پاک بحریہ۔ ملکی دفاع سے علاقائی اور بین ا لاقوامی امن میں ایک اہم کردار

تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خاں


کستان کے دفا ع اور ترقی کے لئے ایک طاقت ور بحریہ کی ضرورت جس شخصیت نے سب سے پہلے محسوس کی وہ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ اس وقت پاکستان دو حصوں مشرقی اور مغربی پاکستان پر مشتمل تھا۔ یہ دونوں حصے اپنی جغرافیائی وقو ع پذیری کی وجہ سے بالترتیب خلیج بنگال اور بحیرہ عرب میں بحری سر گرمیوں پر نظر رکھنے کی پوزیشن میں تھے۔ دفاعی حکمتِ عملی اور تجارتی سر گرمیوں کے حوالے سے خلیج بنگال او ربحیرہ عرب ،بحرِ ہندکے سب سے اہم حصے ہیں اسی لئے ان کو بالترتیب بحرِہند کا مشرقی بازو اور مغربی بازو کہا جاتاہے۔ بحرِہند کی تاریخ میں ان دونوں بازوؤں نے نہایت اہم سیاسی اور دفاعی کردار ادا کیاہے۔ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھانپ لیا تھا کہ آنے والے دنوں میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا سمندر بحرِہند ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے فروغ اور بڑی طاقتوں کی دفاعی اور سیاسی حکمتِ عملی میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔ اس لئے انہوں نے پاکستان کے لئے ایک طاقت ور بحریہ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔خود پاکستان کے دفاع اور اس کی معاشی ترقی کے لئے بھی ایک طاقت و ر بحریہ کی موجودگی اشد ضروری تھی کیونکہ 1971سے قبل مشرقی اور مغربی پاکستان میں رابطہ ایک مضبوط بحریہ کے ذریعے ہی قائم رکھا جا سکتاتھا۔ اس کے علاوہ ملک کی 90فیصد تجارت چونکہ سمندر کے ذریعہ باہر کی دنیا سے تھی اس لئے ایک کمرشل نیوی بھی در کار تھی جس کی حفاظت ایک طاقت ور بحریہ ہی کر سکتی ہے۔ چنانچہ ایک مضبوط بحریہ مستقبل کے پاکستان کے لئے خصوصی اہمیت کی حامل تھی۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود پاک بحریہ نے قائد اعظم کے وژن کے مطابق آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔ اگر آج ہم جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا اور سب سے بڑھ کر بحرِہند کے علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں کے وسیع تناظر میں پاک بحریہ کی اہمیت اور اس کے کردار کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاک بحریہ اپنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی بنا پر خطے کے تمام ممالک سے خراجِ تحسین وصول کر رہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاک بحریہ ،بحیرہ عرب اور اس کے اردگرد واقع سمندری علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ یہ علاقے خلیج فارس، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرہ احمر سے ملحقہ ہونے کی وجہ سے دنیا کے اہم ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، خلیج فارس کے توانائی کے ذرائع یعنی تیل اور گیس ہیں جن کی دنیا بھر خصوصاً چین اور بھارت میں مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ ان ممالک کے اپنے توانائی کے ذرائع ان کی اقتصادی ترقی کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ وسطی ایشیا کے معدنی اور قدرتی ذرائع تک پہنچنے کے لئے بھی راستہ خلیج فارس اور ایران کے ذریعے جاتا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں خانہ جنگی، امریکہ کی مداخلت اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے بھی بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے علاقے نمایاں اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

 

pakbehriaaurwlaqaaman.jpg

اس وقت ان علاقوں میں نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ، فرانس اور چین کے بھی بحری اڈے قائم ہیں۔ امریکہ نے ان سمندروں میں بھاری بحری قوت مجتمع کر رکھی ہے جس میں طیارہ بردارجہاز، تباہ کن جہاز، فریگیٹ، آبدوزوں اور دیگر جہازوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس علاقے میں اپنے اڈوں اور بحری بیڑوں کے ذریعے افغانستان، عراق اور شام میں جاری جنگوں میں براہ راست حصہ لیتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر سے اس خطے کی حکمت عملی یعنی سٹریٹیجی میں انقلابی تبدیلی آنے کی توقع ہے۔ کیونکہ اس راہداری کا جنوبی ٹرمینل گوادر بلوچستان سے جڑے بحیرہ عرب کے ساحل پر ہے۔ کاریڈور کی تعمیر سے بحرِ ہند خصوصاً اس کے شمالی مغربی حصے یعنی بحیرہ عرب، خلیج عدن اور ہارن آف افریقہ کے علاقوں میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں زبرست اضافے کی توقع ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ اس خطے سے باہر کئی ملکوں کے لئے بھی متعدد چیلنج ابھر رہے ہیں ان چیلنجز میں بحری دہشت گردی،بحری قزاقی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ وغیرہ شامل ہیں۔ چونکہ بحرِہند میں امن اور سلامتی صرف ان ملکوں کے لئے اہم نہیں ہے جن کے ساحلوں سے ان کا پانی ٹکراتا ہے بلکہ دنیاکے بیشتر ممالک جن میں سے بعض کے ساحل بحر ہند سے ہزاروں میل دور ہیں، کے لئے بھی اس سمندر کی نمایاں اہمیت ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بحرِ ہند، مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کی ایک بہت بڑی شاہراہ ہے۔ ایک انداز ے کے مطابق بحرِہند کی آبی شاہراہوں سے ہر سال تقریباً ایک لاکھ بحری جہاز تیل، مائع گیس اور دیگر تجارتی اشیاء لے کر گزرتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری اور چین کے منصوبے میری ٹائم سلک روڈ کی تعمیر سے ان اشیاء سے لدے جہازوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ان آبی شاہراہ کی حفاظت کا مسئلہ بھی نمایاں حیثیت اختیار کر جائے گا۔ سکیورٹی کے ان مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے بحرِہند کے اردگرد واقع ممالک نے دیگر ایسے ممالک جن کے بحرہند سے اہم دفاعی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں، کے ساتھ گزشتہ چند برسوں سے اجتماعی تعاون اور سلامتی کی بنیاد پر کئی فورمز قائم کر رکھے ہیں۔ پاکستان بحریہ ان فورمز کی رکن ہے اوران فورمز سے جو بھی سرگرمیاں ہوتی ہیں پاکستان بحریہ ان میں بھر پور حصہ لیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود پاکستان کا ساحل تقریباً ایک ہزار کلومیٹرسے زائد طویل ہے جو سر کریک سے شروع ہو کر خلیج فارس کے دہانے پر ختم ہوتا ہے۔ پاکستان کے اس جغرافیائی محلِ وقوع کی بناء پر پاک بحریہ کا اس علاقے میں پیدا ہونے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار،مستعد اور ضروری وسائل سے لیس ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم گزشتہ 70سال کے عرصہ کے دوران پاک بحریہ کا ایک جدیداور طاقتور قوت کے طور پرا رتقاء کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاک بحریہ نے محدود وسائل کے باوجود خاطر خواہ کا میابی حاصل کی ہے۔ پاک بحریہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ہر قسم کے بحری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اور علاقے کے دیگر ممالک کی بحری افواج سے مل کر اپنی اسی صلاحیت کا بھر پور اور کامیاب مظاہرہ بھی کیا ہے۔ اس وقت پاک بحریہ میں جدید ترین فریگیٹ اور تباہ کن جہازوں کے علاوہ سُر عت سے حملہ کرنے والے جہاز، بارودی سرنگیں صاف کرنے والے اور تربیت اور متفرق آپریشنز انجام دینے والے جہاز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جہازوں کو امداد فراہم کرنے اور دشمن کے جہازوں کا سراغ لگانے کے لئے پاک بحریہ کا ایک نیول ایئر آرم بھی ہے جس میں جدیدترین میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹر اور بغیر پائلٹ کے اُڑنے والے جہاز
(UAV)
شامل ہیں۔ زیرِ آب کارروائیوں کے لئے پاک بحریہ کے پاس آبدوزوں کا ایک بیٹرہ بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ا سپیشل آپریشنز فورسز، سمندر میں اسپیشل آپریشنز کے لئے تربیت یافتہ کمانڈوز، ساحل پر واقع پاک بحریہ کی تنصیبات کی حفاظت کے لئے دفاعی نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس سے پاک بحریہ ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔پاک بحریہ نے گزشتہ تقریباً 47 برسوں کے دوران اپنے بیڑے میں نئے جہازوں اور آبدوزوں کو شامل کر کے نمایاں تقویت حاصل کی ہے کیونکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان نے خلیج اور جزیرہ نما عرب کے مسلم ممالک کے ساتھ معاشی، تجارتی اور دفاعی تعلقات وسیع کرنے کی طر ف خصوصی توجہ مبذول کرنا شروع کر دی تھی۔

 

پاک بحریہ گزشتہ 70برس کے ایک لمبے سفر کے بعد اب ایک ایسے مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو چکی ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے ملک کا دفاع کرنے کے قابل ہے، بلکہ بحرِہند کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی، بحری تجارتی رہداریوں کے تحفظ اور بحری دہشت گردی اوربحری قزاقی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جہاں پاکستان نے ’’سیٹو‘‘
(SEATO)
کو خیر باد کہہ دیا تھا وہاں ’’سینٹو‘‘
(CENTO)
کی رکنیت نہ صرف بحال رکھی بلکہ اس دفاعی معاہدے کے رکن ممالک یعنی ترکی، ایران، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ پاکستان نے بحیرہ عرب میں مشترکہ بحری مشقوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ 1973-74کی عرب اسرائیل جنگ اور اسی دوران ویت نام سے امریکی افواج کے انخلا کے نتیجے میں خلیج فارس، مشرق وسطیٰ اور بحیرہ عرب میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنی بحری اور فضائی قوت میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔ ان حالات میں پاکستان کو بھی اپنی بحری قوت میں اضافہ اور اِسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسی ضرورت کے تحت پاک بحریہ کی طاقت اور حجم میں اضافہ در اصل 1974 کے بعد شروع ہوا۔ چین سے حاصل کی جانے والی میزائل کشتیوں کی شکل میں پاک بحریہ کو ایک مؤثرہتھیار حاصل ہوا۔ 1990کی دہائی میں پاک بحریہ نے طاقت ور ہتھیاروں کی پیداوار اور جہاز سازی کے شعبے میں ایک خود کفیل فورس کا درجہ حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی تھی۔ پاکستان نیوی ڈاک یارڈمیں آگسٹا 90- بی آبدوز کی تیاری اور کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں بڑے اور درمیانے درجے کے جنگی جہاز، تیزرفتار میزائل بوٹس اور جنگی آئل ٹینکر کی پاکستانی انجینئرز کے ہاتھوں تیاری پاکستان بحریہ کی ترقی اور خود کفالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سائز کے اعتبار سے پاک بحریہ ایک بڑی فورس نہیں ہے اور اس کا امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور چین کی بحری افواج سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا تا ہم بحرِہند میں میری ٹائم سکیورٹی کے شعبے میں ان ممالک کی بحری افواج سے تعاون کر کے پاک بحریہ نے بہت مفید تجربات حاصل کئے ہیں اور یہ سلسلہ 2004سے جاری ہے جب پاکستان نے کمبائنڈ ٹاسک فورس 150میں شمولیت اختیار کر کے دیگر ملکوں کے ساتھ بحرِہند میں بحری دہشت گردی اور دیگر غیر قانونی سر گرمیوں کا قلع قمع کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بعد میں2009میں پاکستان بحریہ نے کمبائنڈ ٹاسک فور س151 میں شرکت اختیار کر کے خلیج عدن اور صومالیہ کے قریب سمندر میں بحری قزاقی کے خاتمہ کے لئے بھی قابل قدر کردار ادا کیا۔ 2007سے پاکستان بحریہ نے ’’امن‘‘ کے نام سے ہر دوسرے سال منعقد کی جانے والی بحری مشق کے ایک سلسلے کا آغاز کیا ہے جس میں عالمی بحری افواج کی ایک کثیر تعداد اپنے اثاثوں کے ساتھ شرکت کرتی ہے۔ان کا مقصد بھی اجتماعی کوششوں کے ذریعے علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔’ انڈین اوشین نیول سمپوزیم
‘(Indian Ocean Naval Symposium)
میں شرکت کے ذریعے پاک بحریہ نے نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو تسلیم کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یہ سمپوزیم دس ملکوں یعنی آسٹریلیا، بنگلہ دیش، فرانس، بھارت، ایران، عمان، پاکستان، سنگاپور، تھائی لینڈ اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ہے۔پاک بحریہ انڈین اوشن نیول سمپوزیم ورکنگ گروپ کی مختلف سر گرمیوں کی دو دفعہ میزبانی کر چکی ہے اس کے ہر اجلاس میں رکن ممالک اپنے بحری تجزیے، مسائل اور چیلنجز کے تناظرمیں انتہائی ضروری اور اہم معلومات کا تبادلہ کر تے ہیں۔
پاک بحریہ گزشتہ 70برس کے ایک لمبے سفر کے بعد اب ایک ایسے مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو چکی ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے ملک کا دفاع کرنے کے قابل ہے، بلکہ بحرِہند کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی، بحری تجارتی رہداریوں کے تحفظ اور بحری دہشت گردی اوربحری قزاقی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 434 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter