جذبو ں کی روشنی

تحریر: ڈاکٹر صفدرمحمود


کبھی غور کیا آپ نے کہ انسان محض گوشت پوست اور ہڈیوں کا نام نہیں، بلکہ ’انسان‘ جذبے کا نام ہے ۔ انسانی زندگی کا سب سے بڑا راز انسانی جذبہ ہے۔ بقول مولانا رومی تم جو ہو وہ تمہاری سوچ ہے باقی سب گوشت پوست ہے۔ مطلب یہ کہ انسان کو اس کی سوچ، عمل اورجذبے سے محروم کردیا جائے تو باقی صرف گوشت اور ہڈیا ں بچتی ہیں۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو محافظِ ملک و قوم بناتا اورجہاد کی منزل کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو بے خوف اور اس قدر بہادر بناتا ہے کہ وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا اور مسکراتے ہوئے موت کو سینے سے لگالیتا ہے۔ ورنہ زندگی کس کو پیاری اور عزیز نہیں۔ زندگی نبیوں اور پیغمبروں کو بھی پیاری تھی اور ہر انسان کو پیاری ہوتی ہے۔ آپ نے وہ واقعہ پڑھا ہوگا کہ حضرت ادریس علیہ السلام موت کے خوف سے آسمانوں پر چلے گئے تھے جہاں حضرت عزرائیلؑ نے اُن کی روح قبض کی۔ مطلب یہ کہ زندگی اﷲ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جو ہر جاندار کو عزیز اور پیاری ہوتی ہے اور انسان موت کے تصور سے ہی خوفزدہ ہو جاتا ہے لیکن جذبہ ایک ایسا محرک ہے جو انسان کو موت کے خوف سے بے نیاز کردیتا ہے اور شہادت ایک ایسا مقام ہے جسے پانے کی آرزو انسان کو دنیا کی محبت سے آزاد کرکے سرمقتل لے جاتی ہے۔ شہادت دراصل موت نہیں بلکہ حیاتِ جاودانی ہے، ہمیشہ کی زندگی اور ابدی حیات۔ شہید ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے لیکن قرآن مجید کے مطابق وہ زندہ ہے اور اﷲ پاک کے ہاں کھاتاپیتا ہے۔ موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے لیکن اگر انسان کو موت کے بعد زندگی مل جائے تووہ رحمتِ خداوندی کا ایسا تحفہ اور انعام ہے جس کے مقام کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔
انسانی تاریخ اور اپنی قومی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ انسان کو انسان سے محض جذبہ ممتاز کرتاہے۔ دیکھنے میں سبھی انسان ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اُن میں سے معدودے چند تاریخ کا حصہ بن کر لوحِ جہاں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جبکہ دوسرے موت کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتے ہیں اور زمانہ انہیںیوں بھُلا دیتا ہے جیسے وہ کبھی دنیا میں تھے ہی نہیں۔ قائدِاعظم میرکارواں بنے اور پاکستان کی تحریک کی قیادت سنبھالی تو اُن کے ساتھ سیکڑوں سیاسی لیڈران ، لاکھوں سیاسی کارکنان اوراپنے دور کے ممتاز لوگ شامل تھے لیکن آج تاریخ میں قائدِاعظم کا مقام اُن تمام سے نہایت بلند اور ابدی نوعیت کا ہے جبکہ دوسروں کا نام صرف مانوس ہے، کچھ کے نام بھی مانوس نہیں رہے اور وقت کی گرد تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ یہ جذبہ ہی تھا، کردار ہی تھا، ایثار اور بے پایاں جدو جہد ہی تھی جس نے محمدعلی جناح کو قائدِاعظم بنایا، پھر بانیِ پاکستان اور بابائے قوم کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز کیا۔ یہ جذبہ ہی تھا جو بیماری اور جسمانی کمزوری کے باوجود قائدِاعظم سے روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرواتا، ہندوستان کے طول و عرض میں دورے کرواتا اور بیک وقت دو محاذوں، کانگریس اور انگریز کے خلاف برسرِپیکار رکھتا تھا۔

 

انسانی تاریخ اور اپنی قومی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ انسان کو انسان سے محض جذبہ ممتاز کرتاہے۔ دیکھنے میں سبھی انسان ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اُن میں سے معدودے چند تاریخ کا حصہ بن کر لوحِ جہاں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جبکہ دوسرے موت کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتے ہیں اور زمانہ انہیںیوں بھُلا دیتا ہے جیسے وہ کبھی دنیا میں تھے ہی نہیں۔

قائد یا لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ہجوم سے نعرے لگواتا اور ووٹ حاصل کرنے کے لئے جذباتی تقریریں اور جھوٹے وعدے کرتا ہے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو صحیح معنوں میں قوم کی راہنمائی کرتا، قوم کا اندھا اعتماد حاصل کرتا اور قوم کو جذبے کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ قائد وہ ہوتا ہے جو قوم کو متحد اور منظم کرتا ہے اوراپنے ساتھیوں کو جذبے سے محرک کرتا ہے۔ قائدِاعظم کوئی ایک سال پاکستان کے گورنر جنرل رہے۔ اس ایک سال میں انہوں نے سادہ طرزِ حکومت، قومی وسائل کے ایماندارانہ استعمال ، قومی خزانے کے تقدس اور قانون کی حکمرانی کی ایسی مثالیں قائم کیں جو خلافتِ راشدہ کے دور کی یاد دلاتی ہیں۔ گورنر جنرل ہاؤس کے اخراجات پر کڑی نظر رکھی اور اپنے علاج تک کے لئے بیرون ملک جانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے غریب ملک کا خزانہ اس خرچ کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ راتوں کو اُٹھ کر خود بتیاں بجھانا اور خزانے کی ایک ایک پائی کا خیال رکھنا قائداعظم کے جذبے، جذبۂ خدمت و ایثار۔ جذبۂ حب الوطنی کے منفرد مظاہر تھے۔ بچت اور اصراف سے گریز کی بہترین، اور موجودہ دور میں عنقامثال محترمہ فاطمہ جناح کا کراچی کی بیکری کو فون تھا جو گورنر جنرل ہاؤس میں ناشتے کا سامان فراہم کرتی تھی۔ محترمہ نے بیکری مالکان کو فون کیا اور کہا کہ آپ جو ڈبل روٹی سپلائی کرتے ہیں، ہم اس کے بمشکل دو تین سلائس کھاتے ہیں اور باقی ضائع ہو جاتی ہے۔ آپ گورنر ہاؤس کو اس سے چھوٹی ڈبل روٹی بھجوایا کریں۔ بیکری مالکان نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اس سے چھوٹا سانچا ہی نہیں ہے۔ آپ کو سب سے چھوٹی ڈبل روٹی بھجوائی جاتی ہے۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ہدایت پر بیکری مالک نے چھوٹا سانچا تیار کروایا اور پہلے سے بہت چھوٹی ڈبل روٹی بھجوانی شروع کردی۔ ایسا کیوں تھا؟ چند سلائس ضائع جانے سے گورنر جنرل ہاؤس کو کیافرق پڑتا تھا؟ دراصل یہ جذبہ تھا جس نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو معمولی اصراف ، معمولی ضیاع سے بچنے پر مجبور کیا۔


لیڈر جذبوں کا رول ماڈل ہوتا ہے اور وہ اپنے ارد گرد موجود ساتھیوں کو بھی اُسی جذبے سے سرشار کرتا ہے۔ جو سیاسی راہنما، قومی لیڈر ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ بلاشبہ لیڈر نہیں، قائدنہیں بلکہ ہجوم کا مداری اور وقتی سیاسی لہر کا قائد ہوتا ہے۔ لیڈر ایک ایسی شمع ہوتی ہے جو تاریکی میں اُمید، حوصلوں اور جذبوں کی روشنی پھیلاتی اور اپنے ساتھیوں کو ننھے منے چراغ بنا دیتی ہے جو لیڈر اپنے ساتھیوں کی صلاحیتں اُجاگر نہیں کرسکتا، اُنہیں چراغ راہ نہیں بنا سکتا اور ان میں جذبہ روح نہیں پھونک سکتا وہ بہرحال لیڈر نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ لیڈر کو اس کا قائدانہ جذبہ اور قائدانہ کردار باقی لیڈروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ہماری قومی زندگی میں اس کی بہترین مثال قائدِاعظم کے دستِ راست اور قریبی رفیق نواب زادہ لیاقت علی خان کی ہے جو چار سال تک پاکستان کے وزیرِاعظم رہے اور اس دوران قائدِاعظم کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ قائداعظم نے اپنی زندگی بھر کی کمائی اور جمع پونجی انتقال سے پہلے قوم میں تقسیم کردی۔ لیاقت علی خان نواب ابن نواب تھے، ہزاروں ایکڑوں کے مالک اور محلات میں رہنے والے تھے۔ انگلستان اعلیٰ تعلیم کے لئے گئے تو اپنا باورچی اور خادم ساتھ لے کر گئے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم بنے تو سادہ طرزِ زندگی کی مثال بن گئے۔ اُس دور میں چینی راشن کارڈ پر ملتی تھی۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ وزیرِاعظم ہاؤس بھی کارڈ کا مرہون منت ہو۔ لیاقت علی خان کا وزیرِاعظم ہاؤس راشن کارڈ کے مطابق چینی لیتا تھا۔ عام طور پر چینی کا یہ کوٹہ مہینے کے پہلے بیس اکیس دنوں میں ختم ہوجاتا تھا۔ بقایا نودس دن وزیرِاعظم، ان کا خاندان اور مہمان پھیکی چائے پیتے تھے۔ اس کے پیچھے جذبہ کیا تھا؟ جذبہ شہری برابری اور قانون کی حکمرانی تھا کہ ملک کا قانون اور سسٹم سب کے لئے ایک طرح لاگو ہوگا۔ ایثار اور قربانی کا یہ عالم کہ نوابزادہ لیاقت علی خان شہید ہوئے تو محترمہ رعنا لیاقت علی اور بچوں کے لئے سرچھپانے کی جگہ بھی نہیں تھی کیونکہ لیاقت علی خان نے وزیراعظم ہونے کے باوجود نہ پاکستان میں گھر الاٹ کروایا تھا اور نہ ہی زرعی زمین۔ شہید کے بینک بیلنس چند روپے اور چند ایک کپڑوں کے جوڑے تھے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کہا کرتے تھے جب تک ہر پاکستانی کو چھت نہیں مل جاتی اور ہر مہاجر آباد نہیں ہوجاتا، وزیراعظم کو گھر الاٹ کروانے اور زرعی زمین کا کلیم داخل کرنے کا ہرگز حق نہیں۔ دراصل یہ خلافتِ راشدہ کے سنہری دور کا ماڈل تھا جس کی قائدِاعظم اور قائدِ ملت نے اتباع کرنے کی کوششیں کیں۔ وہ زندہ رہتے تو اس طرزِ حکومت کی بنیادیں مضبوط کرجاتے لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور


ع   اِک دھوپ تھی جوساتھ گئی آفتاب کے


مثالیں تو اَن گنت، لیکن مقصودیہ ہے کہ جذبہ انسان کو انسان سے ممیز کرتاہے، ممتاز کرتا اورعظمت کی بلندیوں پر بٹھاتا ہے ورنہ اولادِ آدم تو بظاہر ایک ہی جیسی ہے، ایک ہی طرح کی ساخت رکھتی اور ایک ہی جیسی نظر آتی ہے۔ اور پھر لیڈر سے مراد صرف سیاسی لیڈر نہیں۔ مختلف شعبوں کے سربراہ، اداروں کے ہیڈز
(HEADS)
، فوج، ایئرفورس، نیوی کے سربراہ وغیرہ سبھی اپنے اپنے دائرہ کار میں لیڈر ہوتے ہیں اور ان اصولوں کا اطلاق اُن سب پر ہوتا ہے۔ لیڈر شپ کا اول اصول یہ ہے کہ آپ اپنے کردار، کارکردگی اور شخصیت سے اپنے ساتھیوں کو کس طرح اور کتنامتاثر کرتے ہیں، آپ میں رول ماڈل بننے کی صلاحیت ہے یا نہیں؟ محض کرسی انسان کو لیڈر نہیں بناتی، انسانی خوبیاں، شخصیت، کردار اور قائدانہ صلاحیتیں لیڈر بناتی ہیں اور ان تمام خوبیوں کے پسِ پردہ محرک جذبہ ہوتاہے۔ اس لئے قیادت کے لئے جذبے کو بنیادی حیثیت دیتا ہوں۔

مضمون نگار: ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 532 times

2 comments

  • Comment Link afzal afzal 03 October 2017

    very well written thank you

  • Comment Link shabaz shabaz 03 October 2017

    jazboon ki roshni bahut detailed article hay umeed kerta hun next shumaroon main b aise article perhne ko milain gey.

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter