مادرِوطن کے شہیدوں اورغازیوں کو قوم کا سلام

تحریر: سینیٹر(ر) محمد اکرم ذکی

سابق سیکرٹری جنرل اور وزیرِ مملکت وزارتِ خارجہ۔ پاکستان


پاکستان اور بھارت کے مابین ستمبر 1965 کی جنگ تاریخ کے صفحات میں رقم ہوکر آئندہ نسلوں کے لئے ایک ناقابلِ تردید گواہی ہے کہ جنگوں میں فتح گولہ بارود، عددی برتری یا عسکری قوت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ دشمن کو فنا کرنے کا عزم، مادرِوطن کے دفاع پہ مرمٹنے کا حوصلہ، موت پر موت بن کر ٹوٹنے کا جذبہ جنگوں میں فتح یا شکست کا فیصلہ کرتے ہیں، اور انہی جذبوں سے سرشار پاک فوج کے نڈر، بہادر اور جری جوانوں نے اس جنگ میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے دانت یوں کھٹے کئے کہ حملہ آور دشمن اور اس کے اتحادی بھی اعتراف ناکامی پہ مجبور ہوئے ۔ جنگ ستمبر1965آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن ماضی کی باعثِ تقلید اور قابل فخر ایسی مثال ہے جو ہر جوان کو زندگی کے ہر دور میں ارضِ وطن کے دفاع کے لئے کسی بھی حدتک جانے کا حوصلہ فراہم کرتی رہے گی۔ پاکستانی قوم نے اس جنگ میں دلیری ، شجاعت، ایثار، خلوص اور قربانی کے وہ کارنامے انجام دیئے جوکہ تاریخ میں سنہری حروف سے رقم کئے جانے کے قابل ہیں۔ کہیں تودورانِ جنگ قوم کی بیٹیاں اپنا زیور تک دان کرتی نظر آئیں تو کہیں ستر سالہ بزرگ خواتین محاذ جنگ پر دشمن سے برسر پیکار پاک فوج کے جوانوں تک روٹیاں پہنچانے پہ بضد دکھائی دیں۔نوجوان مصر تھے کہ وہ اگلے مورچوں پر پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن فوجیوں کو رگیدنے میں حصہ شامل کریں ، توانا و ناتواں بزرگ ہسپتالوں میں خون کے عطیات دینے کے لئے ایک دوسرے پہ سبقت لے جانے کے لئے کوشاں تھے۔ پاک فوج کے جوان دفاع وطن میں خون کا آخری قطرہ نچھاور کرنے پر ہی نہیں بلکہ دشمن کے آخری سپاہی کا سر کچلنے کے لئے بے قرار تھے اور عوام نے بھی ان جوانوں کے حوصلے بڑھانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ دشمن کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ کوتاہ اندیشی میں اس نے ایسی قوم کو للکارا ہے کہ جو دفاع وطن میں جان دینے اور جان لینے ، دونوں فنون میں یکتا ہے۔ جبھی تو کسی محاذ پر دشمن اپنے مردہ و مجروح فوجی چھوڑ کر بھاگا تو کہیں اپنے ٹینک و توپیں، کسی مقام پر دشمن کے فضائی طیاروں کا ملبہ بکھرا تو کہیں دشمن فوجیوں کے وجود ۔ طاقت کے نشے میں چور بدمست ہاتھی کی طرح بھارتی افواج نے ارضِ وطن کی جانب پیش قدمی کی، ایک بار نہیں بلکہ کئی بار، ایک مقام پر نہیں بلکہ یکے بعد دیگر ے درجنوں مقاما ت پر ، مگر ہر بار، ہر مقام پر عبرتناک شکست اس کا مقدر بنی ۔ نصرت و کامیابی نے پاک افواج کے قدم چومے ۔ کروڑوں پاکستانیوں کی دعائیں، مدد الٰہی اور پاک جوانوں کی بلندہمتی اور شجاعت اس فتح کے بنیادی اسباب تھے۔


ارض وطن کا دفاع محفوظ ،مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اس کا ادراک تو دشمن کو6ستمبر 1965ء کی رات ہی ہوگیا تھا کہ جب اس نے بنا کسی پیشگی انتباہ
((Warning)
کے پاکستان پر دھاوابولامگر اس کے جواب میں اسے منہ کی کھانا پڑی۔ کہاں جو پروگرام تھا صبح کا ناشتہ لاہور جم خانہ میں کرنے کا اور کہاں برکی ہڈیارہ، واہگہ اور بھسین سیکٹر جارح بھارتی فوج کے لئے مرگھٹ میں بدل چکے تھے جہاں لاہور کو سرکرنے کی خواہش لے کر آنے والے بھارتی فوجیوں کو جان کے لالے پڑے تھے اور مقابلے میں تعداد میں نہایت قلیل اور کسی بھی اضافی جنگی بندوبست کے بنا پاک فوج کے سجیلے جوان قہر قدرت بنے ہوئے تھے۔چھ ستمبر کی رات میجر عزیز بھٹی کی قیادت میں موجود پاک فوج کے چند سپاہیوں نے دشمن کے بڑے اور بھرپور حملے کو بڑی پامردی سے روکا ، دشمن نے لاکھ جتن کئے مگر یہ مٹھی بھر جوان پہاڑ جیسے حوصلوں کے ساتھ بھارتی فوج کی راہ میں دیوار بنے رہے، یہاں تک کہ شہادت کا جام نوش کیا مگر پایۂ عزم میں کوئی لغزش نہ آئی۔اس دوران پاکستان کی دفاعی کمک کو بھی سرحد تک پہنچنے کا موقع مل گیا اوردشمن کا بی آر بی نہر کو عبور کرنے کا خواب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خواب ہی رہا۔ یہ ایسا کارنامہ تھا کہ قوم نے میجر عزیز بھٹی کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز یعنی نشانِ حیدر سے نوازا۔بھارتی میڈیا محاذ جنگ کے حالات سے بے خبر بڑی ڈھٹائی سے لاہور پہ قبضے کی خبریں نشر کررہا تھا ۔ ان خبروں کے ساتھ لاہور کی ایک بس کی تصویر جاری کی گئی تھی جو کہ سرحد پر گئی ہوئی تھی ۔ اس بس کی تصویر کو بنیاد بناکر بھارتی وزیردفاع یشونت راؤ چوہان اور جنرل جویا نتو ناتھ بھی لاہور فتح کرنے کی خوش فہمی میں مبتلا میڈیا کے سامنے احساس برتری کے نقارے بجاتے رہے مگر بھارتی بڑوں پہ بھی حقیقت اس وقت آشکار ا ہوئی جب حملہ آور بریگیڈز کی خبر گیری کے واسطے ڈویژن کمانڈ کے جنرل نے اگلے مورچوں کا رخ کیا تو معلوم پڑا کہ لاہور فتح تو درکنار یہاں تو جانی و عسکری نقصان کا اندازہ کرنا مشکل ہورہا ہے۔

madrewatanksh.jpg
یہاں سے منہ کی کھانے کے بعد بھارت نے یکے بعد دیگر ے کئی محاذ کھولے مگر ہر جگہ ناکامی و ہزیمت کا مزا چکھا ۔ بھارتی جرنیلوں نے منصوبہ بنایا کہ کسی ایسی سرحد سے بڑی عسکری قوت کے ساتھ حملہ کیا جائے کہ جہاں پاک فوج کی افرادی قوت کم ہو اور زیادہ مزاحمت کا سامنا کئے بغیر کسی طرح شہری علاقوں تک رسائی حاصل کرلی جائے۔ اس مقصد کے لئے دشمن نے سیالکوٹ کے محاذ پر جو پہلے سے بھی گرم تھا ، سیکڑوں ٹینکوں سے بڑا اور بھرپور حملہ کیا۔ سات اور آٹھ ستمبر کی درمیانی شب رات بارہ بجے کے قریب بھارتی فوج کے چودھویں انفینٹری ڈویژن نے باجرہ گڑھی سے سیالکوٹ کے گاؤں پر دھاوا بولا۔ بھارتی جرنیلوں نے منصوبے کے تحت تین اطراف سے بیک وقت حملہ کیا جس میں ایک چونڈ ہ کے مشرق میں نخنال سیکٹر ،دوسرا چاروہ سیکٹر اور تیسرا باجڑہ گڑھی ۔بھارتی فوج نے چاروہ ، گڈگور اور پھلوارہ سے گزر کر چونڈہ کی جانب پیش قدمی کی مگر پاک فوج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دشمن کوروکے رکھا۔ بھارتی فوج کا منصوبہ تھا کہ وہ کسی طرح جی ٹی روڈ اور ریلوے لائن پہ قبضہ کرکے لاہور اور راولپنڈی کے مابین تعلق کو کاٹ دے تاہم وطن عزیز کے عظیم و شجاع سپوتوں نے دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملادیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدیہ ٹینکوں کا سب سے بڑا حملہ تھا جو کہ چونڈہ میں بھارتی فوج نے کیا تھا ۔ دشمن نے سیکڑوں ٹینکوں اور ہزاروں سپاہیوں کے ہمراہ چونڈہ فتح کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ۔ دوران جنگ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ قلیل تعداد میں موجود اینٹی ٹینک شکن توپیں سیکڑوں ٹینکوں کی پیش قدمی روکنے میں ناکام پڑنے لگیں تو پاک فوج کے جوانوں نے ہاتھوں میں اور سینوں پر بم باندھ کے ٹینکوں کی جانب پیش قدمی کی ۔ ان چلتے پھرتے ٹینک شکن مجاہدوں نے میدانِ کارزار کو ٹینکوں کا قبرستان بنادیااور 600 ٹینکوں کے اس حملے میں بھی بھارتی فوج احساسِ شکست سے تلملاتی رہی۔


ستمبر1965ء کی جنگ میں بھارتی فوج نے صرف زمینی جنگ میں ہی ہزیمت نہیں اٹھائی بلکہ آب و باد بھی بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو ڈبونے میں پاکستان کے حامی و مددگاربنے۔ دنیا کی جنگی تاریخ کا ایک منفرد کارنامہ پاکستان کے غازی مجاہد پائلٹ ایم ایم عالم نے اپنے نام کیا اور ریکارڈ وقت میں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیاروں کو زمین بوس کرڈالا ، عقاب صفت اس غازی ہوا باز نے دشمن کے کل نو طیارے مارگرائے۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کیا ۔ شاہین صفت ہوا بازوں نے اس جنگ میں دشمن کے ایک سو سے زائد طیارے تباہ کئے ۔ جن میں سے بیشتر تو ایسے تھے کہ جنہیں اڑنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ دوسری جانب پاکستان کے سمندری پانیوں کی نگہبان پاک بحریہ نے بھی اس جنگ میں بری و فضائی افواج کے شانہ بشانہ پیشہ ورانہ مہارت کے وہ جوہر دکھائے کہ بھارتی بحریہ تمام تر وسائل کے باوجود بے دست و پا ہوکر رہ گئی۔ پاک بحریہ نے تاریخی سومنات مند ر کے قریب واقع دوارکاکی بندرگاہ پر بھرپور کارروائی کرکے اسے ناکارہ کردیا۔ پاک بحریہ کی توپوں نے نہ صرف تین بھارتی طیارے مارگرائے بلکہ بھارت کے ایک جنگی بحری جہاز کو ڈبو کر بھارتی غرور کے تمام بل نکال دیئے۔ دوسری جانب پاک فوج نے کھیم کرن پر قبضہ کرلینے کے بعد بڑے بھارتی علاقے پر پاکستانی پرچم لہرا دیا، جبکہ بھارت نے راجستھان میں پیش قدمی کا ارادہ کیا تو پاک فوج اور حر مجاہدوں نے بھارتی راجستھان میں بہت بڑے علاقے پر قبضہ کرلیااور اس صحرائی علاقے کو بھارتی فوج کے لئے نوگوایریا میں تبدیل کردیا۔ اس محاذپر سیکڑوں مربع میل علاقہ پاکستان کے قبضے میں آیا۔ جنگ ستمبر میں پاکستان ، پاکستان کی عسکری قوت اور پاکستانی قوم کے بارے میں بھارت اور اس کے حلیفوں کے تمام تر اندازے غلط ثابت ہوئے اور نہ صرف اسے ناقابلِ یقین مزاحمت سے دوچار ہونا پڑا بلکہ ایک ایسی شکست بھارتی فوج کا مقدر بنی جو کہ کسی طور ان کے وہم و گمان میں نہ تھی۔

ستمبر1965ء کی جنگ میں بھارتی فوج نے صرف زمینی جنگ میں ہی ہزیمت نہیں اٹھائی بلکہ آب و باد بھی بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو ڈبونے میں پاکستان کے حامی و مددگاربنے۔ دنیا کی جنگی تاریخ کا ایک منفرد کارنامہ پاکستان کے غازی مجاہد پائلٹ ایم ایم عالم نے اپنے نام کیا اور ریکارڈ وقت میں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیاروں کو زمین بوس کرڈالا ، عقاب صفت اس غازی ہوا باز نے دشمن کے کل نو طیارے مارگرائے۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کیا ۔


6ستمبر سے 22ستمبر 1965تک کی اس 17روزہ جنگ کے حالات و واقعات آج بھی پڑھنے اور سننے والوں کو ورطۂ حیرت میں ڈالتے ہیں،کہ کیسے طاقت اور عددی برتری کے احساس میں مبتلا کئی گنا بڑے دشمن نے پوری تیاری و قوت کے ساتھ ایک ایسے ملک پہ غیرعلانیہ حملہ کیا کہ جو نہ صر ف عددی و عسکری اعتبار سے کئی گنا کم تھا بلکہ جنگ کے لئے کسی طور بھی تیار نہ تھا، مگر اس کے باوجود اس نے حملہ آوروں کا غرور خاک میں ملادیا۔ اس جنگ میں وطن عزیز پاکستان کے حقیقی دوست و دشمن بھی کھل کر واضح ہوئے۔امریکہ کہ جس کے ساتھ دفاعی تعاون کا باقاعدہ معاہدہ تھا اور پاکستان سیٹو ، سینٹو میں شامل تھا ۔ اس کے باوجود اس جنگ میں امریکہ نے پاکستان کا کوئی ساتھ نہیں دیا، یہاں تک کہ دفاعی پرزہ جات تک بھی نہیں دیئے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اپنی سلامتی کی دفاعی جنگ میں بھارت سے برسر پیکار تھا تو اس وقت امریکہ نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرکے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا، کیونکہ بھارت کے ساتھ تو اس وقت امریکہ کا دفاعی تعاون کی مد میں یا دفاعی سازوسامان کی خرید و فروخت سے متعلق بظاہر کوئی معاہد ہ تھا ہی نہیں، چنانچہ معاہدوں کے تناظر میں امریکہ نے اگر تعاون کرنا بھی تھا تو وہ فقط پاکستان کے ساتھ کرنا تھا، تاہم عین جنگ کے دوران امریکہ نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان کا اعتماد کھودیا۔ میرے نزدیک ستمبر1965 ء میں بھارت نے پاکستان پہ جو حملہ کیااسے امریکہ کی غیرعلانیہ تائید حاصل تھی اور بھارت کو معلوم تھا کہ اگر اس نے پاکستان پہ ایک بڑی جنگ مسلط کی تو امریکہ اس جنگ میں پاکستان کی کوئی مدد و حمایت نہیں کرے گا۔ قبل ازیں 1965ء کے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ اورگجرات کے سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئی تھیں جنہیں عالمی ثالثی میں حل کرلیا گیا تھا۔ مارچ 65ء میں ہی صدر ایوب مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی دعوت پر قاہرہ گئے ۔ جہاں چین کے وزیراعظم چواین لائی اور انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو بھی موجود تھے۔ اس ملاقات پر امریکی صدر جانسن اس قدر برہم ہوئے کہ انہوں نے پاکستانی امداد کے لئے پیرس میں ہونے والی کنسورشیم میٹنگ منسوخ کردی۔ جس کے پاکستان پر منفی اثرات بھی مرتب ہوئے جبکہ اگست 65ء میں ہی پاک بھارت کشیدگی کا محاذ کشمیر میں گرم ہوچکا تھا اور متنازعہ علاقوں میں دونوں ممالک کے مابین باقاعدہ جھڑپیں جاری تھیں۔ اس دوران بھارت نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان نے ایک منصوبے کے تحت ہزاروں مسلح لوگ کشمیر میں داخل کئے ہیں اور شاستری نے کہا کہ اس کا جواب دینے کے لئے وقت اور جگہ کا تعین وہ خود کریں گے۔


ہندوستان نے وقت اور جگہ کا تعین 6ستمبر1965ء رات گئے بین الاقوامی سرحد پر لاہور اور سیالکوٹ سیکٹر میں بھرپور اور غیرعلانیہ حملہ کرکے کیا۔ صدر ایوب نے پاکستانی قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے عوام اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے کہ جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لئے خاموش نہ ہوجائیں۔ ہندوستانی حکمران نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے کس قوم کو للکار ا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے قومی و علاقائی گلوکاروں نے جنگی ترانوں و نغموں سے قوم کے دلوں میں جرأت، حوصلے ، ایثار و قربانی کی نئی روح پھُونک دی۔ راقم اس وقت لاہور سول سروس اکیڈمی میں تعینات تھا اور اسی دن ایک رزمیہ نظم ’’یہ جنگ ہے عوام کی ، عوام کی یہ جنگ ہے‘‘ لکھی ، جو کہ ریڈیو پاکستان پہ بھی نشر ہوئی اور ماہنامہ ہلال دسمبر2016ء کے شمارے میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ستمبر65ء کی جنگ نے پاکستانی قوم کا بطور قوم دنیا میں تشخص اجاگر اور وقار بلند کیا۔ اس موقع پر کامیاب سفارتکاری کے باعث پاکستان کے دوست ممالک نے بھی کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا۔ ابھی پاک بھارت جنگ جاری تھی کہ 17ستمبر کو چین نے سکم کے مقبوضہ علاقے میں نئی بھارتی حلقہ بندیوں کو مسمار کرنے کا الٹی میٹم دے دیاجس نے بھارتی غرور کے پھولے غبارے سے ساری ہوا نکال دی۔ علاوہ ازیں چین نے پاکستان کی ہر ممکنہ مدد کی اور اشیائے ضروریہ سمیت اپنے اسلحہ خانوں کے منہ کھول دیئے۔ دوسری جانب برادر اسلامی ملک ایران نے بھی پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور پاکستانی طیاروں کو اپنے ائیرپورٹ اور فضا استعمال کرنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ فیول و دیگر سامان فراہم کیا۔ اسی طرح انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو نے پاکستان کی مدد کے لئے اپنا بحری بیڑا بھجوایا۔ بعینہٖ ترکی اور ایران نے وافرمقدار میں اسلحہ بھی فراہم کیا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت افغانستان کے ظاہر شا ہ نے پاکستان کے ساتھ اختلافات کے باوجود یقین دلایا کہ وہ اس مشکل وقت میں پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔اس جنگ میں پاکستان کے لئے چین اور دیگر ہمسایہ ممالک کے بڑھتے تعاون سے مغربی قوتیں بھی پریشان ہوگئیں اور امریکہ جو کہ اپنا اعتماد بری طرح کھوچکا تھا۔ اس نے روس کو آگے کیا۔ 20ستمبر کو سلامتی کونسل نے دلالی کرتے ہوئے ایک قرارداد کے ذریعے دونوں ملکوں کو جنگ سے روک دیا۔تاشقند کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان وہ معروف معاہدہ طے پایا، جسے معاہدہ تاشقند کا نام دیا گیا۔ جنگ بندی کے معاہدے کی بھی ہندوستان بارہا خلاف ورزی کرچکا ہے۔معاہدہ تاشقند میں طے پایا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفتوعہ علاقے واپس کریں گے۔1949ء کی کشمیر کی لائن آف سیز فائر بحال ہوگی۔ سلامتی کونسل3ماہ کے اندر اندر مسئلہ کشمیر کو حل کرے گی۔ذوالفقار علی بھٹو جو کہ اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے ، انہوں نے تاشقند معاہدے کی مخالفت کی تھی ، جس بناء پر انہیں وزارت خارجہ سے علیحدہ کردیا گیا تھااور انہوں نے اپنے آزاد سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنی تحریروں اور تقریروں میں معاہدہ تاشقند کے رازوں کی بات کرتے رہے مگر اپنی حیات میں انہوں نے وہ راز افشاء نہ کئے ۔ اس جنگ نے پاکستان کے دیرپا اور بااعتماد دوستوں کا بھی تعین کیا۔ چین کہ جس نے سب سے زیادہ معاونت کی اس کے ساتھ دوستی کی مثال سمندر سے گہری ، شہد سے میٹھی اور ہمالیہ سے بلند قرار پاتی ہے۔ ایران و ترکی کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون و بھائی چارے کو فروغ ملا اور ترقی کی شاہراہ پرمل کر چلنے کے فیصلے ہوئے ۔ جنگ ستمبر65ء کونصف صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، تاہم پاکستان کی تاریخ، بالخصوص عسکری تاریخ، سنہرے حروف سے رقم شدہ باب کی حیثیت ، اہمیت اور افادیت کی حامل ہے۔ اس جنگ نے ہی اقوامِ عالم پہ بالعموم اور دشمن پہ بالخصوص یہ واضح کیا کہ وطنِ عزیز پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے کوئی بھی بیرونی جارحیت بے سود ہے، لہٰذا اسے اندرونی عدم استحکام ، انتشار کا شکار کرکے کمزور کیا جائے۔ بادی النظر دیکھا جائے تو جنگ 65ء آج بھی جاری ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کا سلامتی کا مشیر اجیت دوال
(Ajit Doval)
پاکستان کے خلاف خطرناک منصوبہ بندی کرچکے ہیں اور افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف تخریب کاری کررہے ہیں۔ جارح دشمن آج بھی غیر علانیہ طور پر پاکستان پر حملہ آور ہے، فرق محض اتنا ہے کہ پہلے وہ جغرافیائی سرحدوں سے حملہ آور تھا ۔ آج وہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور ثقافتی سرحدوں سے حملہ آور ہے۔آج میدان کارزار محض چونڈہ، کھیم کرن، برکی، راجستھان وغیر ہ ہی نہیں بلکہ ان میں فاٹا، گلگت بلتستان،بلوچستان کا بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ ستمبر 65ء کے میجر عزیز بھٹی، میجر جنرل ابرار حسین، بریگیڈیئر عبدالعلی ملک، لیفٹیننٹ کرنل نثار حسین کی طرح آج میجر جنرل ثناء اللہ، لیفٹیننٹ کرنل محمد توصیف میجر علی سلمان اور کیپٹن یاسر علی آج بھی دشمن سے محاذِ جنگ پر برسرِ پیکار ہیں، ارض وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔تاہم اس جنگ کو مکمل طور پر جیتنے کے لئے بھی ستمبر65ء کی جنگ والے قومی جذبے، ولولے اور ایثار و قربانی کی ضرورت ہے۔ جنگ ستمبر اہلِ دنیا کو یہ بتلانے کے لئے کافی ہے کہ ارض وطن پرجب کوئی مشکل وقت آیا تو اس کے دلیر ، شجاع اور غیور سپوت دفاع مقدس کے واسطے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، اس کی تائید ستمبر 65ء کی جنگ اورکامیاب’’ ضرب عضب‘‘ اور پورے عزم سے جاری و ساری ’’ردالفساد‘‘ کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کے چہروں پہ پھیلی مُسکان بھی کرتی ہے۔
شہدائے پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد

 

 
Read 481 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter