طاقت کا استعمال اور علاقائی امن

تحریر: جاوید حفیظ


امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے فورٹ مائر ورجینیا میں افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں اہم پالیسی بیان دیا ہے۔ بیان کا ایک حصہ پاکستان کے لئے مختص ہے۔ بیان میں افغانستان کے لئے آئندہ عسکری پالیسی کے خدوخال بیان کئے گئے ہیں اور شاید اسی وجہ سے امریکی صدر نے اپنی تقریر کے لئے ملٹری بیس کا انتخاب کیا۔ صدر ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے حامی رہے ہیں۔ یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔ امریکی عوام اس جنگ سے بیزار ہو چکے ہیں اور امریکی صدر کی تقریر میں اس بات کا واضح اعتراف ہے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ افغانستان میں2001 اور عراق میں 2003 میں فوجیں اتارتے وقت امریکہ نے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے علاوہ جواہداف مقرر کئے تھے اُن میں جمہوریت کی نشوونما، انسانی حقوق کا تحفظ، آزادئ رائے اور حقوق نسواں جیسے مقاصد شامل تھے۔ بادی النظر میں یہ اہداف اعلیٰ و ارفع تھے لیکن ہر معاشرے میں ہروقت اجنبی اقدار اور اداروں کا اجراء ممکن نہیں ہوتا۔ جمہوریت کے پودے کی اچھی نشوونما کے لئے زرخیز مٹی، مناسب نمی اور موافق موسم درکار ہوتا ہے۔ جمہوری اقدار کسی سرجری کے ذریعے یکدم سیاسی جسم میں داخل نہیں ہو سکتیں۔ صدر ٹرمپ نے اب برملا کہا ہے کہ دنیا کے ممالک کو امریکی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کا ہدف اب ترک کرنا ہوگا۔


امریکی صدر نے افغانستان میں اب جو تین اہداف مقرر کئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ پہلا اور اہم ترین ہدف افغانستان سے امریکی فوجیوں کی باعزت واپسی اور مسائل کا دیر پا حل ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول امریکی فوجی جو جنگ میں زندگیاں قربان کرتے ہیں عسکری فتح کا پلان اُن کا حق ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ علانیہ اور جلدی میں فوج کا انخلاء مزید مسائل کو جنم دیتا ہے اور جلد بازی میں افواج کی واپسی ایک قسم کا خلا پیدا کردیتی ہے جسے داعش اور القاعدہ جیسی دہشت پسند تنظیمیں پُر کرتی ہیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ نائن الیون سے پہلے اسے داعش نے پُر کیا اور امریکہ کی کاوشوں کا پھل دہشت گردوں کے حصے میں آیا۔ اب ہم عراق والی غلطی افغانستان میں نہیں دہرائیں گے۔ تیسرا اورپاکستان کے لئے اہم نکتہ صدر ٹرمپ کا یہ قول ہے کہ بیس کالعدم تنظیمیں اب بھی افغانستان اور پاکستان میں فعال ہیں اور یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں دہشت گرد تنظیموں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ افرا تفری ، مار دھاڑ، اور دہشت گردی کے نمائندوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے۔ صورتِ حال (امریکہ کے لئے) زیادہ گھمبیر اس لئے بھی ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان کے مابین کشیدگی ہے جو جنگ کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یہ مشکل اور پیچیدہ صورت حال ورثے میں ملی ہے لیکن ان مشکل مسائل کو حل کیا جائے گا۔ افغانستان اور پاکستان میں موجود ان پناہ گاہوں کا خاتمہ ہمارا تیسرا ہدف ہے اور اس بات کو یقینی بناناہے کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ کیونکہ یہ ہتھیار ہمارے بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں۔ اب ملٹری آپریشن بغیر اعلان کے کئے جائیں گے۔ فیصلے روز مرہ کی بنیاد پر اور زمینی حقائق کو دیکھ کر کئے جائیں گے۔ دشمنوں کو ہمارے منصوبوں کی خبر نہیں ہوگی، ہم حملوں کا اعلان نہیں کریں گے لیکن حملہ ضرور کریں گے۔ امریکی طاقت کے تینوں ستون یعنی ملٹری، اقتصادی اور سفارتی طاقت بیک وقت استعمال ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ افغانستان میں طالبان کے چند دھڑوں کے ساتھ کوئی سیاسی حل نکل آئے لیکن یہ کب ہوگا، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا افغان عوام کا حق ہے ہم (امریکہ) کسی قسم کا حل ڈکٹیٹ نہیں کریں گے اور نہ ہی ہم افغان لوگوں کے طرزِ زندگی کا تعین کریں گے۔


یہ اہداف بیان کرنے کے بعد صدرٹرمپ پاکستان سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ ہم وہاں دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہوں کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتے کیونکہ یہ تنظیمیں خطے کے لئے اور دیگر ممالک کے لئے خطرہ ہیں۔ ہم پاکستان کی ماضی کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں، پاکستان کو ہمارے (امریکہ کے) ساتھ افغانستان میں پارٹنر بننے کا فائدہ ہوگا۔ اسے مجرموں اور دہشت گردوں کی دوستی سے کافی نقصان ہوگا۔ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دے رہے ہیں اور عین اُسی وقت وہ اُن دہشت گردوں کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہے جن سے ہم لڑ رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان تہذیب، نظم اور امن کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کو آشکار کرے۔


پاکستان کے بارے میں استعمال کئے گئے الفاظ خاصے تند و تلخ ہیں۔ جبکہ انڈیا پر تعریف کے پھول نچھاور کئے گئے ہیں۔ اُسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور امریکہ کا اسٹریٹجک حلیف کہا گیا ہے۔ انڈیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کی تعمیرِ نو میں زیادہ حصہ ڈالے کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ تجارت میں اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ امریکہ افغان ڈرامہ میں انڈیا کو مین رول دینا چاہتا ہے لیکن ایک چیز واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان کے علاوہ چین اور روس اس رول کو پسند نہیں کریں گے۔ گویا بدلتے ہوئے علاقائی حالات چین اور روس کو پاکستان کے قریب تر لا رہے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے طالبان کے خلاف ایکشن نہ لیا تو پابندیاں لگ سکتی ہیں اور پاکستان کا نان نیٹو اتحادی کا درجہ بھی ختم ہوسکتا ہے۔ ٹلرسن نے اس بات کی تشریح نہیں کی کہ پاکستان پر لگائی جانے والی مجوزہ پابندیوں کی نوعیت کیا ہوگی۔ یعنی وہ عسکری ہوں گی یا اقتصادی۔


پاکستان کا حکومتی ردِ عمل دو ٹوک ہے۔ ضربِ عضب اور ردالفساد کی وجہ سے پاکستان سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے یہ جنگ اپنی بقا کے لئے لڑی ہے، کسی عالمی قوت کی خوشنودی کے لئے نہیں۔ قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف اس طویل جنگ میں پاکستان کی قربانیاں سب ملکوں سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کو امریکہ کا اعتماد چاہئے امداد نہیں۔ افغانستان میں امریکہ کی نئی پالیسی کے بارے میں پاکستان میں اتفاقِ رائے نظر آرہا ہے اور یہ خوش آئند بات ہے۔


صدر ٹرمپ کی تقریر پر سب سے بھرپور ردِ عمل چین کی طرف سے آیا ہے۔ سب سے پہلے چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صفِ اول میں کھڑا ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں اور پھر سینئر ترین چینی سفارت کار یانگ جی چی نے امریکن وزیرِخارجہ ٹلرسن کو فون کرکے کہا کہ ہمیں پاکستان کے اہم کردار کی قدر کرنی چاہئے جو وہ افغانستان میں اداکررہا ہے۔ ہمیں پاکستان کی آزادی اور اقتدار اعلیٰ کو بھی نظر میں رکھنا چاہئے اور اس کے سکیورٹی خدشات کو بھی۔ یہاں چین نے بین السطور یہ کہا کہ کسی اور ملک کو افغانستان میں لانے سے پاکستان کی سکیورٹی کو خدشات لاحق ہوں گے۔

پاکستانی حکام نے بجا طور پر واضح کیا ہے کہ افغانستان کی جنگ ہماری سرزمین پر نہیں لڑی جاسکتی اور یہ عزم بھی دہرایا ہے کہ ہماری جانب سے کسی ہمسایہ ملک میں دراندازی نہیں ہوگی اب چونکہ امریکی افواج غیر معینہ مدت کے لئے افغانستان میں رہیں گی لہٰذا ہمیں یہ ڈیمانڈ بار بار کرنی چاہئے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو پاکستانی خون بہانے سے سختی سے روکا جائے کہ دسمبر 2014 میں ہمارے بچوں کے قاتل ابھی تک وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔


افغانستان کے لئے صدر پیوٹن کے نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں امن مذاکرات میں پاکستان کلیدی کردارکا حامل ہے۔ پاکستان پر پریشر ڈالنے سے پورا خطہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے اور اس سے افغانستان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکہ کے کئی تھنک ٹینک اور کالم نگار صدر ٹرمپ کی مجوزہ پالیسی کے حامی نظر نہیں آتے۔ ولسن سنٹر کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ پاکستان پر امریکی دباؤ کے مثبت نتائج کے بارے میں خیالات بر محل نہیں۔ آپ پاکستان کو دھمکیاں دے لیں یا لالچ، اس کی پالسیی میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایک انڈین نژاد صحافی نے مشہور برطانوی اخبار گارڈین میں لکھا ہے کہ ٹرمپ نے افغانستان میں چین کی پوزیشن کو مضبوط کردیا ہے۔


آج کے افغانستان کو سمجھنے کے لئے چند بنیادی فیکٹرز کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ ہمارے افغان بھائی غیور لوگ ہیں۔ وہ اپنے وطنِ عزیز میں غیر ملکی افواج کو برداشت نہیں کرتے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں جنگ جاری رہے گی۔ پشتون اور تاجک افغانستان کی دو بڑی لسانی اکائیاں ہیں۔ پشتونوں کی تعداد تاجک سے یقینی طور پر زیادہ ہے۔ ان دونوں میں مسابقت بعض دفعہ مخاصمت یعنی دشمنی کا روپ دھار لیتی ہے۔ باہر سے حملہ ہو تو یہ دونوں اکٹھے مل کر لڑتے ہیں اور جب حملہ آور چلا جائے تو باہم برسرِ پیکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن بطورِ ریاست افغانستان کی موجودہ شکل کے دونوں پُرزور حامی ہیں۔ ملک کے دور دراز حصوں پر کابل کی رٹ ہمیشہ کمزور رہی ہے۔ ایک امریکی اندازے کے مطابق اس وقت ملک کا چالیس فیصد ایریا طالبان کے زیرِ اثر ہے۔ پاکستان نے بارہا بارڈر کنٹرول کو مؤثر کرنے کی بات کی ہے لیکن کابل سے مثبت جواب نہیں ملا۔ ان حالات میں پاکستان کو الزام دینا کہ وہاں سے دہشت گرد آتے ہیں، صریحاً زیادتی ہے۔
امریکہ کے وزیرِ دفاع جنرل ریٹائرڈ جیمز ماٹس کاکہنا ہے کہ امریکہ نے یہ جنگ سولہ سال نہیں لڑی بلکہ یک سالہ جنگ سولہ مرتبہ لڑی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جنگ کی حکمت عملی غلط تھی اہداف اور پلاننگ طویل مدت کے نہیں تھے ہمیشہ جلدی میں ہدف تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ افغانستان کی دلدل سے نکلا جاسکے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ طالبان اکثر کہتے تھے گھڑیاں امریکیوں کے پاس ہیں لیکن وقت ہمارے ساتھ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اب امریکہ افغانستان سے جانے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دے گا۔


صدر ٹرمپ کی تقریر سُن کر مجھے یوں لگا جیسے یہ 2008 سے2014 کے درمیان لکھی گئی ہو۔ اُس وقت سوات کے علاوہ کچھ قبائلی علاقوں پر بھی طالبان کا کنٹرول تھا۔ مگر پاک فوج نے بے مثال قربانیاں دے کر ملک کے چپے چپے پر حکومتی رٹ بحال کی ہے۔ کوئی دوماہ قبل جب سینیٹر جان مکین پاکستان آئے تھے تو اُنہیں قبائلی علاقے دکھائے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ کی تقریر سے مجھے یہ بھی محسوس ہوا جیسے اُسے تحریر کرنے سے قبل ہمارے ہمسایہ ملک سے پوچھا گیا ہو کہ کیا کہنا چاہئے۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر دہشت گردوں کے ممکنہ قبضے کی بات بھی بے وقت کی راگنی ہے جسے ہمارا ہمسایہ ملک مسلسل الاپتا رہتا ہے۔ اس بات کا امکان نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے کیونکہ پاکستان کے مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے سبھی معترف ہیں اور جنگی جنون کے حوالے سے پاکستان میں صورت حال مختلف ہے۔ مکمل امن پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لئے ازبس ضروری ہے اور افغانستان میں حصولِ امن کے بغیر پاکستان میں مکمل امن نہیں آسکتا۔ اسی وجہ سے پاکستان نے ہمیشہ افغان امن کوششوں کی حمائت کی ہے۔


پاکستانی حکام نے بجا طور پر واضح کیا ہے کہ افغانستان کی جنگ ہماری سرزمین پر نہیں لڑی جاسکتی اور یہ عزم بھی دہرایا ہے کہ ہماری جانب سے کسی ہمسایہ ملک میں دراندازی نہیں ہوگی اب چونکہ امریکی افواج غیر معینہ مدت کے لئے افغانستان میں رہیں گی لہٰذا ہمیں یہ ڈیمانڈ بار بار کرنی چاہئے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو پاکستانی خون بہانے سے سختی سے روکا جائے کہ دسمبر 2014 میں ہمارے بچوں کے قاتل ابھی تک وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور اگر انڈیا کا رول افغانستان میں بڑھتا ہے تو ایسے قاتلوں کو مزید شہ ملے گی۔ کچھ اورکلبھوشن یادیو پاکستان بھیجے جائیں گے۔


خوش آئند بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی تقریر نے ہم پاکستانیوں کو متحدہ کیا ہے۔ انٹرنیشنل تنہائی سے نکالاہے۔ پاکستان کے پاس تین آپشن تھے یا تو امریکہ کی بات اٰمنّا وصدقنا کہتا اور پہلے کی طرح امریکی جنگ کا پھر سے حصہ بن جاتا مگر یہ ممکن نہ تھا کیونکہ امریکہ کی تازہ ترین پالیسی غلط مفروضوں پر قائم کی گئی ہے۔ طالبان کے پاس افغانستان کا چالیس فیصد علاقہ ہے تو انہیں پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں کی کیا ضرورت ہے اور اگر طالبان کے کچھ خاندان پُرامن طور پر پاکستان میں رہ رہے ہیں تو وہ افغان مہاجرین کا حصہ ہیں، جنہیں واپس بھیجنے کی پاکستان عرصے سے کوشش کررہا ہے۔ پاکستان کے پاس دوسرا آپشن امریکہ سے قطع تعلقی کا تھا لیکن یہ بھی صائب فیصلہ نہ ہوتا۔ پاک امریکہ تعلقات بے حد اہم ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر آگے چلنا ہے یہ وقت جذباتیت کا نہیں۔ درمیانہ راستہ جو پاکستان نے اختیار کیا ہے۔ وہی بہترین راستہ ہے۔


ہمارا کیس مضبوط ہے لیکن اُسے باہر سُنا نہیں جارہا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان شاندار طریقے سے لڑا ہے۔ ہمارے نقصانات امریکی امداد سے کہیں زیادہ ہیں۔ جو کام نیٹو کی ڈیڑھ لاکھ افواج نہیں کرسکیں وہ بارہ ہزار کیسے کرسکیں گی۔ امریکی فورسز کو سپلائی کا مختصر ترین راستہ پاکستان کا ہے۔ امن مذاکرات کے لئے طالبان کو راضی کرنے کی کوشش میں بھی پاکستان مؤثر ہو سکتا ہے اور یہی بات چین اور روس نے امریکہ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
افغان مسئلے کی جڑیں افغانستان میں ہیں لہٰذا یہ جنگ وہیں لڑی جانی چاہئے۔ کابل حکومت کی رٹ ملک کے اکثر حصوں سے غائب ہے بوجوہ افغان نیشنل آرمی کمزور ہے۔ امریکہ کی بے تحاشا مالی امداد اور انڈیا کی ٹریننگ اسے مضبوط فوج نہیں بنا سکی۔ افغان ڈیموگرافک حقائق کے برعکس فوج کے اکثر افسران اقلیتی لسانی گروپس سے تعلق رکھتے ہیں، بھگوڑوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔


مزید چار ہزار سپیشل فورسز سے تعلق رکھنے والے امریکی فوجی جلد افغانستان پہنچ جائیں گے۔ اس طرح ٹوٹل تعداد بارہ ہزار ہو جائے گی۔ امریکی فیلڈ کمانڈروں کو وسیع تراختیارت دیئے جارہے ہیں۔ مگر وہ کام جو لاکھ سے زائد فوج نہ کرسکی۔ کیا وہ ہدف یعنی مکمل فتح صرف بارہ ہزار سپاہی حاصل کر پائیں گے؟ میرے خیال میں امریکہ کا اصل ہدف فتح نہیں بلکہ شکست سے بچنا ہے۔ دوسرا ہدف افغانستان میں داعش کے داخلے کو روکنا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظر رکھنا بھی امریکی پروگرام میں شامل ہے۔ آج اگر امریکہ افغانستان سے مکمل انخلاء کرلے تو کابل کی حکومت شائد زیادہ دن نہ چل سکے۔ اسی طرح افغان نیشنل آرمی مزید کمزور ہو جائے گی۔ یہ جو صدر ٹرمپ نے وضاحت کی ہے کہ اوول آفس میں پہنچ کر انہیں نئی حقیقتوں کا سامنا تھا، درست بات ہے اور اس لئے انہیں یوٹرن لینا پڑا۔


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کے حصول، اعلیٰ تعلیم اور تجارت کے لحاظ سے امریکہ پاکستان کے لئے بہت اہم ہے۔ واشنگٹن کے مالیاتی اداروں بشمول ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف میں بھی سپر پاور کا اثرورسوخ واضح ہے یورپین ممالک سے قریبی تعلق بھی امریکی قد کاٹھ میں اضافہ کرتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں امریکہ کی پوزیشن سینیئر پارٹنر والی ہے۔ میرا مشاہدہ کہتا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روسی اور ایرانی اکانومی کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ اگر چہ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکہ اب بھی پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دیتا ہے معروضی طور پر غلط ہے لیکن اگر بفرضِِ محال امریکہ پاکستان کو
State Sponsor Of Terrorism
یعنی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست ڈیکلیئر کردیتا ہے تو پاکستان کا نقصان زیادہ ہوگا امریکہ کا کم۔
تو کیا پاکستان امریکہ کی نئی پالیسی پر من و عن عمل شروع کردے؟ ایسا کرنا بھی ممکن نہیں کیونکہ صدر ٹرمپ کی تقریر میں لگائے گئے چند الزامات موجودہ زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ اگر یہ واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا کیس دنیا کے ممالک سنیں تو ہمیں وکالت کا آرٹ سیکھنا ہوگا۔ اچھے پڑھے لکھے لوگوں کو وکالت کے لئے بھیجنا ہوگا۔ گزشتہ سال جن ممبران نیشنل اسمبلی کو ہم نے مختلف ممالک میں بھیجا تھا، اُن میں کئی ہماری وکالت کے اہل ہی نہ تھے کچھ دوسرے تیاری کرکے نہیں گئے تھے یہ پیسے اور وقت کا ضیاع تھا۔


ہمیں امریکن کانگریس اور تھنک ٹینکس میں مسلسل کام کی ضرورت ہے۔ پہلے اپنا کیس محنت سے تیار کیا جائے پھر یہ طے کیا جائے کہ کس نے کیا کہنا ہے۔ امریکہ سے کہا جائے کہ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے میں ہماری مدد کرے کہ یہ کام امریکی مفاد میں بھی ہے۔ غیر ملکی صحافیوں اور سیاسی لیڈروں کو فاٹا کے مختلف حصے دکھائے جائیں۔ مغربی میڈیا میں پاکستانی آواز کی رسائی ہونی چاہئے اور اس کام کے لئے ہمیں محنت کرنا ہوگی۔ انفارمیشن منسٹری میں جان ڈالنا ہوگی۔ وزارتِ خارجہ پر بہت بڑی ذمہ داری آگئی ہے اور اسے ریٹائرڈ فارن سیکرٹری اور امریکہ میں پاکستان کے سفراء کو کنسلٹ کرتے رہنا چاہئے، ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ صدور اور اشخاص آتے جاتے رہے ہیں مگر ملک اور ان کے ادارے دائمی ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ آج ہیں کل نہیں ہوں گے مگر امریکی میڈیا اور کانگریس اپنی جگہ پر ہوں گے۔ امریکہ کوسمجھنا اور اس کے ساتھ کام کرنا فی الوقت مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ یاد رہے کہ سفارت کاری قومی مفادات کے حصول کا ذریعہ ہے اور اگر سپر پاور کے ساتھ ہمارے تعلقات میں زیادہ اورلمبا بگاڑ آیا تو نقصان ہمارا بھی ہوگا۔ لہٰذا قومی عزت اور وقار کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے قومی مفادات کے حصول کے لئے اگر سنجیدہ پلاننگ ہوگی تو محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔

مضمون نگار مختلف ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔ This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 512 times
More in this category: فہرست »

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter