ٹارگٹ، ٹارگٹ، ٹارگٹ۔

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد


قسط نمبر20

سر جی میں جاواں
گئے وقتوں میں پشاور کے آرٹلری میس میں ہمہ وقت پندرہ سے بیس بیچلر آفیسرز کا ڈیرہ رہا کرتا تھا۔ ایک کمرے میں عموماً تین سے چار افسروں کا پڑاؤ ہوتا تھا۔ ایک غیر تحریری معاہدے کی رو سے میس میں موجود ہر شے عوام کی مشترکہ ملکیت تصور کی جاتی تھی۔ ذاتی سامان کی پھبتی صرف نیکر بنیان تک ہی محدود تھی بلکہ اکثر صورتوں میں توانہیں بھی روم میٹس کی دست برد سے بچانا ناممکن ہو جاتا تھا۔ ہمارے ایک سینیئر کیپٹن جاوید ایک الگ ہی طبیعت لے کر پیدا ہوئے تھے۔ موصوف کو کسی چیز کی ضرورت آن پڑتی تو پہلے روم میٹ سے مانگتے پھر پاس پڑوس کے تمام کمروں میں بیٹ مین کو دوڑاتے، اس کے بعد خود ایک چکر لگا کر دستِ سوال دراز کرتے اور جب گوہر مقصود کہیں سے ہاتھ نہ آتا تو چاروناچار اپنا ٹرنک کھولتے اور اس میں سے مطلوبہ آئیٹم برآمد کرتے ہوئے فرماتے ’’آج کل کے افسر کس قدر بے مروت ہو گئے ہیں ،معمولی سی چیز بھی دوسروں سے شئیر نہیں کرتے۔‘‘

targitsirgmainjawan.jpg
ایک مرتبہ ہمیں معلوم ہوا کہ موصوف وی سی آر خرید لائے ہیں۔ سب لوگ ان کے کمرے میں جمع ہوگئے اور فلم دکھانے کی فرمائش کی۔ انہوں نے فلم دیکھنے کی اجازت تو دے دی لیکن ہمیں وی سی آر کے نزدیک نہیں پھٹکنے دیا۔ اس زمانے میں ٹی وی اور وی سی آر بغیر ریموٹ کے ہوا کرتے تھے اور ان پر لگے بٹنوں کو ہاتھ سے پریس کرنا پڑتا تھا۔ چند دنوں بعد کیپٹن جاوید کو اچانک چھٹی جانا پڑا۔ وی سی آر کو ساتھ لے جانا ممکن نہ تھا چنانچہ جاتے ہوئے تاکید کر گئے کہ خبردارکوئی ان کے وی سی آر کو ہاتھ نہ لگائے۔ ہم ہمیشہ سے اپنے سینیئرز کے حد سے زیادہ فرمانبردار واقع ہوئے ہیں تاہم نئے نویلے وی سی آر سے دُور رہنا ہمیں صبر کے پل صراط کو بند آنکھوں عبور کرنے کے مترادف دکھائی دے رہا تھا۔ سینیئر کا حکم ایک طرف اور وارفتگئ شوق دوسری جانب،گویا ’’ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر‘‘ والا معاملہ درپیش تھا۔اس گھمبیر مسئلے کے حل کے لئے لیفٹین پارٹی کی ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی۔کافی بحث و مباحثہ کے بعد لیفٹیننٹ شوکت (جو کہ ماموں کے نام سے مشہور و معروف تھے) کی اس تجویز پر اتفاق رائے ہوا کہ وی سی آر کو چلانے کے لئے ہاتھوں کے بجائے پاؤں کا مناسب استعمال کیا جائے گا۔


ویک اینڈ کی آمد آمد تھی۔حسبِ پروگرام ویک اینڈ نائٹ پر بیچلر پارٹی ایک کمرے میں جمع ہوئی۔یہ ایک ہال نما مستطیل کمرہ تھا جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا چینج روم متصل تھا۔ بڑے کمرے اور چینج روم کے درمیان ریلنگ لگا کر ایک پردہ ٹانگ دیا گیا تھا۔فلم چلانے سے پہلے کمرے کی تمام روشنیاں گل کر کے سینما کا ماحول پیدا کیا گیا۔ اس کے بعد ہم سب انہماک سے فلم دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔ بارہ بجے کے قریب فلم ختم ہوئی تو ایک افسر نے اٹھ کر لائٹس آن کیں۔ اچانک چینج روم کا پردہ تھوڑا سا سرکا ، بیٹ مین حمید نے ایک کونے سے سر باہر نکالا اور منمناتی ہوئی آواز میں بولا’’سر جی! میں جاواں۔‘‘ ہوا کچھ یوں تھا کہ حمید ہمارے آنے سے پہلے چینج روم میں بوٹ پالش کرنے میں مصروف تھا کہ اچانک ہم سب کمرے میں براجمان ہوگئے اور لائٹس بجھاکر فلم دیکھنا شروع کر دی۔ اس طرح حمید کے باہر نکلنے کا راستہ مسدود ہو گیا اور اس نے وہیں دبک کر انتظار کرنے میں عافیت جانی۔ حمید کی بات کے جواب میں خاموشی کا ایک مختصر وقفہ آیا جسے ماموں شوکت کی غصے بھری آواز نے توڑا ’’ٹھہر جا کم بخت،ابھی دوسری فلم لگانے لگے ہیں وہ بھی دیکھ کر جانا۔‘‘


تنخواہِ گمشدہ
فوج کی تنخواہ تھوڑی سہی لیکن اس میں برکت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جب ہم کیڈٹ بن کرنئے نئے فوج کو پیارے ہوئے تو چند سو روپے ماہوار کے وظیفے پر گزارہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری آتی چلی گئی اور ہمارا لائف سٹائل بھی بہتر ہوتا چلا گیا۔ تاہم یہ بات قدرے خوشی اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ نہ تو کبھی کسی قسم کی تنگی کا احساس دامن گیر ہوا اور نہ ہی کبھی قرض لینے کی نوبت آئی۔ شادی سے پہلے افسر تنخواہ بینک سے نکلوا کر میس حوالدار کے حوالے کر تا ہے اور شادی کے بعد بیگم کے۔ دونوں صورتوں میں افسر کا کام صرف تنخواہ کے چیک پر دستخط کرنا ہوتا ہے جو وہ برضا و رغبت کر دیتا ہے۔ تنخواہ کے ساتھ ہی لمبے چوڑے بل بھی موصول ہوجاتے ہیں جن کو چکانے کے بعدجو چند آنے پائیاں بچ رہتی ہیں ان کا حساب کتاب کر نے کے لئے جتنا وقت اور مہارت درکار ہوتی ہے اس کا افسروں کے ہاں شدید فقدان ہوتا ہے، لہٰذا اس بھاری پتھر کو چومنے سے گریز ہی کیا جاتا ہے۔ تنخواہ جاری و ساری رہے تو گلشن کا کاروبار ایک لگے بندھے معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے لیکن اگر کسی بنا پر اس میں کوئی رخنہ آ جائے تو گویا قیامت ہی ٹوٹ پڑتی ہے۔ ایسے میں افسر کا وہی حال ہوتا ہے جو 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد مرزا غالب کا ’’موئے فرنگیوں‘‘ کی جانب سے پینشن روکے جانے پر ہوا تھا۔


یہ مارچ 2001 کا ذکر ہے۔ ہم ان دنوں کپتان تھے اور سکول آف آرٹلری نوشہرہ میں عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ ہمیں سکول آف آرٹلری میں پوسٹ ہوئے کوئی دو ماہ کا عرصہ ہو چلا تھا۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ ایک دن تنخواہ کا چیک کیش کرانے بینک پہنچے تو انکشاف ہوا کہ تنخواہ اکاؤنٹ میں کریڈٹ نہیں ہوئی۔ ہمارے پاس سی ایم اے کی کنفرمیشن سلپ موجود تھی جو بینک مینجر کو دکھائی گئی لیکن انہوں نے ریکارڈ چیک کرنے کے بعد بتایا کہ انہیں چیک موصول نہیں ہوا۔ ہم نے اگلے دن چھٹی لے کرکنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس( سی ایم اے) پشاور کا رخ کیا۔ انہوں نے اپنے ریکارڈ کی پڑتال کر کے بتایا کہ ان کی جانب سے مذکورہ چیک بینک کو دو ہفتے قبل ارسال کر دیا گیا تھا۔ نوشہرہ پہنچ کر پھر بینک مینجر کے روبرو پیش ہوئے اور انہیں سی ایم اے کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سنی ان سنی کر دی اور اصرار کیا کہ چیک موصول ہوئے بغیر رقم ہمارے اکاؤنٹ میں کریڈٹ نہیں کی جا سکتی۔ اگلے دن پھر پشاور پہنچے اور سی ایم اے والوں سے اس مسئلے کا حل دریافت کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آپ نیشنل بینک سے نان پیمنٹ سرٹیفکیٹ لکھوا لائیں۔ ہم نوشہرہ پہنچے اور بینک مینیجر سے مذکورہ سرٹیفکیٹ لے کر اگلے ہی روز سی ایم اے والوں کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضرت اکاؤنٹنٹ نے فرمایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہم کیس بنا کر اپنے ہیڈ آفس کو راولپنڈی بھجوا رہے ہیں اور وہاں سے جو جواب موصول ہو گا اس سے آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔ چند دن بعد ہیڈ آفس کا جواب موصول ہو گیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ تین ماہ بعد سٹیٹ بینک سے فائنل سٹیٹمنٹ موصول ہوگی تب نیا چیک ایشو کیا جائے گا۔ ہم نے دن گننے شروع کر دئے۔ خدا خدا کر کے تین ماہ گزر گئے لیکن نیا چیک جاری نہ ہوا۔ ہمارے بار بار پوچھنے پر یہی بتایا جاتا کہ ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا۔ آخر پانچ ماہ گزرنے کے بعد ہمارا پیمانہ صبر لبریز ہو ہی گیا اور ہم نے ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کو ایک عدد ذاتی خط ارسال کر دیا جس میں یہ تمام روداد من و عن بیان کی گئی تھی۔
اس خط کے جواب میں اکاؤنٹنٹ جنرل نے ہمیں فوراً نیا چیک ایشو کرنے کے احکامات جاری فرمائے اور ماتحت عملے کی اس بات پر سخت جواب طلبی فرمائی کہ اصولاً افسر کی رپورٹ پر نیا چیک تین دن کے اندر ایشو ہو جانا چاہئے تھا جو کہ پانچ مہینے بعد بھی کیوں نہ کیا گیا۔ہمیں تو فی الوقت اپنی تنخواہ کے چیک سے غرض تھی جو کہ تاخیر سے ہی سہی لیکن پوری ضرور ہو گئی تاہم کچھ دنوں بعد یونہی رولز کی ایک کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کو براہ راست خط لکھنے کی ممانعت ہے۔ یہ پڑھ کر خدا کا شکر ادا کیا کہ ہم اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل دونوں ہی اس رول سے واقف نہ تھے ورنہ ہماری تنخواہ کا چیک گمشدہ ہی رہتا اور ہم اس کی تلاش میں آج بھی دربدر بھٹک رہے ہوتے۔


فدا کی بددعا
اگست 2006 کا ذکر ہے۔ ہم سکردو کے بیچوں بیچ واقع ہیڈکوارٹر آرٹلری ایف سی این اے میں بحیثیت جی ٹو عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ اس موسم میں سکردو جنت نظیر کا منظر پیش کرتا ہے۔ سرسبز پہاڑ، شفاف جھرنے اور معطر ہوائیں مل کر ایک سماں باندھ دیتی ہیں۔ ایسے میں ایک دن کمانڈر کو یونٹوں کے درمیان فائرنگ مقابلہ کروانے کا شوق چُرایا۔ دس دن بعد کی تاریخ طے ہوئی اور ہمیں مقابلے کا جج تعینات کر دیا گیا۔ ایک سہانی صبح کو تمام ٹیمیں بھرپور تیاری کے ساتھ فائرنگ رینج پر موجود تھیں۔ مقابلے میں کل سات ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں، ہر ٹیم دس جوانوں پر مشتمل تھی جس کی سربراہی ایک افسر کے ذمہ تھی۔ ٹیم کے دس ممبران نے سو میٹر کے فاصلے سے اپنے اپنے ٹارگٹ پر پانچ راؤنڈ فائر کرنا تھے۔ ٹارگٹ اینڈ پر موجود عملے نے ہر ٹارگٹ پر ہٹ کی گئی گولیوں کی تعداد گن کر ہمیں پاس کرنا تھی جو کہ ایک بڑے بورڈ پر ان کے نام کے آگے لکھی جانی تھی۔سب ٹیموں کے فائر کرنے کے بعد ان کی ٹارگٹ کو ہٹ کی گئی گولیوں کی تعداد جمع کرکے پوزیشنز کا فیصلہ ہونا تھا۔ مقابلے کی اہمیت کے پیش نظر تمام یونٹوں کے کمانڈنگ افسران بھی دیگر افسروں کے ہمراہ اپنی ٹیموں کی کارکردگی ملاحظہ کرنے کے لئے بنفسِ نفیس وہاں موجود تھے۔


میجر فدا کا شمار ہمارے بہت اچھے سینئرز میں ہوتا تھا۔ وہ بھی اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے اس مقابلے میں حصہ لے رہے تھے۔ ان کی ٹیم نے سب سے پہلے فائر کیا اور ٹارگٹ اینڈ کی جانب سے رزلٹ ہمیں لکھوا دیا گیا۔ اس رزلٹ کے مطابق میجر فدا کی کوئی ایک بھی گولی ٹارگٹ کو چھونے میں ناکام رہی تھی۔ ہم نے رزلٹ جوں کا توں بورڈ پر لکھوا دیا۔ میجر فدا کے نام کے سامنے بڑا سا انڈہ دیکھ کر ان کے کمانڈنگ افسر کے تیور آسمان کو لگ گئے۔ وہ تواپنی ٹیم کی جیت کی اُمید لگائے بیٹھے تھے جس پر اس شاندار رزلٹ نے سرے سے پانی پھیر دیا تھا۔میجر فدا معصوم صورت بنائے ہمارے پاس تشریف لائے اور نظر ثانی کی درخواست دائر کی۔ لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ہم بحیثیت ایمپائر عدل و انصاف کا علم بلند کر چکے تھے۔ہمارے مسلسل انکار پر انہوں نے فرمایا کہ میجر صاحب آپ ہمیشہ تو اس اپائنٹمنٹ پر نہیں رہیں گے، خدا کرے کہ آپ میری جگہ پوسٹ ہوجائیں۔ ایسا ہونا بادی النظر میں ناممکن نظر آتا تھا کیونکہ ہم سٹاف کورس کے لئے سیلیکٹ ہو چکے تھے جس کے لئے ہمیں اوائل دسمبر میں کوئٹہ رپورٹ کرنا تھی۔


حالات نے اچانک پلٹا کھایا اور ایک دن ایچ کیو کی جانب سے خط موصول ہوا کہ سٹاف کورس دسمبرکے بجائے اگلے جون میں شروع ہو گا۔ یہ اعلان ہونے کی دیر تھی کہ ایم ایس برانچ نے فی الفور ہمیں اگلے نو ماہ کے لئے فارورڈ یونٹ میں پوسٹ کر دیا۔ یوں چند روز بعد ہم سکردو سے اٹھ کر میجر فدا سے سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ان کی گن پوزیشن کا چارج لے رہے تھے۔ اگلے نو ماہ ہم دن رات برف میں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے اور سوچتے رہے کہ میجر فدا نے ایسا کون سا چلہ کیا ہوگا جس کی بدولت انہیں یہ ولایت حاصل ہوئی۔
(.........جاری ہے)

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 818 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter