ناپاک ارادوں کی شکست

تحریر: جبار مرزا

ستمبر1965 کی جنگ کراماتی اور کرشماتی جنگ تھی۔
خاکی وردی والے خاک و خون ہو کر شہادت سے سرفراز ہوگئے مگر وطنِ عزیز کی سالمیت پر آنچ نہ آنے دی۔
چونڈہ میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی لڑائی لڑی گئی، 5ستمبر 1965 کی آدھی رات کے وقت بھارتی فوج بین الاقوامی سرحد پر آکر رُک تو گئی تھی مگر اُس کے ڈویژنل افسروں نے اپنے ماتحتوں پر انکشاف کیا تھا کہ ہمیں ’’یہاں رُکنا نہیں ہے بلکہ صف بندی کرکے آگے بڑھنا ہے، لاہور تک میدان صاف ہے، فوج کو دوپہر کا کھانا لاہور میں کھلایا جائے گا اور شام کو جنرل چوہدری فاتح افسروں کے اعزاز میں لاہور جم خانہ کلب میں محفلِ ناؤ نوش برپا کریں گے۔‘‘


بھارتیوں کے اس خواب کا انکشاف، بھارتی15 ڈویژن کا کمانڈر میجر جنرل نرنجن پرشاد جب اپنی جیپ چھوڑ کر بھاگا تو جیپ سے ملنے والی نرنجن پرشاد کی ڈائری سے ہو جو پاکستان کے پاس محفوظ ہے ۔ اس ڈائری میں لاہور پر قبضے کی تمام تفصیلات موجود ہیں، اس ڈائری میں پاکستان کے تمام کمانڈروں کے نام اور ان کی دفاعی پوزیشنوں کے بارے میں بالکل درست معلومات درج تھیں۔ بھارتیوں کو سقوطِ لاہور کا یقین بے وجہ نہ تھا ۔اس جنگ میں بھارت نے اپنی پوری فوجی قوت میدان میں جھونک دی تھی۔

napakiradonki.jpg
بھارت نے وہ اسلحہ جو اس نے امریکہ سے چین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے لیا تھا، وہ سارے کا سارا 1965 کی جنگ میں پاکستان کے خلاف پھونک دیا تھا، بھارت نے بہت بڑی منصوبہ بندی سے پاکستان پر حملہ کیا تھا، بھارتی فوج کی صف بندی کے ساتھ ہی دہلی میں فتح کے جشن کی تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔ غیر ملکی اخباری نمائندوں کو لاہور پر قبضے کی پیشگی اطلاع بھی دے دی گئی تھی۔ بی بی سی نے تو لاہور پر قبضے کی خبر نشر بھی کردی تھی۔ اخبارات کے ضمیمے دھڑا دھڑ چھپنے اور فروخت ہونے لگ گئے تھے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ارکان تہذیب و اخلاق کی روایات کو پامال کرکے بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ لاہور کے لئے اشون کمار کو ایڈمنسٹریٹر بھی نامزد کردیا گیا تھا۔ لاہور ریڈیو سٹیشن سے فتح کا اعلان کرنے لئے ریہرسل بھی کرلی گئی تھی۔ منصوبہ سازوں نے اکھنور کے علاقے میں ڈویژن اور ایک بکتر بند رجمنٹ دسواں پہاڑی ڈویژن، انیسواں اور پچیسواں پیدل ڈویژن اور بیس لانسر ٹینک رجمنٹ پر جمع کر رکھی تھیں۔ سیالکوٹ اور چونڈہ کی سرحد پر تین ڈویژن پیدل فوج یعنی چھبیسواں پیدل ڈویژن، چھٹا پہاڑی ڈویژن اور چودھواں پیدل ڈویژن اِن کے علاوہ پورا بکتر بند ڈویژن اور ٹینکوں کی دو رجمنٹیں اور دوسری رجمنٹس پوزیشن لے چکی تھیں۔


لاہور کے محاذ پر پندرھواں اور ساتواں پیدل ڈویژن حرکت میں آچکا تھا۔ پچاس میل تک وسیع محاذ پر نگاہ دوڑائیں تو دور تک بھارتی فوج بہت بڑے حملے اور فیصلہ کن وار کے لئے تیار تھی۔ اسی طرح قصور کے مقابل میں اگر چوتھا پہاڑی ڈویژن صف آرا تھا تو راجستھان میں گیارھواں پیدل ڈویژن حملے کے لئے وارم اپ ہو چکا تھا۔ یوں پھر پلان کے مطابق 5اور 6 ستمبر کی رات واہگہ کی طرف سے لاہور پر قبضہ،7 ستمبر کو قصور کی جانب سے بڑھتی ہوئی فوج نے واہگہ کی طرف سے پیش قدمی کرتی فوج سے جرنیلی سڑک پر آ ملنا تھا۔ بھارت کا خیال تھا کہ لاہور پر شب خون سے پاکستانی عوام کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور افراتفری پھیل جائے گی۔ ادھر سیالکوٹ کی طرف سے بڑھتی ہوئی فوج گوجرانوالہ اور وزیرآباد کے درمیان کسی مقام پر لاہور کی طرف پیش قدمی کرنے والی فوج سے جاملے گی۔ شیخ چلی کی طرح بھارت نے خیال ہی خیال میں اپنے منصوبے پر کامیابی حاصل کرلی تھی اور اب تصوراتی طور سے فتح کا جشن منانے کا سوچ رہا تھا کہ مورکھ کو کافی تاخیر سے خیال آیا کہ اہلِ پاکستان کی قوتِ ایمانی اور افواج پاکستان کے جذبۂ جہاد اور آرزوئے شہادت کے سامنے تو ہمارا سب کچھ پانی کابلبلہ ہے اور ایسا ہی ہوا ’’ٹاپ آف دا نیوز‘‘ واشنگٹن کے نامہ نگار کے مطابق بھارتی فوج کی پہلی رجمنٹ جب پاکستانیوں کے مقابلے پر آئی تو لڑی نہیں بلکہ منہ پھیر کربھاگ نکلی اپنا اسلحہ، رسد اور ذاتی سامان تک چھوڑ کر بھاگ گئی۔ جہاں تک لاہور پر حملے کا تعلق تھا تو لاہور میں داخلے کے لئے باٹاپور کے پل پر قبضہ ضروری تھا۔ واہگہ سے باٹا پور تک معمولی مزاحمت کے بعد معمولی اس لئے کہ رینجرز کے علاوہ صرف ایک سکرین پلاٹون وہاں متعین تھی جس کی قیادت میجر عارف جان کررہے تھے، جنہوں نے بھارت کی عسکری اور عددی برتری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مشین گن خود سنبھال لی، میجر عارف جان نے واہگہ سیکٹر کے پہلے شہید کا اعزاز پاکر بھارت کے خواب کو چکنا چور کردیا کہ اگر ایک پلاٹون جس کا ہر جوان آخری گولی تک لڑاا ور شہید ہوتا گیا مگر پیچھے نہیں ہٹا تو جب پورے ایک ڈویژن فوج سے واسطہ پڑے گا تو پھر کیاہوگا۔

جنگ ستمبر محض سترہ دنوں کی روداد نہیں بلکہ کئی نسلوں تک اس کے اثرات مرتب ہوں گے، اس جنگ میں جہاں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی اور پاک فضائیہ نے شجاعت کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی، وہاں حکومتِ پاکستان نے بہت سے جری جوانوں ، غازیوں اور شہیدوں کو خصوصی تمغے دے کر ان کے ایثار کا اعتراف کیا تھا


پچاس میل لمبے اس محاذ کو قائم کرنے کا بھارتی منصوبہ محض یہ تھا کہ پاکستانی افواج پر مختلف سمتوں سے حملہ کیا جائے ، حالانکہ اتنے بڑے محاذ پر پاکستانی ڈویژن کمانڈر میجر جنرل محمد سرفراز خان کے پاس صرف سات بٹالین فوج تھی۔ اس کے باوجود بھارتی مورکھوں کی صفوں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی، یہی وجہ تھی کہ بھارتی فوجیں باٹا پور کے پُل کے اس پار آکر رُک گئی تھیں، البتہ وقفے وقفے سے بھارتی توپ خانہ زبردست گولہ باری کررہا تھا اور پاکستانی فوج نے بڑے تحمل سے وہ گولہ باری برداشت کی۔ پاکستان کی برداشت بھارتیوں کو اور بھی پریشان کئے جارہی تھی۔ ٹینکوں کی رجمنٹ اور پیدل فوج جو کافی دیر سے باٹا پور پل پار کرنے کے لئے پر تول رہی تھی، جب بھارت کا پہلا ٹینک آگے بڑھا تو اُسے بڑی آسانی سے پاکستانی فوج نے تباہ کردیا۔ پھر 6 اور7 ستمبر کی درمیانی رات دس بجے یعنی بھارتی جارحیت کے دوسرے روز بھارت نے پورے بریگیڈ کے ساتھ حملہ کیا مگر پاکستانی جاں نثاروں نے وہ حملہ بھی ناکام بنا دیا۔ دونوں فوجوں کے درمیان فاصلہ بہت کم تھاشاید 100 گز بھی نہیں تھا آمنے سامنے ایک دوسرے کی حرکت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے میں باٹاپور کا پُل اڑانا بہت ضروری تھا بھارتی فوج کی اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ سے یہ کام بہت مشکل تھا مگر اس کٹھن کام کو انجام دینے کے لئے پاکستان آرمی انجینئرنگ کور کے میجر آفتاب احمدملک نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ رات کی تاریکی میں میجر آفتاب چند دیگر جاں نثاروں کو لے کر باٹا پور پل کو اُڑانے کی غرض سے ضرور ی بارود اور مائنز لے کر ہدف پر پہنچ گئے اس دوران بھارتیوں نے آفتاب ملک کو دیکھ لیا تھا اور گولہ باری میں شدت پیدا کردی تھی مگر پاکستان کی جوابی فائرنگ کے سامنے بھارتیوں کی پیش نہ چلی۔ میجر آفتاب ملک کا راستہ روکنے کے لئے تین ٹینک آگے بڑھے جنہیں پاکستانی فوج نے تباہ کردیا، بہت سارے گولہ بارود کی چمک کی وجہ سے آفتاب ملک اور ان کے ساتھی دکھائی تو دیئے مگر وہ سارے کے سارے پل کے ستونوں کے پیچھے چھپ کر مطلوبہ جگہ پر بارود بھرکے واپس آئے اور آکر جب نیگیٹو اور پازیٹو تاریں جوڑیں توپُل بھک سے اُڑ گیا۔ اس کے بعد سترہ دن کی جنگ میں بھارت ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکا، اس عرصے میں پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتیوں کے اوسان خطا کئے رکھے، ادھر، سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی۔ مگر بریگیڈیئر امجد، عبدالعلی ملک اور لیفٹیننٹ کرنل نثار احمد خان نے اپنے جوانوں اور فضائیہ کی مدد سے ان کا بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا، پاکستانی فوجی جوان جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے جسموں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں تلے لیٹ گئے اور دشمن کی پیش قدمی روک دی یوں بھارت تمام ترکوششوں کے باجود چونڈہ شہر میں داخل نہ ہو سکا ۔


جنگ ستمبر محض سترہ دنوں کی روداد نہیں بلکہ کئی نسلوں تک اس کے اثرات مرتب ہوں گے، اس جنگ میں جہاں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی اور پاک فضائیہ نے شجاعت کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی، وہاں حکومتِ پاکستان نے بہت سے جری جوانوں ، غازیوں اور شہیدوں کو خصوصی تمغے دے کر ان کے ایثار کا اعتراف کیا تھا، فوج کا سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر جنگ ستمبر میں میجر راجہ عزیز بھٹی کو ملا تھا۔ اس سے پہلے کیپٹن سرور اور میجر طفیل کو نشانِ حیدر مل چکے تھے۔


1965کی پاک بھارت جنگ میں لاہور کے محاذ پر 17 پنجاب کے الفا کمپنی کمانڈر میجر عزیزبھٹی شہید کو جو نشانِ حیدر ملا تھا، اس کی سفارش ان کے یونٹ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم قریشی نے کی تھی۔ ابراہیم قریشی جن کا تعلق راولپنڈی شہر سے تھا، وہ بعد میں بریگیڈئیر ہوئے، کئی ملکوں میں پاکستان کے سفیر رہے، وزارتِ خارجہ کے عہدے پر بھی فائزرہے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل کرانے میں سفارتی سطح پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مددبھی کی۔ ابراہیم قریشی کا شمار ہمارے ان لوگوں میں ہوتا تھا جن سے ہمارا عقیدت کا تعلق رہا ہے، ابرہیم قریشی اسلام آباد میں مدفون ہیں۔ان کی گفتگو ہمیشہ جذبوں سے بھری ہوتی تھی۔ اور وہ بہت شفقت اور عقیدت سے میجر عزیز بھٹی شہید کی بہادری کی داستانیں سنایا کرتے تھے۔


وہ اکثر کہتے کہ وطن کی خدمت کا جذبہ میجر عزیزبھٹی میں بدرجۂ اتم موجود تھا۔ وہ بہت دلیر اور نڈر آفیسر تھے جو اگلی صفوں میں رہتے ہوئے دشمن پر وار کرنے پر یقین رکھتے جس کا ثبوت اُن کے جنگ ستمبر کے کارناموں سے ملتا ہے۔
باٹا پور کا پل اڑانے والے میجر آفتاب ملک بھی اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ وہ فوج سے بطور کرنل ریٹائر ہوئے تھے، کرنل آفتاب ملک کو باٹا پور کا پُل اُڑانے پر ستارۂ جرأت ملا تھا، آپ نے1957 میں
Persian Pipeline
نامی کتاب بھی لکھی تھی۔ حکومتِ پاکستان سے ایڈیشنل سیکرٹری ریٹائر ہوئے اور پاکستان زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ 1991 میں جب پاکستان بیت المال کا قیام عمل میں آیا تو کرنل آفتاب ملک اس کے بانی سیکرٹری تھے، کرنل صاحب سعودی حکومت کے مشیر بھی رہے، بلوچستان حکومت کے سیکرٹری مواصلات بھی رہے، کرنل آفتاب ملک 1929میں ملک احمددین کے ہاں پیدا ہوئے اور 27 فروری1999 کو لندن میں وفات پائی اور3 مارچ1999 کو اسلام آباد میں تدفین ہوئی۔ اُن سے جب بھی ملاقات ہوتی وہ اکثر اپنی یادوں پر مبنی جنگی واقعات سنایا کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ 1965 کی جنگ میں باٹا پور پُل کو اڑانا عسکری اور جنگی اعتبار سے بہت اہم تھا اور ہمارے جوانوں نے یہ کارنامہ دشمن کی شدید ترین مزاحمت اور فائرنگ کے دوران کیا کیونکہ مؤثر دفاع کے لئے اس کام کا کرنا ضروری تھا اور الحمدﷲ ہم اس میں کامیاب رہے۔ کیا باکمال لوگ تھے جو زندگی کی آخری سانس تک ’زندہ‘ رہے، بلکہ ایسے لوگ تو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، تاریخ ایسے لوگوں کو مرنے ہی نہیں دیتی جو وطن، ملت اور دینِ اسلام کے لئے جیتے ہیںیا جان دے دیتے ہیں۔

مضمون نگار: ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 437 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter