معمارانِ پاکستان ، زمینی حقائق اور آسمانی تصورات

Published in Hilal Urdu August 2017

تحریر: فتح محمد ملک

آج جب نظریاتی استقامت کو انتہا پسندی کا نام دیا جاتا ہے تو مجھے "ہندوستان ٹائمز" کا وہ خراجِ تحسین یاد آتا ہے جو اس مؤقر روزنامہ نے قائداعظم کو پیش کیا تھا۔ بابائے قوم کی رحلت پر ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے لکھا تھا کہ اُن میں ایسی قوتِ ارادی تھی جو اُن کی راہ میں حائل ٹھوس حقائق کو توڑ پھوڑ کر خوابوں کو جیتے جاگتے حقائق میں منتقل کر سکتی تھی۔ آج جب مانگے تانگے کی دانش ہمیں یہ سمجھانے میں مصروف ہے کہ ’’چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی‘‘ تو مجھے اقبال یاد آتے ہیں جنہیں اس حقیقت کا عرفان حاصل تھا کہ ہوا کا کچھ بھروسہ نہیں یہ کمبخت تو کسی وقت بھی اپنا رُخ بدل سکتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے خیال کی قوت سے زمینی حقائق
(Ground Realities)
کو بدل کر رکھ دینے پر قادر تھے:
ہوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیئے ہیں اندازِ خُسروانہ
اقبال کا تصورِ پاکستان ہوا کی تندی و تیزی کے مقابلے میں صراطِ مستقیم پر استقامت کی بہترین مثال ہے۔ 1930 کے خطبۂ الٰہ آباد کے اختتامی پیراگراف میں اقبال نے اسلامیانِ ہند کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ اسلام سے اٹوٹ وابستگی قائم رکھیں۔ اس راہ کی مشکلات کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہ مشکلات بظاہر جتنی سنگین نظر آتی ہیں واقعتا اُتنی سنگین نہیں ہیں۔ یہ مشکلات بہت جلد آسان ہو جائیں گی۔ لندن کی دوسری گول میز کانفرنس کے دوران جب انھوں نے اپنے تجربات اور مشاہدات سے یہ جان لیا کہ مسلمان مندوبین نے قومی شاہراہ کو چھوڑ کر ہوا کے راستے پہ سرپٹ دوڑنا شروع کر دیا ہے تو وہ احتجاجاً کانفرنس سے بائیکاٹ کر گئے تھے۔ 1930 کے خطبۂ الٰہ آباد میں وہ متحدہ ہندوستانی فیڈریشن کے تصور کو رد کر کے جداگانہ خود مختار مسلمان مملکتوں کا تصور پیش کر چکے تھے۔ گول میز کانفرنس میں وہ اپنے اسی تصور پر قائم رہے۔ دیگر مسلمان مندوبین حکومتِ برطانیہ کے دباؤ میں آ کر نہ صرف اقبال کے تصور پاکستان سے گریزاں رہے بلکہ متحدہ ہندوستانی فیڈریشن کے اندر رہتے ہوئے مسلمان اقلیت کے لئے حقوق اور تحفظات پر سودے بازی میں مصروف رہے۔ اقبال نے دباؤ میں آ کر جداگانہ مسلمان قومیت کی آئیڈیالوجی ترک کرنے کے بجائے کانفرنس کا بائیکاٹ مناسب جانا۔ اُس وقت اقبال تنہا ہو کر رہ گئے تھے۔ جب میں اُن کی اس کڑی تنہائی کا خیال کرتا ہوں تو مجھے اُنہی کا یہ شعر یا دآتا ہے:
درمیانِ کار زارِ کُفر و دیں
جانِ من تنہا چو زین العابدینؓ
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپنے اِس فکری جہاد میں کربلا کا نقشہ ہمیشہ اقبال کے سامنے رہا۔ اپنی صورتِ حال کو وہ حضرت زین العابدینؓ کی صورتِ حال کے مماثل سمجھتے رہے۔ کانفرنس کے بائیکاٹ کے فوراً بعد کی شاعری کا مطالعہ کریں تو کُھلتا ہے کہ انہیں اپنے خیال کی طاقت اور اپنے ایمان کی صداقت کے سوا اگر اور کسی پر بھروسہ تھا تو وہ فقط اللہ کی ذات تھی۔ چنانچہ وہ تڑپ تڑپ کر اپنے اس ’’ساقی‘‘ کو پکارتے رہے:
شرابِ کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا
مجھے عشق کے پر لگا کر اُڑا
مری خاک جگنو بنا کر اُڑا
خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر
(ساقی نامہ)
انہوں نے اپنے تجربات سے یہ راز پا لیا تھا کہ اُن کے زمانے کے بزرگوں کی عقل غلام ہے۔ وہ اعتماد کے لائق نہیں ہیں۔ چنانچہ جب سر عبداللہ ہارون نے یہ جاننے کے لئے خط لکھا کہ دوسری گول میز کانفرنس کے بائیکاٹ کے بعد اب وہ صورتِ حال کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں تو انہوں نے اڑھائی فقروں کے خط میں جواب دیا کہ تازہ تجربات نے اُنہیں یہ شعور بخشا ہے کہ وہ سیاستدانوں پر اعتماد نہ کریں۔ انہیں سیاسی صورتِ حال کے بارے میں جو کچھ کہنا ہے وہ چند ماہ بعد لاہور میں منعقد ہونے والی کل ہند مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں اپنے خطبۂ صدارت میں کہہ دیں گے۔ اقبال کے 1932 کے اس خطبۂ لاہور کا مرکزی خیال ہی یہ ہے کہ "جوانوں کو پیروں کا استاد کر"۔ اب انہوں نے بزرگ نسل سے مایوس ہو کر نوجوانوں پر اعتماد کی ٹھانی۔ ’’ساقی نامہ‘‘ میں وہ اپنے اللہ سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ اُن کا سارا سوز و ساز نوجوانوں کے دلوں میں منتقل کر دے:
مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاں
مِرے دِل کی پوشیدہ بے تابیاں
مرے نالۂ نیم شب کا نیاز
مری خلوت و انجمن کا گداز
امنگیں مری آرزوئیں مری
اُمیدیں مری جستجوئیں مری
مری فطرت آئینۂ روزگار
غزالانِ افکار کا مرغزار
مرا دل، مری رزم گاہِ حیات
گمانوں کے لشکر یقیں کا ثبات
یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر
اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر
مرے قافلے میں لُٹا دے اسے
لُٹا دے، ٹھکانے لگا دے اسے!
زمینی حقائق سے مغلوب ہو کر اپنی آئیڈیالوجی سے دستبرداری کا طرزِ عمل اپنانے والوں کو میں درجِ بالا اشعار میں سے فقط اس شعر پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہوں:
مرا دل، مری رزم گاہِ حیات
گمانوں کے لشکر یقیں کا ثبات
یہ دل کیا ہے؟ کربلا کا میدان ہے جس میں گھمسان کا رن پڑ رہا ہے۔ یقین کے مقابلے میں گمانوں کے لشکر ہتھیار پھینکتے چلے جا رہے ہیں۔ اقبال نے زمینی حقائق کی اہمیت سے کبھی انکار نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ ان حقائق کو خاطر میں لاتے رہے ہیں مگر اس شعور کے ساتھ کہ ’’ایام کا مَرکَب نہیں رَا کِب ہے قلندر!‘‘۔ ہمیں بھی انہوں نے یہی طرزِ عمل اپنانے کا مشورہ دیا ہے:
ہو کوہ و بیاباں سے ہم آغوش وَ لیکن
ہاتھوں سے ترے دامنِ افلاک نہ چھوٹے!
اقبال نے1932کے خطبۂ لاہور میں بزرگ نسل کی بجائے نوجوانوں کو یوں پکارا تھا:
"Let the fire of youth mingle with the fire of faith in order to enhance the glow of life and to create a new world of actions for our future generations."
تاریخ شاہد ہے کہ نوجوانوں نے شباب کی آگ کو ایمان کی آگ میں یوں حل کیا کہ وہ واقعتا پیروں کے استاد بن گئے۔ اقبال نے اسی خطبۂ لاہور میں بزرگ نسل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ اس نسل کی کم نظری اور کوتاہ اندیشی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ موجودہ مشکلات کو ناقابلِ عبور سمجھ کر حالات سے بزدلانہ سمجھوتہ کرنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ اقبال کو اس نسل میں فقط ایک ہی شخصیت نظر آتی ہے جس کی عقل غلامی سے آزاد ہے اور وہ ہے قائداعظم کی ذاتِ والا صفات۔ چنانچہ اقبال ذاتی راز و نیاز میں بھی اور خفیہ خط کتابت میں بھی انہیں مسلمان قوم کی قیادت کا منصب سنبھالنے پر تیار کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں:
مایوس نہ ہو اِن سے اے رہبرِ فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
جب قائداعظم بالآخر ہندی مسلمانوں کی قیادت کا فریضہ ادا کرنے پر آمادہ ہو کر لندن کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیتے ہیں تو اقبال کی سیاسی اور فکری تنہائی ٹوٹنے لگتی ہے۔ ’’گئے دِن کہ تنہا تھا میں انجمن میں/یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں‘‘۔ اب اقبال قائداعظم کے ایک ’’ادنیٰ سپاہی‘‘ کا کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔ قائداعظم جان لیتے ہیں کہ اس سپاہی کے جلَو میں نوجوانوں کی فوج ظفر موج دادِ شجاعت دینے کو تیار ہے۔ وہ اسی فوج سے کام لیتے ہیں اور ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کے لفظوں میں زمینی حقائق کو توڑ پھوڑ کر اقبال کے خواب کو پاکستان کی حقیقت بنا دیتے ہیں۔

مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پاکستان ! زندہ باد

سر پہ جو اپنے سایہ کُناں سائبان ہے
اﷲ کی عطا‘ پاک وطن کا نشان ہے!
اس ملکِ خداداد سے اپنی شناخت ہے
ستر برس سے ہم سبھوں کا اس پہ مان ہے
کرتے ہیں سرحدوں کی حفاظت جو صبح وشام
اُن غازیوں‘ شہیدوں کی واہ کیا ہی شان ہے!
جس ملک کی اساس ہی کلمے پہ ہو پڑی
اسلام کے اصولوں سے ہی ان کی جان ہے
اﷲکی نعمتوں کا شمار کس سے ہو سکے
نعمت وہ کون سی ہے جو نہ ہم کو دان ہے!
ہم سب کا حق ہے ایک سا‘ اس ملک پاک پر
فرمان ہے قائد کا‘ تو کیا این و آن ہے؟
ہیں اہلِ وطن سب ہی محبِ وطن پرےؔ
اس میں جو شک کرے‘ وہ بدگمان ہے
خواجہ محمداصغر پرےؔ

*****

 
Read 135 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter