تقسیمِ ہند میں کانگریس کا متعصبانہ رویہ

Published in Hilal Urdu August 2017

تحریر: سمیع اﷲ سمیع

سرحدیں دل کی ہوں یا دنیا کی، کبھی ایک سی نہیں رہتیں ۔ پیہم تبدیلی ہی زندگی کی دلیل ہے۔ لفظ تقسیم برا بھی ہے اوراپنے تئیں اچھا بھی ہے۔کانگریسی صدراورسابق بھارتی وزیرداخلہ سردارپٹیل واشگاف الفاظ میں اقرارکرتے تھے کہ اگر دوبھائیوں کے مابین جھگڑا ختم نہ ہورہاہوتو تقسیم یقینی ہوتی ہے اوریہ فطری عمل ہے۔درحقیقت بروقت اورمبنی برانصاف تقسیم ہی کدورتوں کوروکتی ہے لیکن افسوس کہ ماؤنٹ بیٹن کی سرکردگی میں ریڈکلف ایوارڈ کھلی بددیانتی کی ایک پُرسوز تصویر ہے جس کی سزا آج بھی آسام،انبالہ اورجالندھر کے مسلمان بھگت رہے ہیں۔ بھارت اس بدبختانہ اندازِتقسیم پرخوش تھا، اس لئے اس کے رہنمانے ماؤنٹ بیٹن کو خراج تحسین پیش کیا وگرنہ قائداعظم کے الفاظ تھے کہ انہوں نے کٹا پھٹا پاکستان بھی قبول کیا کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔گزشتہ ماہ جناب عبدالستاراعوان نے ہلال ہی کے صفحات پر جب آسام میں مسلمانوں کی حالتِ زار تحریرکی تو بلاشبہ کیبنٹ مشن پلان کی کیٹیگری ’’بی‘‘میں آسام وبنگال کی ایک ہی گروپ میں شمولیت کی برطانوی رائے یادآگئی۔جسے کانگریس جیسی ’’قومیت ‘‘کاپرچارکرنے والی تنظیم نے اس لئے ردکردیاکہ اس سے اس علاقے میں ہندوؤں کے اثرورسوخ میں کمی ہوگی ۔حالانکہ وقت نے ثابت کیاہے کہ محمد علی جناح کاموقف درست تھا۔


برصغیرکی تقسیم کی بنیادیں جہاں انگریز کی ہندونوازپالیسی میں ملتی ہیں وہیں اس کو کانگریس کی متعصب پالیسی بھی اساس عطاکرتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ محمدعلی جناح نے صلح واتحادکی آخری کوشش بھی کردیکھی لیکن کانگریس کی طرف سے مسلسل تعصب کااظہارانہیں اس بات پرقائل کرگیاکہ وہ مسلم مفادات کاتحفظ ایک علیحدہ مملکت کے طورپرہی کرسکتے ہیں ۔آئیے جنگِ عظیم دوم سے پہلے کے کانگریسی رویے پرنظرڈالتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ مسلم لیگ کی بنیادایک مسلم مملکت کی خواہش پرنہیں بلکہ مسلمانوں کے تحفظات پررکھی گئی ۔تحریک خلافت میں کانگریس کی بے وفائی ،لکھنوپیکٹ 1916کوپسِ پشت ڈالنااوردیگر متعصبانہ رویے بالآخر محمد علی جناح کو اس مقام پر لے آئے کہ ’’دسمبر1920میں کانگریس کے ناگپورکے اجلاس میں محمد علی جناح نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرلی‘‘۔ 1935کے گورنمنٹ آف انڈیاایکٹ کے تحت صوبائی خودمختاری تودی گئی لیکن گورنروں کویہ خصوصی اختیارات دیئے گئے کہ وہ ایمرجنسی کانفاذکرسکتے ہیں اوراس کے بعد اختیارات پر مکمل قبضے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا تھا۔لیکن آزادئ ہند میں یہ قانون بھی ایک اہم پیش رفت سے کم نہ تھا۔اس کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات میں کانگریس کو ہندوستان کے بڑے صوبوں میں مکمل اکثریت ملی ،چارصوبوں میں وہ اکیلی سب سے بڑی پارٹی تھی جبکہ پنجاب اورسندھ میں اس کادامن نہیں بھرا۔ان انتخابات نے اقلیتوں کے متعلق کانگریس کے کھلم کھلا دعوؤں کوبے لباس کردیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب
India Wins Freedom
کے صفحہ نمبرستائیس پررقم طراز ہیں کہ’’مجھے رنج کے ساتھ یہ اعتراف کرناہے کہ بہار اور بمبئی،دونوں میں کانگریس اپنی قومیت کے امتحان میں پوری طرح سرخرو نہیں ہو سکی۔‘‘
مولانا رقم طراز ہیں کہ ’’کانگریس کافروغ ایک قومی تنظیم کے طورپرہوا تھا اور اسے یہ موقع فراہم کیا گیا تھا کہ مختلف فرقوں کے لوگوں کی قیادت کرسکے۔ چنانچہ ممبئی میں مسٹرنریمان مقامی کانگریس کے مسلمہ لیڈرتھے۔جب صوبائی حکومت کی تشکیل کاسوال اُٹھا،تو عام توقع یہ تھی کہ اپنے مرتبے اورریکارڈ کی بناپرمسٹرنریمان سے قیادت سنبھالنے کوکہاجائے گا۔اس کابہرنوع،یہ مطلب ہوتاکہ کانگریس پارٹی کے اراکین میں اگرچہ ہندوؤں کی اکثریت ہے لیکن ایک پارسی کو وزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔ سردارپٹیل اوران کے ساتھی اس صورت حال کوقبول نہیں کر سکے اورانہوں نے سوچاکہ اس اعزازسے کانگریس کے ہندو حمائتیوں کو محروم کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔چنانچہ مسٹربی جی کھیرسامنے لائے گئے اورانہیں بمبئی میں کانگریس اسمبلی پارٹی کالیڈرمنتخب کیاگیا۔‘‘

(صفحہ 27,28انڈیاونز فریڈم)
دکھ اس بات کاہے کہ نریمان جو کہ ایک قابل لیڈرتھے انہوں نے جب صدرکانگریس کو ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پرمطلع کرنا چاہا توکشمیریوں کے قاتل جواہرلعل نہرو نے ان کی دادرسی کرنے کے بجائے سب کے سامنے ڈانٹ دیا۔اس کے بعد تفتیشی کمیٹی بنائی گئی جسے اس طرح ترتیب دیاگیاکہ سردارپٹیل بے گناہ ثابت ہوئے بالکل اسی طرح جس طرح آج احمدآباد، گجرات اورآسام کے قاتل بالآخربے گناہ ثابت ہورہے ہیں ۔وقت بدلاہے لیکن متعصب برہمن کی سوچ اورچال نہیں بدلی۔


اسی طرح بہارمیں بھی کانگریس کے مرکزی سطح کے مسلم رہنماسے ان کا حق چھین کرہندورہنما کودیاگیا۔ڈاکٹرسیدمحمودنہ صرف صوبہ بہارکے سب سے بڑے لیڈر تھے بلکہ آل انڈیاکانگریس کمیٹی میں جنرل سیکرٹری کے عہدے پربھی فائز تھے۔ مولانارقم طراز ہیں’’ڈاکٹرسیدمحمود کوصوبے کے اندربھی ایک حیثیت حاصل تھی اور باہربھی۔ کانگریس کو جب مکمل اکثریت حاصل ہوئی تو یہ سمجھ لیا گیا کہ صوبائی خودمختاری کے تحت ڈاکٹرسیدمحمود کولیڈرچن لیاجائے

 

گااوربہارکاوزیراعلیٰ بنا دیا جائے گا۔ اس کے برعکس ہوا یہ کہ شری کرشن سنہا اورانوگرہ نارائن سنہا، جو مرکزی اسمبلی کے اراکین تھے ،انہیں بہارواپس بلالیاگیااوروزارت اعلیٰ کے لئے تیار کیا جانے لگا۔۔۔ڈاکٹرراجندر پرساد نے بہارمیں وہی کردار ادا کیا جو سردار پٹیل نے بمبئی میں کیاتھا۔‘‘ان دوواقعات پر ہم خود تبصرہ کرنے کے بجائے بہتر ہو گا کہ مولاناکے اسی صفحہ اُنتیس پرموجود الفاظ من وعن تحریر کردیں، بقول مولانا ابوالکلام آزاد صاحب ’’ان دوواقعات نے اس زمانے میں ایک بدمزگی پیداکی۔ پیچھے مُڑکر دیکھتا ہوں تو یہ محسوس کئے بغیرنہیں رہ سکتاکہ کانگریس جن مقاصد کی دعوے دارتھی ان پر عمل پیرانہیں ہو سکی۔‘‘اسی طرح بنگال میں کانگریسی رہنما مسٹرداس نے مسلمانوں کے لئے ریزروسیٹس (مخصوص کوٹے) کی کوشش کی کیونکہ وہاں مسلم تعدادمیں زیادہ ہونے کے باوجود سرکاری ملازمتوں سے محروم تھے اورتجارت پر بھی ہندوؤں کاقبضہ تھا لیکن ان کے انتقال کے بعد کانگریس نے تعصب پسند ی کاثبوت دیتے ہوئے ان کے احکامات کو رد کردیا۔اس مقام پر ایک سادہ لوح انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ جس تنظیم میں اس کے مرکزی وصوبائی رہنماؤں کو ان کے جائز حق سے محروم کر دیا جائے،جہاں لیڈرکی وفات پر پالیسیاں یوٹرن لے لیں وہاں عام آدمی کی کیا اوقات رہ جاتی ہے۔


اب ہم ان حالات کی جانب آتے ہیں، جنھوں نے حکومتِ برطانیہ کو مجبورکیا کہ وہ ہندوستان کی آزادی اورمسلم لیگ کا تقسیمِ ہندکافارمولا قبول کریں۔
جاپان پر ایٹم بم گرانے کے بعدامریکہ اپنے آپ کو دنیا کاٹھیکیدارسمجھنے لگا اور اپنے بے بنیادظلم کے لئے بے ڈھنگے دلائل کی بھرمارکردی لیکن غیرجانب دار تجزیہ نگاروں نے جہاں پہلے جرمنی کے ’’زہریلی گیس‘‘کے استعمال کی مخالفت کی تھی وہیں امریکہ کی اس بہیمانہ کارروائی کو بھی رد کیا۔خود امریکی عوام نے اسے مسترد کر دیاکیونکہ وہ جانتے تھے کہ جاپان توپہلے ہی آبرومندانہ شکست کی درخواست دے چکا ہے گوکہ وہ کسی مجبوری کی بناپرواپس لے لی گئی لیکن اس سے جاپان کے پیچھے ہٹتے قدم صاف دکھائی دینے لگے تھے ۔2ستمبر 1961کو اکانومسٹ اخبارنے لکھاکہ’’ایٹم بم کے استعمال کو امریکیوں نے مسترد کر دیا۔‘‘روس کوجرمنی کے خلاف استعمال کرنے والے اب مشرقی یورپ میں اس کے بڑھتے ہوئے اقدام سے خوفزدہ تھے اورایٹم بم کے نشے میں بدمست ہوئے جارہے تھے کہ روسی اخبار نے ان کے دعووں کو چیلنج کردیا۔جناب زاہد چودھری اپنی کتاب ’’پاکستان کیسے بنا؟‘‘جلداول میں روسی جریدے نیوٹائمز کی ستمبر1945کی اشاعت کا حوالہ دیتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ’’امریکی پریس کے اس تاثر کو رد کر دیا گیا کہ امریکہ نے ایٹم بم کے استعمال کی دھمکی سے پوری دنیاپرغلبہ پا لیا ہے۔ جریدے نے انتباہ کیاکہ بہت جلد دوسری اقوام بھی اتنی ہی قوت کا ہتھیارایجاد کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔‘‘

(صفحہ 43جلداول ’ پاکستان کیسے بنا؟‘ )
امریکی اتنے بدمست ہوئے کہ امریکی سفیرنے یہاں تک کہہ دیاکہ اگرروس بات نہ مانے تو ایٹم بم سے اُڑادیاجائے۔

(نیویارک ٹائمز24مارچ 1946)
محکوم طبقوں کی جانب سے پہلے پہل چین کے ماؤزے تنگ نے محکوم اقوام کے نام ایک پیغام میں کہا کہ ’’ایٹمی قوت سے خوف نہ کھاؤ‘‘

(دی ٹائمز 25ستمبر1946)
اسی طرح سامراج کے ایک پٹھوسیاسی رہنما نے ویت نام میں خودکشی کرکے عوام کے جذبۂ حریت کواُبھارا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی خواہش تھی کہ برطانیہ کوچ کرجائے ،اسی طرح ایران کی تیل کی دولت پر بھی امریکہ خودہاتھ صاف کرناچاہتاتھا۔برطانیہ جو جنگِ عظیم دوم کی وجہ سے معاشی ابتری کاشکارتھا، روزبروز اس کی معیشت کمزورہوتی جارہی تھی ۔ڈیڑھ کروڑ مربع میل پر پھیلے برصغیرکے چالیس کروڑعوام اب اسے ویسے بھی نہیں بھاتے تھے کہ جنگ میں برصغیرکی دولت خرچ ہونے کی وجہ سے اب یہ برطانیہ کے لئے سفید ہاتھی کاسادرجہ رکھتاتھا، ادھرامریکہ بھی روزبروزہندوستان کی آزادی کے لئے دباؤ بڑھارہاتھا۔زاہد چوہدری لکھتے ہیں کہ جنگ کے دوران برطانیہ کے پینتالیس لاکھ میں سے بیس لاکھ مکانات مکمل تباہ ہوگئے۔املاک کے نقصان کا تخمینہ آٹھ ارب اسی کروڑ ڈالرلگایاگیا۔16 جولائی 1945ء کو رجسٹرشدہ بے روزگارمردوں کی تعداداکہترہزارآٹھ سوسولہ تھی۔16جولائی کوبے روزگار عورتوں کی تعدادچالیس ہزارانیس تھی۔ہندوستان کے وائسرائے لارڈویول نے بائیس لاکھ پچاس ہزارٹن گندم کامطالبہ کیاتھا۔جسے پوراکرنے کے لئے امریکہ اورآسٹریلیاسے گندم درآمدکرناپڑی۔22 فروری 1947ء کو برطانوی وزارتِ محنت ونیشنل سروس کے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق بے روزگارافراد کی تعداد بیس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔مارچ 1947ء میں خسارے کی توقع پینتیس کروڑ پونڈ تھی جسے پوراکرنے کے لئے پھرامریکہ سے قرض کی بھیک مانگی گئی۔


ایسے حالات میں جب جولائی 1945کے انتخابات ہوئے تو برطانوی پبلک نے ’’امراء‘‘کی جماعت کہلوانے والی کنزرویٹوپارٹی کے بجائے ’’لیبرپارٹی‘‘ کو منتخب کیا۔جب چھبیس جولائی کونتائج کااعلان کیاگیاتو لیبرپارٹی 412نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ کنزرویٹو213 نشستیں لے کردوسرے اورلبرل بارہ نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبرپررہی۔لیبرپارٹی کی جیت میں جہاں بے روزگاری ومہنگائی کے نعروں نے اہم کرداراداکیاوہیں ’’عظیم برطانیہ‘‘کی سلطنت میں سورج غروب کرنے کے لئے اس کی پالیسی کوسراہاگیاتاکہ مفلوک الحال برطانیہ وسیع سلطنت کے بوجھ سے چھٹکاراپاسکے۔


بارہ مئی 1946 کے نیویارک ٹائمز کے بقول مشرق وسطیٰ اورہندوستان کی آزادی میں یہ رکاوٹ تھی کہ یہاں سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے سائے برطانیہ کو مجبورکررہے تھے کہ ان علاقوں پراپناقبضہ برقراررکھے۔یہی وہ دورہے جہاں سے روس اورامریکہ کی چپقلش کاآغازہوتاہے۔کیونکہ جنگ سے زخمی عوام کا جھکاؤ کارل مارکس کے پیش کردہ نظریات کی جانب بڑھناایک فطری امرتھا۔اسی اثناء میں کانگریس نے اپنی تنظیم سے کمیونسٹ افرادکونکال کربرطانوی حمایت حاصل کرلی۔


جون 1945 میں شملہ میں جوکانفرنس ہوئی اس میں لارڈ ویول کی پیش کردہ تجاویزکے مطابق یہ طے پایاکہ نئی ایگزیکٹوکونسل میں پانچ ہندو،پانچ مسلم،ایک اچھوت اورایک سکھ کونمائندگی دی جائے گی۔اس ضمن میں مسلم لیگ کامطالبہ تھاکہ مسلمانوں کونامزدکرنے کااختیارمسلم لیگ کوہوناچاہئے لیکن کانگریس اپنی مکاری کے تحت یہ چاہتی تھی کہ مسلمان ارکان نامزدکرکے وہ مسلمانوں کی لیگ کی جانب جھکاؤ کی پالیسی کارخ موڑلیں گے مگرجناح جیسے مضبوط اورنڈرشخص نے ان کی اس خواہش کوعملی جامہ نہ پہننے دیا۔ ویول کاارادہ یہ تھاکہ ان پانچ کے چناؤ میں یونینسٹ اورکانگریس کو بھی شامل کیاجائے ،ظاہرہے اس طرح مسلم لیگ کی نمائندگی محدود ہوجاتی ۔کانگریس نے اپنے نامزدممبران کی جوفہرست لارڈویول کی جانب بھیجی اس کی بنیادپر30 مارچ 1946 کے نیویارک ٹائمزکے مطابق لارڈویول نے کہاکہ’’مسلم لیگ حق بجانب تھی، کونسل میں کانگریس کوغلبہ حاصل ہوجاتا‘‘۔14 جولائی کو بحث وتمحیص کے بعدبالآخریہ کانفرنس بھی اپنی اہمیت کھوبیٹھی۔گاندھی جی نے کہاکہ مسلم لیگ اورکانگریس کے مابین کبھی بھی تصفیہ نہ ہو سکے گا۔مولاناآزاد اورگاندھی کی خواہش تھی کہ لیگ کونظراندازکرکے برطانیہ کوآگے بڑھ جاناچاہئے لیکن برطانیہ کے لئے جناح جیسے آہنی بشر سے ٹکرلینا اتنا آسان نہ تھا۔


شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد اگست 1945 میں دہلی میں گورنروں کااجلاس ہوا۔جس میں نئی ایگزیکٹوکونسل کے لئے مرکزی اسمبلی کے انتخابات 1945کے اواخراورصوبائی اسمبلیوں کے 1946کے شروع میں منعقد کروا دیئے گئے۔گورنرپنجاب گلانسی انتخابات کی آخرتک، اس لئے مخالف کرتے رہے کہ انہیں علم تھاکہ پنجاب میں یونینسٹ اورکانگریس ہارجائیں گی۔بقول ویول اگرچہ دونوں جماعتیں 1946 کے انتخابات میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ تھیں لیکن کانگریس اس بار اتنی پرجوش نہیں تھی‘‘(بحوالہ : پاکستان کیسے بنا؟ مصنف:زاہد چودھری )
وزیرہند پیتھک لارنس،
Pethick Lawrence
ویول اورکانگریس انتخابات کواس لئے بھی ملتوی کرنا چاہتے تھے کہ کسی طرح پنجاب کے اضلاع جالندھر اورانبالہ میں مسلمانوں کوخوف دلا کرمسلم لیگ کے خلاف کیاجاسکے ۔لیکن برطانوی کابینہ نے ویول کو20 اگست کو تاربھیجااور21اگست کوویول نے انتخابات کااعلان کردیاجس میں سوائے کے پی، کے موجودہ پاکستان میں مسلم لیگ اپنالوہامنوانے میں کامیاب ہوگئی۔
کیبنٹ مشن23 مارچ 1946 کو ہندوستان پہنچاجس میں سرسٹیفرڈکرپس
(Stafford Cripps)
بھی شامل تھے۔سولہ مئی کو کیبنٹ مشن نے اپنی اسکیم شائع کی۔ جس کے تحت دفاع،بیرونی معاملات،اورذرائع رسل ورسائل مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی تجویزپیش کی گئی۔کیبنٹ مشن نے ہندوستان کو تین حصوں میں تقسیم کیا، اے،بی اورسی۔ ایسا اقلیتوں کے تحفظات دورکرنے کے لئے کیاگیا۔سیکشن بی میں پنجاب ،سندھ،شمالی مغربی سرحدی صوبہ(اب کے پی) اوربرطانوی بلوچستان کو شامل کیاگیا۔سیکشن ’’سی‘‘میں بنگال اورآسام شامل ہوئے، ایسا اس لئے کیا گیا کہ یہاں مسلم اقلیت کوتحفظ دینامقصودتھا،اس طرح سے یہاں مسلمان اکثریت میں آجاتے۔ اس میں مسلم اکثریتی صوبوں کو خودمختاری کی ضمانت دی گئی تھی اوراگرکوئی حصہ چاہتاتوبعدمیں الگ ہو سکتا تھا۔ مسلم لیگ نے اسے منظور کر لیا لیکن کانگریس اپنی ضدپراڑی رہی کہ آسام کو الگ کیاجائے ۔


کیبنٹ مشن پلان کی منظوری میں مولانا ابوالکلام آزادکے بقول ان کی محنت شاقہ شامل تھی۔لیکن کانگریس کے صدرکی تبدیلی نے صورت حال بدل دی۔ مولانا آٹھ سال صدررہنے کے بعد مستعفٰی ہوئے اورپھرجواہرلعل نہروکوصدرمنتخب کر لیا گیا۔ 6 جولائی کو کانگریس نے کیبنٹ مشن پلان کو منظورکیا تو سرسٹیفرڈ کرپس
(Stafford Cripps)
اور پیتھک لارنس نے مولانا کو مبارک باددی لیکن یہ ساری صورتحال کانگریس کی باگ ڈورایک ہندوصدرکے ہاتھ میں آنے سے یکسربدل گئی۔ 10جولائی کو یعنی مشن کومنظورکرنے کے فقط چاردن بعد بمبئی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے جواہرلعل نہروسے جب یہ سوال کیاگیا کہ ’’کیا اے۔ آئی۔ سی۔ سی کے ذریعہ قراردادکے منظورکرلئے جانے کے ساتھ کانگریس نے پلان کو،بشمول انٹیرم حکومت کی تشکیل کے ،جوں کا توں قبول کرلیاہے۔جواب میں نہرونے کہاکہ دستورسازاسمبلی میں کانگریس یوں شامل ہو گی کہ ’’سمجھوتوں سے یکسرآزادہوگی اوروہ تمام حالات جو رونما ہوسکتے ہیں، ان کا سامنا اپنی مرضی کے مطابق کرے گی‘‘

(صفحہ 204آزادی ء ہندمولاناآزاد۔)
اسی موقع پر ایک اورسوال کے جواب میں کانگریسی ذہنیت کھل کرسامنے آگئی جب صحافیوں نے پوچھاکہ کیاکیبنٹ مشن پلان میں بعدمیں کوئی تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے تو نہروصاحب نے جواب دیاکہ ’’کانگریس اپنے آپ کو آزاد سمجھتی ہے اس کے نزدیک جو مناسب ترین صورت ہوا اسی کے مطابق کیبنٹ مشن پلان کو تبدیل کردے یااس میں ترمیم کر دے۔‘‘اس کارد عمل لازمی تھالہٰذامسلم لیگ نے 27 جولائی کے اجلاس میں تین دن کی کارروائی کے بعد مشن کومسترد کیا اور پاکستان کے حصول کے لئے ڈائریکٹ ایکشن پراترآنے کافیصلہ کیا۔


ڈائریکٹ ایکشن کے نتیجے میں متعصب ہندوانتقامی کارروائی پراترآئے اور کلکتہ سمیت ملک بھرمیں قتل وغارت ہوئی ۔اس ضمن میں مولاناآزادلکھتے ہیں ’’یہ ہندوستانی تاریخ کے بد ترین المیوں میں سے ایک تھا اورمجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہناپڑرہاہے کہ ان واقعات کی ذمہ داری کا ایک بڑاحصہ جواہرلعل نہروکے سرجاتاہے ۔ان کے اس بدبختانہ بیان نے کہ کانگریس کیبنٹ مشن پلان میں ترمیم کے لئے آزا د ہو گی سیاسی اورفرقہ وارانہ سمجھوتے کے پورے سوال کوپھرسے کھول دیا۔‘‘یہ وہ واقعات ہیں جو اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ برصغیرکی تقسیم قائداعظم محمد علی جناح نے ناگریز طورپرکی ۔لکھنؤ پیکٹ سے لے کرشملہ کانفرنس اورکیبنٹ مشن پلان تک کسی بھی موڑ پر کانگریس نے مسلمانوں کے مفادات کوزک پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیااوراس ضمن میں دوسری اقلیتوں کوبھی معاف نہ کیا۔


متحدہ ہندوستان کی ترجمان کانگریس پاکستان کے نظریے سے اس قدر خائف تھی کہ اس نے پاکستان بننے سے پہلے اسے توڑنے کے لئے اپنی کوششوں کا آغاز کردیا۔دوسری جانب جب خان عبدالغفارخان نے پاکستان بنتے دیکھا تو انتہائی مضمحل ہوئے ،انہیں اپنے اقتدارکاسورج غروب ہوتا نظر آیا۔کانگریس نظریں پھیرچکی تھی کہ اب خدائی خدمتگاراس کے کسی کام کے نہ تھے کیونکہ مسلم اکثریت کی وجہ سے شمال مغربی سرحدی صوبے کا پاکستان میں شامل ہونایقینی تھا لیکن صدافسوس کہ برصغیرمیں دو ریاستوں کی مخالف کانگریس نے ’’پختونستان‘‘کی قراردادمنظورکی تاکہ سرحدکے پٹھانوں کے دلوں میں لسانی تعصب ڈال کر انہیں پنجابیوں کے تسلط کا خوف دلایاجائے۔ یہ لسانی تعصب وہی جماعت ابھاررہی تھی جوہندوستان کو ایک اکائی کہاکرتی تھی لیکن برطانوی حکومت نے یہ لغو قرار داد رد کر دی اوراستصوب رائے سے کانگریس نے منہ کی کھائی۔خان عبدالغفار خان تو پہلے ہی بائیکاٹ کرچکے تھے کہ انہیں اپنی شکست کایقین تھا۔


اب آخرمیں ہم گاندھی جی کے عدم تشددکے نظریے پربات کریں کیونکہ بہت سے لبرلز اس کاآج بھی پرچارکرتے نظرآتے ہیں۔آزادلکھتے ہیں ’’سبھاش بوس کی بہت سی سرگرمیوں کوگاندھی ناپسندکرتے تھے‘‘۔برلن میں رہ کرجب سبھاش بوس نے نازی جرمنی کی جنگی کارروائیوں کاساتھ دیاتواس ضمن میں آزاد لکھتے ہیں’’گاندھی جی کی بہت سی باتوں نے مجھے یقین دلایاکہ وہ‘ہندوستان سے بھاگ نکلنے میں سبھاش بوس نے جس ہمت اورسوجھ بوجھ کامظاہرہ کیاہے اسے تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں۔‘‘۔بعد میں جب سبھاش کی موت پر گاندھی صاحب نے ان کی والدہ سے اظہارافسوس کرتے ہوئے سبھاش کو خراجِ عقیدت پیش کیاتو سرسٹیفرڈکرپس
(Stafford Cripps)
نے مولاناآزاد سے اس بات پر شکوہ کیاکہ گاندھی کانظریہ عدم تشدد ہے اورسبھاش نے کھلم کھلامحوری طاقتوں کاساتھ دیاہے پھر خراجِ عقیدت پیش کرنااپنے ہی بیانات سے روگردانی کے مترادف ہے۔
دوسری طرف نظردوڑائی جاتے تو گاندھی جی کے مرن بھرت کے باوجود سردارپٹیل جومنقسم ہندوستان کے وزیرداخلہ تھے، مسلمانوں کے قتل عام پرتوجہ نہیں دے رہے تھے اوراس ضمن میں انھوں نے گاندھی جی سے سخت رویہ بھی اختیار کیا۔ گاندھی کوجب قتل کیاگیاتو ہندوستان میں کھلم کھلامٹھائیاں بھی بانٹی گئیں جو اس بات کا بین ثبوت تھیں کہ گاندھی صاحب کا جورہاسہا نظریہ عدم تشددتھا،ہندو عوام اس سے بھی نالاں تھے جوکہ تقسیم کی تائید ہے۔مندرجہ بالاحقائق ثابت کرتے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ہرموڑپر امن ومصالحت کی راہ اپناتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کی آواز بلند کی لیکن یہ کانگریس ہی تھی جس نے ان کی راہ میں روڑے اٹکائے اوربالآخربرطانوی حکومت نے قائداعظم کے الگ ریاست کے مطالبے کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔

مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 132 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter