دھرتی کا بہادر سپوت

تحریر:لیفٹیننٹ عاصمہ

(پاکستان نیوی)

ایک جانب آگ کے پھیلتے اور بلند ہوتے شعلے تھے تو دوسری طرف گولیوں کی بوچھاڑ،اسلحے بارود کی بو اور آگ کا دھواں کسی کے بھی حواس گم کرنے کے لئے کافی تھے لیکن جاوید احمدکے لئے ان میں سے کچھ بھی اہم نہ تھا،یہ سب چیزیں ان کی راہ نہیں روک سکتی تھیں۔۔۔آگ کے شعلوں سے تو ان کا 26 برس پرانا تعلق تھا اور بارود کی بو انہیں صرف یہ یاد دلاتی تھی کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں نہ صرف ان کے عزیز وطن کی حرمت کو للکارا ہے بلکہ ان کے چند ساتھیوں کی سانسیں بھی چھین لی ہیں۔۔دشمن کی نفرت اور وطن سے محبت انہیں اپنے کام سے پیچھے نہ ہٹنے دیتی تھی،وہ دشمن کو یہ باور کروانا چاہتے تھے کہ وہ کچھ بھی کر لے اس وطن کے متوالوں سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔۔اس مٹی کی محبت میں مخمور اس کا ہر بیٹا اس کا سپاہی بن کر اپنے خون کے آخری قطرے اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس دیس کی حفاظت کرے گا۔ 27 نومبر 1984 کو پاک بحریہ میں شمولیت اختیار کرنے والے جاوید احمد 26 برس تک پاک بحریہ میں خدمات انجام دینے کے بعد پی این ایس رضا میں متعین تھے جب 22 مئی2011 کو دہشت گردوں نے پی این ایس مہران پر شب خون مارنے کی کوشش کی۔اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے جاوید احمد لیڈنگ فائر مین بلا تاخیر اپنی ٹیم کو تیار کر کے اس کی قیادت کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچے اور اپنے فرائض کی ادائیگی انتہائی دلیری سے ادا کی۔ وہ بنا کسی خوف کے آگے بڑھتے رہے اور اپنی ٹیم کے قائد ہونے کے ناتے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بھی بڑھاتے رہے۔۔ان کے الفاظ اور جذبات میں اس قدر طاقت تھی کہ ان کے ساتھی ان کی ہر صدا پر لبیک کہتے ہوئے موت کے خوف سے بے نیاز آگے بڑھتے گئے اور دشمن کی لگائی ہوئی آگ پر اپنے عزم سے قابو پاتے رہے۔

dhartikabahdar.jpg
وطن کی محبت سے سرشار جاوید احمد لیڈنگ فائر مین گولیوں کی بوچھاڑ کے باوجود اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور قوم کے قیمتی اثاثہ جات کی حفاظت کے لئے ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔اس کڑے وقت میں انہیں نہ اپنی جان کی پروا تھی نہ دہشت گردوں کا خوف ۔۔فکر تھی تو صرف یہ کہ ملک و قوم کے قیمتی اثاثوں کو نقصان نہ پہنچے کیونکہ ان اثاثوں کی بقاء ہی قوم کی بقاء کی ضمانت تھی۔دہشت گردوں کی جانب سے اندھا دھند گولیاں برسائے جانے کے باعث جاوید احمد شدید زخمی ہو گئے لیکن پھر بھی انہوں نے پیش قدمی جاری رکھی۔۔زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جب وہ گرے تو دوبارہ اٹھ نہ سکے ۔ان کا جسم چھلنی ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود ان کا جذبہ اور ہمت جوان تھے۔ وطن عزیز کے دفاع کی لگن ابھی بھی پوری آب و تاب سے زندہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنے کے لئے ہدایات دیتے رہے۔ان کی زبان پر صرف یہی الفاظ تھے کہ ’’یا اللہ مجھے ہمت عطا کر کہ میں اپنا مشن پورا کر سکوں۔‘‘ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاوید احمد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے لیکن بلا شبہ ان کے عزم اور حوصلے نے ان کے ساتھیوں میں وہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے لڑتے رہے یہاں تک کہ حملہ آور اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور پاک بحریہ کے قیمتی اثاثے محفوظ رہے۔


جاوید احمد کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک دیندار اور اللہ کی مخلوق سے محبت کرنے والے انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار شخص تھے ۔وہ حقیقی معنوں میں ایک لیڈر تھے اور ہمیشہ اپنی ٹیم کے لئے جرأت و بہادری کا عملی نمونہ بنے رہے۔ جن دنوں دہشت گردوں نے یہ بزدلانہ حملہ کیا آپ کی ترقی ہونے والی تھی لیکن قسمت نے آپ کو ایک ایسے رتبے پر فائز کر دیا جو ہر شخص کا نصیب نہیں بنتا اور جہاں تک پہنچنے کی صرف آرزو ہی دلوں میں رہ جاتی ہے۔
جاوید احمد لیڈنگ فائر مین کو ان کی شجاعت و بہادری کے اعتراف میں ستارہ شجاعت سے نوازا گیا ۔

 
Read 229 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter