چھ ستمبر۔ دفاعِ وطن کی درخشندہ علامت

تحریر: الطاف حسن قریشی


کیا خوب تھے وہ دن جن کی یادیں آج بھی دلوں کو نئے جذبوں اور ولولوں سے سرشار کر دیتی ہیں۔
یہ باون برس پہلے کی بات ہے، میں اپنے دوستوں کی دعوت پر 5 ستمبر 1965ء کی سہ پہر ساہیوال روانہ ہوا۔ اِرادہ ایک دو روز ٹھہرنے کا تھا۔ ایک ہی دن پہلے میں مقبوضہ کشمیر میں واقع چھمب جوڑیاں کے محاذ سے لوٹا تھا جہاں پاکستان کی فوجیں اکھنور کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں۔ اس آپریشن ’گرینڈ سلام‘ کا بنیادی مقصد بھارتی افواج پر دباؤ بڑھانا اور اُن کی پیش قدمی کو روکنا تھا جنہوں نے آزاد کشمیر کے بعض سٹریٹجک علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور مظفر آباد کو بھی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ ساہیوال پہنچنے کے بعد میں نے آل انڈیا ریڈیو سے بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کا یہ اعلان سنا کہ ہم اپنی مرضی کا محاذ کھولیں گے۔ میری چھٹی حس نے اِس اعلان میں چھپا ہوا خطرہ محسوس کیا، چنانچہ میں نے صبح سویرے لاہور واپس جانے کا ارادہ کر لیا۔ میں ریڈیو سے صبح کی خبریں نہیں سن سکا تھا۔ لاہور کے گردونواح میں ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے میں آیا کہ لوگ اپنا سامان سروں پر اُٹھائے ریلوے اسٹیشن کی طرف چلے آرہے ہیں۔ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی اِس نقل و حرکت پر مجھے بڑی حیرت کے ساتھ ایک انجانا سا خوف محسوس ہونے لگا۔ میں کوئی نو بجے کے قریب اپنی رہائش گاہ سمن آباد پہنچا جس میں ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ کا دفتر بھی تھا۔ ابھی دفتر میں داخل ہی ہوا تھا کہ بہت خوفناک دھماکہ ہوا جس سے پوری عمارت لرز اُٹھی۔ یوں لگا جسے قریب ہی بم پھٹا ہو۔ صورتِ حال کا اندازہ لگانے کے لئے میں نے ریڈیو کا سوئچ آن کیا۔ صدر محمد ایوب خاں انگریزی میں قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بزدل دشمن نے لاہور کی جانب سے حملہ کر دیا ہے اور ہم نے اپنی افواج کو اُسے سبق سکھانے کا حکم دے دیا ہے۔

sixsepdifaewatan.jpg
یہ تقریر انگریزی میں تھی،اِس لئے لوگوں کے سر سے گزر گئی اورکوئی نمایاں ردِعمل ظاہر نہیں ہوا۔ بیس منٹ بعد مجھے اُردو ڈائجسٹ کے ایک قاری کا ٹیلی فون آیا جو لاہور میں ایئر فورس کے ساتھ منسلک تھے۔ انہوں نے بتایاکہ یہ دھماکہ ہمارے طیاروں کے ساؤنڈ بیریئر عبور کرنے پر ہوا ہے جو دشمن فوج کی بی آر بی نہر کی طرف پیش قدمی روکنے کے لئے فضا میں بلند ہوئے ہیں اور ٹھیک ٹھیک نشانے لگا رہے ہیں۔ محلے کے لوگ ہمارے دفتر میں جمع ہو گئے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ صدرِ مملکت کو اُردو میں خطاب کرنا اور قومی جذبوں کو اُبھارنا چاہئے تھا۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ریڈیو پاکستان سے اعلان ہوا کہ فیلڈ مارشل ایوب خاں پندرہ منٹ بعد اپنے ہم وطنوں سے خطاب کرنے والے ہیں اور پھر ریڈیو پر صدرِ مملکت کی آواز بلند ہوئی


’’میرے عزیز ہم وطنو! السلام علیکم! دس کروڑ پاکستانیوں کے امتحان کا وقت آن پہنچا ہے۔ آج صبح سویرے دشمن نے لاہور کی جانب سے حملہ کیا ہے اور بھارتی ہوائی بیڑے نے وزیرآباد ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مسافر گاڑی کو بزدلانہ حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کے دس کروڑ عوام کے دل کی دھڑکنوں میں لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ کی صدا گونج رہی ہے۔ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں خاموش نہ ہو جائیں۔ بھارت کے حکمران شاید یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ہمارے دلوں میں ایمان اور یقین محکم ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہم سچائی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم اتحاد اور عزم کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی مسلح فوجوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع عطا کیا ہے جن کا جذبۂ فداکاری اور آہنی عزم طرۂ امتیاز رہا ہے۔ ہمیں یقیناًان تمام ممالک کی ہمدردی اور حمایت حاصل ہو گی جو امن اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں نے شروع دن سے پاکستان کی آزاد مملکت کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور اٹھارہ برس سے پاکستان کے خلاف جنگی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے، وہ ہمیں ضرور کامیابی بخشے گا۔ ہم وطنو! آگے بڑھو، اﷲ تمہارا حامی و ناصر ہو!‘


تقریر ختم ہوتے ہی حاضرین نے پوری قوت سے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہی نعرے آس پاس کے محلوں سے بھی سنائی دینے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں لوگ ہماری عمارت کے گرد اکھٹے ہو گئے جن کے چہرے جذبۂ جہاد سے دمک رہے تھے۔ پھر مختلف شہروں سے ٹیلی فون کالز کا ایک تانتا سا بندھ گیاجن میں قومی آزادی کے تحفظ کا عظیم جذبہ کارفرما تھا۔ صدر ایوب خاں کی تقریر نے قوم کے اندر تازہ رُوح پھونک دی تھی جسے کامل یقین تھا کہ ہماری افواج اسلامی تاریخ کے اُن عظیم اور لافانی مجاہدوں کی روایات تازہ کریں گی جنہوں نے باطل کو سرنگوں کر دیا تھا اور اپنی جانوں پر کھیل کر حق کی شہادت دی تھی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اتحاد اور یک جہتی کے ایسے مناظر ہماری تاریخ میں گلزارِ کہکشاں کی طرح وجود میں آتے گئے جو آنے والی نسلوں کو روشنی، خوشبو اور تازگی فراہم کرتے رہیں گے۔ صدر ایوب خاں کے یہ الفاظ کہ کروڑوں دلوں میں لاالہ الا ﷲ کی صدائیں گونج رہی ہیں ، اُن گہرے زخموں کے لئے مرہم ثابت ہوئے جو ایک سال پہلے صدارتی انتخاب میں ہمارے سیاسی وجود کو لگے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں نے فیلڈ مارشل ایوب خاں کے مدِ مقابل مادرِ ملت فاطمہ جناح کو کھڑا کر دیا تھا اور سخت معرکہ پیش آیا تھا۔ پورے مشرقی پاکستان اور کراچی میں قائد اعظم کی ہمشیرہ کا فقید المثال استقبال ہوا، مگر دھاندلی سے انہیں شکست ہوئی۔ اس پر کراچی میں خونریز فسادت پھوٹ پڑے اور پورے ملک میں سیاسی فضا سخت کشیدہ تھی، لیکن صدر ایوب خاں کی نشری تقریر نے دلوں اور ذہنوں کی دنیا یکسر بدل ڈالی تھی۔ اتحاد اور اعتماد کے چشمے اُبلنے لگے تھے۔ تمام سیاسی قائدین فیلڈ مارشل کی دعوت پر اُن کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو گئے اور اپنی قوم کو پوری طرح متحد رہنے اور فوج کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے پر اُبھارتے رہے۔ چشمِ زدن میں شاعر، فن کار اور گلو کار میدان میں اُتر آئے اور فوجی ترانے اور ملی نغمے روح اور قلب کو گرمانے اور تڑپانے لگے۔


فیلڈ مارشل ایوب خاں نے افواجِ پاکستان کو دشمن سے نبردآزما ہونے کا حکم دے دیا تھا، مگر وہ ایک سخت آزمائش سے دوچار تھیں۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی جاری رکھتے ہوئے صوبہ سندھ کے جنوب مغرب میں واقع ایک غیر آباد علاقے رَن کچھ میں مارچ 1965ء کے اوائل میں اپنی فوجیں اُتار دی تھیں اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا جہاں پاکستان کی کسٹم پوسٹ واقع تھی۔ پاکستان کا 8 ڈویژن جس کے جی او سی میجر جنرل ٹکا خاں تھے، اس نے دشمن کا مقابلہ کیا اور اسے جارحیت کا مزہ بھی چکھایا۔ معاملہ جب پوری جنگ کی طرف بڑھنے لگا، تو برطانوی وزیر اعظم ہیرلڈ ولسن کی مداخلت سے دونوں ملکوں نے سیز فائر کے معاہدے پر 30 جون کو دستخط کئے۔ اس کی شق 2 میں درج تھا کہ دونوں طرف کی فوجیں سات روز کے اندر واپس چلی جائیں گی اور ان کی جگہ پولیس یکم جنوری 1965ء کی پوزیشنوں پر پٹرولنگ کرے گی۔ اس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی افواج دفاعی پوزیشنوں سے بھی بہت پیچھے چلی گئی تھیں، بارودی سرنگیں بھی ہٹا لی گئی تھیں جبکہ اگلی پوزیشنوں کے قریب صرف رینجرز ، پولیس یا کہیں کہیں فوجی یونٹس تعینات تھے۔ 10 ڈویژن جسے لاہور کے دفاع کی ذمے داری سونپی گئی تھی، ان کے جی او سی میجر جنرل سرفراز نے 31اگست کی صبح کھاریاں کی دفاعی کانفرنس میں شرکت کی اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا سے دفاعی پوزیشنیں سنبھالنے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی اجازت چاہی جس کا جواب نفی میں دیا گیا کہ ہم بھارت کو مشتعل ہونے کا کوئی موقع دینا نہیں چاہتے۔

 

فوج اور عوام کے مابین گہری محبتوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ جب فوجی قافلے حرکت میں آتے تو عوام اُن پر پھولوں کی بارش کرتے اور اُن کی راہ میں آنکھیں بچھاتے تھے۔ خون دینے کے لئے جوانوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ لوگ دیگوں اور ضروریاتِ زندگی کی اشیا کے ساتھ اگلی پوزیشنوں تک پہنچنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے۔

بھارت نے 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی رات لاہور پر واہگہ اور قصور کی جانب سے کوئی وارننگ دئیے بغیر حملہ کر دیا اور دو روز بعد سیالکوٹ کی طرف بھی پیش قدمی شروع کر دی۔ آل انڈیا ریڈیو اور بی بی سی نے یہ افواہ بھی نشر کر دی کہ لاہور پر بھارت کا قبضہ ہو گیا ہے۔ ان تمام نامساعد حالات کے باجود فارورڈ ایریا میں تعینات شیر دل یونٹس نے دشمن کو اس وقت تک آگے بڑھنے نہیں دیا جب تک افواج نے اپنی پوزیشنیں سنبھال نہیں لی تھیں۔اعلیٰ افسر اپنے جوانوں سے آگے بڑھ کر دشمن پر وار کرتے اور اس کے وار سہتے رہے ۔ ابتدائی اڑتالیس گھنٹے قیامت کے تھے۔ پاکستان کو عددی اعتبار سے اپنے سے آٹھ گنا بڑے دشمن کا سامنا تھا، مگر جذبۂ شہادت سے سرشار اور قوتِ ایمانی سے لیس ہماری فوج دشمن کے ٹینکوں، توپ خانوں اور طیاروں سے گولوں کی مسلسل بارش کے باوجود فولاد کی دیوار ثابت ہوئی۔ اس نے دشمن کی فوجوں کو بی آر بی نہر عبور نہیں کرنے دی اور بھارتی جرنیلوں کا جم خانہ میں جشنِ فتح منانے کا خواب انتہائی ڈراؤنے خواب میں تبدیل کر دیا تھا۔تمام محاذوں پر ہمارے افسر اور جوان اس قدر بہادری اور بے جگری سے لڑے کہ بیسویں صدی میں شجاعت و عظمت کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ میجر عزیز بھٹی نے لاہور کے محاذ پر محدود ٹروپس کے ساتھ انتہائی مشکل حالات میں کئی دنوں تک دشمن کو انگیج رکھا اور وہ آخرِ کار وطن کی سا لمیت اور عظمت پر قربان ہو گئے جس پر انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ اسی محاذ پر لیفٹیننٹ کرنل تجمل حسین ملک، میجر شفقت بلوچ اور پارسی لیفٹیننٹ کرنل گولا والا بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیتے رہے۔ قصور پر دشمن کا حملہ پسپا کرتے ہوئے میجر جنرل عبدالحمید کی قیادت میں ہماری فوجیں بھارت کے شہر کھیم کرن پر قابض ہو گئیں جہاں سے امرتسر کو سڑک جاتی تھی۔ سیالکوٹ پر دشمن کی پانچ ڈویژن فوج حملہ آور ہوئی تھی۔ میجر جنرل ابرار حسین، میجر جنرل ٹکا خاں، بریگیڈئیر عبدالعلی ملک اور بریگیڈئیر اے کے نیازی اپنی بے مثال قیادت کے جوہر دکھاتے رہے۔ چونڈہ، جہاں دوسری جنگِ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی، وہ دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بن گیا۔ اِسی طرح اسکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے سرگودھا بیس پر ایک منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے گرا کر فضا پر پاکستان کی بالادستی قائم کر دی تھی۔ سندھ کے جنوب میں بریگیڈئیر کے ایم اظہر کی قیادت میں ہماری فوج بھارت کے ریلوے اسٹیشن ’مونا باؤ‘ تک پہنچ گئی تھی۔ ہماری بحریہ نے بھارت کی تاریخی بندرگاہ ’دوارکا‘ تباہ کر کے اس کی بحری طاقت پر کاری ضرب لگائی تھی۔


میں ان خوش نصیب صحافیوں میں غالباً آخری زندہ صحافی ہوں جسے جنگِ ستمبر کے تمام محاذوں پر جانے اور اعلیٰ فوجی کمان کے علاوہ اَن گنت فوجیوں اور شہریوں سے ملنے کا موقع ملا۔ فوج اور عوام کے مابین گہری محبتوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ جب فوجی قافلے حرکت میں آتے تو عوام اُن پر پھولوں کی بارش کرتے اور اُن کی راہ میں آنکھیں بچھاتے تھے۔ خون دینے کے لئے جوانوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ لوگ دیگوں اور ضروریاتِ زندگی کی اشیا کے ساتھ اگلی پوزیشنوں تک پہنچنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے۔ مہدی حسن اور میڈم نور جہاں کی مترنم آوازوں میں ملی نغمے فوج کے اندر وطن کے لئے قربان ہونے کے جذبے اُبھارتے اور ایک سرشاری پیدا کرتے رہے۔ آج اُسی فضا کو پیدا کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت پھر سر پر کھڑا ہے اور امریکہ بھی افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ ہم پر ڈالنا چاہتا ہے۔ خوش قسمتی سے عالمی دہشت گردی کے خلاف نبردآزما رہنے کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح پُرعزم ہے اور اس نے بہت سا کٹھن سفر طے بھی کر لیا ہے۔اب داخلی استحکام کا زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے جس میں مکالمے اور دلیل کی قوت سے خطرات پر قابو پایا جا سکے۔ آج حکومت، فوج اور عوام ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر قومی سلامتی اور ملکی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھ سکتے اور ہر آنے والی آزمائش کو عظیم امکانات میں تبدیل کرنے کا تاریخ ساز کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں۔

مضمون نگار کا شمار ملک کے سینیئر اور نامور صحافیوں میں ہوتا ہے۔ آپ ایک قومی اخبار میں ’صورتحال‘ کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 489 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter