تحریر: حفصہ ریحان

(قسط اوّل)

پاکستان میں دہشت گردی کے پس منظر میں لکھا گیا ناول

کدھرکھوئے ہومجاہد؟؟ حیدر نے پیچھے سے آکرپوچھا۔
ادھرہی توبیٹھاہواہوں۔ اس نے مڑے بغیرجواب دیا۔
گھرمیں سب کیسے تھے ؟؟؟
گھر؟؟؟؟ اس نے حیرانی سے حیدرکی طرف دیکھا۔
ہاں یارگھر۔تم گھر گئے تھے نا!آج پانچ دن بعد ہی توآئے ہو۔حیدرمسکراتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں گھر گیاتھامیں۔۔وہ بوکھلاتے ہوئے بولا۔
تو وہی پوچھ رہا ہوں ناکہ گھرمیں سب کیسے ہیں؟؟
سب ٹھیک تھے۔۔ہاں ہاں سب ٹھیک تھے۔۔وہ ٹھنڈے موسم میں بھی ماتھے سے پسینہ ہٹاتے ہوئے بولا۔
تمہیں کیاہواہے مجاہد؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟؟
میں؟؟؟ نہیں۔۔میں۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔وہ بہت مشکل سے بولا۔
تم بتائے بغیرچلے گئے تھے اور وہ بھی رات کو۔۔گھرمیں خیریت تھی نا؟؟؟ حیدرکو بھی اس کارویہ پریشان کر رہاتھا۔اس لئے وہ اِدھراُدھرکے سوالات پوچھتا رہا۔
ہاں میں کہہ رہا ہوں ناکہ سب خیریت تھی۔۔ بس میں ویسے ہی گیاتھا۔ اسے تھوڑا سا غصہ آیا۔
اب تم جاؤیہاں سے۔۔میں تھوڑی دیرمیں آجاؤں گا۔
لیکن کیوں یار؟؟ تم بھی چلونامیرے ساتھ۔۔ناشتے کاوقت بھی ہونے والاہے۔۔ حیدر سمجھ گیاتھاکہ وہ کسی وجہ سے پریشان ہے۔لیکن وہ بتانہیں رہاتھا۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔بس تم جاؤ۔میں ناشتے کے لئے آجاؤں گا۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ حیدر اس کی پریشانی کے بارے میں اس سے کچھ پوچھے۔
اچھاٹھیک ہے۔حیدرجانے کے لئے اُٹھ گیا۔لیکن وہ جان چکاتھاکہ کوئی نہ کوئی پریشانی ضرورہے۔
لیکن یہ بات مجاہد کے لئے اطمینان کاباعث ضرورتھی۔حیدرناراض ہی سہی لیکن وہاں سے اُٹھ گیاتھا۔
اس تاحدنگاہ پھیلے ہوئے میدان کے اس کونے میں وہی ایک بڑاساپتھر پڑاتھاجس پراس وقت و ہ بیٹھاہواتھا۔ یہ جگہ اس کی پسندیدہ جگہوں میں سے ایک تھی۔ لیکن آج وہ پانچ دن بعدیہاں آکربیٹھاتھا اورسب کی نظرمیں وہ پانچ دن اپنے گھر گزارکرآیاتھاپر یہ صرف وہی جانتاتھاکہ وہ پانچ دن کہاں گزارکرآیاہے لیکن ایک قفل تھاجو اس کی زبان پرلگادیاگیاتھا۔ بہت بے بس کردیاگیاتھا اسے۔ بے بسی کی ایسی سلاخیں تھی جس کے پارایک تباہی تھی۔ہولناک تباہی۔ اس کے اپنے خاندان کے گیارہ افرادکی تباہی۔۔۔
اس نے گھبراکرآنکھیں بندکرلیں۔ذہن میں یادوں کے دریچے وا ہوئے۔۔۔
***************************************************
وہ آج جلدی گھر پہنچناچاہتاتھا۔لیکن جتنی جلدی وہ جاناچاہ رہاتھااتنی ہی اسے دیرہوگئی تھی۔ وہ مزدورتھا اورمزدوراپنے فیصلے خودکہاں کرتاہے۔اس کی قسمت تومالک کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
وہ گھرپہنچ چکاتھااورجانتاتھاکہ جمیلہ اسی کاانتظارکررہی ہوگی۔کیونکہ اِس گھرکاچولہافضل کی کمائی سے ہی چلتاتھااورجس دن اسے کام نہ ملتااس دن جمیلہ بی بی کے لئے گھرکاچولہاجلانا مشکل ہوجاتاتھا۔

damelahoo.jpg
ظفرکے ابا!!رات کوجب وہ لوگ سونے کے لئے لیٹے تواس نے جمیلہ کی آوازسنی۔
کیا ہوا؟
میرادل کرتاہے کہ اس باراللہ ہمیں بھی ایک بیٹی دے دے۔چاربیٹوں کے بعداب میرابہت دل کرتا ہے کہ ہماری بھی ایک بیٹی ہو۔اس کے لہجے میں ایک خواہش تھی۔
میرا بھی۔فضل آہستہ سے بولا۔
چاربیٹوں کے بعداس بارجمیلہ کے امیدسے ہونے پرفضل بھی کہیں دل کے کسی کونے میں بیٹی کی خواہش جگابیٹھاتھا لیکن اس نے جمیلہ سے اظہارنہیں کیاتھاپرآج جمیلہ نے اس کے دل کی بات کہہ دی تھی۔
اللہ نے چاہاتواس بارہمیں ضروربیٹی دے گا۔۔ جمیلہ نے اپنی خواہش کوالفاظ کاروپ دیا۔
اوراگربیٹی نہ ہوئی تو؟؟؟ فضل نے بغیر کسی وجہ کے پوچھ لیا۔
تومجھے اللہ کے کاموں میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔میں کون ہوتی ہوں اللہ کے کام کے بارے میں بولنے والی۔اللہ جس کوجوچاہتاہے عطاکرتاہے۔۔وہ روانی سے بولی۔
اوروہ عورت ایک بارپھراسے حیران کرگئی تھی۔وہ عورت اکثرہی اس کوحیران کردیاکرتی تھی۔عورت ہی توتھی وہ ۔۔۔اورعورت ہمیشہ حیران ہی کرتی ہے۔
ان دونوں کاساتھ تقریباً پندرہ سال کاتھا۔یہ نہیں تھاکہ وہ دونوں کوئی بہت ہی زیادہ خوشگوار زندگی گزاررہے تھے لیکن اپنی زندگی سے ناخوش بھی نہیں تھے اورویسے بھی خوشی کاتعلق دولت سے کہاں ہوتاہے۔ایک یہی توچیزہے جس میں غریب امیرسے زیادہ امیرہے۔
پندرہ سال کے عرصے میں اللہ نے ان دونوں کوچاربچے دئیے تھے اور اتفاق یاخوش قسمتی یاپھر بدقسمتی سے وہ دونوں ابھی تک اللہ کی رحمت سے محروم تھے اگرچہ نعمت سے اللہ نے ان کو خوب نوازاتھااور اس بارامیدسے ہونے پر جہاں جمیلہ بی بی کے دل میں بیٹی کی خواہش جاگ اٹھی تھی وہاں فضل بھی چپکے چپکے یہی دعاکررہاتھا۔۔۔
*************
پاپاآپ کب آئیں گے ؟؟مجھے آپ کی بہت یادآرہی ہے۔وہ معصوم بچہ فون پر اپنے باپ سے پوچھ رہا تھا۔
بیٹاپاپااتنی جلدی تونہیں آسکتے۔ابھی ڈیڑھ مہینے پہلے ہی توپاپامل کرآئے ہیں آپ سے۔ وہ اسے بہلاتے ہوئے بولے۔
لیکن پاپامیں آپ کومِس کرتاہوں۔وہ معصوم لہجے میں بولا۔
یہ تواچھی بات ہے کہ میرے بیٹے کوپاپایادآرہے ہیں۔وہ ہنوز اسے بہلاتے رہے۔
توپھرآپ آتے کیوں نہیں؟؟
آؤں گابیٹا بہت جلد آؤں گااورآ کربہت سارے دن اپنے بیٹے کے ساتھ گزاروں گا۔اب خوش؟؟
نہیں پاپایہ توآپ ہربارفون پرکہتے ہیں لیکن آتے نہیں ہیں آپ۔وہ انہیں پچھلے وعدے یاددلارہاتھا جووہ ہرباراس سے کرکے ہی اسے بہلاپاتے تھے۔
نہیں بیٹااب مجھے جیسے ہی چھٹی ملے گی پاپاآپ کے پاس آجائیں گے اور بہت سارے دن بھی گزاریں گے۔
پرومس پاپا؟؟
ہاں بیٹاپکاپرومس۔۔
اوکے پاپا۔ یہ لیں نانوویٹ کررہی ہیں ان سے با ت کر لیں اورماماکچن میں ہیں میں پھر ان سے آپ کی بات کرواتا ہوں۔۔۔
****************
ظفرکے ابا! میں نے ایک بات سوچی ہے۔
کیا؟
اگراس بارہمیں اللہ نے بیٹادیاتو میں نے اس کوقاری اِدریس کی طرح بناناہے۔
کیا مطلب؟وہ حیران ہوا۔
مطلب یہی ناکہ میں نے اس کوقاری اِدریس کے پاس بِٹھاناہے، وہ قاری بنے گا،عالِم بنے گا،دین کی باتیں بتائے گااوردین پھیلائے گا،کیاپتہ اللہ ہمیں ایسے ہی بخش دے۔
لیکن اس دن توتم کہہ رہی تھی کہ اللہ ہمیں بیٹی دے دے۔
چاہتی تومیں یہی ہوں لیکن اللہ کے کاموں میں کس کودخل ہے۔ کیاپتاوہ بیٹا ہی دے دے۔
ہاں یہ توہے ۔۔۔۔۔۔ خیریہ تواللہ کی مرضی ہے وہ جس کوچاہتاہے بیٹی دیتاہے اورجس کوچاہے بیٹا۔جوہماری قسمت میں ہوگاہمیں دے دے گا، چلواب سو جاؤ مجھے صبح کام پربھی جاناہے۔فضل لیٹتے ہوئے بولا۔
ہاں ٹھیک ہے۔۔وہ بھی لیٹ گئی۔
******************
مدرسے میں ناشتے کی گھنٹی بج گئی جواسے سوچوں کی دنیا سے کھینچ کراذیت بھری حقیقی دنیامیں لے آئی۔کتنی تلخ ہوتی ہیں ماضی کی یادیں۔۔۔
قاری ادریس جیسابناؤں گی، دین پھیلائے گا۔۔۔اس کے ذہن میں الفاظ گونجتے رہے جوکسی دن ماں نے اسے یہ ساری باتیں سنائی تھیں۔۔۔ اس کے چہرے پرایک اذیت بھری مسکراہٹ دوڑگئی۔۔۔
************************************** 
فضل اورجمیلہ بی بی کے چاربیٹے تھے۔ سب سے بڑا ظفرگیارہ برس کا،اس کے بعد امان اللہ ساڑھے آٹھ برس کا،پھرچھ برس کاوحید علی اور پھرتین برس کااصغرعلی۔۔
ہرغریب کی طرح فضل کاخاندان بھی اس کی آمدنی سے بڑھ کرتھا۔ وہ غریب تھا، مزدور تھا،شاید اِسی لئے۔۔۔۔۔۔ اورغریب لوگ بچے سوچ سمجھ کرکہاں پیداکرتے ہیں۔
ظفرنے گیارہ برس کی عمرسے کام پرجاناشروع کردیا۔ گھرمیں بڑھتے ہوئے اِخراجات نے اسے سکول کو چھٹی جماعت میں خیربادکہہ کرمزدوری کرنے پرمجبورکر دیاتھا۔ وہ بہت حساس اور فرمانبرداربچہ تھااِسی لئے باپ کی پریشانی اور گھر میں تنگی کوسمجھ گیا تھااور ایک گیارہ سال کے بچے کی سمجھ کی مطابق اس نے یہی فیصلہ کیاکہ وہ سکول چھوڑکرکام کرناشروع کردے۔
وہ گیارہ برس کابچہ بہت سمجھدارتھا۔ اپنے گھرمیں پھیلی غربت نے اسے اپنی عمرسے زیادہ سمجھ اورسنجیدگی دے دی تھی اورغربت ہی تواِنسان کوعقل اورسمجھ دیتی ہے ورنہ بنگلوں میں رہنے اورویڈیوگیمزکھیلنے والے بچے ’سمجھ‘ کوکیاسمجھ سکیں۔
*************
پاپاآپ کل جلدی گھرآجائیں۔عمران باپ سے فرمائش کرنے لگا۔
کیوں جی؟ کوئی خاص بات؟ وہ اس اچانک فرمائش پر حیران ہوئے۔
بس ویسے ہی۔
لیکن پتہ توچلے کہ جلدی کی فرمائش کیوں کی جارہی ہے؟
پاپامیں نے اورطوبیٰ نے پلان بنایاہے کہ ہم سب کل گھومنے جائیں گے آپ کے ساتھ۔ وہ اپنے پلان میں طوبیٰ کانام شامل کرتے ہوئے بولا۔
لیکن یہ پلان بناکب اورکِس کِس نے بنایا؟؟؟
پاپامیں نے اورطوبیٰ نے۔۔
او رطوبیٰ کب اِتنی بڑی ہوگئی کہ وہ پلان بنانے لگی؟؟؟ وہ جانتے تھے کہ اس پلان میں طوبیٰ شامل نہیں تھی۔طوبیٰ کوتووہ پلان بناکربتاتاتھااوروہ خوش ہوجاتی تھی۔۔
ارے پاپا وہ توبہت بڑی ہوگئی ہے، مجھ سے بھی زیادہ بڑی، یہ پلان اسی کاہے۔
چلیں طوبیٰ سے ابھی پوچھ لیتے ہیں۔وہ جا ن بو جھ کرتنگ کررہے تھے حالانکہ جانتے تھے کہ گھومنے پھرنے کاشوق عمران سے زیادہ کسی کونہیں ہے۔
نہیں پاپا۔۔اس سے مت پوچھیں۔
کیوں؟؟؟
پاپاوہ جھوٹ بولتی ہے۔
ہاہاہا۔۔اچھاچلوبیٹانہیں پوچھتے ، جیسی تم لوگوں کی مرضی۔۔
تو آپ کل جلدی آئیں گے ؟؟؟ اس کی آنکھوں میں خوشی تھی۔
کوشِش کروں گابیٹا۔۔
کوشِش نہیں ناپاپاآپ نے ضرورآناہے۔
اورنہ آسکاتو؟؟
توپھرمیں آپ سے ناراض ہوجاؤں گا۔
تم یا طوبیٰ؟؟؟؟انہوں نے مسکراتے ہوئے حیرت سے پوچھا
پاپاہم دونوں۔۔۔
لیکن یہ پلان توطوبیٰ کاہے نا !!!تو ناراض بھی اسے ہی ہوناچاہئے۔وہ اسے پھنساتے ہوئے بولے۔
پاپا! میں آپ سے ناراض ہوں۔وہ ان کے تنگ کرنے پرمنہ بناتے ہوئے بولا۔
ہاہاہا۔۔اچھااچھانہیں تنگ کرتا۔آجاؤں گاکل جلدی اِنشاء اللہ۔۔
یاہووووووووو۔۔۔۔تھینک یوپاپا۔۔ میں ابھی جاکرطوبیٰ اور ماما کو بتاتا ہوں۔ وہ خوشی سے چلاتے ہوئے بھاگا
اچھاسنوتو۔۔۔۔۔۔انہوں نے پیچھے سے بلایا
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ جاچکاتھا۔
گھومنے پھرنے کی خبرسن کروہ کہاں رکنے والاتھا۔
**********
تائی وجیہہ سے بات کرنی ہے مجھے۔آپ کی اجازت چاہتاہوں؟؟ وہ سرجھکائے دھیمی آوازمیں بولا۔
لیکن بیٹاابھی تھکے نہیں ہوتم لوگ؟؟ نصرت چچی حیرانی سے مسکرائی۔
نہیں امی اب تورومی بھیانہیں تھک سکتے۔۔ ملیحہ نے باورچی خانے کے اندرسے آوازلگائی۔ وہ بڑے اباکے لئے چائے بنارہی تھی۔
تائی زیرلب مسکراتے ہوئے وجیہہ کوبلانے چلی گئی جوابھی تھوڑی ہی دیرپہلے دلہن کے ان بھاری بھرکم کپڑوں سے جان چھڑاکرلیٹ گئی تھی۔
صارم صحن میں جاکرمیزکے گردپڑی کرسی پربیٹھ گیا۔
سراج علی کے دوبیٹے اورایک بیٹی تھی۔بڑاسفیرعلی، اس سے چھوٹی فاخرہ اورسب سے چھوٹاشیرعلی۔سراج علی کوباپ کی طرف سے ترکے میں کچھ زمیں ملی تھی جس پر کھیتی کرکے وہ اپنااوربچوں کاپیٹ پالتے تھے لیکن پھرایک دن ان کی اچانک وفات کے بعداس خاندان پرمعاش کے لحاظ سے کافی مشکل وقت پڑا۔ سفیراس وقت بارہویں جماعت کاطالبعلم تھا۔ اس وقت کے حالات میں اس نے اپنی ماں کے مشورے سے ملک سے باہرجاکرقسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔شیرعلی کوآگے پڑھانااس کاخواب تھااورابھی فاخرہ کی شادی بھی کرنی تھی۔ اپنے باپ کے ایک واقف کارکے ذریعے ایک ایجنٹ سے بات کی اورکچھ زمین بیچ کرویزاحاصل کرلیا۔محنتی تووہ تھا ہی۔وہاں جاکرمحنت کی توگھرکے حالات بھی سدھرنے لگے۔ شیرعلی کی پڑھائی بھی چلتی رہی اورفاخرہ کاجہیزبھی جمع ہوتارہا۔ آخروہ وقت بھی آگیاجب شیرعلی نے اپنی پڑھائی مکمل کرلی اوراچھی نوکری بھی حاصل کرلی اورپھرجب فاخرہ بھی عزت سے اپنے گھرسدھارگئی توفضیلت بیگم کوسفیرکی دلہن بھی گھرلانے کی فکرہوئی۔وہ ابھی شادی کرنانہیں چاہتاتھالیکن ماں کی ضدکے سامنے اس کی چل نہ سکی اورغزالہ اس کی زندگی میں شامل ہوگئی۔شادی کے دومہینے بعدوہ قطراپنے کام پرواپس چلے گئے۔غزالہ ایک بہت اچھی بہو ثابت ہوئی تھی۔ اپنی ساس کواس نے کبھی شکایت کاموقع نہیں دیاتھا لیکن یہ قسمت ہی کی بات تھی کہ اس شادی کے ڈیڑھ سال بعدہی فضیلت بیگم کوبھی اللہ نے اپنے پاس بلالیا۔ غزالہ کی گودمیں اس وقت چھ ماہ کی بچی صبیحہ موجودتھی۔ماں کی تدفین پرآیا توسداکے دردمندسفیرکو اپنے چھوٹے بھائی شیرعلی کی فکرہوئی کیوں کہ اس بار وہ غزالہ اوربچی کواپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ کافی صلاح مشورے کے بعد فیصلہ یہ ہواکہ شیرعلی کی شادی غزالہ کی چھوٹی بہن زبیدہ سے کردی جائے۔ شیرعلی نے تواپنے سارے فیصلے پہلے ہی اپنے باپ جیسے بڑے بھائی کے ہاتھ میں تھمادیئے تھے اوریوں زبیدہ شیرعلی کی زندگی میں شامل ہوگئی۔
(.....جاری ہے)

نا ول ’دام لہو‘ کی مصنفہ حفصہ ریحان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے سے ہے جو براہِ راست دہشت گردی کی زد میںآیا۔اور کردار و واقعات فرضی ہونے کے باوجود اس ناول میں زمینی حقائق، مشاہدات اور تجربات کی گہری آمیزش ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 106 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter