دامِ لہو قسط دوم

تحریر: حفصہ ریحان

پاکستان میں دہشت گردی کے پس منظر میں لکھا گیا ناول

گزشتہ قسط کا خلاصہ
مجاہدانیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے ۔ وہ کچھ پریشان ہے اور مدرسے کے میدان کے ایک کونے میں پتھرپربیٹھا ہواہے۔حیدر جو اُس کے ساتھ پڑھتا ہے، آکراس کے پاس بیٹھ جاتاہے اوراس سے پریشانی کاسبب پوچھتاہے اور اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے کیونکہ وہ گھر گیاہی نہیں ہوتا۔
پانچ سالہ شہیر فون پراپنے والدسے ناراضگی کا اظہارکرتاہے کہ وہ ان سے ملنے نہیں آتے۔ وہ جواب میں اپنے معصوم بیٹے کے گلے شکوے ختم کرنے کے لئے وہ بہت جلدآنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ دراصل شہیر کے والد میجر شاہنواز آرمی میں ہیں اور اُن کی ڈیوٹی ان دنوں افغان بارڈر پر ہے۔
نوسالہ عمران بھی اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس آکرانہیں گھمانے پھرانے لے جائیں۔ خاوراسے تھوڑا سا چھیڑنے اوراس کی معصوم ناراضگی سے لطف اندوزہونے کے بعدوعدہ کرتاہے کہ وہ کل جلدی آجائے گا۔
صارم آرمی میں کیپٹن ہے اور اپنی منگنی کی تقریب کے بعد تائی اماں سے اپنی منگیتر وجیہہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتاہے۔
مدرسے میں بجنے والی گھنٹی کی آواز مجاہد کو سوچوں کی دنیاسے نکال کرحقیقت کی دنیا میں لے آتی ہے۔وہ دنیا جہاں انتہائی درجے کی تلخی ہے۔۔۔۔۔۔!

سفیرعلی کواللہ نے چاراولادیں دی تھیں۔ سب سے بڑی صبیحہ، اس کے چارسال بعدوجیہہ پھردو سال بعدہاشم اوراس کے ڈیڑھ سال بعدملیحہ۔
شیرعلی کواللہ نے دوبیٹوں سے نوازاتھا۔بڑاصارم اورساڑھے چارسال بعدریحان۔ اس کے بعد اللہ نے انہیں مزیداولادنہیں دی۔
شیرعلی کی شادی کے چارسال بعددونوں بھائیوں نے رقم جمع کی اورمشترکہ طورپرشہر پشاورمیں گھر کے لئے ایک پلاٹ لیااورا س پر اچھاساگھربنالیا۔ نیچے والے پورشن میں شیرعلی اپنے بیوی بچوں سمیت رہنے لگااوراوپروالاپورشن کرائے پرچڑھادیاگیا۔
سفیرعلی باہررہتے ہوئے بھی اپنے بھائی اوروطن سے اتنی ہی محبت کرتاتھا۔ ہرسال دوسال بعدوہ اپنے بیوی بچوں سمیت مہینہ ڈیڑھ مہینہ پاکستان گزارنے آتا۔ اس عرصے میں یہ گھر خوشیوں کاگہوارہ ہوتا۔ سارے بچے بھی بہت خوش ہوتے اوربھائی توآپس میں اتنے خوش ہوتے جیسے مدتوں بعدمل رہے ہوں۔
شادی کے تقریباًپندرہ سال بعدجب صارم ابھی چودہ سال کاتھااورنویں جماعت میں پڑھ رہاتھا، ایک دن باپ کے دفترسے اس کے گھرپرفون آیاکہ شیرعلی کودل کادورہ پڑگیاہے اور انہیں ہسپتال لے جایا گیاہے۔وہ اپنی ماں کولے کر بھاگا بھاگا ہسپتال پہنچا۔ اس کے باپ کے دوست بھی وہاں موجود تھے۔اس کا باپ آئی سی یو میں تھا۔ وارڈ کے باہر وہ اور اس کی ماں روروکراللہ سے شیرعلی کی صحت کی دعائیں مانگتے رہے اوراندرڈاکٹراپنی کوششیں کرتے رہے لیکن فرشتہ اللہ کی طرف سے کچھ اورذمہ داری لے کرآیاتھا۔
اورپھرچارگھنٹے کے طویل اورجان لیواانتظارکے بعدانہیں وہ خبرسنادی گئی جس کوسننے کے لئے نہ کان تیارتھے اورنہ ہی روح راضی تھی۔
شیرعلی کی تدفین پرسفیراورغزالہ اپنے چاروں بچوں سمیت آئے تھے۔ ڈیڑھ مہینہ یہاں رہے اورپھرچلے گئے۔حیدراورغزالہ کادل بالکل نہیں کررہاتھازبیدہ اوردوبچوں کوچھوڑ کرجائیں لیکن وہاں کاروبارکامسئلہ تھاسوانہیں جاناہی پڑا۔لیکن انہیں تھوڑاسااطمینان صارم کی طرف سے تھاکہ اس چودہ سالہ بچے نے جس طرح اپنے آپ کومضبوط بناکراپنی ماں کے حوصلوں کوبڑھایاتھاوہ باعثِ اطمینان تھا۔
آپ نے بلایا؟؟ وجیہہ ریلنگ کے پاس آ کرآہستہ آوازمیں بولی۔ اس کی آواز صارم کو سوچوں کی دنیا سے واپس کھینچ لائی۔
وہ کچھ دیروجیہہ کی طرف دیکھتارہا۔۔ہمیشہ سنجیدگی کی دبیزچادراوڑھے کیپٹن صارم شیرعلی کے چہرے پرمسکراہٹوں ہی کے بسیرے تھے آج۔۔۔۔
’’ہاں بلایا توتھا۔۔۔۔لیکن تم نے آنے میں اتنی دیرکردی کہ میں نے ایک باراپنی گزشتہ زندگی کوچھان ماراہے اوربھول گیاہوں کہ تم سے کیاکہناتھا۔وہ اس کی طرف دیکھتے مسکرارہاتھا۔ وہ سمٹ گئی۔ بھلاصارم بھی کبھی ایسے مسکراسکتاہے۔ وہ سوچتی رہی لیکن کچھ بولی نہیں۔
’’وجیہہ تم مجھ سے اتنی دوردورکیوں رہتی ہو؟؟‘‘
وجیہہ نے ایک لمحے کوحیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔یہ کیساسوال تھا۔؟؟
’’ میرامطلب ہے کہ ریحان کے ساتھ تمہاری اچھی دوستی ہے لیکن مجھ سے تم ہمیشہ اکھڑی اکھڑی رہتی ہو۔۔‘‘ اس نے اپنی بات کی وضاحت دی۔
’’ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔‘‘ وہ بدستورنیچے دیکھتی رہی۔
’’ یہ نکاح واقعی تمہاری مرضی سے ہواہے نا؟؟؟‘‘
وہ ایک بارپھراس کی طرف حیرانی سے دیکھنے لگی۔یہ بھی کچھ عجیب ساسوال تھا۔وہ خاموش رہی۔
’’ وجیہہ مجھے امی نے کہاتھاکہ تم سے رشتے کے بارے میں رضامندی لی گئی ہے اورتمہیں کوئی اعترض نہیں ہے لیکن میں ایک بارخودتم سے پوچھناچاہتاتھا۔وہ اس لئے اول تومیرااور تمہاراسامنا کم ہی ہواہے اورجب ہوابھی ہے توکبھی تم نے سلام سے آگے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔جب ہم سب گھروالے ایک ساتھ بیٹھے ہوتے تھے تب بھی تم اکثرمجھے اگنور کررہی ہوتی تھی۔اکثرمیری طرف سے رخ موڑکربیٹھ جاتی۔ایسی ہی باتوں کے بعدمجھے لگاکہ تم شایدمجھے پسندنہیں کرتی۔ میں تمھیں پسندکرتاتھااورکرتاہوں۔ تب سے کرتاہوں جب ہم چھوٹے تھے اورتم لوگ تایا، تائی کے ساتھ یہاں چھٹیوں میں آیاکرتے تھے۔تمھیں یادہے نا! جب ابواورتایاگاؤں جاتے تھے توتم بہت رویاکرتی تھی اورتب میں تمہیں قریبی پارک میں اپنی سائیکل پرلے جایاکرتاتھااورتمہیں وہاں جھولے دیاکرتاتھا۔ میری پسندیدگی تب کی ہے لیکن جب سے تم لوگ یہاں آئے ہو تمہارے رویّے سے مجھے لگتارہاکہ تم مجھے کچھ خاص پسند نہیں کرتی۔جب امی نے مجھے تمہاری رضامندی کے بارے میں بتایاتومجھے لگاتم سے پوچھے بغیرتایا، تائی نے ہاں کردی ہوگی اس لئے میں نے امی سے ضدکی کہ میں تم سے ملناچاہتاہوں اورخود ایک بار پوچھنا چاہتا ہوں تم سے لیکن تایانے ایسی کسی بات سے منع کردیاتھامجھے۔وہ کہہ رہے تھے کہ سب کچھ تمہاری رضامندی سے ہورہاہے اورویسے بھی اس بات کایقین تومجھے اس لئے بھی تھاکہ تایاتم لوگوں سے اتناپیارکرتے ہیں وہ زبردستی تونہیں کریں گے تمہارے ساتھ لیکن پھربھی مجھے لگ رہاتھاکہ تم مجھے پسندنہیں کرتی تو۔۔۔۔‘‘
’’ ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھ سے مرضی پوچھی گئی تھی۔‘‘ وجیہہ نے اس کی بات کاٹ کرکہا۔
’’ اورتمہاری رضاسے ہواہمارانکاح؟؟‘‘
’’ جی۔۔‘‘یک لفظی جواب آیا۔ صارم کے چہرے پرمسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔ اس نے ایک گہری سانس لی جیسے اس کے دل سے کوئی بوجھ ہٹ گیاہو۔ مسکراتا تووہ اکثرتھااور اس کی مسکراہٹ ہمیشہ اچھی بھی لگتی تھی لیکن آج مسکان کے ساتھ خوشی بھی جھلک رہی تھی۔
’’ پھرمیرے ساتھ ایسارویہ کیوں رکھتی تھی کہ مجھے لگتارہاکہ میں تمہیں ناپسند ہوں؟؟‘‘
’’ ایسی کوئی بات نہیں ہے بس آپ ہروقت سنجیدہ سے رہتے تھے اورباتیں بھی اتنی کم کرتے ہیں کہ میں آپ سے کیسے بات کرتی۔ریحان توبہت باتیں کرتاہے بچپن سے ہی اس لئے اس کے ساتھ کافی دوستی ہے۔‘‘ اس نے اپنے رویے کی وضاحت دی جوصارم کوپریشان کررہاتھا۔
’’ باتیں کم کرتاہوں تواس کایہ مطلب تونہیں کہ مجھے اگنورہی کردیاجائے اوریاپھر میں کسی کوپسندنہیں کرسکتا۔ ‘‘
’’پسند؟؟؟؟ ‘‘وہ حیران ہوئی
’’ہاں پسند۔۔۔بلکہ صرف پسند نہیں شدید پسند یاپھر۔۔۔‘‘وہ مسکرایا۔۔
’’ آپ نے کبھی بتایانہیں۔‘‘ وجیہہ حیران ہورہی تھی۔
’’ صرف تمہیں نہیں بتایا۔امی جانتی تھیں اورانہوں نے تایا،تائی کوبھی بتایاتھا۔ ریحان بھی اکثرتمہارے حوالے سے تنگ کرتاتھامجھے۔ اورتایاسے توامی نے تب بات کی تھی جب تم لوگ یہاں شفٹ بھی نہیں ہوئے تھے۔ لیکن وہ بات کچھ زیادہ اہم بات نہیں تھی۔امی جانتی تھیں کہ میں تمہیں پسندکرتاہوں لیکن میں نے انہیں منع کیاتھاکہ کسی سے اس حوالے سے بات نہ کریں۔ اگرتایاسے بات کرنی بھی ہے تووہ یہی کردیں کہ جب تمہاری شادی کے لئے سوچاجائے اوراگرتم تایا،تائی کی مرضی سے کرنا چاہوتومیرے حوالے سے بھی سوچاجائے۔ایسامیں نے اس لئے کہا تھاکہ اگرتم کسی کوپسندکروتوپھرمیرے رشتے کوچھوڑکرتمہاری مرضی کو دیکھا جائے۔ وجیہہ میں تمہیں پسندکرتاہوں اورجب بھی گزشتہ زندگی میں اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچاتوصرف تمہارے حوالے سے سوچالیکن اس کایہ مطلب نہیں تھاکہ تم پرمجھے مسلط کردیا جائے۔ تمہاری خوشی زیادہ اہم تھی۔۔۔‘‘ ہمیشہ اپنی زندگی میں مگن رہنے والاصارم شیرعلی آج برملا اپنی پسند کا اظہار کر رہا تھا اور وہ دل کے کانوں سے سن رہی تھی۔وہ مردتھاتوبرملاکہہ رہا تھا وہ تولڑکی تھی کیسے بتاتی کہ اس کے احترازاورگریز کی وجہ صارم کے لئے اس کی پسندیدگی تھی۔ سنجیدگی کے خول میں لپٹاصارم کب اس کے دل میں اترگیاتھااسے پتابھی نہیں چلا تھا۔ اس نے توکبھی زیادہ باتیں بھی نہیں کی تھیں اس سے۔اورپھروہ اس کی طرف سے صرف’منہ‘ موڑکربیٹھتی تھی ’کان‘ تواس کی آوازپرہی ہوتے تھے اوراس کی پسنداتنی پرانی نہیں تھی جتنی صارم کی تھی۔ دوسال پہلے ہی سفیر علی اپناکاروباروہاں سے ختم کرکے پاکستان واپس آگئے تھے اوراسی گھرمیں اوپروالے پورشن میں رہنے لگے تھے۔ صبیحہ کی شادی توانہوں نے پہلے ہی اپنے دوست کے بیٹے سے کر دی تھی۔
*******
’’اَبو۔۔۔۔۔
اَمی۔۔۔۔۔
نعمان۔۔۔۔
شالو۔۔۔۔۔
اس کی چیخ وپکارپرباورچی خانے میں مصروف شاہدہ اوردونوں بچے نعمان اورشائلہ، بھاگتے ہوئے برآمدے میں آئے۔وہ سب جانتے تھے کہ آج اس کا آٹھویں کے اِمتحان کانتیجہ آناتھا۔
’’کیاہوابیٹانتیجہ کیساآیا؟؟‘‘ ماں نے جلدی سے پوچھا۔
جواب میں اس نے کچھ کہنے کے بجائے بھاگ کرماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
اورشاہدہ سمجھ گئی کہ اس کافیصل آج پھراسے سُرخرو کر گیاہے۔اس کی آنکھوں میں پانی کے قطرے جھلملانے لگے جِسے اس نے روکنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ خوشی کے آنسو ہی توتھے۔
وہ ایساہی تھا۔ہرخوشی کے موقعے پرکچھ کہے بغیربھاگ کرماں کے گلے میں بانہیں ڈال لیتا تھا۔آج بھی اس نے یہی کیا۔ماں سمجھ گئی تھی۔
’’بھیااب بتابھی دیں کہ رزلٹ کیساآیاآپ کا؟؟؟‘‘
ننھی شائلہ نے معصوم آواز میں پوچھا۔
’’ارے شالوتمہارابھیافرسٹ آیاہے۔۔‘‘ فیصل نے اسے اٹھاکرگول گول گھماتے ہوئے کہا۔
’’لوجی۔تواس میں کونسی نئی بات ہے؟؟ آپ توروزہی فرسٹ آتے ہیں۔‘‘نعمان منہ بناتے ہوئے بولا۔
’’لیکن امی! بھیاتوفرسٹ آئے ہیں پھرآپ روکیوں رہی ہیں؟‘‘ ننھی شائلہ حیران ہوئی تھی کیوں کہ آج تک اس نے کسی کوفرسٹ آنے پرروتے ہوئے نہیں دیکھاتھا۔
’’ا چھاتم دونوں جاؤاندر۔کھیلوجاکے۔‘‘ فیصل نے ان دونوں کواندربھیج دیا کیونکہ اس کے یاشاہدہ دونوں میں سے کسی کے پاس ان کے سوالوں کاجواب نہیں تھا۔ کیونکہ سات سالہ نعمان اور پانچ سالہ شائلہ خوشی کے آنسونہیں جانتے تھے۔
’’شائلہ مجھے لگتاہے کہ بھیانے ہم سے جھوٹ بولاکہ وہ فرسٹ آئے ہیں اگر وہ فرسٹ آتے توامی کیاایسے روتیں؟؟‘‘سات سالہ نعمان نے جیمزبانڈ فلموں کے ہیروکی طرح گول گول آنکھیں اِدھرادھر گھماتے ہوئے مشکوکانہ اندازمیں کہا۔
’’ہاں مجھے بھی لگتا ہے کہ بھیافیل ہوگئے ہیں اِسی لئے امی رورہی تھیں‘‘۔۔ شائلہ اپنی سمجھ کے مطابق دورکی کوڑی لائی تھی۔
’’بس پھرتومزاآئے گا۔آج ابوآکربھیاکوبھی پیٹیں گے۔۔۔ جیسے مجھے روزمارتے ہیں۔‘‘نعمان خوش ہوتے ہوئے بولا۔
’’لیکن تم توسکول نہیں جاتے نا!اِس لئے تمہیں مارپڑتی ہے ابوسے۔ بھیاتو روزسکول جاتے ہیں۔‘‘
شائلہ کواپنے بھیاکے بارے میں نعمان کی بات بری لگی تھی اوراحتجاجاًاس نے کھیلنابندکر دیا تھااس کے ساتھ۔
اورچھوٹانعمان اِس بات پردِل ہی دِل میں خوش تھاکہ بھیابھی آج ابوسے مارکھائے گا۔
********
’’مجاہداللہ۔۔۔۔۔۔۔
مجاہد۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
حمزہ نے اسے ہلایا۔وہ جواتنی دیرسے سوچوں میں مگن تھاایک دم سے جاگ اُٹھا۔
’’آں!!۔۔۔ہاں کیاہوا؟؟؟ ‘‘
’’مجھے توکچھ نہیں ہوالیکن تمہیں ضرورکچھ بڑاہوگیاہے۔اتنی دیرسے ناشتہ تمہارے سامنے پڑا ہے اورپڑے پڑے ٹھنڈابھی ہوگیاہے اورتم ہوکہ پتانہیں کہاں گم ہو۔۔۔۔‘‘
’’ نہیں کچھ نہیں۔۔میں کرتاہوں ناشتہ۔۔۔اوروہ ناشتہ کرنے لگا۔‘‘
’’مجاہد۔۔۔۔۔‘‘ اس نے آہستہ سے اسے پکارا۔وہ سراٹھاکراس کی طرف دیکھنے لگا
’’ تم ٹھیک ہو؟؟؟‘‘
’’ ہاں میں ٹھیک ہوں۔بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
’’ اچھاٹھیک ہے۔‘‘
حمزہ کمرے سے باہرنکل گیااوروہ ناشتہ کرتے ہوئے ایک بارپھرسوچنے لگا۔
حمزہ کے منہ سے نکلنے والانام 146146مجاہد145145 اس کی دماغ میں تیرکی طرح لگاتھا۔۔۔

’’ظفرکے ابا!‘‘رات سونے کے لئے لیٹتے ہوئے جمیلہ نے فضل سے کہا۔
’’ہوں۔۔۔۔۔‘‘
’’بچے کانام کیارکھیں گے ؟؟؟‘‘
’’جوتمہاری مرضی ہو۔‘‘مختصرساجواب آیا۔
’’لیکن پہلے بچوں کے نام توتم نے رکھے ہیں۔‘‘
’’توٹھیک ہے اس بچے کانام تم رکھ لو۔ویسے کچھ سوچاہے تم نے ؟؟؟‘‘ وہ الٹااسی سے پوچھ بیٹھا تھا۔
’’ ظفرکے ابا۔مجھے تورحمت اللہ نام بہت پسندہے۔‘‘
’’ھم م م م۔۔۔۔۔۔ اچھاہے۔‘‘ فضل کاجواب ایک بارپھرمختصرساتھا۔
’’ ہم نے اللہ سے بیٹی کی دعاکی تھی کہ وہ ہمیں بیٹی دے دے ،اپنی رحمت دے دے ہمیں لیکن اللہ نے ہمیں اگربیٹادے دیاہے توہمیں اس کاشکراداکرنا چاہئے۔‘‘
’’ہاں ظاہر ہے۔۔۔ بڑاشکرہے اس ذات کا۔‘‘
’’اب اللہ، ان شاء اللہ اسی بچے کوہمارے لئے رحمت بنائے گا۔‘‘
’’ان شاء اللہ۔۔۔۔۔‘‘ایک بارپھرمختصرجواب تھا۔
’’ بچے بھی توبہت خوش ہیں چھوٹے کودیکھ کر۔‘‘جمیلہ کااشارہ ان دونوں کے باقی چاربچوں کی طرف تھاجواس وقت دوسرے کمرے میں سورہے تھے۔
’’بس ٹھیک ہے ہمارے بیٹے کانام رحمت اللہ ہے۔۔‘‘جمیلہ نے مسرت سے بچے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ ٹھیک ہے۔‘‘فضل نے بھی تائیدکی۔۔۔
اوریوں اس کانام رحمت اللہ رکھ دیاگیا۔۔
********
تمھارا نام کیاہے ؟؟؟؟؟
سیف اللہ ۔۔۔۔۔۔ اور تمھارا؟؟؟؟؟؟
مجاہداللہ۔۔۔۔
کب سے ہویہاں پر؟؟؟؟؟ اس نے پھر پوچھا۔۔
پچھلے دومہینے سے ۔ وہ مختصرسے جواب دیتا رہا۔
اچھا۔دراصل مجھے بھی تمھارے ساتھ اسی کمرے میں رہناہے ۔منتظم نے مجھے اسی کمرے کا کہا ہے ۔
تو ٹھیک ہے نا۔رکھو اپنا سامان اورجب چارپائی آجائے تولے لینا۔وہ تو بہت غصے میں لگ رہا تھاپتا نہیں کیوں۔
اورکتنے لوگ ہیں اس کمرے میں؟؟؟؟ اس نے پھر پوچھا۔
تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھم م م م۔۔تو مطلب چار لوگوں کے ساتھ رہناپڑے گا۔خیر کوئی بات نہیں کچھ نہ کچھ ہوہی جائے گا۔اس نے اپنے ساتھ ہی سرگوشی کی۔
مجھ سے کچھ کہا؟؟؟؟؟ سیف اللہ نے سراٹھا کرپوچھا۔وہ ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔
نہیں نہیں۔۔کچھ بھی نہیں کہا۔میں تمھارے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں جب تک میری چارپائی نہیں آجاتی۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
سیف اللہ نے کچھ کہنے کے بجائے اپنے پھیلے ہوئے پیرسکیڑ لئے ۔اس کا مطلب تھا کہ اسے بیٹھنے کی اجازت مل گئی ۔
وہ کچھ کہے بغیرچارپائی پر پائینتی کی طرف بیٹھ گیااورانتظار کرنے لگا کہ کب منتظم آکراسے چارپائی لانے کے لئے بلاتا ہے ۔اسے کہا گیاتھا کہ اس کے لئے چارپائی کا انتظام کیاجارہاہے اور کچھ ہی دیر میں اسے اطلاع کر دی جائے گی۔پھروہ آکرچارپائی اپنے کمرے میں لے جائے ۔اسے سب سے پہلاسبق یہ دیا گیا کہ یہاں پراسے اپنے سارے کام خودکرنے پڑیں گے ۔وہ کسی سے کوئی مدد نہیں مانگے گا۔
وہ جہاں سے آیا تھا یہی سب اس نے وہاں بھی سیکھا تھا اوراب تک اسے جن قوائد و قوانین کے بارے میں بتایا گیا وہ اس کے لئے نئے نہیں تھے ۔اپنے سارے کام وہ پہلے ہی سے خود کرنے کا قائل تھا۔اورکسی بھی کام کے لئے سہارا لینے کابھی وہ قائل نہیں تھا۔وہ اُنیس سال کاجوان لڑکا تھا۔ اپنے آپ کوخوب اچھی طرح سنبھال سکتا تھا۔صحت کے لحاظ سے بھی وہ ایک بھرپورجوان تھا۔
اس کے انتظارکاعرصہ زیادہ طویل ثابت نہ ہوا۔تقریباً دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ منتظم نے آکراسے بتایاکہ وہ اپنے لئے چارپائی لے آئے ۔ان دس منٹ کے اندراندر وہ سارے کمرے کا ایک بھرپورجائزہ لے چکاتھااورفیصلہ کرچکا تھا کہ اسے اپنی چارپائی کہاں رکھنی ہے ۔وہ اٹھ کر منتظم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا جواسے عمارت کے پیچھے سے گھماتا ہوا ایک بڑے اورخالی کمرے میں لے آیا۔ وہاں پرکچھ چارپائیاں پڑی تھیں۔
ان میں سے ایک لے جاؤ اپنے کمرے میں۔ منتظم نے کہا۔
وہ چپ چاپ آگے بڑھا اور ایک چارپائی کو سیدھا کرکے اٹھایا اوراپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گیا۔۔
کھانے کے وقت آجانااورسکون سے رہنااپنے کمرے میں۔کوئی جھگڑا نہیں ہوناچاہئے اور یہ بھی یاد رکھو کہ بڑے مولانا صاحب آپس میں لڑائی جھگڑے کوسخت ناپسند کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
نا ول ’دام لہو‘ کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔ کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میں زمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 257 times

1 comment

  • Comment Link Aabdar Hidayat JAn Aabdar Hidayat JAn 30 September 2017

    Very Nice ..
    Keep your good work up.

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter