے پہلے سے کتنے لوگ لائن میں لگے ہیں، ویسے بھی اب دفتر کا وقت ختم ہونے والا ہے۔، تم کل آنا!‘‘ اس نے جواب میں کچھ کہنے کی کوشش مگر قطار میں کھڑے ’’جانوروں‘‘ نے یوں پیچھے دھکیلا کہ وہ بمشکل گرتے گرتے بچا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں باقی لوگوں نے اس کی یہ درگت بنتے تو نہیں دیکھی، پرے کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی ایک خاتون اس کی حالت دیکھ کر ہنس رہی تھی، اسے لگا جیسے بیچ بازار میں کسی نے اس کے کپڑے اُتار دیئے ہوں۔ ’’کاش میرے پاس کوئی مشین گن ہوتی،‘‘ اس نے دل میں سوچا،’’تو میں ابھی ان جانوروں کا قتلِ عام کردیتا‘‘
سورج غروب ہونے میں ابھی کافی وقت تھا، وہ چاہتا تو اپنے ایک دو کام نمٹا سکتا تھا مگر اس نے ارادہ بدل دیا ’’مجھے مزید ان جانوروں کے منہ نہیں لگنا چاہئے!‘‘ اس نے سوچا۔ گھر واپسی کا سفر بھی بس میں طے ہو، وہی منحوس صورت لوگ، بیزار چہرے، جانوروں جیسی شکلیں۔ اچانک اس کی نگاہ بس میں لگے چھوٹے سے آئینے پر پڑی، اس کے چہرے کا عکس آئینے میں نظر آرہا تھا یکدم وہ گھبرا گیا اسے لگا جیسے وہ بھی انہی ’’جانوروں‘‘ جیسا ایک ’جانور‘ ہے، اسے اپنی شکل پر بھی وہی وحشت، ویسی ہی جنونیت اور ویسی ہی نحوست نظر آئی، اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا گویا یقین کررہا ہو کہ یہ اسی کا چہرہ ہے جو آئینے میں نظر آرہا ہے، یقیناً یہ اُسی کا چہرہ تھا’’تو کیا میں بھی اسی طرح کا ایک جانور ہوٖں؟‘‘ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا ’’نہیں، یہ میرا وہم ہے، میں ان کی طرح نہیں ہوسکتا۔‘‘ یہی سوچتے ہوئے اس کی منزل آگئی، اس نے اردگرد کھڑے ’’جانوروں‘‘ کو دھکیلتے ہوئے اپنا راستہ بنایاا ور بس سے اُتر گیا۔


بس سٹاپ سے گھر تک کا راستہ چند منٹ سے زیادہ کا نہیں تھا، ایک جگہ رُک کر اس نے کھوکھے سے چائے پی اور سگریٹ کی ڈبی خریدی، سگریٹ سلگاتے ہوئے یکدم اسے خیال آیا، اس نے تیز تیز قدموں سے چلنا شروع کردیا، اپنے گھر سے ذرا پہلے دو گلیاں چھوڑ کر ایک چھوٹے سے گھر کے دروازے پر وہ رُک گیا، ادھر اُدھر دیکھا گلی میں کوئی نہیں تھا، اس نے گھڑی پر نظر ڈالی’’ابھی بہت وقت ہے‘‘ اس نے سوچا اور دروازے پر لگی گھنٹی بجا دی۔ ایک نو عمر لڑکی نے ’’کون ہے؟‘‘ کہتے ہوئے دروازہ کھولا ، اسے دیکھتے ہی گھبرا سی گئی’’ابا گھر پر نہیں ہیں، آپ شام کو آئیں‘‘ کہہ کر اس نے دوازہ بندکرنا چاہا مگر اتنی دیر میں وہ دروازہ کو دھکیل کر اندر داخل ہوچکا تھا، قریب تھا کہ لڑکی کی چیخ نکل جاتی اس نے لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، کچھ دیر وہ بے بس مچھلی کی طرح تڑپتی رہی پھر بے دم ہوگئی، اس نے خوفزدہ ہو کر ہاتھ اس کے منہ سے ہٹا دیا، لڑکی بے ہوش ہو چکی تھی، اس نے افراتفری کے عالم میں لڑکی کو وہیں چھوڑ ا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آیا، گلی اب بھی سنسان تھی، اس نے سُکھ کا سانس لیا اور فوراً دوسری گلی میں مُڑ گیا۔


مغرب کا وقت تھا، لوگ مسجد سے نماز اداکرکے نکل رہے تھے، وہ بھی انہی میں شامل ہوگیا، اچانک کہیں سے شور بلند ہوا ’’پکڑو، پکڑو۔۔۔ جانے نہ پائے۔۔۔ چورچور۔۔۔ ڈاکووو۔۔۔ پکڑو، پکڑو‘‘ اس کی سانس خشک ہوگئی، اسے لگا کہ اس کا ہارٹ فیل ہو جائے گا، لیکن پھر اس کی جان میں جان آئی ، لوگ کسی اور کے پیچھے تھے، یہ پچیس چھبیس سال کا ایک نوجوان تھا، لوگوں نے اسے بری طرح دبوچ رکھا تھا ’’ یہ میرا موبائل چھین کر بھاگ رہا تھا‘‘ کسی نے مجمعے میں سے کہا۔ ’’ہاں، میں اسے پہچانتا ہوں،کل میری دکان پر بھی اس نے ڈکیتی کی تھی۔‘‘ ایک اور شخص بولا، ’’مارو خبیث کو‘‘ ایک آواز آئی۔ پھر کیا تھا، لوگوں نے اس نوجوان کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ مارنے والوں میں وہ بھی شامل ہوگیا، اس نے نوجوان کی آنکھ پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کی آنکھ خون سے سرخ ہوگئی، کسی نے اس کے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا دیا، اس نے نوجوان کو الٹا لٹکایا اور اس کی کمر پر ڈنڈے برسانے شروع کردیئے، نوجوان کی چیخیں پہلے بلند ہوئیں اس کے بعد معدوم ہوتی چلی گئیں۔ آخری چیخ سننے کے بعد اس نے ڈنڈا پرے پھینکا اور ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے بڑبڑایا’’جانور کہیں کا!‘‘

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 294 times

1 comment

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter