انیس سو پیسنٹھ معرکہ چونڈہ کا آنکھوں دیکھا حال

تحریر: وثیق شیخ


جنگ ستمبر1965کے دوران جرأت و بہادری کے ایسے ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملے کہ ان پر انسانی عقل حیران ہے۔ سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر دشمن نے 400 سے زائد ٹینکوں سے حملہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں کسی بھی جگہ ٹینکوں سے لڑی جانے والی یہ سب سے بڑی جنگ تھی۔ قلیل تعداد اور اسلحہ کم ہونے کے باوجود پاک فوج کے بہادر اس جاں نثاری سے لڑے کہ دنیا کی عسکری تاریخ اش اش کر اٹھی۔

اسی معرکے کے حوالے سے وثیق شیخ نے ان بزرگ شخصیات سے رابطہ کیا اور ان کے آنکھوں دیکھے احوال کو قلمبند کیا جنہوں نے 1965 میں چونڈہ کی جنگ کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا تھا۔

 

سعید بٹ
1944میں چونڈہ میں پیدا ہوئے۔ 1965میں ان کی عمر 21سال تھی۔ سعید صاحب اس وقت واپڈا میں ملازم تھے اور منڈی بہاؤالدین میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ دوران ڈیوٹی ان کو اطلاع ملی m_saeed_butt.jpgکہ بھارتی فوج نے چونڈہ پر حملہ کر دیا ہے۔ وہ فوراً ہنگامی چھٹی لے کر چونڈہ پہنچے تاکہ اپنے خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل کر سکیں۔ جنگ ستمبر کا احوال بیان کرتے ہوئے سعید بٹ 73 سال کی عمر میں بھی جذباتی ہو گئے اور اس طرح واقعات بیان کرنے لگے جیسے آج بھی وہ منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہو۔ انہوں نے چونڈہ آتے ہی محلے کے نوجوانوں کا ایک گروپ تشکیل دیا اور افواج پاکستان کو اپنی خدمات پیش کیں۔ رضاکارانہ طور پر ان کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ پہرہ دیں۔ 11ستمبر کو جب پھلورہ اور گڈگور کے درمیان شدید جنگ جاری تھی افواج پاکستان نے چونڈہ کو خالی کرنے کا حکم دیا تاکہ شہری آبادی کو جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔ بہت اصرار کے بعد لوگوں کو آمادہ کیا گیا کہ وہ شہری آبادی کو فوری خالی کر دیں۔ اسی دوران بھارتی فوج نے الہڑ اسٹیشن پر قبضہ کر لیا اور یہ خبر پھیلا دی کہ چونڈہ پر قبضہ ہو گیا ہے لیکن افواج پاکستان اور پاکستانی عوام اس بھارتی پروپیگنڈے کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے بھارتی ٹینکوں کا راستہ روک کر ڈٹے رہے ۔ سعید بٹ نے بھارتی فوج کو للکارتے ہوئے کہا کہ آج بھی اس کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے وہ بالکل تیار ہیں۔ 73سالہ بزرگ کا جذبہ دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور دل سے بے اختیار یہ صدا نکلی ۔
؂ مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا
میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہونے والا


لال دین رحمانی
laldeenrehmani.jpg83سالہ لال دین رحمانی بھی 1965 کی جنگ میں قومی جذبے سے سرشار رضاکارانہ طور پر چونڈہ کے گردونواح پر نظر رکھنے کے لئے تعینات تھے۔ جنگ کے واقعات کا بڑی گرم جوشی سے تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماری ڈیوٹی چونڈہ کے ساتھ گاؤں کالے وال پر نظر رکھنا تھی۔ بھارتی فوج کو پاکستانی فوج پھلورہ کے پاس روکے ہوئے تھی۔ بھارت نے 400ٹینکوں اور ایک بہت بڑی پیدل فوج کے ساتھ حملہ کیا لیکن اتنی بڑی قوت کے باوجود بھارتی سورما مٹھی بھر پاکستانی فوج کے سامنے بے بس نظر آ رہے تھے۔ لال دین اور ان کے ساتھی ایک کماد (گنے) کے کھیت میں چھپ کر دشمن پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک جیپ کی آواز آئی۔ وہ چوکنے ہو گئے۔ بھارتی فوج کی ایک ریکی ٹیم اسی کماد کے کھیت کے پاس آ کر رک گئی۔ جیپ میں ایک سکھ حوالدار اور دو ہندو فوجی مشین گن نصب کئے اپنی فوج سے کافی دور آ نکلے تھے۔ وہ کھیت کے اتنے قریب تھے کہ ان کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ سکھ افسر پنجابی میں اپنے ساتھیوں سے مخاطب تھا۔ ’’اوئے رام پال واپس چلتے ہیں بہت دور نکل آئے ہیں کہیں پاکستانی فوج کے گھیرے میں نہ آ جائیں۔‘‘ اس کی آواز سے ہی گھبراہٹ کا پتہ چل رہا تھا۔
’’جی سر ٹھیک ہے۔‘‘ گھیرے میں آئے دشمن کو یوں ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر لال دین نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نعرہ تکبیر بلند کیا اور فائر کھول دیا۔ تینوں بھارتی فوجی موقع پر ہی جہنم واصل ہو گئے۔ یہ واقعہ سناتے ہوئے بوڑھے لال دین نے وہی نعرہ تکبیر دوبارہ بلند کیا اور ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔ میں سوچنے لگا کہ اگر یہ جذبۂ ایمانی موجود نہ ہوتا تو کیا پاکستانی فوج اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کو شکست دے سکتی تھی۔


رحمت اﷲ بٹ
rehmat_ullahbutt.jpg82سالہ رحمت اﷲ بٹ اس عمر میں بھی چاق چوبندہیں۔ وہ جنگ ستمبر کا آنکھوں دیکھا حال پورے جذبۂ حب الوطنی سے بیان کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ وہ رضاکار ٹولی کے ساتھ چونڈہ کے باہر ریلوے لائن کی حفاظت پر مامور تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ٹینکوں کے گولے ہمارے دائیں بائیں گر رہے تھے۔ آنکھوں کے آگے تا حد نظر گرد اور دھوئیں کے بادل چھائے تھے۔ دشمن پوری قوت سے حملہ کر رہا تھا۔ نڈر اور بے باک پاک فوج ایک ایک انچ کا دفاع کر رہی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ دشمن ریلوئے لائن عبور کر لے گامگر پاک فوج کے جری سپوتوں کی بھرپور جوابی کارروائی کی بدولت دشمن چونڈہ سے آگے نہ بڑھ سکا اور آج بھی چونڈہ کا مقام دشمن فوج کے لئے ندامت اور ہزیمت کے طور پر جاناجاتا ہے۔

 

 

 


دو انمول واقعات

 

فوجی جوانوں کے لئے مائی برکتے کی بنائی گئی روٹیاں

مائی برکتے کی داستان قصبہ چونڈہ کے باسی یاد رکھے ہوئے ہیں۔ مائی بالکل اکیلی تھی۔ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ 1965کی جنگ شروع ہوئی تو گاؤں کے تمام خاندان محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ مائی نے جانے سے انکار کر دیا۔ مائی نے ایک تندور لگایا ہوا تھا جہاں وہ روٹیاں لگا کر اپنی گزر بسر کرتی تھی۔ جنگ کے دوران مائی سارا وقت روٹیاں لگاتی رہتی اور اپنے آپ سے باتیں کرتی رہتی۔ ابھی میرے فوجی جوان آئیں گے، بھوکے ہوں گے، یہاں کون ہے ان کے لئے کھانا پکانے والا، میں ہوں نا ان کی ماں ان کے لئے اپنے ہاتھوں سے کھانا بناؤں گی۔ میرے بیٹوں کو بھوک لگی ہو گی۔ روٹیاں لگا کر وہ بڑی سی چنگیر میں رکھتی اور سامنے سڑک پر کھڑی ہو جاتی جہاں سے فوجی جوان گزرتے تھے۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے ان کو رکنے کا اشارہ کرتی اور کھانے کی دعوت دیتی ۔ فوجی جوان مائی کا دل رکھنے کے لئے ایک ایک روٹی اٹھا لیتے اور تبرک کے طور پر مائی کے سامنے نوالہ توڑ کر منہ میں ڈال لیتے اور آنکھوں میں آنسو لئے دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑنے کے لئے محاذ جنگ کی طرف روانہ ہو جاتے کون جانے کتنی ماؤں نے اپنے بیٹوں کے لئے اﷲ سے کتنی دعائیں مانگی ہوں گی۔ اسی لئے تو دشمن اتنی طاقت رکھنے کے باوجود ریلوے لائن عبور نہ کر سکا۔


دوکاندار کی رقم

جنگ کے وقت چونڈہ میں ایک چھوٹا سا بازار تھا اسی بازار میں ایک سٹور تھا۔ بشیر جنرل سٹور۔ جنگ میں جب فوج نے شہریوں کو قصبہ خالی کرنے کا کہا تو لوگ اپنی دوکانیں اور گھربار چھوڑ کر چلے گئے۔ جلدی میں کوئی سامان اٹھانے کا موقع نہ مل سکا۔ گھروں اور دوکانوں میں تمام قیمتی سامان بھی جوں کا توں موجود تھا۔ 14روزہ جنگ کے بعد جب لوگ اپنے گھروں میں واپس آئے تو بہت سی دوکانوں اور گھروں سے سامان غائب تھا۔ پاک فوج پوری طرح چوکس تھی۔ لیکن پھر بھی کچھ موقع پرست ہاتھ مارنے میں کامیاب ہو گئے۔ بشیر رندھاوا بھی جب دوکان پر واپس آئے تو دوکان کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے۔ سامان تو اتنا چوری نہ ہوا تھا البتہ نقدی غائب تھی۔ زندگی کا نظام دوبارہ شروع ہو گیا۔ لوگ جنگ کے نقصانات سے بے پروا اپنے اپنے کاروبار میں مگن ہو گئے۔ ابھی جنگ بند ہوئے چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک دن پاک فوج کی ایک جیپ آ کر بشیر جنرل سٹور پر رکی۔ جیپ سے دو فوجی جوان نیچے اترے اور بشیر کو پوچھا یہ دوکان آپ کی ہے۔ انہوں نے بتایا جی میری ہی ہے۔ فوجی جوان نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک لفافہ بشیر صاحب کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ اپنی رقم گن لیں ایک دن ہم گشت پر تھے اور کچھ لوگ آپ کی دکان لوٹ رہے تھے، ہمیں دیکھ کر وہ بھاگ گئے۔ یہ رقم اٹھانے کا ان کو موقع نہ مل سکا۔ ہم یہ رقم اپنے ساتھ لے گئے اور کمانڈر صاحب کے پاس جمع کرا دی۔ اپنی امانت وصول کر لیں اور ہمیں رسید بنا دیں۔ بشیر رندھاوا اب اس دنیا میں موجود نہیں لیکن ان کا بیٹا اپنے والد سے سنی ہوئی داستان سناتے ہوئے آج بھی آب دیدہ ہو جاتا ہے۔

 
Read 474 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter