دفاعِ وطن، بقائے وطن

قوم رواں برس یومِ دفاع اُسی جوش و خروش سے منا رہی ہے جس کے ساتھ اس نے باون سال قبل عددی اعتبار سے ایک بڑے دشمن کو شکستِ فاش دی تھی۔ ستمبر 65ء کی جنگ کے بعد ہی سے دشمن کو اس امر کا ادراک ہوا کہ وہ اس بہادر قوم اور اس کی جری افواج کو روائتی انداز سے کبھی شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ تب ہی سے دشمن نے اس عظیم مملکتِ خداداد کے خلاف سازشوں کے جال بُننا شروع کر دیئے۔ سانحۂ مشرقی پاکستان اُنہی سازشوں کا شاخسانہ تھا۔ دشمن آج بھی پاکستان کی بنیادوں کو (خدانخواستہ) اندر سے کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ کبھی کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرتا ہے تو کبھی اپنے ’گماشتوں‘ کے ذریعے پاکستان کے دیگر علاقوں میں مداخلت کر کے پاکستان کو انتشار کا شکار بنانا چاہتا ہے۔ جس میں اسے نہ صرف ماضی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ مستقبل میں بھی اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔ کیونکہ پاکستانی قوم اب دشمن کی درپردہ سازشوں سے کماحقہ‘ آگاہ ہو چکی ہے اور اُن کا مؤثر توڑ کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔


یوم دفاع پاکستان دشمن کو یہ باور کراتا ہے کہ آج کا پاکستان ایٹمی قوت کا حامل ایک طاقت ور اسلامی ملک ہے جس نے 16سال سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا بھر کے دیگر ممالک سے زیادہ کامیابیاں سمیٹی ہیں اور 70 ہزاسے زائد پاکستانیوں کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد بھی اس قوم کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ قوم اپنے وطن اور اپنے نظریئے کی حفاظت کے لئے بے دریغی سے لڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ پاکستانی قوم کا یہی عزم اسے دنیا بھر کی دیگر اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔ پاکستان اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی جانب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ دن دُور نہیں جب یہ ملک خود کو درپیش چیلنجز پر قابو پا کر حتمی کامیابی حاصل کر لے گا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے حال ہی میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ’’ پاک فوج اُنہیں محفوظ اور مستحکم پاکستان فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ پاک فوج اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ تشدد اور دہشت گردی سے ملک کو نجات دلانے میں پاک فوج نے عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم قیامِ امن کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔‘‘


گویا قوم باہمی یگانگت اور اتحاد کو یقینی بنا کر ہی درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔بانیء پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے 13اپریل 1948کو نوشہرہ میں افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’جماعت کی حمیت و عزت کا دامن کبھی نہ چھوڑیئے۔ یعنی اپنی رجمنٹ پر فخر پوری کور پر فخر اور اپنے ملک پاکستان پر فخر اور اس کے لئے سچی لگن۔۔۔ پاکستان آپ کے بَل پر قائم ہے اور آپ پر ملک کے محافظوں کی حیثیت سے پورا اعتماد رکھتا ہے۔ اس اعتماد کے لائق بنیئے۔ یہ فوج آپ کے آباء و اجدادہی کی دلیری اور تندہی کی بدولت پروان چڑھی اور نیک نام ہوئی ہے۔ عزم کیجئے کہ آپ اس کے قابل فخر فرزند بنیں گے۔‘‘


بلاشبہ افواج پاکستان نے آج تک اپنے وطن کی سرحدوں کی جس انداز سے حفاظت کی ہے اور وقت پڑنے پر سردھڑ کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ اس پر قوم کو اپنے ان فرزندوں پر بجا طور پر فخر ہے۔آج پاکستان امن کے حصول میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور اب ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستان مکمل طور پر خوشحالی اور امن کی تصویر بن کر اُبھرے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک کوئی ملک دفاعی اعتبار سے مضبوط ملک نہیں بنتا تب تک وہاں امن اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی قوم اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ دفاع وطن ہی بقائے وطن کی ضمانت ہے۔ ہماری افواج انہی سطور پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جدید ترین جنگی اور پیشہ ورانہ خطوط پر تیاری کو اپنا مطمع نظر بنائے ہوئے ہیں تاکہ دشمن ہماری سرحدوں کی جانب کبھی میلی نگاہ نہ اٹھا سکے۔
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

Read 318 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter