کامرانی کا سفر

Published in Hilal Urdu August 2017

14اگست1947کو معرض وجود میں آنے والے وطنِ عزیز پاکستان کو اپنے قیام کے آغاز ہی سے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس نوزائیدہ ریاست نے ہندوستان کی اَن گنت سازشوں کا سامنا کیا۔ لیکن پھر بھی اپنا سفر اعتماد اور وقار کے ساتھ جاری رکھا ہے۔ پاکستان ایک نظریے اور مقصد کے پیش نظر قائم ہوا جہاں برِصغیر کے مسلمان مذہبی، سیاسی، معاشی و سماجی اعتبار سے قانون و آئین کے تحت اپنی زندگی آزادانہ طور پر بسرکر سکیں۔ پاکستان آزاد ہوا تو اس کے پاس وسائل کی کمی تھی پھر بھی پاکستانی قوم نے ثابت قدم رہتے ہوئے دشمن کی جانب سے مسلط کردہ ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر یہ ثابت کیا کہ یہ قوم اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے۔


پاکستان ایٹمی قوت کا حامل اسلامی دنیا کا ایک بڑا ملک ہے۔پاکستان میں ادارے مضبوط ہو رہے ہیں اور ریاست کے سبھی ستون اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان الحمدﷲ بہتری کی جانب گامزن ہے۔ قوم کو ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل دہشت گردی کے جس عفریت کا سامنا ہوا، قوم اور اس کی افواج نے سینہ سپر ہو کر نہ صرف اس کا مقابلہ کیا بلکہ آج قوم یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ دہشت گردی پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہے۔ اب بھی دشمن دہشت گردی کے اکادکا واقعات کے ذریعے قوم کے حوصلے پست کرنے کی سعی کرتا ہے لیکن افواج جس طرح سے آپریشن رد الفساد کے ذریعے باقی ماندہ دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو ٹھکانے لگانے کے لئے سرگرم ہیں، اس سے ملک دشمن عناصر یقیناًمزید کمزور ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپریشن خیبر۔ فور کا پہلا مرحلہ کامیابی سے ہمکنار ہو چکا ہے اور اب یہ آپریشن اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس پاک سرزمین پر اگر ایک بھی دہشت گرد ہو گا تو افواجِ پاکستان اور قوم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک اس کا خاتمہ نہ کر لیں۔


بلاشبہ جستجو ، لگن، اولوالعزمی اور اپنے اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کے لئے کام کرنے والی اقوام ہی باوقارانداز میں جینے کا حق رکھتی ہیں۔ بانئ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناحؒ نے اپریل 1948 کو پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔’’مملکت کا فرض پہلے ہے اور اپنے صوبے، اپنے ضلعے اور قصبے اور اپنے گاؤں کا فرض بعد میں آتا ہے۔ یاد رکھیئے ہم ایک ایسی مملکت کی تعمیر کر رہے ہیں جو پوری اسلامی دُنیا کی تقدیر بدل دینے میں اہم کردار ادا کرنے والی ہے۔ اس لئے ہمیں وسیع تر اور بلند تر بصیرت کی ضرورت ہے۔ ایسی بصیرت جو صوبائیت، قوم پرستی اور نسل پرستی کی حدود سے ماوراء ہے۔ ہم سب میں حُب الوطنی کا ایسا شدید اور قومی جذبہ پیدا ہونا چاہئے جو ہم سب کو ایک متحد اور مضبوط قوم کے رشتہ میں جکڑ دے۔‘‘ آج ضرورت ہے کہ قوم ازسرنو بانئ پاکستان کے فرمودات کا مطالعہ کرے اور ان پر من و عن عمل پیرا ہو کر مادروطن کے مستقبل کو مزید روشن اور مستحکم بنائے۔

Read 156 times

1 comment

  • Comment Link میجر عاطف مرزا میجر عاطف مرزا 20 September 2017

    بہت عمدہ پیغام کا حامل اداریہ جس میں ایک اچھا پاکستانی بننے کے لیے ہر ایک کو مشورہ دیا گیا ہے۔
    پاکستان ہماری بقا ہے اور اپنی بقا کے لیے ہم سب کو مل کر کھڑا ہونا ہو گا۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter