پاک بھارت جنگ 1965ء

تحریر: فاروق اعظم

جنگِ پینسٹھ ہماری ملی تاریخ میں صرف دفاع ہی نہیں فتح بھی ہے

1965ء کی جنگ کو نصف صدی بیت چکی، تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی اُس پہلی باقاعدہ جنگ پر بحث و تمحیص کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہوا۔ پچاس سال کا عرصہ کسی ملک یا قوم کے لئے کم نہیں ہوتا۔ کامیاب وہ ہیں جو ماضی سے سیکھیں، حال کو سنواریں اور مستقبل کو روشن تر کریں۔ 65ء کے بعد یہ 52واں ماہِ ستمبر ہے، اس کے باوجود ہندوستانیوں نے یہ بحث شروع کردی ہے کہ جنگ 65ء میں جارح اور فاتح کون تھا؟ دو برس قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنگِ پینسٹھ کے پچاس سال مکمل ہونے پر جشنِ فتح منانے کا اعلان کیا تھا، جس سے جھوٹ پر مبنی بحث چھیڑی گئی۔ جنگِ 65ء کے تناظر میں عموماََ دو نکات زیر بحث رہتے ہیں کہ:
۱ ۔ جنگ شروع کس نے کی تھی یا جارحیت کا مرتکب ملک کون سا تھا؟
۲ ۔ جنگ میں شکست کسے ہوئی تھی یا فاتح ملک کون سا تھا؟
ممکن ہے کہ یہ کہہ دیا جائے کہ اس بحث میں اب پڑنے کی ضرورت کیا ہے؟ جنگ کو گزرے 52 برس ہوچکے ہیں۔ اب کسی ملک کو جارح قرار دینے سے اس کا کیا بگڑے گا؟ یا پھر فاتح کہلوانے کا فائدہ کیا ہوگا؟ جب کہ پاکستان اور بھارت کی فوجیں 1966ء کے معاہدۂ تاشقند کے تحت جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جاچکی ہیں۔ بظاہر یہ ایک لایعنی بحث ہے، لیکن بعض طبقے اس کی آڑ میں حسب ذیل نکات اٹھاتے ہیں:
1۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں حقائق مسخ کرکے غلط تاریخ شامل کی گئی ہے۔
۲۔ محمد بن قاسم کی فتح سندھ سے اب تک جنگوں میں مسلم سپہ کی بہادری کی خودساختہ داستانیں بیان کی جاتی ہیں۔
۳۔ پاکستان نے ہمیشہ جارحیت کی ہے اور شکست اس کا مقدر بنی ہے۔
۴ ۔ پاک فوج بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرنے کے باوجود کبھی ملک کا دفاع نہیں کرسکی۔
۵ ۔ کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں نہیں ہیں۔ 1965ء میں کشمیریوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں پاکستان ناکام رہا۔
ان حالات میں اس بحث کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ یہ براہ راست نسلِ نو کے ناپختہ ذہنوں پر حملہ ہے۔ اگر اس پروپیگنڈے اور پھیلائی گئی الجھنوں کا سدِ باب نہ کیا گیا تو حقائق مسخ ہوکر ذہنی انتشار کی خلیج کو مزید وسیع کر سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے حالات و واقعات کو درست پیرائے میں بیان کیا جائے، تاکہ مغالطے رفع ہوکر حقائق منظر عام پر آسکیں۔ لہٰذا اول اس پہلو کو زیر بحث لاتے ہیں کہ 65ء میں جنگ کا آغاز کس نے اور کیوں کیا تھا؟

pakbharatjang.jpg
پاکستان کو جنگ چھیڑنے کا ذمے دار ٹھہرانے والے عموماََ ’’آپریشن جبرالٹر‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں۔ پاکستان کو جارح سمجھنے والوں کا مؤقف ہے کہ جنگِ پینسٹھ کا آغاز چھ ستمبر کی رات لاہور پر حملے کے بجائے اگست سے کیا جائے، جب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج سمیت مجاہدین کو گوریلا کارروائیوں کے لئے داخل کیا تھا۔ جس کی وجہ سے کشمیر میں حالات خراب ہوئے اور بدلے میں بھارت نے لاہور پر حملہ کردیا۔ ہماری رائے میں جنگِ پینسٹھ کا آغاز اگست سے بھی قبل ماہِ اپریل میں ہی ہوگیا تھا، جب بھارت نے رن آف کچھ کے پاکستانی علاقے پر حملہ کرکے اپنی فوجیں داخل کردی تھیں۔ واضح رہے کہ رن آف کچھ صوبہ سندھ میں بھارتی ریاست گجرات کی سرحد سے متصل نگر پارکر سے بحیرہ عرب کی جانب متنازع پٹی سر کریک تک کا نمکین دلدلی علاقہ ہے۔ سرکریک کے غیر آباد خطہ زمین پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدوں کا باقاعدہ تعین نہیں کیا گیا تھا۔ ساڑھے تین ہزار مربع میل پر مشتمل عظیم رن کچھ کا بڑا حصہ گجرات میں ہے۔ بھارت نے اس کے شمالی حصے پر بھی دعویٰ کر رکھا تھا، لیکن چھڈ بیٹ کی چوکی سے یہ پاکستان کے زیر نگرانی تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس خطے پر پہلے بھی فروری 1956ء میں جھڑپیں ہوچکی تھیں۔ تاہم پھر دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے سرحدوں کے تعین کے لئے آمادہ ہوگئے تھے۔


بھارت نے اپریل 1965ء میں ایک بار پھر رن آف کچھ کے پاکستانی علاقے کو طاقت کے بل بوتے پر ہتھیانے کا منصوبہ بنایا۔ جس کے لئے بھارتی فوج نے 5 اپریل کی رات پاک رینجرز کی چوکیوں پر حملہ کردیا۔ اسے معمولی سرحدی چھیڑ چھاڑ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا، کیوں کہ بھارتی فوج کے ڈپٹی کمانڈر انچیف میجر جنرل کمارامنگلم خود وہاں موجود تھے، جب کہ بھارتی وزیرداخلہ بھی اگلی فوجی چوکیوں کا دورہ کر رہے تھے۔ سر پر منڈلاتے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ کو ضروری فوجی اقدامات کی اجازت دی۔ جس پر پاک آرمی کے آٹھویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل ٹکا خان کو رن آف کچھ کے مقبوضہ علاقوں سے بھارتی فوج کو پسپا کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ انہوں نے برگیڈ یر افتخار خان جنجوعہ کو رن آف کچھ بھیجا اور تیار کئے گئے فوجی دستوں کو آگے بڑھایا۔ بالآخر بھرپور فوجی کارروائی کے بعد پاک آرمی نے 27 اپریل 1965ء تک بھارت سے اپنے مقبوضہ علاقے آزاد کرالئے۔ رن آف کچھ میں شرمناک شکست بھارت کے لئے ناقابل برداشت تھی۔ جس پر وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’بھارت اب اپنی مرضی کا محاذ کھولے گا‘‘۔ معرکہ رن کچھ کی مزید تفصیل کے لئے 1965ء میں پاک بھارت جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی خالد محمود کی کتاب ’’رن کچھ سے چونڈہ تک‘‘ ملاحظہ کریں۔


اب آتے ہیں ریاست جموں کشمیر کی جانب، جہاں 1965ء میں بننے والی صورت حال کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ جموں کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے متنازع خطہ ہے۔ 1948ء میں سلامتی کونسل نے پاک بھارت کے مابین جنگ کی کیفیت کے باعث فریقین کو پابند کیا تھا کہ فوری جنگ بندی کی جائے۔ کشمیر سے فوجوں کو نکالا جائے۔ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے۔ ان میں سے پہلا نکتہ بھارت کے مفاد میں تھا، چنانچہ جنگ روک دی گئی۔ تاہم باقی دو نکات اُس وقت تسلیم کرنے کے باوجود بھارت ان پر عمل درآمد سے تاحال انکاری ہے اور اب کشمیر کو اٹوٹ انگ بھی قرار دے رہا ہے۔ یہ خیال رہے کہ بھارتی آئین میں ریاست جموں کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت خصوصی حیثیت اب بھی حاصل ہے۔ اس کے باوجود بھی بھارت نے 1963ء میں کشمیر کو انڈین یونین میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں دسمبر 1964ء میں دفعہ 356-357کو کشمیر پر لاگو کرتے ہوئے قانون سازی اور انتظامی اختیارات بھی سنبھال لئے تھے، جسے کشمیری کسی صورت قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ دوسری جانب بھارت نے کشمیریوں کو مزید محدود کرنے کے لئے جنگ بندی لائن کے آر پار آباد لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر بھی پابندی لگادی تھی، حالانکہ سیز فائر لائن کوئی باقاعدہ سرحد نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر بڑھتی پابندیوں اور متشدانہ رویے نے وہاں کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کو انقلابی کونسل کی تشکیل پر مجبور کیا، جس نے آگے چل کر پرزور تحریک کی شکل اختیار کی۔ کشمیریوں کی یہ جدوجہد حق خود ارادیت کے حصول کی خاطر جاری تحریک ہی کا حصہ تھی۔ لیکن بھارت نے اسے پاکستان کی جانب سے مداخلت قرار دے کر کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کردیں۔ بھارت کے اس الزام پر صدر پاکستان ایوب خان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے جس کا ہم پہلے وعدہ کرچکے ہیں اور وہ یہ کہ ہم کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد میں ان کی حمایت کریں گے‘‘۔


پاکستان اور کشمیری عوام اپنے عمل اور مؤقف میں حق بجانب تھے، لیکن بھارت کو رن آف کچھ کی شکست کا داغ مٹانے کے لئے کسی نئے محاذ کا انتخاب کرنا تھا، جس کی وہ پہلے ہی دھمکی دے چکا تھا۔ اس کے لئے اول کشمیر میں جنگ چھیڑ دی گئی اور آزاد کشمیر کی طرف پیش قدمی کی گئی۔ بعد میں باقاعدہ بین الاقوامی سرحد عبور کرکے لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ کیا گیا۔ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کیا پاکستان سے مجاہدین نے مقبوضہ کشمیر کا رخ نہیں کیا تھا، جس کی مدد پاک فوج کر رہی تھی؟ اس بات سے قطعاََ انکار نہیں کہ جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔ لیکن ہم اسے جارحیت کا رنگ نہیں دے سکتے۔ اول کشمیر ایک متناع ریاست ہے، جس میں سیز فائر لائن بین الاقوامی بارڈر کا درجہ نہیں رکھتی۔ دونوں اطراف کے کشمیری آمدورفت اور آزادانہ نقل و حرکت کا حق رکھتے ہیں۔ دوم پاکستان مسئلہ کشمیر کا فریق ہے، وہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ان کی حمایت کا پابند ہے۔ اگر پاکستان کشمیریوں کی حمایت نہ کرے تو مجرم کہلائے گا۔ سوم کشمیریوں کا اپنی آزادی کی خاطر جدوجہد کرنا دہشت گردی نہیں۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور بھی انہیں اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کا بھرپور حق دیتا ہے۔ اگر بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے بزور قوت محروم نہ رکھتا تو یہ حالات ہرگز پیش نہ آتے۔ 65ء میں بھارت کو بے گناہ ماننے کا مطلب، کشمیر کو متنازع خطہ تسلیم کرنے کے برعکس اُسے بھارت کی باقاعدہ ریاست ماننے کے مترادف ہے۔


یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کی چار طرح کی سرحدیں لگتی ہیں۔ ایک کشمیر کی جنگ بندی لائن (جسے 1972ء کے معاہدہ شملہ کے تحت لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا)۔ اس کے دونوں اطراف کا علاقہ متنازع ہے، یہاں تک کہ کشمیری استصوابِ رائے کے ذریعے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ نہ کرلیں۔ نمبر دو ورکنگ باؤنڈری، جیسا کہ جموں اور سیالکوٹ کے درمیان ہے۔ یعنی ایک طرف سیالکوٹ تسلیم شدہ علاقہ ہے، دوسری جانب جموں تاحال متنازع ہے۔ تیسرا انٹرنیشنل بارڈر ہے، جو پنجاب سے سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔ 1984 کی بھارتی جارحیت کے بعد ہندوستان اور پاکستان کی افواج شمالی علاقہ جات کے سیاچن گلیشیئر سیکٹر میں غیر متعین شدہ مگر اصولی طور پر پاکستانی علاقے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں جس کا لائن آف ایکچو ئیل کانٹیکٹ
LAC,(Line of Actual Contact)
کہتے ہیں۔ بین الاقوامی سرحد کی یہ قسم سراسر بھارتی جارحیت کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ پاک بھارت کے درمیان ایل او سی پر محدود سطح کی جھڑپیں اب بھی جاری رہتی ہیں۔ بڑے گولے بھی داغے جاتے ہیں، لیکن اسے باقاعدہ طبلِ جنگ نہیں کہا جاتا۔ ہاں انٹرنیشنل بارڈر پر یہ کیفیت معمولی قرار نہیں دی جاسکتی۔ ستمبر 1965ء میں بین الاقوامی سرحد عبور کرنے کی جسارت بھارت نے کی تھی۔ 6 ستمبر کو فیلڈ مارشل ایوب خان کا ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ ’’بھارت نے کسی رسمی اعلان جنگ کے بغیر اپنی روایتی بزدلی اور عیاری سے کام لیتے ہوئے اپنی فوج کو پاکستان کی مقدس سرزمین میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو دندان شکن جواب دیں اور بھارتی سامراجیت کو کچل کر رکھ دیں‘‘۔ جنگ پینسٹھ میں بھارت نے مرضی کے محاذ کھولتے ہوئے کس طرح لاہور سے سیالکوٹ، چونڈہ، کھیم کرن اور راجستھان سیکٹر تک جنگ کو وسعت دی تھی، اس کی تفصیل محمد الیاس عادل کی کتاب ’’تاریخ پاکستان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔


اب دوسرے نکتے کو زیر بحث لاتے ہیں، بھارت کو فاتح قرار دینے والے ان کے نقصانات کم اور مفتوحہ رقبہ زیادہ ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری جانب شکست خوردہ کہنے والے نقصانات زیادہ اور مفتوحہ رقبے کی کمی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق 23 ستمبر 1965ء کی صبح تین بجے جب فائر بندی ہوئی تو اس وقت دونوں ملکوں کی افواج کے زیر قبضہ علاقوں کی تفصیل کچھ اس طرح تھی۔ اکھنور سیکٹر میں 340 مربع میل بھارتی علاقہ پاکستانی فوج کے قبضے میں آیا۔ لاہورسیالکوٹ میں ایک مربع میل، کھیم کرن سیکٹر میں 36 مربع میل، سلیمانکی میں 40 مربع میل، راجستھان سیکٹر میں 1200 مربع میل بھارتی علاقے پر پاک فوج نے قبضہ کیا۔ اس طرح کل 1617 مربع میل بھارتی علاقے پر پاکستانی فوج سترہ روزہ جنگ میں قابض ہوئی۔ اس کے برعکس بھارتی فوج کارگل میں 10مربع میل، ٹٹوال میں 2 مربع میل، اڑی پونچھ میں 170 مربع میل، سیالکوٹ 140 مربع میل، لاہور سیکٹر میں 100 مربع میل اور راجستھان سیکٹر میں 24 مربع میل پاکستانی علاقے پر قابض ہوئی۔اس طرح بھارتی فوج نے کل 446 مربع میل پاکستانی علاقے پر قبضہ کیا۔ اس کے برخلاف بھارت کو فاتح قرار دینے والے اُن کی افواج کے زیر قبضہ رقبے کو 1800 مربع کلو میٹر اور پاکستان کے زیر قبضہ رقبہ کو 550 مربع کلو میٹر بیان کرتے ہیں۔ یہی تضادات افواج کے جانی نقصان، جنگی طیاروں اور ٹینکوں کی تباہی میں بھی نظر آتے ہیں۔ اس پر ایک تحقیقی تجزیہ جان فریکر نے پیش کیا ہے۔ وہ برطانوی میگزین ’’ایروپلین‘‘ کے ملٹری ایڈیٹر تھے۔ پاک بھارت جنگ کے تین سال بعد 1968ء میں وہ دوسری بار پاکستان آئے۔ ان کے دورے کا مقصد جنگِ پینسٹھ میں بالخصوص فضائیہ کے کردار پر ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ مرتب کرنا تھی۔ جان فریکر کی کتاب ’’جنگِ پاکستان 1965ء کا فضائی معرکہ‘‘ جامعہ کراچی میں پاکستان اسٹڈی سینٹر کی لائبریری میں موجود ہے۔ کتاب کے آخری باب ’’دعویٰ اور جوابِ دعویٰ‘‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 1965ء کی جنگ کی گرما گرمی میں دونوں نے دشمن کے سو سے زائد طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ لیکن چونکہ یہ ایک بالکل غیر یقینی بات ہے۔ پھر بھی اس جنگ میں دونوں طرف ہونے والے نقصان کا صحیح تخمینہ اب بھی بڑی حد تک سامنے نہیں آیا۔ ہندوستان کے معاملے میں یہ بات زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ پاکستان نے جنگ سے متعلق اپنا ریکارڈ اور عملے کو غیر جانبدار معائنے کے لئے پیش کردیا اور اپنے نقصانات کی تفصیل شائع کرنے کے لئے تیار ہے۔ ایک مختصر فضائی فوج ہونے کی حیثیت سے پاکستان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے وسیع نقصانات کو آسانی سے پوشیدہ رکھ سکے‘‘۔ آگے چل کر انہوں نے اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے اور پاکستان اور بھارت کی پیش کردہ رپورٹوں کا جائزہ لیا ہے۔


اعداد و شمار کی اس بحث میں پڑنے کے بجائے ہمیں جنگ کے مقاصد اور اہداف پر غور کرنا ہوگا۔ اس تناظر میں شکست و فتح کا بہتر نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ جنگِ پینسٹھ میں بھارت کا کشمیر میں مقابلے کے بجائے انٹرنیشنل بارڈر کی طرف لپکنا اور لاہور پر قبضے کی کوشش کے دو مقاصد تھے۔ اول کشمیر میں ابھرنے والی تحریک کا خاتمہ اور دوم مغربی پاکستان پر قبضہ۔ چونکہ کشمیر پر دونوں ممالک کی افواج میں گھمسان کا رن پڑچکا تھا۔ ان حالات میں اگر بھارت دوسرے محاذِ جنگ کھول کر پاکستان کو نہ الجھاتا تو کشمیرپر قبضہ کھنا بھارت کے لئے انتہائی مشکل ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت نے نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ پر بھی پر حملہ کیا۔ جہاں تک کشمیر میں چھڑنے والی جنگ کی بات ہے تو وقتی طور پر اس کا رخ موڑنے میں بھارت کامیاب تو ہوا، لیکن تحریک آزادی کو کچلنے میں ناکام رہا۔ کشمیریوں کی حقِ آزادی کی خاطر ابھرنے والی تحریک اب بھی نہ صرف جاری ہے بلکہ پہلے سے بڑھ کر مضبوط بھی ہے۔ دوسری جانب لاہور جم خانہ میں جشنِ فتح منانے کا خواب دیکھنے والی فوج ہزیمت لئے واپس پلٹنے پر مجبور ہوئی۔ جنگِ پینسٹھ میں پاک فوج کی کامیابی یہی تھی کہ وہ نا صرف کم وسائل اور بغیر کسی پیشگی تیاری کے باوجود اپنے سے بڑی فوج کا راستہ روکنے میں کامیاب رہی۔ بلکہ ہندوستان کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ بھی کیااور بھارتی فوج کو بھاری جانی ومالی نقصان بھی پہنچایا۔ اس بنا پر جنگِ پینسٹھ ہماری ملی تاریخ میں صرف کامیاب دفاع ہی نہیں ایک شاندار فتح بھی ہے۔

مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کر رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

شہید کی بیوہ کے تاثرات

مرے شہید کا ماتم نہ یوں کرو کہ شہید
نظر سے ہوتا ہے اوجھل پہ مر نہیں سکتا
یہ سچ ہے میری اداسی خرید کر کوئی
مری نظر میں ستارے تو بھر نہیں سکتا
مری پہاڑ سی ویراں اُداس راتوں میں
نئی سحر کا اُجالا تو کر نہیں سکتا
حیات سادہ کے بے رنگ ہاتھ میں کوئی
حنائی رنگ کی سُرخی تو بھر نہیں سکتا
خموش گھر کے اکیلے اداس آنگن میں
مرے سہاگ کا مہتاب اُبھر نہیں سکتا
مگر میں خوش ہوں کہ میرا سہاگ کام آیا
مرے وطن کا محافظ وطن کے کام آیا
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس نے جاں دے کر
جوان بہنوں کے ناموس کی حفاظت کی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس نے خوں دے کر
سہاگنوں کے سہاگوں کی آبرو رکھ لی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس کی ہمت نے
مرے وطن کو نئی ایک زندگی بخشی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس کی ر گ رک میں
خلوص و جوشِ شہادت کی آگ روشن تھی
میں اس شہید کی بیوہ ہوں جس کے چہرے پر
خودی کا رنگ تھا دل میں وطن کی عزت تھی
اسی شہید کا خوں میری مانگ میں بھردو
مجھے وطن کی محبت سے سُرخرو کردو

رشیدہ سلیم سیمیں

*****

 
Read 438 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter