ادبی محافل ۔دیارِ غیر میں

Published in Hilal Urdu August 2017

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

وطنِ عزیز میںیوں تو روزانہ ہی ادبی، علمی اور ثقافتی محافل منعقد ہوتی ہیں مگر جب کینیڈا جیسے ملک میں اور وہ بھی ونکوور میں جہاں پاکستانی نسبتاً کم تعداد میں ہیں، ایسی کوئی تقریب ہو تو لوگ بصد شوق شرکت کرتے ہیں۔


آرٹس کونسل کراچی میں تو ایک دن میں کئی ایسے پروگرام ہوتے ہیں اور ان میں شرکت کرکے یا نظامت کرکے بہت اچھا لگتا ہے۔ گزشتہ دنوں ونکوور میں دو ایسی ادبی تقاریب منعقد ہوئیں جن سے اپنے دیس کی یاد تازہ ہوگئی۔


کینیڈا میں عموماً کوئی بھی پروگرام، چاہے وہ چاند رات کا ہو، عید کا ہو، پکنک کا ہو، میوزک کا ہو، کوئی بھی ہو صرف ویک اینڈپر ہی ہوتا ہے۔ لوگ صرف ویک اینڈ پر ہی پروگراموں میں شرکت کرسکتے ہیں۔ یہاں گزشتہ دنوں ایسی اعلیٰ معیارکی ادبی تقاریب منعقد ہوئیں جن کا لطف تادیر قائم رہے گا۔


ایک تقریب پاکستان کی دونامور شخصیات انور مسعود اور امجد اسلام امجد کے اعزاز میں تھی اور دوسری اردو غزل کے سب سے بڑے شاعر مرزا غالب کے حوالے سے تھی۔
ہم آپ کو دونوں تقاریب کا احوال سنائیں گے۔ پہلے انور مسعود اور امجد اسلام امجد کے بارے میں کچھ تحریر کرنا چاہیں گے۔-


انور مسعود اُردو اور پنجابی کے مشہور شاعر ہیں۔ وہ بہت لطیف انداز میں مزاحیہ شاعری کرتے ہیں۔35 برس تک وہ مختلف درسگاہوں میں فارسی پڑھاتے رہے۔ فارسی کے علاوہ وہ اُردو، انگریزی اور پنجابی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری بہت عمدہ اور سنانے کا انداز بھی خوب ہے۔ عموماً مزاحیہ مشاعرے ان ہی کی زیرِصدارت منعقد ہوتے ہیں۔
امجداسلام امجد کے بارے میں ہم کیا لکھیں، انہیں تو دنیا جانتی ہے، گیت نگار، ڈرامانگار، شاعر، دانشور، غرض امجداسلام امجد دنیائے ادب کا چمکتا ستارہ ہیں۔ ان کی خدمات کے صلے میں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیاہے۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے کئی مرتبہ بہترین ڈراما رائیٹر کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ ان کے مقبول ڈراموں میں وارث، سمندر، دہلیز، رات، اپنے لوگ، وقت اور دیگرadbimahafil.jpg بے شمار ڈرامے شامل ہیں۔


اشفاق احمدمرحوم کا تحریرہ کردہ، ایک محبت سو فسانے، کا ٹائٹل سانگ’جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے، جو امجد پرویز کی آواز میں ریکارڈ ہوا، اس کے خالق امجداسلام امجد ہی ہیں۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول اور عالمی اردو کانفرنس کے سلسلے میں انور مسعود اور امجداسلام امجد ہر سال کراچی تشریف لاتے ہیں جہاں ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ اس بار اُن کی آمد کی اطلاع ونکوور میں ملی تو بہت خوشی ہوئی۔ ان دونوں حضرات کے اعزاز میں منعقد اس شام کی خاص بات فنڈریزنگ تھی جو ایک ایسے ادارے کے لئے تھی جس کا مقصد مستحق بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا۔ اس تقریب میں شرکت کے لئے ٹکٹ مہنگا رکھا گیا تھا۔ ویسے یہ کینیڈا کا رواج ہے کہ ہر پروگرام پر ٹکٹ ہوتا ہے۔ ہم تو آرٹس کونسل میں جو پروگرام کرتے ہیں وہ فری ہوتے ہیں۔ ان میں ٹکٹ کا کوئی تصورنہیں حتیٰ کہ میوزک کنسرٹ چاہے راحت فتح علی خان کا ہو، سجاد علی کا ہو یا علی حیدر کا، سب ممبران کے لئے مفت ہوتا ہے۔ یہ تو یہاں کینیڈا میں آکے احساس ہوا کہ ٹکٹ کیا بری بلا ہے۔


آپ شاید یقین نہیں کریں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات گھر میں بھی جو دوستوں کی مل بیٹھنے کی تقریب ہوتی ہے اس میں بھی ٹکٹ رکھا جاتا ہے ہم تو اس ٹکٹ سے عاجز آچکے ہیں، لہٰذا کوشش کرتے ہیں ہمیں بھی عادت پڑ جائے۔ ویسے اگر احباب نے مل کر کھانے کاپروگرام بنایا ہے تو یاد رکھئے اس کا مطلب دعوت نہیں بلکہ پاٹ لک

(Potluck)

ہے یعنی آپ اپنے ہمراہ کوئی کھانے کی چیز ساتھ لے کر جائیں۔ یہ سب اس مغربی کلچر کا حصہ ہے جس میں آپ کسی کو خلوص سے گھر پہ دعوت میں مدعو بھی نہیں کرتے، ویسے یہ تو ہمیں پہلے ہی علم تھا کہ اگر دوست باہر کھانا کھانے جائیںیا کافی پیش کریں تو دونوں اپنا اپنا بل خود دیں گے لیکن گھر پہ بھی کسی کو بلا کر ٹکٹ ، یہ ناقابلِ فہم ہے۔


ہم نے کوشش کی ہے کہ اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ یہ خود غرضی کی مہمانداری ختم ہو۔ ارے یہ ہم بات کرتے کرتے کہاں سے کہاں نکل گئے، انور مسعود اور امجد اسلام امجد پہ بات ہو رہی تھی۔ دونوں حضرات کے اعزاز میں منعقدہ پروگرام نہایت کامیاب ثابت ہوا۔ انور مسعود نے اپنی مشہور نظمیں، کوفتے اور بنیان سُنا کر محفل لوٹ لی۔ امجد اسلام امجد نے پہلے موجودہ دور کے ڈرامے اور ماضی کے ڈراموں پر روشنی ڈالی پھر اپنی غزلیں اور نظمیں سنائیں۔
پلکوں کی دہلیز پہ چمکا ایک ستارا تھا
ساحل کی اس بھیڑ میں جانے کون ہمارا تھا
کہساروں کی گونج کی صورت میں پھیل گیا ہے وہ
میں نے اپنے آپ میں چھپ کر جسے پکارا تھا
سر سے گزرتی ہر اِک موج کو ایسے دیکھتے ہیں
جیسے اس گرداب فنا میں یہی سہارا تھا
ترکِ وفا کے بعد ملا تو جب معلوم ہوا
اس میں کتنے رنگ تھے اس کے، کون ہمارا تھا
یہ کیسی آواز ہے جس کی زندہ گونج ہوں میں
صبح ازل میں کس نے امجد مجھے پکارا تھا
اب کچھ ذکر مرزا غالب کے حوالے سے ہونے والے پروگرام کا جس کا عنوان تھا ’’کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور‘‘ اس پروگرام کے تین حصے تھے، پہلے حصے میں غالب کی زندگی اور شاعری پہ گفتگو ہوئی، دوسرے میں غالب کی غزلیں گائی گئیں اور تیسرے حصے میں مشاعرہ تھا۔


یہ بات تو سبھی مانتے ہیں کہ اُردو شاعری کی آبرو غزل ہے اور غزل کے سرتاج غالب ہیں۔ مرزا اسدا ﷲ خان غالب پہلے اسد تخلص کیا کرتے تھے، اس زمانے میں اسد نامی ایک اور شاعر بھی تھے، لوگوں نے مشورہ دیا کہ چونکہ اس وقت غالب نو عمر تھے کہ ان کا ہر اچھا شعر دوسرے اسدؔ سے منسوب ہوجائے گا، لہٰذا یوں مرزا اسداﷲ خان، غالب بن گئے۔ غالب کی شاعری جتنی عظیم ہے ان کی ذاتی زندگی اتنی ہی دکھوں، مشکلات اور تکلیفوں سے عبارت ہے، ان کے یہاں سات بیٹے ہوئے جو پیدائش کے بعد وفات پاگئے۔


معاشی تکالیف بھی اٹھانا پڑیں، قرض کے بوجھ تلے دبے رہے۔ مگر حیرت انگیز طور ان کی شاعری میں نہ تلخی ہے نہ دکھ نہ اداسی، عجیب سرشاری اور مستی ہے ان کے کلام میں۔ اگر چہ وہ میر تقی میرؔ کے مداح تھے مگر میرؔ کی طرح المیہ شاعری نہیں کرتے تھے۔ غالبؔ کی ذاتی زندگی ان کی شاعری میں ہے لیکن تکالیف کا ذکر غالب نے کیا بھی ہے تو بہت منفرد انداز میں مثلاً:
رنج سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
یا پھر یہ شعر ملاحظہ فرمائیں
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
اسی غزل کا ایک اور مصرعہ ہے۔
قیدِ حیات و بند غم اصل میں دنوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
اب ان اشعار میں دکھ ، تکالیف، رونا اور آرامِ زندگی کا بیان تو ہے مگر اس طرح نہیں جیسے میر تقی میرؔ کے یہاں ہمیں ملتا ہے۔ غالب تو خود ہی کہتے ہیں۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
غالب وہ واحد شاعر ہیں جو خود اپنے اوپر بھی طنز کیا کرتے تھے۔ اب غالب کی شاعری کیاکیا کچھ ہے ہم کیسے بیان کریں؟ ان کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے۔
مرزا غالب پر پاکستان میں کئی ڈرامے بھی بنے۔ ایک مرتبہ انور مقصود نے غالبؔ پر خصوصی کھیل لکھا جس کا نام تھا ’’افسوس حاصل کا‘‘ اس ڈرامے میں ہمیں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ اس ڈرامے کی خاص بات یہ تھی کہ غالب پر تھا مگر اس میں خود غالب نہ تھے۔ اس کی کاسٹ میں ہمارے علاوہ معین اختر، طلعت حسین، لطیف کپاڈیا، شہزاد رضا بھی شامل تھے۔


اس ڈرامے کے کچھ اداکار اب اس دنیا میں نہیں۔ بلکہ لطیف کپاڈیا تو اسی ڈرامے کی ریکارڈنگ کے دوران انتقال کر گئے تھے۔ شوٹنگ کے دوران ان کی طبیعت خراب ہوئی انہیں ٹی وی اسٹیشن کے مقابل واقع ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔


خیر غالب پر جتنے بھی ڈرامے بنے ان میں سبحانی با یونس بطورِ غالب سب سے زیادہ جس ڈرامے میں جچے۔ اس کا نام تھا ’’مرزا غالب بند روڈ پر‘‘
مرزا غالب پر ہونے والے پروگرام میں جہاں غالبؔ کی غزلیں گائی گئیں اور ان کی شاعری پہ گفتگو ہوئی وہیں غالبؔ کی نثرنگاری پہ بھی بات ہوئی اور خطوطِ غالبؔ پڑھ کے سنائے گئے۔ غالبؔ کے بارے میں کیا کہیں، شاعری بھی بے مثال اور نثر بھی لاجواب، بے شک غالب جیسا کوئی نہیں۔


ہمارے جیسے ادبی ذوق رکھنے والے لوگوں کے لئے یہ دونوں تقاریب جن کا تذکرہ ہم نے رقم کیا۔ بہت تقویت اور طمانیت کا باعث ہیں۔ دیارِ غیر میں جب اُردو شاعری اور اُردو ادب پر بات ہو تو دل کھِل اٹھتاہے۔

مضمون نگار مشہور ادا کارہ، کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 101 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter