ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن

Published in Hilal Urdu August 2017

تحریر: محمداعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران تخلیق کئے گئے قومی نغموں کا ایک احوال اُس وقت کے پروڈیوسر ریڈیو پاکستان لاہور کی زبانی

ستمبر1965 کی جنگ کے دوران مجھے ہر روز ایک نیاملی نغمہ پروڈیوس کرنے کا حکم تھا اور میری یہی کوشش ہوتی کہ کوئی دن خالی نہ جائے ۔یہ میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھی کہ نور جہاں جیسی بڑی فنکارہ کی ریڈیو پاکستان میں موجودگی سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ روزانہ ایک نئے نغمے کا انتخاب بھی بڑا مشکل کام ہوتا۔ 13 ستمبر1965 کو میرے پاس فائل میں موصول ہونے والے بے شمار نغمے تھے مگر مجھے کوئی پسند نہیں آرہا تھا۔ میری یہی کوشش ہوتی کہ اپنے محترم استاد صوفی تبسم صاحب سے گزارش کروں کہ ہمیں نیا نغمہ عطا فرمادیں۔ 13ستمبر کو صوفی تبسم ناسازی طبیعت کی وجہ سے دفتر نہیں آئے۔ میرے لئے بہت مشکل مرحلہ تھا کہ آج کون سا نغمہ ریکارڈ کرایا جائے۔ میں نے نماز پڑھ کر اﷲ پاک سے دعا کی کہ میرے مولامیری مدد فرما۔ اﷲ پاک نے میری دعا قبول کرلی اور میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ علامہ محمداقبال کی مشہور نظم’’ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن‘‘ کو ریکارڈ کیا جائے کیونکہ اس میں مومن مسلمان کی چارصفات کو اجاگر کیا گیا ہے اور پاک فوج کے اکثر جوان ان تمام صفات پر پورے اُترتے ہیں۔ جن کا یہی کہنا ہے کہ اُن کی زندگی ‘مال‘ جان غرض ہر چیز اس قوم پر قربان ہے جب میں نے علامہ اقبال کی یہ نظم میڈم نورجہاں کو دی تو اُنہوں نے فوراً اس کی استھائی بنانا شروع کردی میں نے اس میں اُن کی مدد کی اور کرتے کرتے اس کی خوبصورت استھائی بن گئی پھر محمدعلی مھنوں نے انترے بنانے میں ہماری مدد کی اورہم سب کی کوشش سے شام تک یہ ملی نغمہ مکمل ہوگیا پھر اس کی کمپوزیشن میں اس کے انٹرول اور
Opening
موزوں کی گئی اس تمام صورت حال سے میڈم نور جہاں بہت خوش ہوئیں اور اس نغمے کو بڑی مہارت اور خوبی سے گایا۔ اس کی کمپوزیشن میں میرا اور میڈم نور جہاں کا کچھ اختلاف ہوا ۔ استھائی کو چھوڑنے پر بات ہوتی رہی میرا خیال تھا کہ استھائی کو مکمل کہہ کر چھوڑنا چاہئے مگر میڈم نور جہاں اس کو صرف ’ہر لحظہ ہے مومن کی‘ پر چھوڑنے پر مصر تھیں۔ مجھے یہ کہتیں کہ یہاں چھوڑنا اس کی د ھن کے مطابق ہے اور اچھا لگتا ہے میں اتنی بڑی فنکارہ کے اصرار پر رضامند ہوگیا جب رات کو یہ نغمہ مکمل ہوگیا تو سننے کے بعد بہت اچھا لگا۔ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں ہر نغمے کے انتخاب سے لے کر ریکارڈنگ مکمل ہونے تک بہت سی مشکلات پیش آتیں مگر میں1965کی جنگ کے تناظر اور اپنی قومی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ہر چیز کو برداشت کرتارہا‘کئی بار کمپوزیشن میں بحث مباحثہ ہوتا میڈم نور جہاں کا کمپوزیشن میں بہت عمل دخل ہوتا‘ اُن کی عظمت اور فنی مہارت کا کمال تھا کہ ہر نغمے کو سنوارنے میں دل سے پوری پوری کوشش کرتیں اور بطورِ پروڈیوسر مجھے ہر چیز کا خیال رکھنا تھا۔ میوزک چونکہ میرا بہت مضبوط
Subject
ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرے اُس وقت کے سٹیشن ڈائریکٹر مرحوم شمس الدین بٹ صاحب نے میرا انتخاب کیا اس وقت سٹیشن پر20 کے قریب پروڈیوسر تھے میرا انتخاب میرے لئے بہت عزت کی بات بھی تھی اور بہت بڑی آزمائش بھی۔ اﷲپاک نے مجھے آزمائش میں سرخرو کیا۔میری کوشش ہوتی کہ میری قوم اور سٹیشن نے مجھ پر جو اعتماد کیا میں اسے بہر صورت پورا کروں۔ ہاں اب بات تھوڑی سی کمپوزیشن پر ہوجائے۔ استھائی میڈم نور جہاں نے بنائی جبکہ اس کے انترے میں نے کمپوز کئے اور کوشش کی کہ ان تمام عناصر یعنی قہاری و غفاری و قدسی و جبروت مسلمان کی یہ چار صفات یعنی غلبہ حاصل کرنا‘بخشنے والا‘ بڑا پاک صاف اور جاہ و جلال یہ وہ صفات ہیں جو علامہ اقبال کی نظر میں اصل مسلمان کی صفات ہیں اس کی تشریح کرنے میں گانے میں پورا پورا اہتمام کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ میڈم نور جہاں استھائی چھوڑنے کے بعد یہ مصرعہ دہراتیں۔ ہر لحظہ ہے مومن کی اور اس کے بعدانٹرول ختم ہونے کے بعد انترا اٹھاتیں اس طرح یہ تمام کمپوزیشن مکمل ہوئی۔ اس قومی نغمے کو فوری طور پرتسلسل کے ساتھ رات کو نشر کیاگیا اور ہمیں اس کا بہت عمدہ رسپانس ملا صبح کے وقت جب صوفی تبسم صاحب دفتر آئے تو مجھے شاباش دی کہ اعظم تم نے کمال کردیا ہے۔ میں کل طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے نہیں آسکا اور تم نے یہ نغمہ ریکارڈ کرکے بہت عمدہ کام کیا ہے۔ صوفی تبسم صاحب کی داد سے میرا حوصلہ مزید بلند ہوگیا اور پھر ہم نے اگلے نغمے کی تیاری شروع کردی۔ یہ نغمہ رئیس امروہوی کا لکھا ہوا تھا۔ ’’امیدِ فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو‘‘ اس نغمے کے بول سے ہمیں حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ میں اپنی پوری ریکارڈنگ ٹیم کے ساتھ ’’امیدِ فتح رکھو اور علم اُٹھائے چلو‘‘ نغمے کی ریکارڈنگ میں مصروف ہوگیااس کی مکمل تفصیل اِنْ شاء اﷲ آئندہ۔۔۔!

افواج پاکستان کا سپاہی

 

ہیں قوم کے محافظ افواج کے سپاہی
اور شان ہیں وطن کی دیتا ہے دل گواہی
حرمت کے پاسباں ہیں یہ فوج کے جیالے
اپنے وطن کا روشن ہیں نام کرنے والے
دشمن کا بھی وطن پر پڑنے دیا نہ سایہ
ہر بار دشمنوں نے آ کر یہ آزمایا
ہر آن ہیں وطن کو آباد کرنے والے
اجڑے ہوئے دلوں کو ہیں شاد کرنے والے
امن و امان قائم رکھتے ہیں یہ وطن میں
فصلِ بہار گویا اِن سے ہی ہے چمن میں
توحید کی بھی دولت ایمان ہے دلوں میں
اور جذبۂ شہادت شامل ہے ولولوں میں
ڈرتے نہیں کسی سے اﷲ سے ڈرنے والے
اسلام کے مجاہد ہیں فوج کے جیالے
دل کی دعا ہے اسلمؔ یہ ملک شادماں ہو
دائم خدا کی رحمت کا سر پہ سائباں ہو


مظفر اسلم

*****

 
Read 155 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter