ٹارگٹ، ٹارگٹ، ٹارگٹ۔

Published in Hilal Urdu August 2017

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط نمبر 19

سائیکل کا ڈرائیونگ لائسنس
ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) کی کارگل کے محاذ پر شاندار کارکردگی سے سب بخوبی واقف ہیں۔ معرکہ کارگل سے پہلے این ایل آئی کی بٹالینز صرف شمالی علاقہ جات میں عسکری خدمات سر انجام دیا کرتی تھیں۔ بعد ازاں انہیں ریگولر رجمنٹ کا درجہ دے دیا گیااور یوں ان کی خدمات کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہو گیا۔ این ایل آئی یونٹس نے موقع ملتے ہی دوسرے محاذوں پر بھی اپنی جنگی صلاحیتوں کا بخوبی لوہا منوایا۔ این ایل آئی کے جوان لوہے کے پھیپھڑوں کے مالک ہوتے ہیں اور ہزاروں فٹ بلند چوٹیاں چٹکی بجاتے سر کر لیتے ہیں لہٰذا میدانی علاقوں میں بھاگنا، دوڑنا ان کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ تاہم میدانی علاقوں میں تعیناتی کے بعد ان کا تعارف چند ایسی چیزوں سے ہواجو کہ شمالی علاقوں میں نہیں پائی جاتیں۔ ان میں سر فہرست سائیکل تھی اور یہ ایک ایسا جن تھا جس پر قابو پاناجوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔


ایک مرتبہ کھاریاں کینٹ میں ایک بریگیڈ کمانڈر جیپ میں سوار این ایل آئی یونٹ کے سامنے سے گزر رہے تھے کہ اچانک دوسری جانب سے فوجی وردی میں ملبوس ایک سائیکل سوار نمودار ہوا۔ جیسے ہی جیپ سائیکل کے قریب پہنچی تو سائیکل سوار نے دونوں ہاتھ چھوڑ کر بریگیڈ کمانڈر کو سیلوٹ کیا۔ سیلوٹ تو ٹھیک ہو گیا لیکن سائیکل بے قابو ہو کر جیپ سے جا ٹکرائی اور سائیکل سوار بے ہوش ہو گیا۔ اسے ہوش میں لایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ این ایل آئی کی ایک یونٹ میں حوالدار ہے اور سڑک پر سائیکل چلانا سیکھ رہا ہے۔اس کے بعد آرڈر جاری ہوا کہ این ایل آئی کے جوان تا حکم ثانی سائیکل نہیں چلائیں گے۔ پہلے ان کے لئے ٹرانسپورٹ بٹالین میں چار ہفتے کا ایک سائیکل ڈرائیونگ کورس چلایا جائے گا ، اس کے بعد ایک بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو کہ ٹیسٹ لینے کے بعد انہیں ڈرائیونگ لائسنس جاری کرے گا اور یوں وہ سائیکل چلانے کے اہل قرار پائیں گے۔اس حکم پر عمل درآمد کیا گیا اور ایک ماہ تک سائیکل چلانے کی بخوبی مشق کروانے کے بعد جوانوں کو ٹیسٹ لے کر لائسنس جاری کر دیئے گئے۔


کچھ عرصے کے بعد بریگیڈ کمانڈر اسی سڑک سے گزر رہے تھے کہ وہی حوالدار سامنے سے نمودار ہوا اور دوبارہ ان کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اس مرتبہ حوالدار سے بازپرس کا سوال بالکل نہ تھا کیونکہ اس کے پاس سائیکل کا ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔ جو ہوا سو ہوا بہرحال کمانڈر نے آئندہ کے لئے اس سڑک سے گزرنا چھوڑ دیا اور یوں دنیا سائیکل اور جیپ کی ٹکر کی ہیٹ ٹرک دیکھنے سے محروم رہ گئی۔


ایک کپ چائے
فوج میں کھانے اور بے عزتی کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔ خصوصاً بے عزتی کی تو مقدار اور دورانئے کا بھی تعین نہیں کیا جا سکتا۔ فوج میں کامیاب زندگی گزارنے کے لئے کافی حد تک بے عزتی پروف ہونا لازمی ہے۔ہمارے ایک سینیئر کہا کرتے تھے کہ بے عزتی کے دوران یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ آپ کی نہیں بلکہ آپ کے ساتھ والے شخص کی ہو رہی ہے۔ ایک صوبیدار میجر صاحب کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آن پہنچا تو ان کے اعزازمیں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تمام افسروں نے باری باری ان کی خدمات کو سراہا اور مستقبل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ آخر میں صوبیدار میجر صاحب کو اظہار خیال کرنے کی دعوت دی گئی تو وہ یوں گویا ہوئے ’’عزیزو! آج مجھے جوتھوڑی بہت عزت دی جا رہی ہے اس کے حصول کے لئے میں نے مسلسل تیس سال بے عزتی برداشت کی ہے۔‘‘


یہ 1996 کے اوائل کا ذکر ہے۔ ہماری یونٹ ان دنوں نوشہرہ کی سنگلاخ وادیوں میں ایک طویل جنگی مشق میں مصروف تھی۔ چل سو چل کا عالم تھا۔ دن میں دو تین مرتبہ ایک جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ ڈیپلائمنٹ تو گویامعمول کی بات تھی۔ ان دنوں جی پی ایس وغیرہ کا تو تصور بھی محال تھا۔ خالم خولی نقشہ دیکھ کر ہی کام چلایا جاتا تھا۔ ایسے میں دیئے گئے وقت میں صحیح جگہ تک پہنچنا ایک مشکل ترین کام ہوا کرتا تھا۔آرٹلری یونٹ میں ڈیپلائمنٹ کروانا ٹو آئی سی کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ ایک روز ہم ٹو آئی سی کے ہمراہ یونٹ کا کانوائے لے کر ایک نئی منزل کی جانب گامزن تھے۔ نقشہ ٹو آئی سی کے ہاتھ میں تھا اور وہ اپنی گاڑی میں ہم سب کو لیڈکر رہے تھے۔ دیا گیا وقت گزرنے کے باوجود منزل کا نام و نشان نظر نہیں آ رہا تھا۔ کافی دیر بھٹکنے کے بعد ٹو آئی سی نے تھک ہار کر ایک جگہ یونٹ کو ڈیپلائے کروانے کا حکم صادرکر دیا۔ ابھی سامان کھلنے بھی نہ پایا تھا کہ کمانڈر سر پر پہنچ گئے۔ انہوں نے نقشہ دیکھ کر اپنا سر پیٹ لیا کیونکہ یونٹ مطلوبہ جگہ سے ابھی بھی آٹھ کلومیٹر کے فاصلے تھی۔ اس کے بعد بے عزتی کا ایک طویل دور چلا جس میں ہم سب کو نااہلی کے کوہ ہمالیہ سے تشبیہہ دینے کے ساتھ ساتھ فوج میں ہماری سیلیکشن اور ٹریننگ پر سوال اُٹھائے گئے تھے۔ آخر میں کمانڈر نے کڑکتی ہوئی آواز میں حکم دیا کہ آپ سب فوراً سے پہلے یہاں سے روانہ ہو جائیں اور مطلوبہ جگہ پہنچ کر مجھے رپورٹ کریں۔ اس کے بعد خاموشی کا ایک مختصر وقفہ آیا اور پھر ٹوآئی سی کی باریک سی آواز سنائی دی’’سر! پہلے ایک ایک کپ چائے نہ ہو جائے‘‘ اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ اس مرتبہ کمانڈر کی جانب سے جو شاندار عزت افزائی فرمائی گئی اس کی تفصیل بیان کرنے کی نہ تو ہمارے اندر ہمت ہے اور نہ ہی آپ سننے کی تاب لا سکیں گے۔


شکوہ شکایت
بیگم کو ہم سے ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ ہم گھریلو معاملات میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لیتے۔ کچھ ایسی ہی شکایت ہمارے افسران بالا کو بھی رہی کہ ان کی نظر میں یونٹ کے معاملات میں ہماری دلچسپی کا معیار ہرگز وہ نہیں تھا جو کہ انہیں درکار تھا۔ اب آپ ہی بتائیں کہ انسان ایک وقت میں بھلا کتنے معاملات پر فوکس کر سکتا ہے۔ہماری سمجھ اور تجربے کے مطابق باس اور بیگم دونوں کو بیک وقت راضی کرنا تو مشکل ہے تاہم ایک وقت میں کسی ایک کو خوش کر نے کی کوشش ضرورکی جا سکتی ہے۔


یہ اکتوبر 1998 کا ذکر ہے ہم ان دنوں شادی اور سیاچن دونوں کے بندھن میں یکے بعد دیگرے گرفتار ہوئے تھے۔ پوسٹ پر میجر امجد ہمارے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ موصوف پیدل فوج کے ایک قابل افسر تھے اور ہم سے کافی سینیئر بھی تھے۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ ہم نئے شادی شدہ افسر وں کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں تو ہمیں خانگی مشوروں سے نوازنا اپنا فرض عین قرار دے دیا۔ اس کام کے لئے ان کے پاس وقت اور ہمارے پاس اشتیاق کی فراوانی تھی۔ میجر امجد کے تجربات کا نچوڑ یہ تھا کہ فوجی افسر کی گھریلو زندگی خوشگوار ہونا چاہئے تاکہ وہ پروفیشنل معاملات پر پوری توجہ دے سکے اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہر قیمت پربیگم کو خوش رکھا جائے۔ اگرچہ یہ بات ہم نے پہلے بھی کہیں سے سن رکھی تھی لیکن ایک تجربہ کار سینیئر کے مشورے نے تو گویا اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ ہم نے سوچا کہ اس بار چھٹی گئے تو ضروراچھا شوہر بن کر دکھائیں گے۔ پوسٹ پر ہمارا عرصہ پورا ہوا اور بیس دن کی چھٹی گزارنے کے لئے عازم سفر ہوئے۔ دورانِ سفر ہم نے خود کو اس چیز کے لئے تیار کیا کہ بیگم کی ہر بات پر سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔


گھر پہنچ کر ہم نے جیسا سوچا تھا ویسا ہی کیا۔ صبح اٹھ کر فجر کی نماز پڑھی، ناشتہ ٹھیک ٹائم پر کیا، شاپنگ پر انہیں بغیر کہے لے جانے کے لئے تیار ہو گئے، کھانا بالکل روکھا پھیکا تھا لیکن ہم نے تعریفوں کے پل باندھ دیئے، کپڑے جوتے بدل کر تمام چیزیں اپنی جگہ پر خود سے رکھیں، ہر بات پر ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ یہ دیکھ دیکھ کر بیگم حیران ہوتی رہیں اور پوچھتی رہیں کہ آپ کو آخر ہو کیا گیا ہے۔ چار دن اسی طرح سے گزرے تو آنکھوں میں آنسو بھر کر کہنے لگیں کہ مجھے آپ کے تبدیل ہونے کی بے انتہا خوشی ہے لیکن یقین مانیں آپ اس طرح بالکل بھی اچھے نہیں لگ رہے۔ آپ ایسا کریں کہ سب کچھ بھول کر پہلے کی طرح بن جائیں۔ یہ بات سن کر ہم حیرت سے ان کی طرف تکنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔


اس کے بعد سے یہ عالم ہے کہ ہم چھٹی پر ہوں تو بارہ بجے سے پہلے بستر سے منہ باہر نہیں نکالتے اور ناشتہ اس وقت کرتے ہیں جب بیگم چیخ چیخ کر ہلکان ہو جاتی ہیں، شاپنگ پر لے جانے کے لئے تب راضی ہوتے ہیں جب بات علیحدگی سے دو چار قدم ہی پیچھے رہ جاتی ہے، کھانے میں جی بھر کے نقص نکالتے ہیں، کپڑے جوتے پورے گھر میں پھیلادیتے ہیں، ہر بات میں بیگم سے اختلاف کرتے ہیں۔ اس سب کے جواب میں بیگم سے جلی کٹی بھی سنتے ہیں۔ کبھی کبھار تنگ آ کر بیگم افسوس بھی کرتی ہیں کہ مجھ سے کتنی بڑی غلطی ہوئی جو میں نے آپ کے بدلے ہوئے رویے کی قدر نہیں کی۔ میجر امجد تو دوبارہ ہمیں ملے نہیں کہ ان سے پوچھتے لیکن ہو سکے تو آپ ہی مشورہ دیں کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔

جاری ہے۔۔۔۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 794 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter