سر۔۔۔!میں نے کیسی فائٹ کی ؟

تحریر: عفت حسن رضوی

آپریشن خیبر فور کے شہید جواں سال سپاہی عبدالجبار کی دلیری کی داستاں

یہ 19جولائی تھی،خیبرایجنسی کی راجگال وادی میں فجر کی سپیدی نمودار ہونے کو تھی، سپاہی ایک مشکل معرکے کے لئے تیار تھے، نماز فجر پڑھی گئی،سب ہی نے آپریشن میں کامیابی کی دعا مانگی، مگر ایک نوجوان نے ہاتھ بلند کئے اور آنکھیں موندے اپنے رب سے کامیابی کے ساتھ شہادت مانگنے لگا۔ یہ سپیشل سروسز گروپ، سیون کمانڈو بٹالین (ببرم )کا کمانڈو عبدالجبار تھا۔
دن گزرا اور وہ رات بھی آگئی جس کا 23 سالہ عبدالجبار کو بڑی شدت سے انتطار تھا، بارہ جوانوں پر مشتمل ٹیم کو وادی راجگال میں ایک پہاڑ کی بلندی پر موجود دہشت گردوں کی کمین گاہ پر آپریشن کا ٹاسک ملا، ان جانبازوں کے لئے سب سے پہلا چیلنج اس چوٹی کا دشوار گزار گھنا جنگل تھا، رات اڑھائی بجے یہ جوان بلندی پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانے کے عین سامنے موجود تھے، دائیں جانب کی فرنٹ پوزیشن پر عبدالجبار اور سپاہی دانش موجود تھے، دہشت گردوں سے لڑائی کا آغاز ہوا تو انہوں نے پہلے ہی وار میں چھ ملک دشمن مار ڈالے، گولیوں کی گونج وادی راجگال کے سناٹے میں پلٹ کر سنائی دے رہی تھی، رات کا اندھیرا اپنے پَر پھیلائے ہوئے تھا، روشنی کا واحد ذریعہ سیاہ آسمان پر چمکتے چاند کی چاندنی تھی۔ ایسے میں عبدالجبار کی نظر دو بزدل دہشت گرد وں پر پڑی جو پہاڑ کی چوٹی کی جانب بھاگ رہے تھے، یہ فیصلہ کن لمحہ تھا، عبدالجبار بھی مردانہ وار پیچھے بھاگا، ساتھی دانش سپاہی عبدالجبار کا شانہ پکڑ کر چلایا ’’یار اوپر سے مزید فائر آسکتا ہے ان کے پیچھے نہ جاؤ‘‘ مگر عبدالجبار نے شانہ چھڑایا اور جیسے کسی قہر کی طرح دہشت گردوں پر ٹوٹ پڑا، ساتویں دہشت گرد کو واصل جہنم کیا تو ایس ایس جی کے جوانوں کی زبانی مشہور ’’دھوکے کا پھندہ‘‘ یعنی زیر زمین چھپی آئی ای ڈی پر عبدالجبار کا پاؤں پڑ گیااور یہ جوان ایک زوردار دھماکے میں زخمی ہوگیا۔

sirmainnainkesifight.jpg
عبدالجبار کے حوصلے کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اس کے ساتھی حیران تھے کہزخمی عبدالجبار کے چہرے پر تکلیف کی رمق تک نہ تھی۔ زخمی عبدالجبار کی مدد کے لئے ہیلی کاپٹر بروقت پہنچا مگر ہیلی کاپٹر اس ناہموار دشوار گزار پہاڑی پر لینڈ کہاں کرتا، چیڑ کے گھنے جنگل میں ائیر لفٹ کرنا بھی ممکن نہ تھا، راستے ساتھ نہیں دے رہے تھے اور زخم تھے کہ تکلیف بڑھتی ہی جارہی تھی، اپنا دھیان ہٹانے کے لئے عبدالجبار ہر تھوڑی دیر بعد ساتھیوں سے یہی سوال کرتا ’’یار میری فائٹ میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی؟‘‘ عبدالجبار زخموں سے چور تھا۔ اپنے سی او کو دیکھتے ہی پوچھنے لگا ’’سر میں نے کیسی فائٹ کی ہے ؟‘‘ سی او نے قریب آکر عبدالجبار کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا تو نے وہ کام کردیا جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔


عبدالجبار نے جس کامیابی اور شہادت کی دعا نمازِ فجر میں مانگی تھی وہ قبول ہوگئی تھی۔یہ اس جری جوان کی ہمت کا ثمر تھا کہ دہشت گردوں کی کمین گاہ، اب پاک فوج کے قبضے میں تھی، علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر کرالیا گیا تھا اور پہاڑ کی چوٹی پر سبز ہلالی پرچم جھوم جھوم کر پیام امن سنا رہا تھا۔


20 جولائی کو خبر ملی کہ سپیشل سروسز گروپس اور فوجی جوانوں کے دستوں کی کامیابیاں رنگ لارہی ہیں، وادی راجگال میں جاری آپریشن خیبر فور میں نوے اسکوائر کلومیٹر کا علاقہ خالی کرالیا گیا ہے، آئی ایس پی آر کی جانب سے دی جانے والی خبر میں اس کامیابی کے پیچھے چھپا ایک نام بھی درج تھا، شہید کمانڈو عبدالجبار۔۔۔۔۔


معلوم کرنے پر جب یہ علم ہوا کہ شہید کا تعلق گوجر خان سے ہے، تو میں نے اسلام آباد سے فوری قصد سفر کیا، شہید کے والد سے فون پر راستے پوچھتی رہی اور آخر کار ان کے آبائی علاقے میں پہنچ گئی۔ عبدالجبار کی شہادت کو ابھی چار روز گزرے تھے، پورے علاقے کی فضا بظاہر سوگوار تھی مگر جس کسی سے بھی عبدالجبار کی شہادت کا تذکرہ ہوتا، جواب میں جیسے کسی چٹان کی طرح سپاٹ،سخت مگر پرعزم بات سننے کو ملتی، شہید کے والد جو خود بھی 2002 میں بطور نائیک ریٹائر ہوئے تھے، اُن سے میں نے بکھری ہوئی یادوں کو سمیٹنے کا کہا۔ یہ فوجی لوگ ہیں انہیں کہاں ہماری طرح فر فر زبان اور قلم چلانا آتا ہے، شہید عبدالجبار کے والد دھیمی آواز میں بولے ’’فوج میں میرے والد سپاہی رہے، میں خود بیس سال وطن کی خاطر سینہ سپر رہا،مگر شہادت صرف میرے بیٹے کے حصے میں آئی۔ لگتا ہے میرے والد کی محنت وصول ہوگئی، وہ سخت ٹریننگ کے بعد میدان حرب میں نیا نیا وارد ہوا تھا، اس کی منزل وطن کے لئے جان وارنا تھی، اسے شہادت مطلوب تھی سو مل گئی۔‘‘

نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کار سپانڈنٹ عفت حسن رضوی، بلاگر اور کالم نگار ہیں، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔

@IffatHasanRizvi

 
Read 469 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter