مشرقِ وسطیٰ، تاریخ اور برپا تبدیلیاں

Published in Hilal Urdu

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

بحیرۂ روم سے بحیرۂ عرب تک پھیلا جس طرح مشرقِ وسطیٰ آج عالمی سیاست کا محور ہے، اگر ہم تاریخ میں جھانک کر دیکھیں تو یہی خطۂ ارض پچھلے تین ہزار برسوں سے زائد عرصے سے ایشیا، افریقہ اور یورپ کی تہذیب و تمدن اور سیاست کا مرکزومحور رہا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں نے یہیں سے جنم لیا۔ سمیری اور مصری تہذیب، یونانی تہذیب جسے آرکیالوجسٹ، یوریِشین تہذیب کہتے ہیں، انہی خطوں کے قریب پلی بڑھیں۔ دنیا کے تین بڑے اور اہم مذاہب، یہودیت، مسیحیت اور اسلام نے یہیں جنم لیا۔ انسانی تاریخ کی دو بڑی تہذیبیں جو آج بھی اپنی قدیم شکل میں موجود ہیں، مشرق وسطیٰ ہی سے تعلق رکھتی ہیں، یعنی عربی اور فارسی تہذیبیں۔ مشرقِ وسطیٰ تاریخ وسیاحت کا دلچسپ ترین موضوع ہے۔ رومن ایمپائر کا مشرقی خطہ درحقیقت مشرق وسطیٰ ہی تھا۔ یورپی تہذیب میں رومن ایمپائر دنیا کی بڑی طاقت کہلاتی ہے۔ مشرقی رومن ایمپائر کا دارالحکومت استنبول اس کا دل تھا، جو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کا ایک قدیم شہر ہے۔ ظہورِ اسلام کے بعد، فارس اور رومن بازنطینی تہذیب کی جگہ عربوں نے مسلمان ہوکرمشرق میں تہذیبی ترقی میں اپنی بالادستی قائم کرلی۔ عرب وعجم تصادم مشرقِ وسطیٰ کا ہزاروں سال پرانا تصادم ہے، جو اسلام کے ظہورسے پہلے، بعد از اسلام اور آج بھی اپنی نئی شکل میں موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پر عرب تہذیب کی چھاپ اسلام کے ظہور کے بعد گہری ہوگئی، یعنی
Arabnization
۔ عرب تہذیب اور زبان وثقافت نے مشرقِ وسطیٰ کو مکمل طور پر عرب کردیا۔ اس کے اثرات عرب صحارا اور جبل طارق کو عبور کرکے یورپ تک جا پہنچے۔ سپین میں مسلم تہذیب اِسی عرب تہذیب کا ایک اور اضافہ تھا۔ مسلم سپین نے دنیا کی تاریخ وتہذیب پر انمٹ اثرات چھوڑے۔ وقت آنے پر سپین سے مسلمانوں کا دَور ختم ہوگیا لیکن مسلم سپین انسانی تاریخ پر انمٹ اثرات چھوڑ گیا۔ مسلم سپین پر عربوں کے اسلامی دَور نے جو اثرات مرتب کئے، آج کا سارا مغرب اسی کا مرہون منت ہے۔ مسلم سپین نے تمام مدفون یونانی علوم کے ساتھ دنیا بھر کے علوم کو ترجمہ کرکے زندہ کردیا۔ مسلم سپین کا زوال تو ہوگیا لیکن یہ تاریخِ انسانی میں ایک شان دار اضافہ کرگیا۔

 

mashrikwusta.jpg یورپ ومغرب کی ترقی کا دروازہ ہی مسلم سپین ہے جس نے یونانی، ہندی اور عالمی علوم کو تراجم کے ذریعے زندہ کردیا۔ اور اپنے ہاں لوگوں کو فکر وخیال کی آزادی دی۔ یہودی تاریخ میں یہودی مسلم سپین کو اپنے لئے

Glorious Period
قرار دیتے ہیں کہ مسلم سپین نے یہودیوں کو علمی، فکری اور تحقیقی حوالے سے پھلنے پھولنے کے مواقع دئیے۔ مسلم سپین نے سماجی علوم میں گراں قدر کردار ادا کیا۔ یورپ میں کلیسا کی سیاست سے علیحدگی مسلم سپین کے دانشوروں کی مرہون منت ہے جس نے یورپ اور مغرب کی کایا پلٹ دی، یعنی مسیحیت کی سیاست سے علیحدگی۔ یہ فکری تحریک سپین سے اٹلی میں داخل ہوئی۔ کلیسا اور پادری کو سیاست سے علیحدہ کردیاگیا۔ پھر یہ تحریک پھیلتی چلی گئی۔ فرانس کا انقلاب اور بعد میں یورپ میں سائنس کی ترقی اور صنعتی انقلاب اسی سماجی وفکری تحریک کے مرہون منت ہیں۔ یورپ سے جڑا مشرقِ وسطیٰ ہزاروں سالوں سے اس پر نظر اور نہ نظر آنے والے اثرات تسلسل سے چھوڑ رہا ہے۔
تہذیبوں کے عروج وزوال کی تاریخ پڑھیں تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اگر ایک خطے سے تہذیب ختم ہوتی ہے تو اس کی جگہ کوئی نئی تہذیب لے لیتی ہے۔ یورپ کے بطن سے جنم لینے والی تہذیب وطاقت بازنطینی سلطنت، جس کا دل قسطنطنیہ (استنبول) تھا، جب ختم ہوئی تو اناطولیہ میں پھیلے سلجوقی ترکوں سے جنم لینے والی ترک قوم نے اس کی جگہ لے۔ یہ سلجوقی ترک، وسطی ایشیا سے خانہ بدوشوں اور گڈریوں کی حیثیت سے مشرقِ وسطیٰ آئے۔ پہلے عربوں کے سپاہی بنے، پھر ترک ولائتیں قائم کیں اور پھر دنیا کی عظیم ترین سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تین براعظموں ،ایشیا، افریقہ اور یورپ تک سلطنتِ عثمانیہ پھیل گئی اور بازنطینی سلطنت کی جگہ لے لی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، جو صدیوں سے عرب وفارس میں تقسیم تھا، کے اندر ترک تہذیب نے صرف جنم ہی نہیں لیا، بلکہ دنیا کی عظیم الشان سلطنت قائم کرلی۔ تقریباً چار صدیوں تک سلطنت عثمانیہ نے جو ترکوں کی تہذیب تھی، عرب، افریقی، ایشیائی اور کچھ یورپی خطوں پر اپنا اقتدار قائم کئے رکھا۔ البتہ ایرانی یا فارسی خطوں پر اقتدار قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔


یورپ میں سائنسی اور صنعتی دَور نے مغربی تہذیب کو نئے مرحلے میں داخل کیا۔ کولونیئل ازم کے ذریعے یورپی طاقتیں دنیا بھر میں اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ایشیا، افریقہ، امریکہ، آسٹریلیا اور لاطینی امریکہ
Colonized
ہوگیا اور اسی کے ساتھ مغربی تہذیب نے سائنس اور ٹیکنالوجی سے دنیا پر بالادستی کا آغاز کردیا۔ آج کی دنیا اس مغرب کے زیر اثر ہے جس کے پاس ٹیکنالوجی ہے۔ ٹیکنالوجی کی طاقت نے اُن کو معاشی، اقتصادی اور عسکری بالادستی کے مواقع فراہم کردئیے۔ امریکہ، لاطینی امریکہ اور آسٹریلیا یورپی تہذیب کے سیٹلائٹس ہیں۔ آج کی دنیا مغرب کی دنیا ہے۔ اس مغربی دنیا نے سرمایہ داری کو جنم دیا جس نے کولونیئل ازم اور بعد میں عالمی سرمایہ داری اور پھر سپرپاور کو جنم دیا۔ مغربی تہذیب جو سرمایہ داری اور عالمی بالادستی پر گامزن تھی، اس کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب 1917ء میں ایشیا اور یورپ کی ملی جلی تہذیب روس نے لینن کی قیادت میں بالشویک انقلاب برپا کرکے مغرب کی سرمایہ داری اور سپر پاور کے تصور کو چیلنج کردیا۔ عالمی سرمایہ داری کے سرخیلوں کے لئے یہ خطرے کی گھنٹی تھی۔ محنت کشوں کی حکومت قائم ہوئی۔ یورپ اور مغرب کی سرمایہ داری چیلنج ہوئی۔ روس جس کے صدیوں سے یورپ کے ساتھ سیاسی وعسکری تصادم تھے، ایک اشتراکی اور نئے فلسفۂ معیشت و حکمرانی سے ابھرا۔ کمیونسٹ روس، اشتراکی روس نے جہاں عالمی سرمایہ داری اور سرمایہ دارانہ تہذیب وحکمرانی کو چیلنج کیا، وہیں یورپی تہذیب و طاقت کے سرخیل امریکہ کی عالمی بالادستی کو چیلنج کردیا۔ سرمایہ داری کے بطن سے جنم لینے والی عالمی طاقت کا مقابلہ کرتے ہوئے محنت کشوں کے فلسفے پر بننے والی ریاست
USSR
نے عالمی سامراج کی عالمی بالادستی کو مشکلات میں ڈال دیا۔ بعد میں اسی فلسفے کے تحت چین میں ماؤزے تنگ اور چو این لائی کی قیادت میں کمیونسٹ چین کا ظہور ہوا اور یوں دنیا دو حصوں میں بٹ گئی۔ عالمی سرمایہ دار دنیا ، اس کے اتحادی اور مرہون منت خطے وحکمران اور سوشلسٹ دنیا۔ یہیں سے سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ سرد جنگ نے دنیا میں عالمی سرمایہ داری اور عالمی سامراج کے عالمی حکمرانی ایجنڈے کو ناکوں چنے چبوا دئیے، جس کی قیادت سابق سوویت یونین اور عوامی جمہوریہ چین کررہے تھے۔


1917ء میں روس میں انقلاب برپا ہوا۔اسی دوران جنگ عظیم اوّل نے دنیا بھر میں تبدیلیوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تقریباً چار صدیوں سے قائم عثمانی سلطنت اس جنگ عظیم اوّل میں بکھر گئی۔ عالمی سرمایہ دار سرخیل اب دنیا کی انرجی پر قابض ہونے کی منصوبہ بندی کے لئے سرگرم ہوئے اور انہوں نے برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی طاقتوں کے تعاون سے
New Middle East
کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیا۔ جنگ عظیم اوّل نے مغربی سرمایہ دار اور سامراجی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ میں در آنے کے شان دار مواقع فراہم کردئیے اور مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم اور نئی ریاستوں کی تخلیق کا آغاز ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں متعدد مصنوعی ریاستیں قائم کی گئیں، جن پربعد میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جابر حکمران بٹھا دئیے گئے اور اسی کے ساتھ خطے میں ایک مذہبی ریاست کے قیام کے منصوبے پر عمل شروع کردیا گیا۔ دنیا بھر میں پھیلے صدیوں سے بکھرے یہودی جو مختلف تہذیبوں کا حصہ بن چکے تھے، یوکرائن، پولینڈ، روس، یورپ اور جگہ جگہ سے ان یہودیوں کو اکٹھا کرکے ایک یہودی مذہبی ریاست اسرائیل قائم کر دی گئی۔ سیکولر مغرب کا تضاد دیکھیں کہ اپنے ہاں غیرمذہبی ریاست وسیاست کا پرچار کرنے والوں نے مذہب کے نام پر ایک مصنوعی ریاست کا ظہور اپنے زورِ بازو سے قائم کردیا۔ ایک امریکی صدر نے اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں مغربی تہذیب کا دروازہ قرار دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس منصوبہ بندی کی تکمیل ہوئی جو مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم کی بنیاد پر کی گئی۔ مغرب اور عالمی سرمایہ داری کے مشرقِ وسطیٰ میں منصوبوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج وہ تحریکیں تھیں جو سوئل ازم اور نیشنل ازم کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ میں ابھر رہی تھیں۔ دنیا میں دو طاقتوں متحدہ ریاست ہائے امریکہ اور
USSR
(سابق سوویت یونین) کے مابین تصادم نے ان تحریکوں کو جِلا بخشی۔ مصر میں جمال عبد الناصر اس تحریک کے لیڈر بن کر ابھرے اور یوں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں عالمی سرمایہ داری، سامراجی اور اسرائیلی حکمت عملیوں کو چیلنج کردیا۔ اس سوشلسٹ اور نیشنلسٹ تحریک نے ایک وقت میں لبنان، مصر، شام، عراق سے الجزائر تک کواپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان خطوں میں اس فلسفے پر یقین رکھنے والوں نے انقلاب برپا کردئیے، یہ لوگ امریکہ، یورپ اور سامراج کے ساتھ ساتھ اسرائیل جیسی مصنوعی ریاست کی بالادستی کے خلاف تھے۔ اس تحریک میں جمال عبدالناصر کے علاوہ بن بیلا، معمر قذافی، یاسر عرفات، حافظ الاسد نمایاں تھے۔

 

ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔تبدیلی ہمیشہ کسی سماج، تہذیب اور قوم میں اپنے اندر سے آتی ہے۔جنگ و جدل ،مذہبی دہشت گردی میں گھرے مشرقِ وسطیٰ کے اندر مذہبی سیاست اور تنگ نظر قوم پرستی کے خلاف ہم نئی ترقی پسند عوامی تحریکوں کو مسترد نہیں کر سکتے جو عرب خطوں اور سارے مشرقِ وسطیٰ کو سامراجی ایجنڈے کے خلاف بیدار کرسکتی ہیں

دیوارِ برلن کے گرنے، مشرقی یورپ میں سوشلسٹ نظام کے منہدم ہونے اور سوویت یونین کے تحلیل ہونے نے یقیناًدنیا بھر کو متاثر کیا۔ دنیا یونی پولر ورلڈ میں بدل گئی۔ امریکہ، دنیا کی واحد سپر پاور اور مغرب کے سارے ملک اس کے اتحادی بن گئے۔ اس نے جہاں عالمی معیشت کو اپنے شکنجوں میں لینا شروع کردیا، وہیں عالمی عسکری بالادستی کا آغاز بھی کردیا۔ اس تبدیلی کے سب سے زیادہ اور براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ پر پڑے۔عراق کے خلاف پہلی خلیجی جنگ، افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی یلغار اور پھر عراق پر دوسری جنگ مسلط کی گئی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ حیران کن حالات سے دوچار ہوا۔ ذرا غور کریں، عراق، شام اور لیبیا جیسی ریاستوں کو کھوکھلا کردیا گیا اور سارے خطے میں مذہبی دہشت گردی کے بیج بو دئیے گئے۔ مذہبی دہشت گردی کو امریکی پالیسی سازوں نے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اب یہ دہشت گردی یمن تک اور سعودی عرب کی سرحدوں تک پھیلا دی گئی ہے، اور اس کے ساتھ ترکی کی سرحدوں کے اندر اور ساتھ ساتھ بھی۔


مشرقِ وسطیٰ تین بڑی زبانوں ،عربی، فارسی اور ترک زبان بولنے والے سترہ ممالک پر مشتمل ہے۔عربوں کے علاوہ ایران اور ترکی مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک میں شمار ہوتے ہیں ۔2006ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر کے کوشش کی کہ لبنانی ریاست کی چولیں ہلا دی جائیں ۔لیکن اسرائیل کو ایک طرح کی فوجی شکست ہوئی جس کا اعتراف اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے کیا۔2006ء کی اسرائیلی شکست کے بعد سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے پہلی مرتبہ ایک اصطلاح استعمال کی،
"New Middle East"
۔ذرا 1990ء کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کے منظر نامے پر غور کریں تو ایک نیا مشرقِ وسطیٰ ہمارے سامنے ہے جو مستقبل کی جھلک ہے۔کھوکھلا، بکھرا، فرقوں میں بٹا عراق،لیبیا،شام اور خطے بھر میں پھیلے پُراسرار مذہبی دہشت گرد۔راقم کی تحقیق کے مطابق، امریکی منصوبہ بندی کے تحت مشرقِ وسطیٰ کو دوبنیادوں پر تقسیم کئے جانے کا کھیل جاری ہے۔ریاستوں اور قوموں کو فرقوں میں تقسیم کیا جائے اور دہشت گردی کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک مستقل ہتھیار کے طور پر پنپنے کے مواقع فراہم کئے جائیں،جو مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل
Destabilize
رکھے۔خانہ جنگیوں کے جواز اور مواقع جاری رکھے جائیں۔ شام ،عراق اور لیبیا اس مشرقِ وسطیٰ کی ایک جھلک ہیں۔اور اب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو باہمی تصادم میں جھونکنا ایک بڑی حکمت عملی ہے، یعنی عرب ریاستوں کے مابین بڑے تصادم کے امکانات پیدا کرنا۔ اس میں مشرقِ وسطیٰ کی دو غیر عرب طاقتوں، ایران اور ترکی کو بھی جھونکنا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ آج جس قدر کمزور ہے، شاید ہی پچھلی صدی میں اس قدر کمزور رہا ہو۔ بکھرا، تقسیم شدہ مشرقِ وسطیٰ، جنگ وجدل کا میدان، فساد و جنگوں کا مرکز اور اس میں نسلی ولسانی آمیزش بھی کی جائے گی، کُردوں کے حقوق کے نام پر، کہ ایسے مشرقِ وسطیٰ کا منصوبہ حتمی کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور ترک ریاست کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس منظر نامے میں روس اور چین کا سامراج مخالف کردار نہایت اہم ہے۔ کیونکہ امریکہ کے سامراجی ایجنڈے کے نشانہ چین اور روس ہیں اور دونوں اس کے خلاف متحد ہیں۔ خصوصاً روسی فیڈریشن کا کردار۔ اس لئے اگر توڑ پھوڑ، خانہ جنگی اور مذہبی دہشت گردی پھیلتی ہے تو اس کا اگلا نشانہ یورپ نہیں روس اور اس کی اتحادی کاکیشیائی اور وسطی ایشیائی ریاستیں ہیں۔ روسی صدر ولا دی میرپیوٹن بار بار کہتے ہیں کہ خطے میں پھیلتی دہشت گردی کا نشانہ روس ہے۔ اس لئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام کے تنازعے اور خانہ جنگی میں روس نے جہاں سلامتی کونسل میں بار بار ویٹو کیا، وہیں وہ باقاعدہ طور پر دمشق میں قائم بشارالاسد کا اتحادی اور شام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پیدا کردہ دہشت گردوں کا مخالف اور ان کے خلاف جنگ میں شامل بھی ہے۔سلامتی کونسل میں ویٹو سے لے کر تنازعے کے حل تک، عوامی جمہوریہ چین، روس کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی پر اس کا اتحادی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ تین ہزار سال سے مختلف ادوار اور تہذیبوں میں اسی طرح محور رہا ہے جس طرح آج کی عالمی سیاست میں۔ موجودہ تقسیم ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں سرد جنگ کے بعد روس نے پہلی مرتبہ امریکی پالیسیوں کو براہِ راست رَد کیا جس نے مغربی دنیا کے مشرقِ وسطیٰ کے پلان کو ڈسٹرب کیاہے۔لیکن ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔تبدیلی ہمیشہ کسی سماج، تہذیب اور قوم میں اپنے اندر سے آتی ہے۔جنگ و جدل ،مذہبی دہشت گردی میں گھرے مشرقِ وسطیٰ کے اندر مذہبی سیاست اور تنگ نظر قوم پرستی کے خلاف ہم نئی ترقی پسند عوامی تحریکوں کو مسترد نہیں کر سکتے جو عرب خطوں اور سارے مشرقِ وسطیٰ کو سامراجی ایجنڈے کے خلاف بیدار کرسکتی ہیں۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 131 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter